English اُردو        
  رابطہ اغراض و مقاصد تعارف سرورق

18-4-2012

پریس ریلیز

100 کتاب 100 مہمان

مقتدرہ قومی زبان ، اسلام آباد میں کتاب میلہ ’’ 100 کتاب 100 مہمان ‘‘ منعقد ہوا۔ جس میں چار مصنفین کی کتب کی تقریب رونمائی کی گئی ۔ پہلی نشست میں پرتو روہیلہ کی کتاب ’’ غالب اور غمگین کے فارسی مکتوبات ‘‘ اور شاہدہ رسول کی کتاب ’’ اقبال کا تصورِ کشف ‘‘ کی رونمائی کی گئی ۔ کتاب غالب اور غمگین کے فارسی مکتوبات کے حولاے سے بات کرتے ہوئے مہمان خصوصی ڈاکٹر نجیب جمال نے کہا ہے کہ پرتوروہیلہ نے غالب اور غمگین کے دس فارسی مکتوبات کواُردوترجمہ کے ساتھ شائع کرنا ایک قابل تحسین کام ہے اور اس کتاب میں غالب شناس کے نئے پہلو سامنے آتے ہیں۔ کتاب’’ اقبال کا تصورِ کشف‘‘ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر نجیب جمال نے کہا کہ مصنفہ نے اقبال شناسی کے حوالے سے ان پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے جن پر ابتک کوئی تحقیقی وعلمی کام نہ ہوا ہے اور بلاشبہ شاہدہ رسول کی ایک بہترین کاوش ہے۔ ڈاکٹر انوار احمد چےئرمین مقتدرہ قومی زبان نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پرتوروہیلہ کا غالب پر کام بلاشبہ ایک نیا انداز ہے اور غالب پر تحقیقی کام کرنے والوں کے لیے نئے راستوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ شاہدہ رسول کی کتاب’’ اقبال کا تصور کشف‘‘ پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر انوار احمد نے کہا کہ شاہدہ رسول جو کہ بصارت سے محروم ہیں مگر انھوں نے اپنی اس محرومی کے باوجود اقبال شناسی کے حوالے سے ایسا کام کیا ہے جو انتہائی قابل تحسین ہے اور اقبال پر تحقیقی کام کے حوالے سے نئے انداز متعین کرتا ہے۔ کتب کی رونمائی کی دوسری نشست میں حمیرا اشفاق کی کتاب ’’ نثر رشید جہاں اور ڈاکٹر صلاح الدین درویش کی کتاب ’’ فکر اقبال کا المیہ ‘‘ کی رونمائی کی گئی ۔ تقریب کے مہمان خصوصی نامور ادیب دانشور اشفاق سلیم مرزا نے کتب پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صلاح الدین درویش نے یہ کتاب لکھ کر ایک اجتہاد کیا اور اقبال کے بارے میں جو موقف اختیار کیا ہے وہ روایت سے ہٹ کر ہے حمیرا اشفاق کی کتاب پربات کرتے ہوئے اشفاق سلیم مرزا نے کہا کہ رشید جہاں برصغیر میں ترقی پسند کی پہلی نسواں آواز بن کر ابھریں۔ اس کتاب میں ان کی تحریروں کے حوالے سے سیاسی اور سماجی مطالعہ کا تفصیلی ذکر موجود ہے اور رشید جہاں بیسویں صدی کی توانا اور حقیقت پسندانہ آواز ہیں۔کتاب کے بارے میں ڈاکٹر نجیب جمال نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقبال کے کلام کو جزدان میں لپیٹ کر طاق میں رکھنے کی ضرورت نہیں بلکہ اسپر جدید نظریات اور تصورات کے مطابق بحث ہونی چاہیے تاکہ اقبال کے کلام اور جدید علوم میں مطابقت تلاش کی جاسکے۔ نثرِ رشید جہاں کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ اس کتاب میں وہ تحریر یںیکجا ہوگئی ہے جس نے 1930ء کی دہائی کی ترقی پسند ادبی فکر کے فروغ میں بہت اہم کردار کیا ہے۔ تقریب میں آغا ناصر ، ڈاکٹر روش ندیم ، سرفراز طارق ، سیکرٹری مقتدرہ اور فرید اللہ خان فیڈرل سیکرٹری ، احمد سلیم ، ڈاکٹر اسد فیض ، مرتضیٰ نور اور کثیر تعداد میں اہل علم اور دانشوروں نے شرکت کی۔
(جاویدا خترملک)
مشیر ابلاع عامہ

 
 
جملہ حقوق بحق ادارۂ فروغِ قومی زبان محفوظ ہیں