English اُردو        
  رابطہ اغراض و مقاصد تعارف سرورق

15۔ستمبر2011ء


پریس ریلیز


اردو زبان صوبائی ہم آہنگی اور باہمی محبت کی زبان ہے اس حوالے سے جو پاکستان کے ہر خطے میں سمجھی اور رابطے کے لیے استعمال کی جاتی ہے ان خیالات کا اظہار مقتدرہ کے دورے پر آئے ہوئے مختلف یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر اور دیگر صاحبان نے کہا ان علمی شخصیات میں بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی کے ریکٹر پروفیسر فتح محمد ملک ،کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم صدیقی اور گجرات یو نیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹرنظام اور ہائر ایجو کیشن کے مر تضٰی نور شامل تھے۔ ان صاحبان نے مقتدرہ قومی زبان کے سکالروں اور افسران سے خطاب بھی کیا ۔ان حضرات کو خوش آمدیدکہتے ہوئے مقتدرہ کے صدرنشین ڈاکٹر انوار احمد نے کہا کہ معاشرے کی ایسی شخصیات سے مکالمہ ہوتا رہے تو ادارے چلتے رہتے ہیں۔ ورنہ ان کی حثییت ایک سرکاری جزیرے کی ہو کر رہ جاتی ہے انہوں نے کہا کہ جب تک ہم قومی زبان جسے تہذیبی ورثے کو پوری طرح رائج نہیں کریں گے ہمیں معاشرتی مشکلات کا سامنا رہے گا۔
ڈاکٹر قاسم پیرزادہ نے اس موقع پر کہا کہ مقتدرہ قومی زبان نے اب تک اس حوالے سے اتنا کام کر لیا ہے کہ اگر اردو کو فوری طور پر رائج کر دیا جائے تو کوئی خاص مشکل پیش نہیں آئے گی ۔انہوں نے کہا کہ جہاں اردو ایک علمی اور معاشرتی اعتبار سے بہت اہم ہے وہاں اس کا ہمارے ساتھ رشتہ ضرورت کا ہے اگر ایک شخص باہر سے چترال میں جا کر گفتگو کر ے یا تربت میں بات کرے تو اس اردو زبان کا ہی سہارا لینا پڑے گا۔
اسلامی یونیورسٹی کے ریکٹر پروفیسر فتح محمد ملک نے کہا کہ اردو زبان میں اتنا علمی خزانہ موجود ہے کہ وہ دور ے جدید کے ہر چیلنج کا مقابلہ کر سکتی ہے ۔اور یہ کہ پاکستان کی دوسری تما م زبانیں ادرو کی آبیاری کرتی ہیں جبکہ اردو دیگر پاکستانی زبانوں کی ترقی کا باعث ہے۔
گجرات یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر نظام نے کہا کہ گجرات یونیورسٹی میں بہت جلد مقتدرہ قومی زبان کے تعاون سے اردو کا تحقیقی شعبہ قائم کیا جائے گا جس میں طالب علم اس حوالے سے مختلف تحقیقی کام کریں گے اور انہیں یونیورسٹی ترجیحی بنیادوں پر شائع کرے گی اس کے علاوہ انہوں نے یہ پیش کش بھی کی ہے گجرات یونیورسٹی کے پاس جدید ترین پرنٹنگ پریس موجود ہے اور گجرات یونیورسٹی ادراوں کی اہم کتب شائع کرنے کے لیے تیار ہے ۔مقتدرہ کے صدرنشین ڈاکٹر انوار احمد نے معزز مہمانان کا شکریہ ادا کیا اور اس موقع کو مقتدرہ کے لیے یادگار لمحہ قرار دیا ۔

(جاوید اخترملک)
مشیر ابلاغ عامہ

 
 
جملہ حقوق بحق ادارۂ فروغِ قومی زبان محفوظ ہیں