English اُردو        
  رابطہ اغراض و مقاصد تعارف سرورق

4-6-2012

پریس ریلیز

مقتدرہ کا محدود وسائل کے باوجود ایک سہ ماہی میں 18 کتب کی اشاعت قابل تحسین ہے، ڈاکٹر انوار احمد


اسلام آباد، مقتدرہ قومی زبان کے سابق چےئرمین اور نمل یونیورسٹی کے شعبہ اُردو وہندی کے اعزازی پروفیسر افتخار عارف نے کہا ہے کہ قیام پاکستان کے بعد ہی سے علم ودانش کی ترویج پر بجٹ میں کم پیسہ مختص کیا جارہا ہے۔ جدید و قدیم علوم کو نئی نسل سے روشناس کرانے کے لیے اہل علم اور دانشوروں کو بنیادی کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے 4جون کو مقتدرہ قومی زبان میں محمد حنیف کی کتاب کلیات عرش صدیقی ، پروفیسر غازی علم الدین کی کتاب لسانی مطالعے ، ڈاکٹر محمد آصف کی کتاب حزیں صدیقی شخصیت اور شاعری اور ڈاکٹر عصمت جمیل کی کتاب لسائی شعور کی تاریخ (اُردو افسانہ اور عورت) کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ ادب کے فروغ اور اشاعت کے لیے پانچ حکومتی ادارے اکادمی ادبیات پاکستان ، مقتدرہ قومی زبان ، نیشنل بک فاؤنڈیشن ، اُردو سائنس بورڈ اور اُردو ڈکشنری بورڈ کام کر رہے ہیں۔ جن کے لیے مختص کیے جانے والے بجٹ کا 70 فی صد حصہ ملازمین کی تنخواہوں اور بلوں کی مد میں چلا جاتا ہے باقی ماندہ 30 فی صد رقم سے نہ ادب کو فروغ ملتا ہے اور نہ ہی اشاعت کا کام صحیح معنوں میں ہوپاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہماری اعلیٰ حکام سے درخواست ہے کہ علم وادب کی ترویج کو ترجیحات میں شامل کیا جائے۔ اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقتدرہ قومی زبان کے چےئرمین ڈاکٹر انوار احمد نے کہا کہ مقتدرہ نے محدود وسائل کی وجہ سے کتب کی اشاعتی مشکلات کی ایک نئی راہ نکالی اور شراکت داری کے نئے خیال کو عملاً ممکن بنایا اور اس تجربے کا نام اشتراک وتعاون رکھا گیا ۔ اس منصوبے کے تحت منتخب ہونے والی ہر کتاب کی اشاعت کے اخراجات تین شراکت داروں ،مقتدرہ ، مصنف اور پبلشر پر برابر تقسیم کردئیے گئے ۔ جس کی وجہ سے 18 کتب کی اشاعت اتنے قلیل عرصے میں ممکن ہوئی جو کہ اب تک مقتدرہ میں اشاعت کی مدت کے اعتبار سے ایک نیا ریکارڈ ہے۔ اس سلسلے کا آج چوتھا پروگرام تشکیل دیا گیا تھا جس میں چار کتابوں کی تعارفی تقریب ہوئی ۔ تقریب سے ، ڈاکٹر انوار زاہدی، ڈاکٹر ارشد خانم، ڈاکٹر نجیب جمال ، ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر ، محمد حنیف ، ڈاکٹر محمد آصف ، غازی علم الدین اور ڈاکٹر مبینہ طلعت نے بھی خطاب کیا تقریب میں جڑوں شہروں سے اہل قلم شعراء، دانشوروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔

(جاوید ملک )
مشیر برائے ابلاغ عامہ

 
 
جملہ حقوق بحق ادارۂ فروغِ قومی زبان محفوظ ہیں