English اُردو        
  رابطہ اغراض و مقاصد تعارف سرورق

13-08-12

پریس ریلیز

پاکستان کے 65 ویں یوم آزادی کے موقع پرمقتدرہ قومی زبان ، اسلام آباد کے زیر اہتمام ایک سمینار تحریک وتشکیل پاکستان کے تقاضے منعقد کیا گیا ۔ تقریب کے مہمان خصوصی مغربی پاکستان اُردو اکیڈمی کے سربراہ اور ممتاز استاد ڈاکٹر خواجہ زکریا جبکہ صدارت پروفیسرفتح محمد ملک ، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے ریکٹر نے کی۔ صدرنشین مقتدرہ ڈاکٹر انوار احمد نے مہمانان کو خوش آمد کیا اور تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت جس بحرانی کیفیت میں ہے اس سے نکلنے کے لیے پاکستانی عوام کو مسلسل جدوجہد اور اپنے اقتصادی نظام کو درست سمت دینے کی ضرورت ہے اور مستقبل میں مقتدرہ اور مغربی پاکستان اُردو اکیڈمی مل کر علمی و تحقیقی منصوبوں پر کام کریں گے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا نے کہا کہ انھوں نے پاکستان اس لحاظ سے بھی بنتے دیکھا ہے جب امرتسر میں مسلم کش فسادات پھوٹ پڑے تو پہلا حملہ ان کے گاؤں پر ہوا تھا۔انھوں نے بانی پاکستان قائد اعظم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جنا ح قیام پاکستان کے بعد پنجاب یونیورسٹی کے گراؤنڈ میں مہاجرین سے خطاب کیا اور ان کے حوصلوں اور ہمت کو مزید بلند کیا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کو حقیقی نقصان پہلے مارشل لاء کی وجہ سے ہوا تھا۔ ایوب دور میں جو ترقیاتی کام ہوئے وہ قرضہ حاصل کر کے کیے گئے جبکہ 58 ء سے پہلے پاکستان کسی ملک کا مقروض نہیں تھا اور اس کے بعد پاکستان قرضوں میں ڈوبتا چلا گیا اور اس ملک کے بجٹ کا ایک بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی میں صرف ہوجاتا ہے۔ انھوں نے مزید کہاکہ وفاقی تعلیمی بجٹ مین تعلیم کی مد میں 2 فی صد سے بڑھا کر 4 فی صد کرنا چاہیے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر فتح محمد ملک نے کہا کہ 1947ء میں جو کچھ ہوا وہ اس عوامی تحریک کا حصہ تھا جو 23 مارچ 1940 میں قرار داد لاہور کے ذریعے اسلامیان ہند نے دنیا کے ساتھ عہد کیا کہ ہم اپنے لیے ایک الگ ملک حاصل کریں گے اور 7 سال کے قلیل عرصے میں قائد اعظم کی قیادت میں پاکستان حاصل کرلیا گیا ۔یہ وہ راستہ تھا جو علامہ اقبال نے برصغیر کے مسلمانوں کو خطبہ الہ باد میں دکھایا تھا جس کا بر ملا اعتراف قائد اعظم محمد علی جناح نے بارہا کیا۔ قائد اعظم کے پرائیوٹ سیکرٹری مطلوب حسین اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ پاکستان بننے کے بعد کام کرتے ہوئے اچانک مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج علامہ اقبال زندہ ہوتے تو کتنے خوش ہوتے۔ انھوں نے کہا کہ علامہ اقبال اور قائدا عظم کا تصور پاکستان ایک ہی ہے اقبال کہتے ہیں کہ مکمل مساوت ہی کا اسلام شوشلزم ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے ہاں جمہوریت کی ناکامی کی وجہ اسلام کے شوشل ائیڈیاز کو نااپنانا ہے۔ جب تک معاشرے میں مکمل مساوات نہیں لائیں گے۔ اسلام کے شوشل آئیڈیازکو مکمل طور پر نافذ نہیں کریں گے۔ جب تک سردار اوررعایا ایک نہیں ہوتے تب تک اس ملک کی حالت نہیں بدلی جاسکتی۔ انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے معاشرتی واقتصادی نظام کو درست سمت میں لے جانا ہی آزادی کا صحیح مفہوم ہے۔ پروگرام کے آغاز میں ممتاز شاعر آفتاب ضیاء نے جشن آزادی کے حوالے سے اپنی نظم پیش کی جسے سامعین نے بہت سراہا۔ تقریب کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر راشد حمید نے انجام دئیے۔

(جاوید اختر)
مشیر برائے ابلاغ عامہ
051-4863394
0300-5128944

 
 
جملہ حقوق بحق ادارۂ فروغِ قومی زبان محفوظ ہیں