English اُردو        
  رابطہ اغراض و مقاصد تعارف سرورق

۲۲۔ فروری ۲۰۱۲ء

پریس ریلیز

مقتدرہ قومی زبان میں جوش قومی ادبی کانفرنس کا انعقاد

شاعرِ انقلاب حضرتِ جوش ملیح آبادی کی تیسویں برسی کے موقعہ پرجوش میموریل کمیٹی ،جوش ادبی فاؤنڈیشن اور مقتدرہ قومی زبان کے تعاون سے ’’ جوش قومی ادبی کانفرنس ‘‘ منعقدکی گئی۔ تقریب کے مہمان اعزاز ممتاز دانشور ڈاکٹر اصغر ندیم سید تھے۔ تقریب سے منسٹری آف اوورسیز ایمپلائز کے وفاقی وزیر ڈاکٹر فاروق ستار،چےئرمین مقتدرہ قومی زبان ڈاکٹر انوار احمد ، آغا ناصر، اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی کے ڈاکٹر نجیب جمال ، ڈاکٹر روش ندیم ، کشور ناہید ، ڈاکٹر یحیےٰ احمد ملک ، فرخ جمال ملیح آبادی، تبسم اخلاق اور منصور عاقل نے خطاب کیا۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا جوش ایک انقلابی شاعر تھے ان کا شمار اُردو کی ان قدآور شخصیات میں ہوتا ہے جن کا نام رہتی دنیا تک زندہ رہے گا۔ انھوں نے انقلابی نظموں کے ذریعے شعور لافانی دیا۔ مقتدرہ قومی زبان کے چےئرمین ڈاکٹر انوار احمد نے کہا کہ ہمارا معاشرہ بعض لوگوں کو القاب دیتا ہے ۔ ہم نے اپنی تاریخ اور تہذیب کے ساتھ جوسلوک کیا آج جوش کی انقلابی شاعری میں ہم اسے یاد کر رہے ہیں۔ انھوں نے اپنی تقریر میں عائشہ جلال کی کتاب کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ ہمیں غور کرنا ہوگا کہ ہماری درسگاہوں سے جوش کی شاعری کو کیوں دور رکھا گیا اور اب معاشرہ اسے کیوں یاد کر رہا ہے۔تقریب کے مہمان اعزاز ڈاکٹر اصغر ندیم سید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جوش کی شاعری زندگی کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرتی نظر آتی ہے۔ وہ شاعرِ انقلاب اور شاعرِ انسان تھے ۔ انھوں نے زندگی بھر تعصب ومنافقت سے اپنے آپ کو دور رکھا ۔دیگر مقررین نے شاندار طریقے سے جوش کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ جوش کی علمی وادبی خدمات کو تاریخ کے اوراق نے رقم کردیا ہے درحقیت جوش نے برطانوی سامراج کے خلاف اپنے قلم سے جہاد کیا ہے وہ انسانیت کے علمبردار شخصیت تھے۔شاعرِ انقلاب جوش ملیح آبادی نے جدوجہد آزادی میں نمایاں کردار ادا کیا ۔جوش دہشت گردی اور خون وفساد کے خلاف تھے۔ انھوں نے اپنی شاعری کے ذریعے انسان دوستی کی تعلیم دی۔تقریب میں خصوصی طور پرجاپان سے آئے ہوئے اوسا کا یونیورسٹی کے پروفیسر سویا مانے یاسر اور پورے ملک سے اہل علم ودانش نے بھرپور شرکت کی۔

(محمد جاوید اختر)

 
 
جملہ حقوق بحق ادارۂ فروغِ قومی زبان محفوظ ہیں