English اُردو        
  رابطہ اغراض و مقاصد تعارف سرورق

۱۸ ۔اپریل ۲۰۱۹ء

پریس ریلیز

ڈاکٹر جمیل جالبی کی اُردو ادب میں خدمات تادیر یاد رکھی جائیں گی۔ افتخار عارف


اسلام آباد ۔۔۔ عہد حاضر میں اُردو کی عظیم المرتبت ادبی شخصیت ڈاکٹر جمیل جالبی کا انتقال اُردو دنیا کا ایک بہت بڑا نقصان ہے۔ مرحوم نے اُردو زبان کی ترویج و فروغ کے لیے مختلف اصناف ادب میں قابل قدر تصنیفات و تالیفات یادگار چھوڑی ہیں۔ پاکستانی کلچر کے حوالے سے ان کی پہلی یادگار تصنیف ’’پاکستانی کلچر‘‘ آج بھی ہمارے حوالے کی کتابوں میں شمار کی جاتی ہے۔ دکنی اُردو پر ان کا تحقیقی کام ’’مثنوی کدم راؤ پدم راؤ‘‘ اور خاص طور پر قدیم اُردو کی تحقیق کے حوالے سے بنیادی کتاب کی حیثیت رکھتی ہے جس نے تاریخ اُردو کی مدت میں صدیوں کا اضافہ کیا ہے۔ان خیالات کا اظہار ادارہ فروغ قومی زبان کے ڈائریکٹر جنرل افتخار عارف نے ڈاکٹر جمیل جالبی کے انتقال پر تعزیت کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ عہد حاضر میں انھوں نے دو ایسے کارنامے سرانجام دیے ہیں جو اُردو زبان کی ترویج و فروغ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چار ضخیم جلدوں میں شائع شدہ ’’تاریخ ادب اُردو‘‘ اور ’’قومی انگریزی اُردو لغت‘‘ کی تدوین زبان و ادب سے تعلق رکھنے والے حلقوں میں قدر کی نظر سے دیکھی جائیں گی۔ ڈاکٹر صاحب مقتدرہ قومی زبان کے صدرنشین بھی رہے۔ان کی علمی ،ادبی خدمات پر انھیں حال ہی میں اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے ادب کا اعلیٰ ترین اعزاز ’’کمال فن‘‘ تفویض کیا گیا تھا۔ اس سے قبل حکومت پاکستان نے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ’’ہلال امتیاز‘‘ ، ’’پرائیڈ آف پرفارمنس‘‘ اور ’’ستارہ امتیاز‘‘ بھی سے نوازا گیاتھا۔ مجھے اس بات پر ہمیشہ فخر رہے گا کہ میں نے پینتالیس برس ان کے نیازمند کی حیثیت سے گزارے اور ایک طالب علم کی حیثیت سے بھی ان سے فیض حاصل کیا اور ایک فرد خاندان کے طور پر بھی ان کی نیازمندی کا شرف حاصل رہا۔ ان کی کمی ایک قومی سانحہ بھی ہے اور میرے لیے انفرادی نقصان بھی۔

 

 
 
جملہ حقوق بحق ادارۂ فروغِ قومی زبان محفوظ ہیں