English اُردو        
  رابطہ اغراض و مقاصد تعارف سرورق

دسمبر ۶ ۲۰۱۷ء

پریس ریلیز


خطاطی ایسا فن ہے جو اسلام کے ظہور کے ساتھ ہی شروع ہوا۔ شعبہ خطاطی کے افتتاح کے موقع پر عرفان صدیقی اور مقررین کا خطاب
اسلام آباد۔ ادارہ فروغ قومی زبان کے زیر اہتمام خطاطی کے شعبے کے قیام کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی ۔جس کے مہمان خصوصی وزیراعظم کے مشیر برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن عرفان صدیقی تھے۔تقریب میں قومی تاریخ و ادبی ورثہ کے سیکریٹری انجینئر عامر حسن ،ادارہ فروغ قومی زبان ڈائریکٹر جنرل افتخار عارف، اکادی ادبیات کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر راشد حمید، معروف خطاط خالد یوسفی، رشید بٹ اور محمد الٰہی بخش مطیع نے اظہار خیال کیا۔ اس تقریب میں سفارت خانہ ترکی کے ڈپٹی ہیڈ مشن ، اکادمی ابدیات کے چیئرمین ڈاکٹر محمد قاسم بگھیو، نیشنل بک فاؤنڈیشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر انعام الحق جاویداوراے پی پی کے منیجنگ ڈائریکٹر مسعود ملک ، ہم چینل کے سربراہ اختر وقار عظیم اور ندیم رضا، معروف ادیب حمید شاہداور ینگ رائٹر فورم کی سیکریٹری فرحین خالدنے بھی خصوصی طور پر شرکت کی۔ عرفان صدیقی نے کہا کہ خطاطی ایسا فن ہے جو اسلام کے ظہور کے ساتھ ہی شروع ہوا۔ اس فن کے اولین معمار صحابہ کرام تھے جو کاتبین وحی کے مرتبے پر فائز ہیں۔خطاطی کے فن میں روحانی پہلوبھی ہے۔ہمارے ہاں اس فن نے اب تک سرکاری سرپرستی کے بغیر ترقی حاصل کی ہے۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ اس وقت روضۂ رسولﷺ کی جالیوں پر خطاطی کرنے والے خطاط کا تعلق پاکستان سے ہے۔ جبکہ حال ہی میں ترکی میں منعقدہ خطاطی کی نمائش میں ایک پاکستانی نوجوان خطاط محمداشرف ہیرانے دنیا بھر کے ایک ہزارخطاطوں میں پہلا انعام حاصل کر کے پاکستان کا نام روشن کیا۔انھوں نے کہا کہ ادارہ فروغ قومی زبان کے زیر اہتمام قائم ہونے والا شعبہ خطاطی پہلا قدم ہے۔ آگے چل کر انشااللہ کسی وقت یہ انسٹی ٹیوٹ اور بعد ازاں یونیورسٹی کا درجہ حاصل کرے گا۔ مشیر وزیراعظم عرفان صدیقی نے کہا کہ ہم نے اپنے ثقافتی ورثے کو محفوظ کرنے کے لیے کام کا آغاز کر دیا ہے۔ امید ہے کہ یہ مستقبل میں بھی قائم رہے گا۔انھوں نے کہا کہ ترکی کے تعاون سے حال ہی میں پاکستان میں خطاطی کی کامیاب کانفرنس منعقد کی گئی۔خطاطی کے حوالے سے ترکی نمایاں مقام رکھتا ہے۔انھوں نے یہ خوشخبری سنائی کہ قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن کے تحت پورے پاکستان کے تین سو سے زائد ماہر خطاطوں کی ڈائریکٹر تیار کر لی گئی ہے جو چند ہفتوں میں شاع ہو جائے گی۔ اس ڈائریکٹری میں ان کے مکمل کوائف کے علاوہ ان کی خطاطی کے نمونے بھی موجود ہوں گے۔ یہ کام پہلی مرتبہ منظر عام پر آئے گا۔ تقریب میں اظہار خیال کرتے ہوئے انجینئر عامر حسن نے کہا کہ خطاطی کے شعبے کے قیام سے متعلق ادارہ فروغ قومی زبان سے بھرپور تعاون کیا جائے گا۔ افتخار عارف نے عرفان صدیقی، انجینئر عامر حسن، جنید اخلاق ،مہمان خطاطوں اور دیگر مہمانان گرامی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ فروغ قومی زبان کے زیر اہتمام خطاطی کے شعبے کے قیام کے سلسلے میں ڈویژن نے بھرپور کردار ادا کیا ۔ جس سے آنے والی نسلیں مستفید ہوں گی۔ڈاکٹر راشد حمید نے کہا کہ فن خطاطی ہمارا ثقافتی ورثہ ہے۔ اس شعبے کے قیام سے خطاطی کو فروغ ملے گا۔نامورخطاط رشید بٹ نے کہا کہ اسلامی ثقافت کے شعبے میں سب سے نمایاں مقام خطاطی کو حاصل ہے۔انھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی میں بھی ن والقلم کا ذکر فرمایااور القلم کے نام سے پوری سورہ نازل فرمائی۔ممتاز خطاط خالد یوسفی نے کہا کہ ادارہ فروغ قومی زبان کے زیر اہتمام خطاطی کے شعبے کا قیام میرے خواب کی تعبیر ہے۔ انھوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ چھوٹے شہروں سے بھی اس فن پر عبور رکھنے والوں کو آگے آنے کا موقع دیا جائے۔صدارتی ایوارڈ یافتہ معروف خطاط محمد الٰہی بخش مطیع نے کہا کہ فن خطاطی ایسا فن ہے جس کی جڑیں اسلام میں ہیں۔ جہاں جہاں اسلامی سلطنتیں رہیں ان علاقوں نے نامور خطاط پیدا کیے۔ اس سلسلے میں برصغیر پاک و ہند کو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔اس تقریب کے دوران مشیر وزیراعظم عرفان صدیقی نے ترکی کے ڈپٹی ہیڈ مشن، اس موقع پر سینئر خطاطوں اور ادارے کے زیر انتظام خطاطی سیکھنے والے طلبا و طالبات میں اعزازی شیلڈتقسیم کیں۔جبکہ افتخار عارف نے عرفان صدیقی، انجینئر عامر حسن اور جنید اخلاق کواعزازی شیلڈ سے بھی پیش کیں۔ تقریب میں ادارہ فروغ قومی کا آڈیٹوریم خطاطوں، طلبا و طالبات، سکالروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے کھچا گھچ بھرا ہوا تھا۔ لاہور سے خصوصی طور پر واجد یعقوب رقم، عبدالرحمن عبدہ، خالد محمود صدیقی، جمیل حسن اور عرفان قریشی سمیت سینئر خطاطوں کے نمائندہ وفد نے اپنے خرچ پر تقریب میں شرکت کی۔
سید سردار احمد پیرزادہ
مدیر اعلی ماہنامہ اخبار اردو
ادارہ فروغ قومی زبان،اسلام اباد
موبائل:0333-5203905
مورخہ:6دسمبر2017

 
 
جملہ حقوق بحق ادارۂ فروغِ قومی زبان محفوظ ہیں