English اُردو        
  رابطہ اغراض و مقاصد تعارف سرورق

اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن (بنیاد پژوہشہای اسلامی، مشہد)

ڈاکٹر انجم حمید
نائب ناظم،مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد



آستان قدس رضوی درحقیقت مرکز ایران اسلامی کے عنوان سے اپنی شناخت رکھتا ہے۔ اس ادارے کی سرگرمیاں اور ذمہ داریاں نہایت وسیع ہیں۔ جس میں ایک عظیم کتب خانہ ،مرکز اسناد و مدارک کے علاوہ ایک میوزیم بھی شامل ہے۔آستان قدس رضوی بذات خود ایک وسیع موضوع ہے جو فی الحال خارج از تحریر ہے۔ اس ادارے نے1984ء میں اپنے مقاصد کے حصول کے سلسلے میں’’بنیاد پژوھشھای اسلامی آستان قدس مشھد میں ایک ادارہ تشکیل دیا۔
ادارے کے مقاصد میں اسلامی ثقافت کی ترویج و فروغ، علوم اسلامی کی نشرواشاعت، احیاو نشر ذخائرو نفایس علمی واسلامی، علوم اسلامی پر تحقیقات وغیرہ شامل ہیں۔ اسلامی ریسرچ فاؤنڈیشن ایک ہیئت حاکمہ کے زیر نظر کام کر رہی ہے جس میں150محققین و دانشور تعاون کررہے۔اس وقت ادارے کے تحقیقی شعبے قرآن؛حدیث؛فقہ و اصول فقہ؛ کلام و فلسفہ اسلامی؛ تاریخ اسلام؛نقد(تنقید)و تصحیح متون اسلامی؛جغرافیائی ممالک اسلامی و ہیئت و نجوم؛ ترجمے عربی و اردو؛ ترجمہ زبانھای اروپایی(یورپی زبانوں میں تراجم)؛ ادبیات کودک و نوجوان(بچوں و نوجوانوں کا ادب) تراجم و انساب(شرح احوال)؛خراسان شناسی؛ دائرۃ المعارف آستان قدس رضوی؛کتابشناسی، مطالعات فرھنگی زائر(ثقافتی زائرین)، دانشنامہ ھای التکرونیک(الیکٹرونک دائرۃ المعارف )، مذاہب و اسلامی مکاتیب فکر وغیرہ۔اسی طرح اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن ’’مشکوۃ‘‘ اور تقویم قدس‘‘کے عناوین سے مجلات و نشریات بھی شائع کررہی ہے۔
اسلامی ریسرچ فاؤنڈیشن کی ہیئت حاکمہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے بلند پایہ دانشور و محققین شامل ہیں۔ آج کل ایران کے نامور محقق جناب پروفیسر علی اکبر الھی خراسانی فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر فائز ہیں۔
المعجم فی فقہ لغۃ القرآن و سر البلاغۃ اس فاؤنڈیشن کے اہم ترین علمی کاموں میں سے ایک ہے۔یہ کاوش ایران کے تقریباً بیس دانشوروں کی گزشتہ پچیس سالوں کی مسلسل محنت اور تعاون کاثمر ہے اور اب تک اس پر کام جاری ہے۔ شعبہ قرآن نے اب تک209جلدوں پر مشتمل89عناوین شائع کیے ہیں۔
اسلامی ریسرچ فاؤنڈیشن کے دیگر شعبے بھی نہایت فعال ہیں۔ گزشتہ27سالوں کے دوران یہاں سے2616جلدوں پر مشتمل1297عناوین شائع ہوچکے ہیں۔
فاؤنڈیشن کی مطبوعات بعنوان’’سیر سید الانبیاء و المرسلین محمد ؐ،جامع المحامد کلھا‘‘ کو اسلامی جمہوریہ ایران میں عالمی انعام سے نوازا گیا ہے۔موجودہ پانچ سالہ منصوبے کے تحت فاؤنڈیشن نے مزید ترقیاتی اور علمی کام شروع کیے ہیں۔ جس سے اسے مزید تقویت اور فروغ ملے گا۔
فاؤنڈیشن نے اپنے آغاز کار سے ہی مختلف علمی اجلاسوں، کانفرنسوں اور سیمیناروں کا انعقاد کیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ محققین اور دانشوروں کی شرکت اور علمی کاوشوں کے سبب فاؤنڈیشن اپنے مقاصد تک پہنچ سکے۔یہاں اب تک7سیمینار اور کانفرنسیں منعقد ہوچکی ہیں۔
فاؤنڈیشن میں ایک حوالہ جاتی کتب خانہ بھی موجود ہے جس میں لگ بھگ ساٹھ ہزار جلد کتابوں کے علاوہ بے شمار رسائل و جرائد موجود ہیں۔

فرہنگ اصطلاحات علوم وتمدن اسلامی

مقتدرہ قومی زبان کے صدر نشین نے جب اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن کا حالیہ دنوں میں دورہ کیا تو انھیں ادارے کی مطبوعہ لغت بعنوان’’ فرہنگ اصطلاحات علوم و تمدن اسلامی‘‘ تحفتاً پیش کی گئی۔ یہ دو زبانی لغت فارسی اور انگریزی زبان میں ہے۔ فاؤنڈیشن چونکہ اردو زبان میں بھی اپنے تراجم پیش کرتی ہے۔اس لیے جناب صدر نشین مقتدرہ نے اس کتاب میں دلچسپی کا اظہار کیا او رتجویز پیش کی کہ اس کتاب میں اردو زبان کے تراجم بھی شامل کیے جاسکتے ہیں۔ ا س تجویز کا نہایت گرم جوشی سے استقبال کیا گیا ۔امید ہے جلد ہی مقتدرہ اس سلسلے میں کوئی عملی قدم اٹھائے گا۔

فرہنگ اصطلاحات علوم و تمدن اسلامی اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن کے شعبہ ترجمہ کی کاوش ہے جسے جواد قاسمی کے زیر نظر محمد تقی اکبری نے علی آخشینی ، احمد رضوانی اور عبداللہ عظیمایی کی معاونت سے مرتب کیا ہے۔ یہ کتاب مذکورہ لغت کا دوسرا اور نظر ثانی شدہ ایڈیشن ہے جو 1386 ش/2007ء میں شائع ہوا ہے۔ اس لغت کا پہلا ایڈیشن1370ش/1990ء میں طبع ہوا تھا۔اگرچہ پہلا ایڈیشن قارئین اور محققین کے لیے قابل استفادہ تھا لیکن بہت مثبت انداز میں اس پر تحقیق و تنقید کا سلسلہ جاری رہا ، جس کے سبب فاؤنڈیشن کی ہیئت حاکمہ کی رضامندی سے اس لغت پر نظر ثانی کا کام شروع کیا گیا او رکتاب میں موجود کسی بھی قسم کی کمی و نقص کو دور کرنے کا عزم کیا گیا۔

یہ فرہنگ ایک نہایت مفید اور قابل استفادہ لغت میں شمار کی جا سکتی ہے۔اس میں جن علوم کے الفاظ و اصطلاحات دستیاب ہیں۔ان میں اخلاق، ادبیات، اقتصاد، تجارت، طب، تاریخ، علوم عروض وبدیع، تجوید،عرفان و تصوف، جغرافیا، جلد سازی،علم حدیث، حساب، ریاضی، قانون، صرف و نحو، سیاسیات، علم کلام، علوم قرآنی، فقہ، فلسفہ، علم معماری، منطق، موسیقی، نجوم ، نقاشی، ہنر، ہندسہ وغیرہ شامل ہیں۔

اس لغت کا ذخیرۂ الفاظ نہایت وسیع ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق740صفحات کی اس لغت میں 25000سے زائد الفاظ شامل ہیں۔ اس کام کو مرتب کرنے کے لیے 169کتب ماخذ سے استفادہ کیا گیا ہے جس کی تفصیل کتاب کے آخر میں دی گئی ہے۔

جیسا کہ اس سے پہلے علوم کی تفصیل دی گئی ہے،یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس لغت میں محض علوم رائج جیسے فقہ، فلسفہ، کلام، قرآن و حدیث کے الفاظ شامل نہیں ہیں بلکہ تمدن اسلامی کے ضمن میں موجودہ بہت سے علوم و فنون کا ایک وسیع دائرہ پیش نظر ہے۔ یہ علوم و فنون جیسے معماری، ہنر ، طب، نجوم،علم النفس وغیرہ آج ان کا علمی استعمال نہیں ہے۔اس کے باوجود انھوں نے اپنا تاریخی کردار محفوظ کر رکھا ہے۔لغت کے مقدمے میں مثالوں کے ساتھ اس کی وضاحت کی گئی ہے۔یہ لغت فارسی اردو زبانوں کے مشترک الفاظ پر تحقیق کے سلسلے میں ایک عمدہ ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ا س میں موجود بے شمار الفاظ ایسے ہیں جو آج اردو میں جو ں کے توں مستعمل ہیں۔

لغت کے مرتبین اس گرانقدر خدمت پر تعریف و توصیف کے مستحق ہیں۔بلاشبہ یہ ایک عمدہ لغت ہے جو محققین اور طلبہ کے علاوہ دیگر قارئین کی ضروریات کو پورا کرسکتی ہے۔

http://islamic-rf.net/portal/

 
 
جملہ حقوق بحق ادارۂ فروغِ قومی زبان محفوظ ہیں