English اُردو        
  رابطہ اغراض و مقاصد تعارف سرورق

۱۷ مئی ۲۰۱۷ء

پریس ریلیز
پاکستان میں زبانوں کا آپس میں کوئی جھگڑا نہیں ہے۔آج سازشی عناصر بے نقاب ہوگئے ہیں۔
قومی زبان اور پاکستانی زبانیں کے موضوع پرسیمینار سے مقررین کا خطاب اور سفارشات کی منظوری


اسلام آباددادارہ فروغ قومی زبان،اسلام آباد کے زیر اہتمام۷۱مئی۷۱۰۲ءکوایک روزہ قومی مذاکرہ منعقد کیا گیا جس کا موضوع ”قومی زبان اور پاکستانی زبانیں: پس منظر اور پیش منظر“ تھا۔ اس مذاکرے کے افتتاحی اجلاس کی صدارت وزیر اعظم کے مشیرعرفان صدیقی نے کی جبکہ مہمانان خصوصی پروفیسر فتح محمد ملک اور مسعود مفتی تھے ۔ مذاکرے میں پاکستان کے مختلف علاقوں اور زبانوں کی نمائندگی کرنے والے اہل قلم، اہل علم اور دانشوروں نے شرکت کی۔اس موقع پر ادارہ کے ڈائریکٹر جنرل افتخار عارف نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور مذاکرے کی افادیت پر روشنی ڈالی۔صاحب صدر عرفان صدیقی نے کہا کہ پاکستان کی واحد قومی زبان اردو ہے۔پاکستان کی مادری ےا پاکستانی زبانیں اےک دوسرے کی دوست ہیں۔ مذاکرے میںحصہ لینے والوں میں ڈاکٹر احسان اکبر، ڈاکٹر رﺅف پاریکھ، ڈاکٹر فاطمہ حسن ،پروفیسر جلیل عالی،پروین ملک،ڈاکٹر ناصر عباس نیئر ،جبار مرزا ،حفیظ خان ،محمد ضیاءالدین اورڈاکٹر واحد بخش بزدارشامل تھے۔ اس ایک روزہ قومی مذاکرے کے اختتام پر شرکائے مجلس نے حسب ذیل سفارشات اتفاق رائے سے منظور کیں۔
۱۔ آئین پاکستان کی رُو کے مطابق اُردو کو فی الفور دفتری اور سرکاری زبان کے طور پر نافذ کیا جائے۔۲۔قومی لسانی پالیسی کی تشکیل ، ترویج اور نفاذ کے لیے ماہرین اور نمائندہ اداروں /افراد پر مشتمل ایک باقاعدہ قومی لسانی کمیشن بنایا جائے۔۳۔تمام پاکستانی زبانوں کے تحفظ اور فروغ کے لیے ادارے قائم کیے جائیں اور جو ادارے کام کررہے ہیں انھیں مزید مالی وسائل فراہم کیے جائیں۔۴۔پاکستان کی قومی زبان واحد ہونی چاہیے اور وہ زبان اُردو ہے۔۵۔تمام پاکستانی زبانو ں کی ہر سال کی سرکاری انعام یافتہ کتابوں کے فوری اردو ترجمے ،اشاعت اور ترسیل کا انتظام کیا جائے۔۶۔مقتدرہ قومی زبان کا نام بحال کیا جائے اور اسے نفاذ اردو کے ضمن میں مرکزی حیثیت دی جائے جیسا کہ وزیر اعظم صاحب نے حکم دیا ہے۔۷۔کابینہ کمیٹی کی سفارشات ۷۰۰۲ئ(عکسی نقل منسلک ہے) کی ہم بھرپور تائید کرتے ہیں ،ان پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔۸۔صوبائی اسمبلیوں کو اختیار دیا جائے کہ وہ کسی بھی پاکستانی زبان /زبانوں کو صوبائی دفتری اور سرکاری زبان کادرجہ دے سکتی ہے جیسا کہ آئین پاکستان میں کہا گیا ہے۔۹۔تمام عدالتی کارروائی اردو میں کی جائے اورتمام عدالتی فیصلے اردو میں کیے جائیں۔۰۱۔وفاقی اور صوبائی پبلک سروس کمیشن /سپیرئیرسروس کمیشن / عسکری سروس کمیشن کے امتحانات اردو اور انگریزی میں سے کسی بھی زبان میں دینے کی اجازت دی جائے۔۱۱۔تمام سروس کمیشنوں کے امتحانات میں نو (۹) بڑی پاکستانی زبانوں کو بطور اختیاری مضمون شامل کیا جائے۔۔ ادارہ فروغ قومی زبان کے زیر انتظام ہونے والا ےہ مذاکرہ پاکستان کے لسانی ماہرین کا اےک نمائندہ اجلاس تھا جس میں سب بڑی زبانو ںکے سکالروں نے اس بات پر اتفاق کےا کہ پاکستان میں کسی زبان کا دوسری زبان سے کوئی جھگڑا نہیں ہے اور پاکستان کی واحد قومی زبان اردو ہی ہے دیگر زبانیں جنہیں مقامی، علاقائی ےا پاکستان زبانیں کہا جائے وہ سب اردو زبان کی فطری اتحادی ہیں۔ پروفیسر فتح محمد ملک نے کہا کہ پورا پاکستان اردو سپیکنگ ہے۔ اگر پاکستان کی علاقائی ےا پاکستانی زبانیں ماں بولی ہیں تو اردو زبان اُن کی بیٹی ہے۔ ماں اور بیٹی میں جھگڑا کروانے کی کوشش کرنے والے سازشی عناصر آج بے نقاب ہو گئے ہیں۔پروفیسر مسعود مفتی نے کہا کہ ملک کے ہر دیار میں اردو زبان مقامی محاورے کو گلے لگالیں تو قومی اور پاکستان زبانیں آپس میں دوپٹہ بدل سہلیاں ثابت ہو نگی۔ اس مذاکرے میں کثیر تعدادمیں ماہرین لسانیات ،سکالروں ،اساتذہ اور سول سائٹی نے شرکت کی۔
سید سردار احمد پیرزادہ
مدیر اعلی ماہنامہ اخبار اردو
ادارہ فروغ قومی زبان،اسلام اباد
موبائل:0333-5203905

 
 
جملہ حقوق بحق ادارۂ فروغِ قومی زبان محفوظ ہیں