English اُردو        
  رابطہ اغراض و مقاصد تعارف سرورق

۷ جنوری ۲۰۱۲ء

پریس ریلیز

مقتدرہ قومی زبان کے زیر اہتمام جاپانی اردو دان پروفیسر سویا مانے یاسر اور اردو زبان کے تین جاپانی طالب علم نوری یو کی کویو، نوری کوساساؤکی، کاناکوکوآزؤما کے ساتھ اردو زبان و ادب کے حوالے سے ایک نشست کا اہتمام کیا گیا۔

مقتدرہ قومی زبان کے زیر اہتمام جاپانی اردو دان پروفیسر سویا مانے یاسر اور اردو زبان کے تین جاپانی طالب علم نوری یو کی کویو، نوری کوساساؤکی، کاناکوکوآزؤما کے ساتھ اردو زبان و ادب کے حوالے سے ایک نشست کا اہتمام کیا گیا۔ صدرنشین مقتدرہ ڈاکٹر انوار احمد نے مہمانان کو خوش آمدید کہا اور اوسکا یونیورسٹی جاپان اور ٹوکیو یونیورسٹی جاپان میں لگ بھگ ۱۰۵سال سے اردو زبان پڑھائی جا رہی ہے اور باقاعدہ اردو زبان کا شعبہ دونوں یونیورسٹیوں میں موجود ہے۔ تقریب سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پروفیسر سویامانے یاسر کہا کہ اسلامی تعلیمات کے حوالے سے عربی اور فارسی زبان میں بہت کام ہوا ہے لیکن جنوبی ایشیا میں اسلامی تعلیمات کے حوالے سے خاطرخواہ کام نہیں ہوا اور اردو زبان اور متن سے ناآشنائی ہونے کی وجہ سے جاپانی قوم کو اسلام کے متعلق معلومات بہت کم ملتی ہیں۔ہماری کوشش ہے کہ جتنی کتب اسلامی تعلیمات کے حوالے سے لکھی گئی ہیں ان کی فہرست بنا کر معلومات حاصل کریں کہ اسلامی تعلیمات پر کتنا کام ہوا ہے اور کون سے موضوعات پر کام ہونا ابھی باقی ہے۔ پروفیسر سویامانے یاسر نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ جاپانی قوم کو براہ راست اردو متن سے اسلامی تعلیمات سے متعلق معلومات حاصل ہوں تاکہ وہ موضوع کی اصل روح کو سمجھ سکیں۔ انھوں نے اپنے دورہ ملتان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بہأالدین زکریا یونیورسٹی ملتان اور اوساکا یونیورسٹی ملتان نے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے اور کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ مستقبل میں اس طرح کے اور بھی مشترکہ علمی منصوبے شروع کیے جائیں۔ انھوں نے اس خواہش کااظہاربھی کیا کہ اوساکا یونیورسٹی جاپان اور پنجاب یونیورسٹی لاہور کے مفاہمتی یادداشت (MoU) میں پانچ سال کی توسیع کر دی جائے تو اردو زبان کے حوالے سے جاپانی طالب علموں کے لیے مزید کام آسان ہو جائے گا۔ انھوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جاپان میں فرہنگ اصطلاحاتِ پیشہ ورانہ کو تصویری شکل میں مرتب کیا جا رہا ہے جس سے جاپانی طالب علموں کو اردو زبان سمجھنے میں مزید آسانی ہو گی۔ اردو زبان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اردو زبان لنگوا فرانکا ہے اور اس کے اتنے رنگ ہیں جس کی وجہ سے اس زبان کو پڑھنے اور بولنے اور سننے میں مزا آتا ہے۔ تقریب سے صدر نشین مقتدرہ ڈاکٹر انوار احمد ، ڈاکٹر انور نسیم،فیاض باقر، فروغ نوید، ریاض الحق، سید سردار احمد پیرزادہ، محمد اسلام نشتر ، محمد احمد گوندل ، علی اکبر ناطق اور جاپانی طالب علم نوری یوکی کویو، نوری کوسا ساؤکی، کاناکوکوآزؤما نے بھی اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ نوری کوساساؤکی اسلام کے مفکر مولانا مودودی پر تحقیق کر رہی ہیں اور ان کیا تحقیق مقالہ آخری مراحل میں ہے اور جلد شائع ہو جائے گا۔ تقریب کے نظامت کے فرائض ڈاکٹر راشد حمید نے سر انجام دیے۔
جاوید اختر ملک
مشیر ابلاغ عامہ

 
 
جملہ حقوق بحق ادارۂ فروغِ قومی زبان محفوظ ہیں