English اُردو        
  رابطہ اغراض و مقاصد تعارف سرورق

۱۲ ستمبر ۲۰۱۲ء

پریس ریلیز

مقتدرہ کے زیر اہتمام اختر ہاشمی کی کتاب’’ دھرتی کا تاج‘‘( ماریشس کا سفرنامہ) کی تقریب رونمائی

ماریشس ایک پرامن ملک ہے جہاں مسجد اور مندر کی دیواریں ساتھ ساتھ ہیں نہ کسی ہندو یا کسی اور مذہب کے ماننے والے کو اذان متاثر کرتی ہے اور نہ ہی کسی مسلمان کو مندر کی گھنٹی متاثر کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ بارہ لاکھ والی آبادی کے اس ملک میں سالانہ دس لاکھ لوگ سیاحت کے لیے یہاں آتے ہیں۔ یہ بات جنرل (ر) محمد صدیق ملک سابق ہائی کمشنر پاکستان برائے ماریشس نے مقتدرہ کے زیر اہتمام اختر ہاشمی کی کتاب ’’ دھرتی کا تاج‘‘ (ماریشس کا سفر نامہ) کی تقریب میں صدارتی کلمات ادا کرتے ہوئے کہی۔انھوں نے کہا کہ ماریشس میں پاکستانی اُردو ڈرامے اور قوالی بہت مشہور ہے وہاں ستر فی صد آبادی اُردو جانتی ہے۔ مہمان خصوصی ہائی کمشنر ماریشس برائے پاکستان محمد رشادڈوریاؤ نے کہا کہ میرے لیے بات انتہائی خوشی کی ہے کہ پاکستان میں تعیناتی کے ایک ہفتہ بعد ہی ماریشش کے حوالے سے اُردو زبان میں لکھی گئی کتاب کی تقریب میں شریک ہوں ۔ اختر ہاشمی کی اُردو زبان میں لکھی گئی یہ کتاب پاکستان اور ماریشس کے تعلقات میں پل کا کردار ادا کرے گی ۔ ماریشش کے لوگ پاکستان اور پاکستانیوں سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ امید ہے کہ اس کتاب کو دوسرے زبانوں میں بھی ترجمہ کیا جائے گا۔ اُردو زبان ماریشس میں انتہائی مقبول زبان ہے آئندہ ان شاء اللہ جلد کسی تقریب میں اُردو میں اظہار خیال کرنے کی کوشش کروں گا۔ انھوں نے اس موقع پر اُردو زبان میں مصنف اور مقتدرہ کا شکریہ ادا کیا ۔ صدرنشین مقتدرہ ڈاکٹر انوار احمد نے کہا کہ اختر ہاشمی ایک علمی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ سیاح جب کہیں جاتا ہے تو اس ملک کے لوگوں کی تہذیب وتمدن بھی بیان کرتاہے۔ اختر ہاشمی کا یہ سفر نامہ ماریشس کی تہذیب کی عکاسی کرتا ہے۔ ڈاکٹر نجیب جمال نے کہا کہ اختر ہاشمی کا یہ سفر نامہ روایتی سفرنامہ نہیں ہے یہ مختلف انداز سے لکھا گیا ہے۔ سیاحت کے ساتھ ساتھ وہاں کی ذاتی زندگی کے حوالے بھی اس میں موجود ہیں۔ یہ سفر نامہ ایک خوبصورت جزیرے کی تصویر پیش کرتا ہے کتاب کے مصنف اختر ہاشمی نے کہا کہ میں نے ماریشس میں جو کچھ دیکھا اس کتاب میں پینٹنگ کے طور پر اس کی عکاسی کردی ۔ مجھے ماریشس کی سب سے اہم چیز وہاں قانون کی پاسداری لگی۔ وہاں کے عوام کو حکومت کی طرف سے تعلیم صحت اور دیگر تمام سہولتیں مفت فراہم کی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں کے لوگ ملک کے لیے کام کرتے ہوئے کبھی اوور ٹائم نہیں مانگتے۔ تقریب میں الشفاء آئی ٹرسٹ راولپنڈی کے ڈین اور چیف کنسلٹنٹ ڈاکٹر واجد علی خان ، ڈاکٹر صباحت مشتاق نے بھی اظہا رخیال کیا۔ جب کہ نظامت کے فرائض سید سردار احمد پیرزادہ نے ادا کیے۔

(جاوید اختر ملک )
مشیر برائے ابلاغ عامہ

 

 
 
جملہ حقوق بحق ادارۂ فروغِ قومی زبان محفوظ ہیں