English اُردو        
  رابطہ اغراض و مقاصد تعارف سرورق

۲ اگست، ۲۰۱۱

پریس ریلیز

افتخار نسیم اِفتی اُردو کے ایک مایۂ ناز شاعر اور امریکہ میں اُردو کی ایک نمائندہ آواز تھے۔ ان خیالا ت کا اظہارڈاکٹر انوار احمد، چےئرمین مقتدرہ قومی زبان نے اکادمی ادبیات پاکستان اور مقتدرہ قومی زبان کے زیر اہتمام معروف شاعر اور ادیب افتخار نسیم افتی کی یاد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس میں صدارت کرتے ہوئے کیا۔ خالد اقبال یاسر، ڈائریکٹرجنرل ، اکادمی ادبیات پاکستان مہمانِ خصوصی تھے۔ شبنم شکیل ، منشاء یاد،جلیل عالی ، بشیر حسین ناظم ، انجم خلیق، خرم خلیق ، قیصرہ علوی ، منظر نقوی، اصغر عابد، عرفان احمد عرفی ، اورڈاکٹر روش ندیم نے افتخار نسیم افتی کی شخصیت اورادبی خدمات کے حوالے سے ظہارِ خیال کیا۔ نظامت علی یاسر نے کی۔ ڈاکٹر انوار احمد ، چےئرمین مقتدرہ قومی زبان نے کہا کہ افتخار نسیم اِفتی اُردو کے ایک مایۂ ناز شاعر اور امریکہ میں اُردو کی ایک نمائندہ آواز تھے۔ اُن کی بے وقت موت سے اُردو زبان ایک منفرد اور بے مثل شاعر سے محروم ہو گئی ۔ امریکہ میں اُن کی موجودگی وہاں ہماری وہاں ہماری زبان و ادب کی تقویت کا باعث تھی ۔ ہمیں نہ صرف اُن کے عزیزو اقارب سے اظہارِ ہمدردی ہے بلکہ اُردو کے حوالے سے کبھی ایک اچھے شاعر سے محروم ہو جانا بھی ئاسف کا باعث ہے ۔ خُدا اُن کی مغفرت کرے اور اُنھیں جوارِ رحمت میں جگہ دے ۔ خالد اقبال یاسر، ڈائریکٹرجنرل ، اکادمی ادبیات پاکستان نے کہا کہ افتخار نسیم افتی کا شمار اردو غزل کے اہم شعراء میں ہوتا ہے۔ وہ ایک علمی ادبی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے انتقال سے اردو ادب ایک ممتاز شاعر سے محروم ہوگیا ہے۔ ان کے شعری مجموعے ’’غزال‘‘ ، ’’نرمان‘‘ ،’’ آبدوز‘‘اردو ادب میں قدر کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی کتابیں ’’شبری‘‘ اور ’’افتی نامہ‘‘ اردو ادب کی اہم کتابیں ہیں۔ ایک عرصے سے بیرون ملک رہتے ہوئے بھی ان کی شاعری میں وطن کی چاہت موجود ہے۔ ان کی شاعری جدت کے ساتھ ساتھ کلاسیکی روایت سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افتخار نسیم نے ایک طرف مشرق و مغرب کے بہترین ادب کی کھڑکی کھولے رکھی تو دوسری طرف انسانی رویوں کا روزن بھی اُنھوں نے بند نہیں ہونے دیا۔ مشرق و مغرب کے بہترین ادب کے مطالعے کے ساتھ ساتھ اُنھوں نے انسانی رویوں کا بھی باریک بینی سے تجزیہ کیا۔ وہ بنیادی طور پر انسان دوست تھا۔ جب وہ انسان کو معاشی، معاشرتی ، سماجی ، سیاسی، تہذیبی، لسانی، مذہبی اوروطنی طبقات میں بٹا ہوا دیکھتا تو اندر ہی اند ر کڑہتا رہتا۔ انہوں نے کہا کہ وہ تو انسان کو مرد، عورت اور مخنث کے خانوں میں بھی تقسیم کرنے کا روادار نہیں تھا۔ افتخار نسیم نے بیک وقت شاعری بھی کی، افسانے بھی لکھے اور کالم بھی، لیکن اُس کی پہچان بہر حال شاعری ہی رہی۔ انجم خلیق نے کہا کہ افتخار نسیم افتی کو خلیق فیملی میں یہ اختصاص حاصل ہے کہ انھوں نے بیرون ملک رہ کر بین الاقوامی دانشور کی حیثیت سے اپنے آپ کو منوایا۔ وہ ایک دلیر انسان تھے جنہوں نے اپنی خامیوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انہیں اپنی قوت میں تبدیل کیا اور شاعری اور نثر میں اپنے استحقاق کو دنیا سے تسلیم کرایا۔اُردو غزل کا جدید لب و لہجہ ان کے ذکر کے بغیر ادھورا رہے گا۔منشاء یاد نے کہا کہ شاعری اور افسانے کے علاوہ بھی افتخار نسیم کے بہت سے حوالے ہیں ۔ بعض قومی معاملات میں ان کی رائے صائب ہوتی اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کے معاملات پر تبصرے درست ہوتے ۔ وہ اپنے ریڈیو چینل کے ذریعے بھی اُردو دان حلقوں میں پہچانا جاتا تھا۔

جاوید اختر ملک
مشیر ابلاغ عامہ

 
 
جملہ حقوق بحق ادارۂ فروغِ قومی زبان محفوظ ہیں