English اُردو        
  رابطہ اغراض و مقاصد تعارف سرورق

29جون2018


پریس ریلیز


مشتاق یوسفی نے ہمیشہ فکر کی تربیت کی ۔
وہ قومی معاشرت کی فکر انگیزی میں زندہ رہیں گے
ادارہ فروغ قومی زبان کے زیر اہتمام مشتاق یوسفی کی تعزیتی تقریب سے مقررین کا خطاب


اسلام آباد ۔ادارہ فروغ قومی زبان کے زیر اہتمام ممتاز ادیب، دانشور اور مزاح نگارمشتاق احمد یوسفی کی یاد میں تعزیتی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کی صدارت روفیسر فتح محمد ملک نے کی جبکہ کشور ناہید مہمان خصوصی تھیں۔تقریب کے صدر پروفیسر فتح محمد ملک نے کہا کہ مزاح کی جو روایت یوسفی صاحب نے ڈالی وہ عہد یوسفی کا بے مثال کارنامہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ یوسفی صاحب ہمیشہ فکر کی تربیت کرتے رہے ۔ وہ قومی معاشرت کی فکر انگیزی میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔یوسفی صاحب ہمیں ہنستے ہنساتے گہری سوچ میں مبتلاجاتے۔مہمان خصوصی کشور ناہید نے کہا کہ یوسفی صاحب عام زندگی کے کرداروں سے ایک نکتہ لیتے تھے اور پھر اسی نکتے سے کئی نکتے پیدا کر لیتے۔ جملہ بنانا، کرداربنانا اور بے ساختگی پیدا کرنا انہی کا کمال تھا۔ ان کے جملے اپنے اندر ایک داستان رکھتے تھے۔ادارہ فروغ قومی زبان کے ڈائریکٹر جنرل افتحار عارف نے کہا کہ یوسفی صاحب اللہ کی نعمت تھی جو ہمارے ساتھ رہی ۔ ان کے جانے سے بہت محرومی کا احساس ہوتا ہے۔ یوسفی صاحب بہت مشکل لکھنے والے تھے۔ وہ اپنی تحریروں کی بار بار تدوین کرتے ۔ افتخار عارف نے کہا کہ وہ بہت سے بینکوں کے سربراہ رہے لیکن ان کے دامن پرکبھی کوئی داغ نہیں لگا۔یوسفی صاحب مطالعہ کے بہت شوقین تھے۔ کوئی اہم کتاب ان کے مطالعہ سے گزرے بغیر نہیں جاتی تھی۔ افسانہ نگار فریدہ حفیظ نے کہا کہ یوسفی صاحب عہد ساز لوگوں میں سے تھے۔ ہماری خوش قسمتی تھی کہ ہم ان کے دور میں زندہ ہیں۔ یوسفی صاحب نے ایسے دیئے روشن کیے جو دل اور ذہن کو روشن کرتے ہیں۔ ممتاز افسانہ نگار محمد حمید شاہد نے کہا کہ یوسفی صاحب عام زندگی میں ویسے دلچسپ اور مزاح نگار نہیں تھے جیسے وہ تحریروں میں نظر آتے ہیں۔ ان کے ہاں فکر اور مزاح مل کر سامنے آتے ہیں۔ یوسفی صاحب کی دو کتابیں’’سرگزشت‘‘ اور ’’آبِ گم‘‘ بڑی مربوط کتابیں ہیں۔ انھوں نے میر اور غالب کو اپنی تحریروں میں زیادہ استعمال کیا۔ ڈاکٹر عزیز ابن الحسن نے کہا کہ’’ آب نشاۃ و نشاط گم شد‘‘یوسفی صاحب نے آغاز مزاح نگاری سے کیامگر آب گم تک آتے آتے زندگی کا المیہ ان پر غالب آ چکا تھا۔ انھوں نے مزاح نگاری کو اپنے اظہار کا اسلوب بنایا۔ ڈاکٹر نجیبہ عارف نے کہا کہ یوسفی صاحب کی تحریریں الجھی ہوئی گتھیاں کھول دیتی ہیں۔ ان کی مزاح نگاری ایک آلہ کار ہے اور ان کا مزاح ایک باریک سا پردہ ہے۔ وہ ایک جینؤن ادیب اور بڑے تخلیق کار تھے۔یوسفی صاحب کا مرکزی موضوع ہارا ہوا، بکھرا ہوا اور ٹوٹا ہوا انسان ہے۔ممتازشاعر ادیب ڈاکٹر احسان اکبر نے کہا کہ یوسفی صاحب نے اہم اور بڑے مزاح نگار کی خالی نشست پُر کی۔ انھوں نے اپنے مزاح میں عبدالقدوس جیسے لافانی کردار پیدا کیے۔ وہ زندگی کو غیر سنجیدگی کانام نہیں دیتے تھے۔ڈاکٹر عابد سیال نے کہا کہ یوسفی صاحب کا چلے جانا ایک بڑے عہد کا چلے جانا ہے۔ یوسفی صاحب کا اسلوب پُرتکلف مزاح نگاری پر مبنی تھا۔تقریب کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر سعدیہ طاہر نے انجام دیے۔تقریب میں جڑواں شہروں سے یوسفی صاحب کے چاہنے والوں کی کثیرتعدادنے شرکت کی۔
سید سردار احمد پیرزادہ
مدیر اعلی ماہنامہ اخبار اردو
ادارہ فروغ قومی زبان،اسلام اباد
موبائل:0333-5203905

 
 
جملہ حقوق بحق ادارۂ فروغِ قومی زبان محفوظ ہیں