English اُردو        
  رابطہ اغراض و مقاصد تعارف سرورق

۱۶ ستمبر ۲۰۱۱ء

پریس ریلیز

مقتدرہ قومی زبان کے ایوان اردو میں ممتاز دانشور اشفاق سلیم مرزا کی کتاب "فلسفہ تاریخ، نو آبادیات اور جمہوریت" (چند نا مکمل مباحث) کی تقریب رونمائی منعقد ہوئی جس کی صدارت ڈاکٹر مبارک علی نے کی جبکہ مہمان خصوصی مقتدرہ کے صدر نشین ڈاکٹر انوار احمد تھے۔ اس کے علاوہ تقریب میں خطاب کرنے والوں میں ڈاکٹر جعفر، فہمیدہ ریاض، مسعود مفتی، ڈاکٹر عائشہ صدیقہ، حارث خلیق اور ڈاکٹر روش ندیم شامل تھے۔
مہمان خصوصی ڈاکٹر انوار احمد نے کہا کہ اشفاق سلیم مرزا تمام بڑی علمی شخصیات سے رابطے میں ہیں اور ان کی حیثیت ایک پُل کی سی ہے وہ اپنے اوپر کی جانے والی تنقید کے نظریے پر یقین رکھتے ہیں اور پسند کرتے ہیں انھوں نے کبھی مصلحت پسندی کا راستہ اختیار نہیں کیا ان کی تاریخ مستقل کا تعین کرتی ہیں۔
تقریب کے صدر ڈاکٹر مبارک علی نے کہا کہ اشفاق سلیم مرزا ایک بے باک اور بہارد مصنف ہیں ان کا مارکسزم پر پختہ یقین عوام الناس کو اپنے پیرو ں پر کھڑا ہونے میں بہت مدد دیتا ہے۔ انھوں نے اپنی ساری عمر سماجی موضوعات پر تحقیق کرنے اور لکھنے میں گزاری جن کو عموماً نظر انداز کیا جاتا ہے اور انھوں نے تاریخ، فلسفہ اور جمہوریت کے اصل معنی قاری پر اجاگر کیے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے ہاں فلسفہ کی کبھی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی کیونکہ فلسفہ زندگی کے نئے نئے پہلو دریافت کرنے میں مدد دیتا ہے جو ان سے مختلف ہوتے ہیں جن میں ہم رہ رہے ہیں۔
فکشن رائٹر مسعود مفتی نے مصنف کی شخصیت اور تحریر وں پر بات کرتے کہا کہ ان کے ہاں منطق اور خالص دلائل کے ساتھ بات کی جاتی ہے۔
فہمیدہ ریاض نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اشفاق سلیم مرزا ان چند دانشوروں میں سے ہیں جو ہمیشہ اپنے نظریہ سے مخلص رہے اور اسی کے تحت معاشرے میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں ۔
پاکستان سٹڈی سینٹر، جامعہ کراچی کے سربراہ ڈاکٹر جعفر احمد نے کہا کہ یہ کتا ب تاریخ، فلسفہ اور صوفی ازم کا بے پناہ علم لیے ہوئے ہے۔ انھوں نے کہا کہ عموماًلکھنے والے اپنی تحریروں کو مکمل بحث سمجھتے ہیں لیکن اشفاق سلیم مرزانے اپنے مضامین کو اس لیے نامکمل چھوڑا کہ اس پر مزید بحث ہو۔ وہ اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ علم وقت کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتا ہے ۔
ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے اس موقع پر کہا کہ اس کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ بحث ہے کہ ہمارے معاشرے میں جمہوریت کیوں نہیں پروان چڑھ سکی۔ اس موضوع پر مصنف نے بہت سے سماجی رویوں اور پہلووں کا ذکر کیا ہے۔
حارث خلیق نے اپنے خطاب میں کہا کہ اشفاق سلیم مرزاکا بین الاقوامی سیاست پر نقطہ نظر ہمیشہ نیا اور بھر پور ہوتا ہے اور جو تمام مصلحتوں سے عاری ہوتا ہے۔
ڈاکٹر روش ندیم نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہ اشفاق سلیم مرزا کی تحریروں سے نئی بحث شروع ہوتی ہے۔ یہ کتاب بھی نئی نسل کے لیے ہمارے علم و دانش کا ورثہ ثابت ہوگی۔
کتاب کے مصنف اشفاق سلیم مرزا نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ نویسی ایک منجمد کام نہیں بلکہ مسلسل عمل ہے۔ انھوں نے کہ آج کے اجنبی یا حملہ آور مستقل کے مقامی لوگ ہونگے۔ تعلقات اور واقعات کے پس منظر کے معنی وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ تاریخ اور فلسفہ نے مجھے ہمیشہ حیران کیا کیونکہ یہ ہر لمحہ حقیقتیں بدلتی رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں ابھی بھی تاریخ اور فلسفہ کا طالب علم ہونے کے ناطے ہمیشہ نئی نئی جہتیں پڑھ کر حیران ہوتا ہوں۔
تقریب میں کشور ناہید، امجد اسلام امجد، راولپنڈی، اسلام آباد اور ملک کے دیگر کے شہروں سے آئے ہوئے ممتاز دانشوروں، سکالروں اور ادیبوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

جاوید اختر ملک
(مشیر ابلاغ عامہ)

 
 
جملہ حقوق بحق ادارۂ فروغِ قومی زبان محفوظ ہیں