English اُردو        
  رابطہ اغراض و مقاصد تعارف سرورق

3 اکتوبر 2011ء

پریس ریلیز 

تقریب امید سحر کی بات سناؤ

مقتدرہ قومی زبان میں منعقدہ ایک تقریب میں فنکاروں نے کلام فیض کے پس منظر میں پاکستان کی فکر ی اور سماجی تاریخ کو منظوم صورت میں ایسے پیش کیا کہ سامعین مسحور ہو کر رہ گئے ۔ پاکستان کے نامور وائلن نواز استاد رئیس احمد خان نے وائلن پرنہ صرف فیض کی مقبول غزل پیش کی بلکہ معروف نغموں کو اپنی مہارت سے سامعین کے حافظے میں تازہ کر دیا۔ گجرات یونیورسٹی ہی کی عالیہ رشید نے نہ صرف کلاسیکی موسیقی میں سے راگ ایمن پیش کیابلکہ غالب اور فیض کی غزلیں بھی سنائیں۔یہ تقریب مقتدرہ قومی زبان ،گجرات یونیورسٹی ،ہائر ایجو کیشن کمیشن اور نیشنل ٹیسٹنگ سروس کے تعاون سے منعقد کی گئی جس میں اسلام آباد کی سول سوسائٹی ،معروف ادبی شخصیات اور ثقافتی حلقوں کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ کینیڈا سے ڈاکٹر سید تقی عابدی ،بلوچستان سے ڈاکٹر شاہ محمد مری ،ملتان سے ڈاکٹر روبینہ ترین ،حیدر آباد سندھ سے آغا سلیم ،پشاور سے بہر ہ مند درانی، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر نذیر احمد سانگی اور فیض چیئرکے سربراہ ڈاکٹرشاہد اقبال کامران نے شرکت کی۔ہائر ایجو کیشن کمیشن کے مرتضی نور صاحب کے ساتھ ساتھ گجرات یونیورسٹی کے وائس چانسلرڈاکٹر نظام الدین اور صدرنشین مقتدرہ قومی زبان پروفیسرڈاکٹر انوار احمد نے بھی خطاب کیا۔ ڈاکٹر نظام نے بتایا کہ اس سال کے آخرمیں تینوں ادارے مل کرایک فیض انٹرنیشنل کانفرنس کا انعقاد کریں گے۔ جس میں غیرملکی اور ملکی مندو بین کی کثیر تعداد شریک ہوگی۔

(جاوید اختر ملک)
مشیر ابلاغ عامہ

 
 
جملہ حقوق بحق ادارۂ فروغِ قومی زبان محفوظ ہیں