English اُردو        
  رابطہ اغراض و مقاصد تعارف سرورق

22-5-2012


پریس ریلیز

کتب بینی کو فروغ دینا ہماری اولین ذمہ داری ہونی چاہیے ، ڈاکٹر انوار احمد 


ملتان کی تاریخی اور تہذیبی عظمت کو اقتدار کے مراکز میں بیٹھے ہوئے لوگ نہیں سمجھ سکتے۔ یہ بات نامور مؤرخ اور نقاد احمد سلیم نے کہی جب وہ ڈاکٹر روبینہ ترین کی کتاب'' تاریخِ ادبیاتِ ملتان‘‘ پر اظہار خیال کر رہے تھے ۔ انھوں نے کہا کہ جس صوبے کی سرحد ایک طرف سندھ اور مکران اور دوسری طرف ایران سے ملتی تھی ، ان میں ادبی اور تہذیبی آثار کو تلاش کرنا آسان کام نہیں مگر ڈاکٹر روبینہ ترین اور اس خطے کے سکالرز اس حوالے سے بنیادی کام کر رہے ہیں اور وہ یہ امتیاز بھی کر رہے ہیں کہ صوفیاء میں کون اسٹیبلشمنٹ کے مدد گار تھے اور کون مخالف تھے۔ مقتدرہ قومی زبان میں نئی شائع ہونے والی چار کتابوں میں سے'' کوہاٹ کی علمی وادبی خدمات‘‘ از سجاد احمدپر اظہار رائے کرتے ہوئے حنیف خلیل نے کہا کہ کوہاٹ کے شعراء قاسم خان آفریدی اور پیر مطیع اللہ ، میرو سودا کے معاصروں کو ہمارے مؤرخوں نے نظر انداز کیا ہے۔ اب ضرورت ہے کہ پاکستان کے تمام خطوں میں ادبی اور تاریخی آثار کو دریافت کر کے پاکستان کی مجموعی تہذیبی شناخت بنائی جائے جو کہ دو چار شہروں کی مرہون منت نہ ہو ڈاکٹر نجیب جمال اور حمیرا اشفاق نے روبینہ الماس کی کتاب ''اُردو افسانے میں جلا وطنی کا اظہار ‘‘میں اظہار رائے کرتے ہوئے جلاوطنی کی مختلف سطحوں کو اجاگر کیا اور بتایا کہ جس معاشرہ میں عوام پر اعتبار نہ کیا جائے ، تخلیق کاروں ، دانشوروں کو احساس شرکت سے محروم کردیا جائے وہاں وطن میں رہتے ہوئے جلاوطنی کا احساس عود کر آتا ہے۔ ڈاکٹر صلاح الدین درویش نے خاور نوازش کی کتاب'' مشاہیر ادب خارزار سیاست میں‘‘ کا جائزہ لیا اور بتایا کہ ہمارے بہت سے تخلیق کار کا عوام میں پذیرائی کے باوجود عملی سیاست میں کسی قدر ناکام رہے تاہم گل خان نصیر اور اجمل خٹک مستثنیات میں سے ہیں ۔ تقریب میں نامور ٹی وی آرٹسٹ یونس سہیل مقتدرہ قومی زبان کے اشاعت کے سبک خرام ڈسک کی انچارج ڈاکٹر انجم حمید کو پھولوں کی ٹوکری پیش کی ۔ صدرنشین ڈاکٹر انوار احمد نے کہا کہ جس طرح چین میں تن من دھن نچھاور کرنے والے ڈاکٹروں اور اساتذہ نے دھوم مچا رکھی تھی ہمیں بھی چند ایسے قارئین کی ضرورت ہے جو اپنی آسائشات کو قربان کر کے کتاب خرید سکیں۔ تقریب کی صدارت چوہدری عبدالحمید چےئرمین اکادمی ادبیات پاکستان نے کی اور انھوں نے عندیہ ظاہر کیا کہ مقتدرہ اور اکادمی ادبیات مشترکہ طور پر اشاعتی اور ادبی سرگرمیوں کو فروغ دے سکتے ہیں۔

جاوید اختر
( مشیر ابلاغِ عامہ )

 
 
جملہ حقوق بحق ادارۂ فروغِ قومی زبان محفوظ ہیں