English اُردو        
  رابطہ اغراض و مقاصد تعارف سرورق

مورخہ ۱۰۔ اگست ۲۰۱۱ء


پریس ریلیز


مقتدرہ قومی زبان ، اسلام آباد اور ادبی تنظیم ’’ سلسلہ ‘‘ کے اشتراک سے جشنِ آزادی پاکستان کے حوالے سے مقتدرہ قومی زبان کے آڈیٹوریم ہال میں ایک مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا ۔ اس مشاعرہ کی صدارت جناب افتخار عارف نے کی جبکہ مہمان خصوصی محترمہ شبنم شکیل تھیں ۔ مقتدرہ قومی زبان کے صدر نشین ڈاکٹر انوار احمد نے اس مشاعرہ کے حوالے سے کہا کہ موجودہ صورتحال میں بظاہر شعرو ادب کو اور کتاب و حکمت کو معاشرے کی ثانوی ترجیح بنا دیا گیا ہے مگر کوئی بھی معاشرہ ان کے بغیر کسی بھی سمت میں پیش رفت نہیں کر سکتا ، اس لیے تخلیق ہونے والے لفظ کو اپنے اعتبار کے لیے بڑے تجربے سے گذرنا ہو گا اور بڑے سچ کی گواہی دینا ہو گی ۔ ملک کے معروف شاعر جناب افتخار عارف نے کہا کہ مقتدرہ کا اس مشاعرہ کو منعقد کرنے کا اقدام مستحسن ہے ،ہمارا ملک ایک شاعر کے خواب کی تعبیر ہے اور ہمیں اس کے استحکام کے لیے ہر لمحہ تیار رہنا چاہیے ۔
کبھی کھل کے لِکھ جو گزر رہا ہے زمین پر
کبھی قرض بھی تو اُتار اپنی زمین کا

مشاعرہ کی میزبانی کے فرائض محترمہ نورین طلعت نے انجام دیے ۔ اس مشاعرہ میں ملک کے نامور شعراء نے شرکت کی جن میں خالد اقبال یاسر ، جلیل عالی ، سکندر علی بیگ ، ڈاکٹر فرحت عباس شاہ ، فرخندہ شمیم ، شہاب صفدر ، اصغر عابد ، غضنفر ہاشمی ، محبوب ظفر ، انجم خلیق ، نجم الثاقب ، انوار فیروز ، تبسم اخلاق ، علی یاسر ، خالد مصطفٰی شامل ہیں ۔

جاوید اختر
( مشیر ابلاغِ عامہ )

 
 
جملہ حقوق بحق ادارۂ فروغِ قومی زبان محفوظ ہیں