English اُردو        
  رابطہ اغراض و مقاصد تعارف سرورق

16-4-2012

پریس ریلیز

پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کو درپیش مسائل

مقتدرہ قومی زبان اسلام آباداور انٹر یونیورسٹی کنسورشیم فار دی پروموشن آف سوشل سائنسز ، آرٹس اینڈ ہیومینیٹز کے زیر اہتمام ’’ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کو درپیش مسائل پر سیمینار منعقدہوا۔ سیمینار کی افتتاحی تقریب میں مہمانان اور حاضرین کو خوش آمدیدکہتے ہوئے چےئرمین مقتدرہ قومی زبان ڈاکٹر انوار احمد نے کہا کہ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کو درپیش مسائل میں سب سے بڑا مسئلہ زبان کا ہے۔ قومی زبان اُردو میں تعلیمی مواد کی کمی کی وجہ سے طالب عالموں کو کافی مشکلات کا سامنا رہتا ہے اور پاکستان میں پرائمری تعلیم کا نظام اتنا موثر نہیں ہے کہ وہ طالب علموں کی بنیادی ضروریات کو پورا کرسکے۔ تقریب میں پروفیسر ڈاکٹر اسلم سید(فارن پروفیسر ، قائدا عظم یونیورسٹی) نے اپنا خصوصی مقالہ پیش کیا انھوں نے کہا کہ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کو چند بنیادی مسائل کا سامنا ہے جس میں سے ایک فنڈز کی عدم فراہمی اور تعلیمی بجٹ کا کم ہونا ہے۔ پاکستان میں تعلیم کی مد میں 2 فی صد سے کم بجٹ میں رکھا جاتا ہے اور یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کو یونیورسٹی کے دیگر مسائل میں الجھا دیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے تعلیمی مسائل کی طرف توجہ نہیں دے پاتے۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی ڈاکٹر سہیل نقوی ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے کہا کہ تعلیم ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور پاکستان کا آئین اس کا پورا پورا حق فراہم کرتا ہے۔ پاکستانی نوجوانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کا حصول بہت ضروری ہے اس کے بغیر بین الاقوامی معیارات کو پورا نہیں کیا جاسکتا۔ سیمینار کی صدارت ڈاکٹر معصوم یاسین زئی وائس چانسلر قائد اعظم یونیورسٹی نے کی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حکومتی سطح پر تعلیم کو اہمیت دینی چاہیے اور کم از کم تعلیمی بجٹ 4فی صد ہونا چاہیے۔ اعلیٰ تعلیم ہماری بنیادی ترجیح ہونی چاہیے اور نصاب ہماری قومی وعلاقائی اعلیٰ تعلیمی ضروریات سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ مقررین نے مقامی زبانوں میں تعلیم کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ زبان کی مشکلات کی وجہ سے طالب علموں کی تخلیقی صلاحتیں پوری طرح نہیں اجاگر ہوتی ہیں۔
(جاوید اختر ملک )
مشیر برائے ابلاغ عامہ

 
 
جملہ حقوق بحق ادارۂ فروغِ قومی زبان محفوظ ہیں