نظامِ حکومت
جمشید عالم
سابق، ڈائریکٹر جنرل، قومی سلامتی کونسل


پاکستان کی وفاقی حکومت کا تنظیمی ڈھانچا اورطریق کار


باب نمبر ۱: آئینی پسِ منظر

۱۔ ریاست کا آئین: تنظیمی ڈھانچے کی بنیاد:
۱۔ آئین کسی مملکت کا وہ اساسی قانون ہوتا ہے، جو اس مملکت کے نظریات، تصورات اس کے اندرونی نظم و نسق کے بنیادی اُصولوں اور اس کے مختلف شعبوں کے درمیان فرائض اور اختیارات کی حدود کا تعین کرتا ہے۔زمانۂ قدیم میں آئین کا اہم ترین کام اس بات کا تعین کرنا تھا کہ ملک پر کون حکومت کرے ۔ کسی فردکو ملک کا سیاسی اختیار تفویض کرنے کی بنیاد کا معیار اس ملک کے معاشرتی نظام کے جذباتی روّیوں اور طرزِ عمل کی عکاسی کرتا تھا۔ خواہ آئین کی کوئی بھی وضع ہو، وُہ عوام کے اخلاق پر اثر انداز ہوتا تھا ۔ اگرچہ جدید دساتیر زیادہ پیچیدہ ہوتے ہیں لیکن کسی ریاست میں حکومتی اختیار حاصل کرنے اور اسے بروئے کار لانے والے قوانین اور قواعد عام طور پر معاشرے کے اساسی عقائد و نظریات اور تصورات و اقدار کا احاطہ کرتے ہیں اور روزمرہ زندگی میں ان کے معاشرتی روّیوں ، طرزِ عمل اور اطوار و اخلاق کی نمائندگی کرتے ہیں۔
۲۔ پاکستان میں مسلمانوں کی اکثریت(۹۷ فی صد) ہے اور مسلمانوں کا طرۂ امتیاز عقیدۂ توحید اور آخری نبی حضرت محمدﷺ کی تعلیمات پر مبنی ضابطۂ حیات ہے ۔ کتاب و سنت کی بنیاد پر استوار کیے گئے اسلامی معاشرے میں بلا امتیاز رنگ و نسل اور عقیدہ، انسان کے بنیادی حقوق کی حفاظت ، ایک عام شہری سے لے کر صدر مملکت تک ہر شخص کی بلا واسطہ یا بالواسطہ حکومت کے نظم و نسق میں شمولیت اور جوابدہی کا احساس؛ عدل و انصاف کی حکمرانی اور وحدت فکر کی اعلیٰ اقدار پروان چڑھتی ہیں۔ جمہوری اُصولوں کے مطابق پاکستان کا آئین اس مملکت میں رہنے والی اکثریت کی خواہشات کا ترجمان ہے۔
۳۔ ان آرزوؤں کی واضح نشان دہی علامہ محمد اقبالؒ اور قائداعظم محمد علیؒ جناح نے اپنے مختلف خطبات میں فرمائی ہے۔ علامہ محمد اقبالؒ نے اپنے مشہور خطبۂ الٰہ آباد (۱۹۳۰ء) میں مسلمانانِ برصغیر کے جدا گانہ وجود اور اُن کے معاشرتی ، معاشی اور سیاسی حالت بہتر بنانے کے لیے فرمایا:
’’اسلامی قانون کے طویل و عمیق مطالعہ کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اگر اس قانون کو اچھی طرح سمجھ کر نافذ کیا جائے تو ہر شخص کے لیے کم از کم حقِ معاش محفوظ ہو جاتا ہے لیکن شریعت کا نفاذ اور ارتقأ ایک آزاد مسلم ریاست کے بغیر اس ملک میں ممکن نہیں۔‘‘
۴۔ قائد اعظم نے تحریکِ پاکستان کے دوران اور قیامِ پاکستان کے بعد متعدد بار تصورِ پاکستان کی اساس کے بارے میں وضاحت کی ۔ آپ نے فرمایا:
’’ مسلمان پاکستان کا مطالبہ کرتے ہیں، جہاں وہ خود اپنے ضابطۂ حیات ، اپنے تہذیبی ارتقأ، اپنی روایات اور اسلامی قانون کے مطابق حکمرانی کر سکیں۔‘‘
(اجلاس سرحد مسلم لیگ، پشاور، منعقدہ ۲۱ ، نومبر ۱۹۴۵ء)
’’ہر مسلمان جانتا ہے کہ قرآنی تعلیمات محض عبادات اور اخلاقیات تک محدود نہیں بلکہ قرآن کریم مسلمانوں کا دین ، ایمان اور قانونِ حیات ہے۔ یعنی مذہبی، معاشرتی، تجارتی، تمدنی، عسکری اور تعزیری احکام کا مجموعہ ہے۔ ہمارے رسول اکرم ﷺ کا ہمیں یہ حکم ہے کہ اس کا بغور مطالعہ کریں تاکہ مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی ہدایت کا باعث ہو۔‘‘
(پیغامِ عید، ۱۹۴۵ء)
قیامِ پاکستان کے بعد اپنے نصب العین کی وضاحت کرتے ہوئے قائد اعظم نے فرمایا:
’’ہمارا نصب العین یہ تھا کہ ہم ایک ایسی مملکت کی تخلیق کریں جہاں ہم آزاد انسانوں کی طرح رہ سکیں، جو ہماری تہذیب و تمدن کی روشنی میں پھلے پھولے اور جہاں معاشرتی انصاف کے اسلامی تصور کو پوری طرح پنپنے کا موقع ملے۔‘‘
(حکومتِ پاکستان کے افسران سے خطاب ، اکتوبر ۱۹۴۷ء)
۲۔ آئین پاکستان کی اسلامی اساس
(۱) قرار داد مقاصد: قیامِ پاکستان کے بعد جب اس آزاد مملکت کا آئینی خاکہ مرتب ہونے لگا تو مارچ ۱۹۴۹ء میں جناب لیاقت علی خاں وزیر اعظم پاکستان کی تحریک پر آئین ساز اسمبلی نے ۱۲، مارچ ۱۹۴۹ء کو ایک قرار داد منظور کی جو قرار دادِ مقاصد کے نام سے مشہور ہے۔ اِس قراردادمیں مستقبل کے آئین کے اغراض و مقاصد بیان کیے گئے ہیں۔ یہ قرار داد پاکستان کے آئین* کے دیباچہ میں شامل کی گئی
* ۱۹۷۰ء کے قومی انتخابات میں منتخب شدہ قومی اسمبلی کو ملک کے لیے ایک نیا آئین بھی مرتّب کرنا تھا۔ اس مقصد کی خاطر قومی اسمبلی نے اپنے اجلاس منعقدہ ۱۷اپریل ۱۹۷۲ء کو ایک آئین ساز کمیٹی کی تشکیل کی جو اسمبلی میں موجود تمام پارلیمانی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل تھی۔ ۲۰اکتوبر ۱۹۷۲ء کو ان تمام جماعتوں کے نمائندوں کے درمیان ایک سمجھوتا طے پایا جس کے اُصولوں کی اساس پر مشتمل آئین کی تدوین کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ نئے آئین کی تیاری کا کام پہلے میاں محمود علی قصوری وزیرِ قانون و پارلیمانی اُمور کے زیر نگرانی ہوتا رہا۔ ان کے مستعفی ہو جانے کے بعد یہ ذمہ داری نئے وزیر قانون و پارلیمانی اُمور جناب عبدالحفیظ پیرزادہ نے سنبھالی۔
منظوری کے مراحل: آئینی سفارشات کی کمیٹی کی طرف سے آئینی مسودہ ۲ فرورری ۱۹۷۳ء کو منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش ہوا۔ سفارشات کے مختلف پہلوؤں پر قومی اسمبلی کے طویل اجلاس میں غور ہوتا رہا اور مختلف مراحل سے گزر کر اس مسودے کو ۱۰ اپریل ۱۹۷۳ء کو قومی اسمبلی کی طرف سے منظوری حاصل ہوئی اور ۱۲ اپریل کو صدرِ مملکت جناب ذوالفقار علی بھٹو نے بھی اس پر دستخط کر دیے لیکن آئین کو فوری طور پر نافذنہ کیا گیا کیونکہ آئین کے نفاذ سے قبل سینیٹ کی تشکیل لازمی تھی۔اس لیے آئین کے نفاذ کے لیے ۱۴ اگست ۱۹۷۳ء کا دن مقرر کیا گیا۔ اسی تاریخ کو آئین میں ’’آئین کے آغاز‘‘ کا دن قرار دیا گیا ہے۔ ۱۴ اگست ۱۹۷۳ء کو نیا آئین نافذ کر دیا گیا ۔ مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا مفتی محمود، مولانا عبدالستار خان نیازی اور مولانا ظفر احمد انصاری نے متفقہ طور پر اس آئین کو اسلامی آئین قرار دیا۔
ہے۔ اس میں واضح طور پر اعلان کیا گیا ہے۔
’’کہ اللہ تبارک تعالیٰ پوری کائنات کا بلا شرکت غیرے حاکم مطلق ہے اور پاکستان کے عوام اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کے اندر جو اختیار وا قتدار استعمال کریں گے وہ ایک مقدس امانت ہے؛ پاکستان کے عوام کا ارادہ ہے کہ ایک ایسا نظام قائم کیا جائے جس میں مملکت اپنے اختیارات اور حاکمیت کو عوام کے منتخب کردہ نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے گی؛ مملکت میں جمہوریت، آزادی، مساوات، رواداری اور معاشرتی انصاف کے اُصولوں پر، جس طرح اسلام نے ان کی تشریح کی ہے، پوری طرح عمل کیا جائے گا؛ اور مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی دائرہ عمل میں اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ اپنی زندگی اسلامی تعلیمات کے مطابق جس طرح قرآنِ کریم اور سُنت رسول ﷺ میں ان کا تعین کیا گیا ہے درست کر سکیں‘‘۔
(۲) ریاستی مذہب:مندرجہ بالا واضح اعلان کے مطابق آئین کے آرٹیکل ۲ میں تحریر کیا گیا ہے کہ اسلام پاکستان کا ریاستی مذہب ہو گا۔
۳۔ آئین پاکستان کی وفاقی نوعیت
آئین کے دیباچہ میں یہ اعلان کیاگیا ہے کہ اس مملکت میں وہ علاقے جو اس وقت پاکستان میں شامل یا ضم ہو گئے ہیں اور ایسے دیگر علاقے جو بعد ازاں پاکستان میں شامل یا ضم ہوں گے ایک وفاق* بنائیں گے جس میں وحدتیں اپنے اختیارات و حاکمیت پر ایسی حدود اور
*وفاقیت: کسی ریاست کا مربوط ڈھانچا تشکیل دینے کا ایک طریقہ ہے تا کہ مرکزی اور علاقائی حکومتوں کے درمیان اس طرح اختیارات کی تقسیم ہو سکے کہ ہر حکومت ایک خاص دائرے میں آزاد ہو۔ وفاقی ریاست کے علاقے کواکائیوں ( مثلاً ریاستیں، کینٹنز(contons)، صوبے، ریپبلکس) میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ یہ اکائیاں اکثر صورتوں میں جغرافیائی تہذیب یا تاریخی حصوں کے طور پر امتیازی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔ کئی سرکاری ادارے قومی اور علاقائی (پاکستان میں صوبائی )ہر دو سطح پر قائم کیے جاتے ہیں۔ دونوں طرح کی حکومتیں ایک ہی علاقے اور آبادی پر مؤثر کنٹرول کرتی ہیں۔ اس طرح وفاقی ریاست کے شہری بیک وقت دو سیاسی برادریوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ آئینی طور پر پاکستان میں صوبائی سطح کی حکومت کو جو فرائض تفویض کیے گئے ہیں، ان کے حوالے سے کسی ایک صوبے میں مستقل رہائش پذیر شہری کے لیے ایک مخصوص صوبائی برادری ہے جس کے اپنے مشترکہ مفادات ہیں؛ ان فرائض کے حوالے سے جو وفاقی حکومت کو تفویض کیے گئے ہیں پوری پاکستانی قوم ایک برادری ہے اور پورے ملک کے حوالے سے ان کے مشترکہ مفادات ہیں۔
حقیقی وفاقی ریاست میں دونوں سطح کی حکومتیں اپنے اختیارات براہ راست آئین سے حاصل کرتی ہیں اور ایک حکومت دوسری حکومت کے دائرہ اختیار کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔ کسی وفاقی ریاست کی سیاست میں دونوں سطح کی حکومتوں کے درمیان اختیارات کا توازن اور شہریوں کا اپنے ملک اور علاقے کے درمیان وفاداری کا توازن ایک فعال اور متحرک عنصر کا کردار ادا کرتا ہے۔ ورنہ مرکزیت پسند قوتیں اتنی مضبوط ہو سکتیں ہیں کہ وہ صوبائی حکومت کی خود مختاری کی نفی کر دیں جب کہ دوسری صورت میں مرکز سے صوبائی سطح پر منتقلی اختیارات کی حامی قوتیں اس طرح کام کر سکتی ہیں کہ ملک ہی ٹوٹ جائے۔ اس لیے ایک وفاقی ریاست کو قائم رہنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر سطح کی حکومت کی حمایت اور پشت پناہی کے لیے آزاد سیاسی قوتیں موجود ہوں۔
پابندیوں کے ساتھ جو مقرر کر دی جائیں، خود مختار ہوں گی۔
۴۔ آئین میں بنیادی حقوق :
آئین پاکستان میں بنیادی حقوق کو انتہائی اہمیت دی گئی ہے ۔ ایسا قانون جو بنیادی حقوق سے متصادم ہو کالعدم قرار دیا جا سکے گا۔ مجلسِ شوریٰ کو اس بات کا پابند کر دیا گیا ہے کہ ماسوا ان مستثنیات کے جو آئین میں درج ہیں، بنیادی حقوق کے منافی کوئی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے یہ بنیادی حقوق مندرجہ ذیل ہیں۔
۱۔ شخصی سلامتی: کسی شخص کو زندگی یا آزادی سے محروم نہیں کیا جائے گا سوائے جبکہ قانون اس کی اجازت دے۔
۲۔ گرفتاری اور نظر بندی سے تحفظ: کسی شخص کو جسے گرفتا ر کیا گیا ہو ، گرفتاری کی وجوہات سے جس قدر جلد ہو سکے آگاہ
کیے بغیر نہ تو نظر بند کیا جائے گا اور نہ اسے اپنی پسند کے کسی قانون پیشہ شخص سے مشورہ کرنے اور اس کے ذریعے صفائی
پیش کرنے کے حق سے محروم کیا جائے گا۔ گرفتار شدہ؍ نظر بند شخص کو ۲۴ گھنٹے کے اندر کسی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا
لازم ہو گا۔
۳۔ غلامی اور جبری مشقت ممنوع ہے۔
۴۔ ہر شہری کو مؤثر بہ ماضی قانون کے ذریعے سزا سے تحفظ دیا گیا ہے۔
۵۔ ہر شہری کو دہری سزا اور اپنی ذات کے خلاف شہادت سے تحفظ حاصل ہے۔
۶۔ ہر شہری کوعزتِ نفس اور وقار کا تحفظ حاصل ہے۔
۷۔ مفادِ عامہ کے پیشِ نظر قانون کے ذریعے عائد کردہ کسی معقول پابندی کے تابع ہر شہری کونقل و حرکت وغیرہ کی آزادی
حاصل ہے۔
۸۔ امنِ عامہ کے مفاد میں قانون کے ذریعے عائد کردہ کسی معقول پابندی کے تابع ہر شہری کواجتماع کی آزادی کا حق
حاصل ہے۔
۹۔ امنِ عامہ کے مفاد میں قانون کے ذریعے عائد کردہ کسی معقول پابندی کے تابع ہر شہری کوانجمن سازی کی آزادی کا حق
حاصل ہے۔
۱۰۔ ہر شہری کو جائز تجارت، کاروبار اور اپنی پسند کا جائز پیشہ اختیار کرنے کا حق ہے۔
۱۱۔ قانون کے ذریعے عائد کردہ مناسب پابندیوں کے تابع ہر شہری کوتحریر وتقریر کی آزادی ہے۔
۱۲۔ قانون ، امنِ عامہ اور اخلاق کے تابع ہر شہری کو مذہب کی پیروی اور مذہبی اداروں کے انتظام کی آزادی ہے۔
۱۳۔ ہر شہری کو اپنے مذہب کے علاوہ کسی اور مذہب کی ترویج کے لیے محصول ادا کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔
۱۴۔ کسی تعلیمی ادارے میں تعلیم پانے والے کسی شخص کو اپنے مذہب کے علاوہ کسی اور مذہب سے متعلق مذہبی تعلیم حاصل کرنے ، کسی مذہبی تقریب میں حصہ لینے یا مذہبی عبادت میں شرکت کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔
۱۵۔ قانون کے تحت ہر شہری کو جائیداد کی خرید و فروخت کا حق حاصل ہے۔
۱۶۔ ہر شہری کو حقوق ملکیت کا تحفظ دیا گیا ہے۔
۱۷۔ تمام شہریوں کو مساوی قرار دیا گیا ہے۔
۱۸۔ عام مقامات پر داخلہ سے متعلق کوئی امتیازنہیں کیا جائے گا۔
۱۹۔ ہر شہری کو ملازمتوں میں امتیاز کے خلاف تحفظ حاصل ہے۔
۲۰۔ ہر شہری کو اپنی زبان، رسم الخط اور ثقافت کو فروغ دینے اور اس کے لیے ادارے قائم کرنے کا حق حاصل ہے۔
۵۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اداروں کی رہنمائی کے لیے پالیسی اُصول
(۱) پالیسی کے اُصولوں کو آئین میں شامل کرنے کا آغاز اسپین کے آئین سے ہوا۔ ۱۹۳۷ء میں آئر لینڈ میں بھی پالیسی کے اُصولوں کو آئین میں شامل کیا گیا۔بھارت کے آئین میں بھی یہ اُصول شامل کیے گئے۔ پاکستان کے سابق دساتیر میں بھی پالیسی کے اُصول بیان کیے گئے تھے۔ دراصل پالیسی کے اُصولوں کو آئین میں شامل کرنے کا رواج ایک نئے سیاسی نظام کے لیے ضروری ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی بھی نئے نظام کے اندر متعدد مقاصد کا حصول فوری طور پر ممکن نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے پہلے حالات کا موافق ہونا ضروری ہے ۔ پالیسی کے اُصول ان مقاصد اوراساسی اُصولوں کی نشان دہی کرتے ہیں جنھیں پیشِ نظر رکھ کر کاروبارِ مملکت چلایا جائے گا۔ ریاست کے تمام ادارے ان مقاصد کی روشنی میں اپنی پالیسی کی تشکیل کرتے ہیں۔ پاکستان کے آئین (۱۹۷۳ء) میں بھی یہ اُصول شامل ہیں۔ یہ اُصول مستقبل کی راہوں کا تعین کرنے کے لیے لائحہ عمل فراہم کرتے ہیں۔ یہ اُصول عمومی نوعیت کے ہوتے ہیں اور ان کی خلاف ورزی کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ چوں کہ یہ اُصول آئین کی روح اور اس کے مزاج کی عکاسی کرتے ہیں، اس لیے آئین کے ہرآرٹیکل کی تشریح کرتے وقت عدالتیں انھیں نظر انداز نہیں کر سکتیں۔ سابق وزیرِ قانون اور ممتاز دانشور جناب اے کے بروہی ( مرحوم) کے الفاظ میں ان کی حیثیت ملکی حکومت کے دستورالعمل کی ہے۔ یہ ملک کی پالیسی کے ان اساسی نظریات کی نشان دہی کرتے ہیں جنھیں حکومت اور مجالس قانون ساز کو عملی جامہ پہنانا ہوتا ہے۔
(۲) ریاست کے ہر ادارے اور ہیئت مجاز (اتھارٹی) کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے کار ہائے منصبی انجام دیتے ہوئے پالیسی کے ان اُصولوں پر عمل کرے۔ تاہم ان اُصولوں پر عمل کرنے کا انحصار اس غرض کے لیے وسائل کی دستیابی سے مشروط ہے ۔
(۳) عمل درآمد رپورٹ:پالیسی کے اُصولوں پر عمل کرنے اور ان کی تعمیل کرنے کے بارے میں ہر سال صد ر وفاق کے امور کے متعلق اور ہر صوبے کا گورنر اپنے صوبے کے امور کے متعلق ایک رپورٹ تیار کرائے گا۔ صدر قومی اسمبلی میں اور گورنر صوبائی اسمبلی میں رپورٹ پیش کرے گا۔
کسی کارروائی یا کسی قانون کے جواز پر اس بنا پر اعتراض نہیں کیا جائے گا کہ وہ پالیسی کے اُصولوں کے مطابق نہیں اور نہ اس بنا پر ریاست، ریاست کے کسی ادارے یا کسی شخص کے خلاف کوئی کارروائی قابلِ سماعت ہو گی۔
(۴) پالیسی اصول:ریاستی اداروں کی رہنمائی کے لیے پالیسی اُصول مندرجہ ذیل ہوں گے۔
۱ ۔ اسلامی طریقِ زندگی:پاکستان کے مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر، اپنی زندگی اسلام کے بنیادی اُصولوں اور اساسی تصورات کے مطابق منظم کرنے کے قابل بنانے کے لیے اور انھیں ایسی سہولتیں مہیا کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے جن کی مدد سے وہ قرآن و سُنت کے مطابق زندگی کا مفہوم سمجھ سکیں۔
(ا) قرآن پاک اور اسلامیات کی تعلیم کو لازمی قرار دینا؛ عربی زبان سیکھنے کی حوصلہ
افزائی کرنا اور اس کے لیے سہولت بہم پہنچانا اور قرآن پاک کی صحیح اور من و عن
طباعت اور اشاعت کا اہتمام کرنا۔
(ب) اتحاد اور اسلامی اخلاقی معیارات کی پابندی کو فروغ دینا؛ اور
(ج) زکوٰۃ، عُشر، اوقاف اور مساجد کی باقاعدہ تنظیم کا اہتمام کرنا۔
۲۔ بلدیاتی اداروں کا فروغ: ریاست متعلقہ علاقوں کے منتخب نمائندوں پر مشتمل بلدیاتی اداروں کی حوصلہ افزائی کرے گی اور ایسے
اداروں میں کسانوں ، مزدوروں اور عورتوں کو خصوصی نمائندگی دی جائے گی۔
۳ ۔ علاقائی اور دیگر مماثل تعصّبات کی حوصلہ شکنی: ریاست کے شہریوں کے درمیان علاقائی، نسلی، قبائلی، فرقہ وارانہ اور صوبائی
تعصّبات کی حوصلہ شکنی کرے گی۔
۴ ۔ قومی زندگی میں خواتین کی شمولیت: قومی زندگی کے تمام شعبوں میں عورتوں کی مکمل شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات
کیے جائیں گے۔
۵ ۔ خاندان کی حفاظت:ریاست، شادی ، خاندان، ماں اور بچے کی حفاظت کرے گی۔
۶۔ اقلیتوں کی حفاظت: ریاست اقلیتوں کے جائز حقوق اور مفادات کا تحفظ کرے گی۔ وفاقی اور صوبائی ملازمتوں میں ان کی
مناسب نمائندگی شامل ہو گی۔
۷۔ معاشرتی انصاف کا فروغ: حکومت پسماندہ طبقات اور علاقوں کے تعلیمی اور معاشی مفادات کا خاص طور پر خیال رکھے گی۔ تمام شہریوں کو جس
حد تک ممکن ہو گا لازمی اور مفت تعلیم کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ اعلیٰ تعلیم کے دروازے سب شہریوں کے لیے یکساں طور پر کھلے ہوں گے
بشرطیکہ وہ مطلوبہ شرائط پوری کرتے ہوں۔ عدالتی نظام میں مقدمات کے فوری فیصلے اور سستا انصاف مہیا کرنے کے لیے مناسب اقدامات کیے
جائیں گے۔ کارخانوں اور دیگر اداروں میں اوقات کار مقرر کیے جائیں گے اور اس بات کا پورا خیال رکھا جائے گا کہ عورتوں اور بچوں سے نامناسب
مشقت نہ لی جا سکے۔ ملک کے تمام علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو تعلیمی ، زرعی اور صنعتی میدانوں میں اتنی سہولتیں فراہم کی جائیں گی کہ وہ قومی
زندگی کے تمام شعبوں میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
۸۔ اختیارات کی مرکزیت کا خاتمہ:نظم و نسق کی بہتری اور عوامی سہولت کی خاطر حکومت کے شعبوں میں جہاں تک ممکن ہو
اختیارات کی مرکزیت کو ختم کرے گی۔
۹۔ معاشرتی بُرائیوں کا خاتمہ: عصمت فروشی، قما ربازی، نشہ آور مشروبات اور ضرر رساں ادویات کے استعمال ، فُحش ادب اور
اشتہارات کی روک تھام کرے گی۔
۱۰۔ معاشرتی اور معاشی بہبود: عام آدمی کے معیارِ زندگی کو بلند کرے گی۔ دولت اور وسائل تقسیم اور پیدا وار کے ارتکاز کو ختم کرنے کی
کوشش کرے گی۔کارخانوں میں مالکان اور مزدوروں میں اور زراعت کے میدان میں زمیندار اور مزارع کے درمیان حقوق کی
منصفانہ تقسیم کی ضمانت دے کر بلا لحاظ جنس، ذات، مذہب یا نسل، عوام کی فلاح و بہبود کے حصول کی کوشش کی جائے گی ۔تمام شہریوں
کے لیے ملکی وسائل کے اندر بنیادی ضروریات کی فراہمی کی جائے گی۔ تمام ملازم اشخاص کو معاشرتی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ بے
سہارا افراد کی کفالت کی جائے گی۔ پاکستان کی ملازمت میں آمدنی کے تفاوت کو کم کیا جائے گا۔
۱۱۔ عوام کی مسلح افواج میں شمولیت: ریاست پاکستان کے تمام علاقوں کے لوگوں کو پاکستان کی مسلح افواج میں شمولیت کے قابل بنائے گی۔
۱۲۔ عالمِ اسلام سے روابط مضبوط کرنا اور بین الاقوامی امن کو فروغ دینا: ریاست اس بات کی کوشش کرے گی کہ اسلامی اتحاد کی بنیاد پر مسلم ملکوں کے درمیان برادرانہ تعلقات کو برقرار رکھا جائے اور مستحکم کیا جائے۔ ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے عوام کے مشترکہ مفادات کی حمایت کی جائے، بین الاقوامی امن و سلامتی کو فروغ دیا جائے اور تمام قوموں کے درمیان خیر سگالی اور دوستانہ تعلقات پیدا کیے جائیں نیز بین الاقوامی تنازعات کو پُرامن طریقوں سے طے کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
(۵) پالیسی اُصولوں کے نفاذ کا انحصار:پالیسی سازی کے اُصولوں کے نفاذ کا اصل انحصار بڑی حد تک ایک مؤثر اور باشعور رائے عامہ پر ہے۔ اگر ملکی ذرائع ابلاغ اور عوام کا باشعور طبقہ آئین کے ان نظریاتی اُصولوں کے نفاذ میں دلچسپی لے تو ان اُصولوں کو وہی حیثیت حاصل ہو سکتی ہے جو برطانوی نظام میں دستوری رواجات کو حاصل ہے۔ برطانیہ میں دستوری رواجات کا نفاذ بھی مؤثر اور باشعور رائے عامہ کی وجہ سے ہے۔

باب نمبر ۲: وفاق پاکستان

۱۔ وفاقی جمہوریہ:
آئین کے آرٹیکل نمبر ۱ کے مطابق پاکستان ایک وفاقی جمہوریہ ہو گا جس کا نام ’’ اسلامی جمہوریہ پاکستان‘ ‘ ہو گا۔
۲۔ پاکستان کے علاقے:
پاکستان کے علاقے مندرجہ ذیل پر مشتمل ہوں گے:
۱۔ صوبہ جات بلوچستان، پنجاب، خیبر پختون خوا اور سندھ؛
۲۔ دارالحکومت اسلام آباد کا علاقہ؛
۳۔ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے؛ اور
۴۔ ایسی ریاستیں اور علاقے جو الحاق کے ذریعے یا کسی اور طریقے سے پاکستان میں شامل ہیں یا ہو جائیں۔ [ مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) بذریعہ قانون وفاق میں نئی ریاستوں یا علاقوں کو ایسی قیود و شرائط پر داخل کر سکے گی جو وہ مناسب سمجھے]
وفاق پاکستان اور اس کے علاقے

 

۳۔ وفاق پاکستان کے بنیادی ادارے
(۱) ایک جدید ریاست مندرجہ ذیل اختیارات بروئے کار لاتی ہے۔
ا۔ قانون سازی
۲۔ نفاذ قانون؛ نئے قوانین کے لیے تجاویز وضع کرنا؛ انتظامی اختیارات
۳۔ قانون کی تعبیر اور انفرادی معاملات میں قانون کا اطلاق کرنا
(۲) مندرجہ بالااختیارات استعمال کرنے کے لیے ایک جدید ریاست میں تین اساسی ادارے ہوتے ہیں اور آئین ان اداروں کے درمیان تعلقات کے اُصول اور طریق کار واضح کرتا ہے۔
نمبر شمار
اختیار
ادارہ نافذہ
۱۔
قانون سازی
قانون ساز ادارہ
۲۔
نفاذ قانون ؍ انتظامی اختیارات
انتظامیہ
۳۔
قانون کی تعبیر اور انفرادی معاملات میں قانون کا اطلاق
عدلیہ
(۳) اسلامی جمہوریہ پاکستان میں وفاقی سطح پر ریاست کے تین بنیادی ادارے ہیں۔
۱۔ قانون ساز ادارہ: مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) جو صدر مملکت اور دو ایوانوں ،سینیٹ و قومی اسمبلی پر مشتمل ہے۔
۲۔ انتظامیہ : وفاقی حکومت؛ وفاق کے تحت قبائلی علاقوں کی انتظامیہ اور علاقہ دارالحکومت اسلام آباد کی انتظامیہ
۳۔ عدلیہ: عدالت عظمیٰ (سپریم کورٹ آف پاکستان)

اسلامی جمہوریہ پاکستان کا انتظامی ڈھانچا

 

باب نمبر ۳: صدرِ مملکت

۱۔ صدرِ مملکت:
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے مطابق پاکستان کی وفاقی جمہوریہ کا ایک صدر ہو گاجو مملکت کا سربراہ ہو گا اور جمہوریہ کے اتحاد کی نمائندگی کرے گا۔ وہ مسلمان ہو گا، اس کی عمر کم از کم ۴۵ سال ہو گی اور وہ قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہونے کا اہل ہو گا۔ آئین کے شیڈول دوّم میں تحریر شدہ طریقہ کارکے مطابق دونوں ایوانوں اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان پر مشتمل انتخابی ادارہ صدرِ مملکت کا انتخاب کرے گا۔ عہدہ سنبھالنے سے قبل چیف جسٹس پاکستان کے سامنے آئین کے شیڈول سوم میں درج شدہ عبارت پر حلف اُٹھائے گا۔ صدر، پاکستان کی ملازمت میں کسی منفعت بخش عہدے پر فائز نہیں ہو گا اور نہ کوئی دوسری حیثیت اختیار کرے گا جو خدمات کے صلہ میں معاوضہ کے حق کی حامل ہو۔صدر پانچ سال کی مدت تک اپنے عہدے پر فائز رہے گا۔ صدر کے عہدے پر فائز کوئی شخص اس عہدے کے لیے دوبارہ انتخاب کا اہل ہو گا لیکن کوئی شخص دو متواتر میعادوں سے زیادہ اس عہدے پر فائز نہیں ہو گا۔ صدر، قومی اسمبلی کے اسپیکر کے نام اپنی دستی تحریر کے ذریعے اپنے عہدے سے مستعفی ہو سکے گا۔
۲۔ صدر کی برخاستگی ( یا مواخذہ):
۱۔ صدر کو آئین کے آرٹیکل ۴۷ میں درج طریق کار کے مطابق، جسمانی یا دماغی نا اہلیت کی بنیاد پر اس کے عہدے سے
برخاست کیا جا سکے گا یا آئین کی خلاف ورزی یا فاش غلط روی کے کسی الزام پر اس کا مواخذہ کیا جا سکے گا۔
۲۔ کسی بھی ایوان کی کل رُکنیت کے کم از کم نصف ارکان قومی اسمبلی کے اسپیکر ، یا جیسی بھی صورت ہو، چئیرمین کو صدر کی
علیحدگی، یا جیسی بھی صورت ہو، اس کا مواخذہ کرنے کے لیے قرار داد پیش کرنے کے اپنے ارادے کا تحریری نوٹس دے
سکیں گے؛ اور مذکورہ نوٹس میں صدر کی نااہلیت کے کوائف یا اس کے خلاف الزام کی وضاحت ہو گی۔
۳۔ دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس اس بنیاد یا الزام ، جس پر نوٹس مبنیٰ ہو، کی تفتیش کرے گا یا تفتیش کروائے گا۔صدر کو یہ حق
حاصل ہو گا کہ تفتیش، اگر کوئی ہو، کے دوران مشترکہ اجلاس کے سامنے حاضر ہو یا اس کی نمائندگی کی جائے۔
۴۔ اگر تفتیش کے نتیجے میں غور وخوض کے بعد مشترکہ اجلاس میں مجلس شوریٰ ( پارلیمنٹ) کی کل رُکنیت کے کم از کم دو تہائی
ووٹوں کے ذریعے اس مضمون کی قرار داد منظور کر لی جائے کہ صدر نااہلیت کی وجہ سے عہدہ سنبھالنے کاا ہل نہیں ہے یا
آئین کی خلاف ورزی یا صریحاً غلط روی کا مجرم ہے تو صدر قرار داد منظور ہونے پر فوراً عہدہ چھوڑ دے گا۔
۳۔ صدر کے عہدے کا خالی ہونا:
اگر صدر کا عہدہ صدر کی وفات ، استعفیٰ یا مواخذہ کی وجہ سے خالی ہو جائے تو چئیر مین سینیٹ یا اگر وہ صدر کے عہدے کے کار ہائے منصبی انجام دینے سے قاصر ہو تو قومی اسمبلی کا اسپیکر اس وقت تک قائم مقام صدر ہو گا جب تک آئین کے آرٹیکل ۴۱ کی شق (۳) کے مطابق کوئی صدر منتخب نہ ہو جائے۔
۴۔ صدر کا معافی وغیرہ دینے کا اختیار:
آئین کے آرٹیکل ۴۵ کے مطابق صدر کو کسی عدالت ، ٹربیونل یا دیگر ہیئت مجاز (اتھارٹی)کی دی ہوئی سزا کو معاف کرنے ، ملتوی کرنے اور کچھ عرصے کے لیے روکنے اور اس میں تخفیف کرنے، اسے معطل یا تبدیل کرنے کا اختیار ہو گا۔
۵۔ داخلہ و خارجہ پالیسی کے معاملات اور قانون سازی کی تجاویز پر صدر کو مطلع رکھنا:
آئین کے آرٹیکل ۴۶ کے مطابق وزیر اعظم داخلہ اور خارجہ پالیسی کے تمام معاملات پر اور قانون سازی کی ایسی تمام تجاویز پر صدر کو مطلع رکھے گا جنھیں وفاقی حکومت مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) کے سامنے لانے کا ارادہ رکھتی ہو ۔
۶۔ صدر وزیراعظم کے مشورے پر عمل کرے گا:
۱۔ آئین کے آرٹیکل ۴۸ کے تحت صدر، اپنے کار ہائے منصبی کی انجام دہی میں، کابینہ (یا وزیراعظم) کے مشورے کے
مطابق عمل کرے گا ؛ تاہم مشورہ وصول ہونے کے پندرہ دن کے اندر صدر کابینہ یا وزیر اعظم کو ایسے مشورے پر دوبارہ غور کرنے کے
لیے ہدایت کر سکتا ہے اور صدر دوبارہ غور کے بعد دیے گئے مشورے کے مطابق ’’ دس دن کے اندر‘‘ عمل کرے گا۔
۲۔ صدر کسی ایسے معاملے کی نسبت جس کے بارے میں آئین کی رُو سے اسے ایسا کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، اپنی صوابدید
پر عمل کرے گا اور کسی ایسی چیز کے جواز پر جو صدر نے اپنی صوابدید پر کی ہو کسی وجہ سے، خواہ کچھ بھی ہو، اعتراض نہیں کیا جائے گا۔
۷۔ نگران کابینہ:
اسمبلی کی اپنی معیاد کی تکمیل پر یا آرٹیکل ۵۸ کے تحت اس کی تحلیل پر صدر نگران کابینہ مقرر کرے گا۔ تاہم صدر نگران وزیراعظم کا انتخاب جانے والی اسمبلی کے وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف کے مشورے سے کرے گا۔

باب نمبر۴: وفاقی حکومت

۱۔ وزیر اعظم:
اسمبلی کے عام انتخابات کے بعد اکیسویں دن قومی اسمبلی کا اجلاس ہوگا، تاہم صدر اس سے پہلے اجلاس طلب کر سکتا ہے۔ سپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے بعد ، قومی اسمبلی کسی اور کارروائی کے بغیر اپنے مسلمان ارکان میں سے کسی ایک کو کسی بحث کے بغیر وزیراعظم منتخب کرے گی۔ وزیراعظم قومی اسمبلی کے کل ارکان کے اکثریتی ووٹوں سے منتخب ہو گا۔ اس منتخب شدہ رکن کو صدر وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کی دعوت دے گا۔ وہ عہدہ سنبھالنے سے پہلے شیڈول سوّم میں درج شدہ عبارت کی صورت میں صدر مملکت کے سامنے حلف اُٹھائے گا۔ وزیراعظم کے عہدے کی میعاد کی تعداد پر کوئی پابندی نہیں ہو گی۔ وزیراعظم صدر کی خوشنودی کے دوران عہدہ سنبھالے گا۔ جب صدر مطمئن ہو کہ وزیراعظم کو قومی اسمبلی کے ارکان کی اکثریت کا اعتماد حاصل نہیں رہا ہے تو وہ قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرے گا اور وزیراعظم کو اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے کہے گا۔ وزیراعظم تحریری طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ صدر کو ارسال کرسکتا ہے۔ صدر وزیراعظم سے اپنے عہدے پر برقرار رہنے کے لیے کہہ سکتا ہے،جب تک کہ اس کا جانشین وزیراعظم کے عہدے پر فائز نہ ہوجائے۔
۲۔ وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد:
وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کے ووٹ کی قرار داد جسے قومی اسمبلی کی کل رُکنیت کے کم ازکم بیس فی صد ارکان نے پیش کیا ہو، قومی اسمبلی منظور کر سکتی ہے۔ جس دن مذکورہ قرار داد قومی ا سمبلی میں پیش کی گئی ہو ، سے تین دن کی مدت کے خاتمے سے پہلے یا سات دن کی مدت کے بعد ووٹ نہیں ڈالے جائیں گے۔ وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی کسی قرار داد کو قومی اسمبلی میں پیش نہیں کیا جائے گا جبکہ قومی اسمبلی سالانہ میزانیہ کے کیفیت نامے میں پیش کردہ مطالبات زر پر غور کررہی ہو۔ اگر وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی قرار داد کو قومی ا سمبلی کی مجموعی رُکنیت کی اکثریت سے منطور کر لیا جائے تو وزیراعظم عہدے پر فائز نہیں رہے گا۔
۳۔ کابینہ:
صدر مملکت کو اس کے کارہائے منصبی انجام دینے میں مدد اور مشورہ دینے کے لیے وزراء کی ایک کابینہ ہو گی جس کا سربراہ وزیر اعظم ہو گا ۔ کابینہ بشمول وزرائے مملکت اجتماعی طور پر سینیٹ اور قومی اسمبلی کے سامنے جواب دہ ہو گی۔ ( آرٹیکل ۹۱؍ آئین پاکستان)
۴۔ وفاقی وزراء اور وزرائے مملکت:
صدر وزیراعظم کے مشورے پر مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) کے ارکان میں وفاقی وزراء اور وزرائے مملکت کاتقرر کرے گا؛ بشرطیکہ ان وفاقی وزراء اور وزرائے مملکت کی تعداد جو سینیٹ کے رکن ہوں کسی بھی وقت وفاقی وزراء کی ایک چوتھائی تعداد سے زیادہ نہیں ہو گی۔ عہدے پر فائز ہونے سے پہلے کوئی وفاقی وزیر یا وزیرِ مملکت شیڈول سوم میں دی گئی عبارت میں صدر کے سامنے حلف اُٹھائے گا۔ کوئی وفاقی وزیر یا وزیر مملکت صدر کے نام اپنی دستخطی تحریر کے ذریعے اپنے عہدے سے مستعفی ہو سکتا ہے یا صدر وزیراعظم کے مشورے پر اسے عہدے سے برطرف کر سکتا ہے۔
کوئی وزیر جو مسلسل چھ ماہ تک قومی اسمبلی کا رکن نہ رہے، مذکورہ مدت کے اختتام پر وزیر نہیں رہے گا اور اس اسمبلی کی تحلیل سے قبل اسے دوبارہ وزیر مقرر نہیں کیا جائے گاتاوقتیکہ وہ اسمبلی کا رکن منتخب نہ ہو جائے۔تاہم سینیٹ کے رکن پر اس شرط کا اطلاق نہیں ہو گااور اس شرط کی وجہ سے وزیراعظم یا وفاقی وزیر یا وزیر مملکت کو کسی ایسی مدت کے دوران، جب کہ قومی اسمبلی تحلیل ہو گئی ہو، اپنے عہدے پر برقرار رہنے کا نااہل قرار نہیں دیا جا سکتا اور نہ ہی اس شرط کی وجہ سے کسی ایسی مدت کے دوران کسی شخص کو بطور وزیر اعظم یا وفاقی وزیر یا وزیر مملکت مقرر کرنے کی ممانعت ہو گی۔
۵۔ مشیران:
صدر، وزیراعظم کے مشورے پر، ایسی شرائط پر جن کا وہ تعین کرے، زیادہ سے زیادہ سے پانچ مشیر مقرر کر سکتا ہے۔
۶۔ خصوصی معاونین:
وزیراعظم کا خصوصی معاون یا خصوصی معاونین ہوں گے جن کا مرتبہ اور فرائض منصبی کا تعین وزیر اعظم کرے گا۔
۷۔ اٹارنی جنرل:
(۱) ریاست میں ایک اٹارنی جنرل ہوتا ہے، جو ریاست کا سب سے بڑا افسر قانون ہوتا ہے ۔ پاکستان کا آئین صدر مملکت
کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کو جو عدالتِ عظمیٰ کا جج بننے کا اہل ہو ، پاکستان کا اٹارنی جنرل مقرر کر سکتا ہے۔ اٹارنی جنرل کا یہ
فرض ہو گا کہ وہ وفاقی حکومت کو ایسے قانونی معاملات پر مشورہ دے اور قانونی نوعیت کے ایسے دیگر فرائض انجام دے جو، وفاقی
حکومت کی طرف سے، اسے حوالے کیے جائیں اور اپنے فرائض کی انجام دہی میں اسے پاکستان کی تمام عدالتوں اور ٹریبونلوں میں
سماعت کرنے کا حق حاصل ہو گا۔
(۲) آئین پاکستان کے تحت اٹارنی جنرل کو قومی اسمبلی یا اس کی کسی کمیٹی کی کارروائی میں حصہ لینے کا حق حاصل ہے مگر ووٹ
دینے کا اختیار حاصل نہیں کیونکہ وہ اسمبلی کا رکن نہیں ہوتا۔
(۳) قواعد کار ۱۹۷۳ء کے مطابق کوئی ڈویژن قانون و انصاف ڈویژن کے توسط کے بغیر اور اس ڈویژن کے وضع کردہ
طریق کار کو اپنائے بغیر اٹارنی جنرل سے مشورہ نہیں کرے گا۔ اگر اٹارنی جنرل اور قانون و انصاف ڈویژن میں اختلاف رائے پیدا
ہو جائے تو معاملہ وزیر قانون و انصاف کی رائے کے لیے پیش کیا جائے گا۔ اگر وزیر کو اٹارنی جنرل سے اختلاف ہو تو معاملہ احکامات
کے لیے وزیر اعظم کو پیش کیا جائے گا۔
۸۔ وفاق کا انتظامی اختیار:
آئین کے تحت ، وفاق کے انتظامی اختیارکا اطلاق ان معاملات پر ہو گا جن کے بارے میں مجلسِ شوریٰ ( پارلیمنٹ) کو قوانین وضع کرنے کا اختیار ہے۔ ان معاملات میں پاکستان میں اور اس سے باہر کے علاقوں کے متعلق حقوق، اختیار اور دائرہ اختیار کو بروئے کار لانا شامل ہے؛ مگر شرط یہ ہے کہ مذکورہ اختیار کا، سوائے اس کے کہ آئین میں یا مجلسِ شوریٰ ( پارلیمنٹ) کے وضع کردہ کسی قانون میں بالصراحت موجود ہو، کسی صوبے میں کسی ایسے معاملہ پر اطلاق نہیں ہو گا جس کے بارے میں صوبائی اسمبلی کو بھی قوانین وضع کرنے کا اختیار ہو گا۔
۹۔ انتظامی اختیار کا استعمال:
(۱) وفاق کا انتظامی اختیار، وزیراعظم اور وفاقی وزراء پر مشتمل وفاقی حکومت، صدر کے نام پر بروئے کار لائے گی۔ وفاقی
حکومت وزیراعظم کے ذریعے اپنے فرائض ادا کرے گی۔ وزیراعظم وفاق کا منتظم اعلیٰ ہو گا۔ اپنے کار ہائے منصبی انجام دینے کے
لیے وزیراعظم براہ راست یا وفاقی وزراء کے ذریعے عمل کرے گا۔
(۲) وفاقی حکومت کی سفارش پر مجلسِ شوریٰ ( پارلیمنٹ) قانون کے ذریعے وفاقی حکومت کے افسران یا ماتحت ہیئت ہائے
مجاز کو کار ہائے منصبی تفویض کر سکتی ہے ۔
۱۰۔ وفاقی حکومت کے کام کی انجام دہی:
آئین کے آرٹیکل ۹۰ کی رُو سے وفاقی حکومت کے تمام انتظامی اقدامات صدر مملکت کے نام سے کیے جاتے ہیں۔ آئین کے تحت وفاقی حکومت کو اختیار حاصل ہے کہ قواعد کے ذریعے ان احکام اور دیگر دستاویزات کی توثیق کے طریقے کی صراحت کرے جو صدرکے نام پر وضع یا جاری کی گئی ہوں اور اس طرح توثیق شدہ کسی حکم یا دستاویز کے جواز پر کسی عدالت میں اس بنا پر اعتراض نہیں کیا جائے گا کہ اس کو صدر نے وضع یا جاری نہیں کیا تھا۔ آئین کے آرٹیکل ۹۹ کی رُو سے وفاقی حکومت کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ اپنے کام کی تقسیم اور انجام دہی کے لیے قواعد وضع کرے۔
۱۱۔ قواعد کار، ۱۹۷۳ء:
آئین کے آرٹیکلز ۹۰ اور ۹۹ کی رُو سے عطا کردہ اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے وفاقی حکومت نے اپنے کام کی تقسیم اور انجام دہی کے لیے قواعد کار، ۱۹۷۳ء وضع کیے جو ۱۴، اگست ۱۹۷۳ء کو نافذ العمل ہوئے۔ ان قواعد کار میں وفاقی سطح پر وزارتوں ؍ ڈویژنوں کی تشکیل و تنظیم اور ان کی فہرست، ڈویژنوں کے مابین تقسیم کار، وفاقی حکومت کے کام کی انجام دہی کے رہنما اُصول،ڈویژنوں میں مشاورت، وزیراعظم اور صدر مملکت سے رجوع کرنے کا طریقہ کار ، کابینہ کا طریقہ کار، قانون سازی کا طریقہ کار، مجلسِ شوریٰ ( پارلیمنٹ) سے تعلقات کار، صوبوں کے ساتھ تعلقات، ہنگامی حالات میں اقدامات لینے کا طریق کار اور متفرق اقدامات شامل ہیں۔

باب نمبر ۵: وفاقی حکومت کے دفاتر

۱۔ ڈویژن:
وفاقی سطح پر سرکاری اُمور وزراتیں ؍ ڈویژن سر انجام دیتے ہیں۔ ’’ڈویژن‘‘ سے مراد ایک جامع بالذات انتظامی اکائی ہے، جو واضح اور مخصوص دائرہ کار میں وفاقی حکومت کا کام کرنے کی ذمہ دار ہے۔ کسی انتظامی اکائی کو ڈویژن کی حیثیت دینے کے لیے وفاقی حکومت کی طرف سے رسمی طور پر ’اعلان‘ جاری کیا جاتا ہے اور قواعد کار ۱۹۷۳ء میں اس کا اندراج کیا جاتا ہے۔
۲۔ وزارت:
لغت میں وزارت سے مراد ہے وزیر کا محکمہ، قلمدان یا شعبۂ وزارت۔ برطانیہ میں یہ اصطلاح اس سرکاری محکمے کے لیے استعمال کی جاتی ہے جس کے لیے وزیر، پارلیمنٹ کے سامنے جواب دہ ہے۔ پاکستان میں وفاقی سطح پر انتظامی اکائی ڈویژن ہے اور وزارت سے مراد ہے ’’ ایک ڈویژن یا ڈویژنوں کا گروپ‘‘ ۔مثال کے طور پر وزارت امور خارجہ میں صرف ایک ڈویژن ہے یعنی امور خارجہ ڈویژن جبکہ وزارت مالیات و محاصل اور منصوبہ بندی و ترقیات تین ڈویژنوں ( مالیات ڈویژن، محاصل ڈویژن اور منصوبہ بندی و ترقیات ڈویژن) پر مشتمل ہے۔

۳۔ وفاقی سیکریٹریٹ:
ڈویژنوں اور وزارتوں کو مجموعی طور پر وفاقی سیکریٹریٹ کہتے ہیں۔ وفاقی سیکریٹریٹ ان وزارتوں اور ڈویژنوں پر مشتمل ہوتا ہے جو قواعد کار۱۹۷۳ء کے شیڈول اوّل میں درج ہیں۔ جب کبھی ضروری ہو، وزیراعظم ایک یا زیادہ ڈویژنوں پر مشتمل نئی وزارت تشکیل دے سکتا ہے۔ وزیراعظم شیڈول اوّل میں درج کردہ ڈویژنوں میں سے ایک یا زیادہ ڈویژن ایک وزیر کی تحویل میں دیتے ہوئے اپنے وزیروں کے درمیان وفاقی حکومت کا کام تقسیم کرتا ہے۔ وہ ڈویژن یا وزارت، جو کسی وزیر کو تفویض نہیں ہو گی، وزیر اعظم کی تحویل میں ہو گی۔ وزیراعظم ایک سے زائد ڈویژن کسی وزیر کو تفویض کر سکتا ہے۔
۴۔ ملحقہ محکمہ:
پالیسی مسائل کے تکنیکی پہلوؤں پر ماہرانہ مشورہ دینے اور حکومت کی تشکیل کردہ پالیسی پر عمل درآمد کرنے کے لیے حسبِ ضرورت ہر ڈویژن کے ملحقہ محکمہ جات قائم کیے جاتے ہیں۔ یہ ملحقہ محکمے براہ راست اپنے متعلقہ ڈویژن کے تحت کام کرتے ہیں اور ان کی تخلیق کا باقاعدہ اعلان حکومت کے گزٹ میں کیا جاتا ہے۔ قواعد کار ۱۹۷۳ء کے شیڈول سوّم میں ملحقہ محکمہ کا نام شامل کیا جا تا ہے ۔ مثال کے طور پر عملہ ڈویژن کے ملحقہ محکموں کی تفصیل ذیل میں درج کی جاتی ہے۔
۱۔ تنظیم بہبودعملہ، اسلام آباد۔
۲۔ وفاقی ملازمین رفاہی فنڈو گروہی بیمہ فنڈ ، اسلام آباد۔
۳۔ سول سروسز اکیڈیمی، لاہور۔
۴۔ پاکستان انتظامی عملہ کالج ( ایڈ منسٹریٹو سٹاف کالج)، لاہور۔
۵۔ سیکریٹریٹ تربیتی انسٹی ٹیوٹ ، اسلام آباد۔
۶۔ قومی ادارہ نظم عامہ ( نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن)، لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ۔
۷۔ پاکستان اکادمی برائے دیہی ترقی، پشاور۔
۸۔ وفاقی پبلک سروس کمیشن، اسلام آباد۔
۵۔ ماتحت دفتر:
وفاقی حکومت کا دفتر جو وزارت، ڈویژن یا ملحقہ محکمے کے علاوہ ہو۔ یہ عام طور پر ملحقہ محکمے کے تحت مخصوص دائرہ عمل میں کام کرتا ہے اور اس محکمے کو بنیادی اور تکنیکی معلومات فراہم کرتا ہے۔ اپنے دائرہ کار سے متعلق کسی مخصوص مسئلے کے تکنیکی پہلوؤں پر ملحقہ محکمے کو مشورہ دیتا ہے اور میدانِ کار میں ملحقہ محکمے ( یا خو د ڈویژن) کی عمومی ہدایات کے تحت حکومت کی پالیسی پر عمل درآمد کرتاہے۔مثلاً ناظم اعلیٰ حسابات پاکستان جو محاسب اعلیٰ پاکستان کا ایک ماتحت ادارہ ہے۔
۶۔ خود مختار؍ نیم خود مختار ادارے:
یہ ادارے مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ)کے ایک ایکٹ کے ذریعے یا پبلک لمیٹڈ کمپنی کے طور پر یا ٹرسٹ ایکٹ کے تحت قائم کیے جاتے ہیں ۔ یہ ادارے مختلف النوع سرگرمیاں انجام دیتے ہیں۔
(۱) تجارتی، صنعتی اور ترقیاتی سرگرمیاں:
ٹریڈنگ کارپوریشن پاکستان؛ ہیوی انڈسٹریز، ٹیکسلا؛ پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کامرہ؛
پاکستان اسلحہ ساز فیکٹری واہ؛ پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن ، پاسکو، پی آئی اے وغیرہ۔
(۲) انضباطی ادارے:
اوگرا، نیپرا، پیمرا وغیرہ۔
(۳) فراہمئ خدمات کے ادارے:
وفاقی و ثانوی و اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ، اسلام آباد؛ نیشنل لاجسٹک سیل (این ایل سی)؛ پاکستان انسٹی ٹیوٹ برائے میڈیکل سائنسز(پمز) وغیرہ
(۴) مخصوص مقاصد کے فروغ کے ادارے:
یہ ادارے علم ودانش، تہذیبی و ثقافتی روایات، ملکی مصنوعات اور روزگار و سیاحت کو فروغ دیتے ہیں؛ مثلاً مقتدرہ قومی زبان، اقبال اکیڈمی، قائداعظم اکیڈمی، لوک ورثہ، نیشنل بُک فاؤنڈیشن، پاکستان سپورٹس بورڈ، سرمایہ کاری بورڈ، پاکستان ترق�ئ سیاحت کارپوریشن، بیرون ملک روز گار کارپوریشن ، پاکستان صنعتی ترقیاتی کارپوریشن وغیرہ۔
(۵) مالیاتی، بینک کاری وغیرہ کے ادارے:
پاکستان انشورنس کارپوریشن؛ ادارہ قومی بچت؛ پاکستان کویت سرمایہ کاری کمپنی؛ زرعی ترقیاتی بینک؛ نیشنل بینک پاکستان وغیرہ۔
(۶) تربیتی ادارے:
فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی؛ قومی انسٹی ٹیوٹ برائے سائنس و ٹیکنیکل تعلیم، اسلام آباد؛ وغیرہ۔
(۷) ترقیاتی ادارے:
خوشحال پاکستان فنڈ؛ نیشنل ہاؤسنگ اتھارٹی؛ پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی وغیرہ۔

باب نمبر ۶
ڈویژنوں کے درمیان تعین کار

وفاقی سطح پر سرکاری امور کی انجام دہی ڈویژنوں کی ذمہ داری ہے۔ ہر ڈویژن کے لیے ایک واضح اور مخصوص دائرہ کار میں سرکاری کام کا تعین کیا گیا ہے۔ قواعد کار ۱۹۷۳ء کے شیڈول دوم میں علیحدہ علیحدہ ہر ڈویژن کو تعین کردہ کام کی تفصیل دی گئی ہے۔ ڈویژنوں کو تعین کردہ کام کی وضاحت کے لیے عملہ ڈویژن کی مثال پیش خدمت ہے۔
۱۔ عملہ ڈویژن:
(۱) عملہ ڈویژن کا بینہ سیکریٹریٹ کا ایک ڈویژن ہے۔عملہ ڈویژن کا بنیادی کام ایسے تمام معاملات کی ضابطہ بندی ہے جن کا اطلاق وفاق کے امور سے متعلق سول اسامیوں پر ہوتا ہے۔ یہ ڈویژن معاملات عملہ کے لیے بنیادی دفتر کے طور پر کا م کرتاہے۔ ملازمین کی مختلف گریڈوں میں بھرتی، ترقی، پیشہ وارانہ منصوبہ بندی ، صلاحیت سازی، ملازمین کے کردار و سوابق کی تصدیق ، طرزعمل اور نظم و ضبط اور ملازمت (بشمول ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ ملازمت) کی شرائط و قیود ، ماسوائے ان کے جو وزارت مالیات کے دائرہ کار میں آتی ہوں، سے متعلق معاملات پر کاروائی کرتا ہے۔ یہ ڈویژن پیشہ وارانہ گروپوں کی تشکیل اور چار پیشہ وارانہ گروپوں کے بارے میں پالیسی وضع کرنے اور ان کانظم ونسق چلانے کا ذمے دار ہے۔ ان گروپوں میں سیکریٹریٹ گروپ، ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ، پولیس سروس آف پاکستان اور آفس مینجمنٹ گروپ شامل ہیں۔
(۲) اپنے مقاصد کے حصول کے لیے عملہ ڈویژن مندرجہ ذیل قوانین سے رہنمائی حاصل کرتا ہے۔
(الف) سول ملازمین ایکٹ ، ۱۹۷۳ء
(ب) سروس ٹریبونل ایکٹ، ۱۹۷۳ء
(ج) فیڈرل پبلک سروس کمیشن آرڈیننس ، ۱۹۷۷ء
۳۔ پیشہ وارانہ تربیت:
عملہ ڈویژن کی ایک بڑی ذمے داری نظم عامہ کے میدان میں تربیت کا انتظام کرنا ہے۔ مختلف سطحوں کے سول ملازمین کی پیشہ وارانہ تربیت کے لیے تربیتی ادارے قائم کیے گئے ہیں۔ ا ن تربیتی اداروں میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سٹاف کالج، لاہور؛ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن ، کراچی؛ کوئٹہ، لاہور اور پشاور؛ اکادمی برائے دیہی ترقیات پشاور، سول سروسز اکیڈمی، لاہور اور سیکریٹریٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، اسلام آباد شامل ہیں۔ ان اداروں میں تربیت فراہم کرنے کا بنیادی مقصد پیشہ وارانہ امور میں ملازمین کی صلاحیت سازی ہے تاکہ انھیں اعلیٰ ذمے داریوں کی ادائیگی کے لیے تیار کیا جا سکے اور وہ مناسب انداز سے جدید دنیا میں روزمرہ پیش آنے والے چیلنجوں کا مقابلہ کر سکے۔

۴۔ انتظامی خدمات:
عملہ ڈویژن اپنے شعبۂ انتظامی خدمات کے ذریعے وفاقی حکومت کے انتظامی مشیر کے طورپر کام کرتا ہے اور خصوصی انتظامی مسائل حل کرنے کے لیے مختلف معاملات کا مطالعہ کرتا ہے اور اس مقصد کے لیے جدید انتظامی تکنیکیں استعمال کرتا ہے۔ان تکنیکوں میں جائزہ و جانچ پروگرام (پی ای آرٹی)، تنقیدی طریق اسلوب (سی پی ایم) ، نظا م کا تجزیہ و عملیاتی تحقیق اور تنظیم و طریق کار (اواینڈ ایم) شامل ہیں۔ اس شعبہ کی ذمہ داریوں میں مندرجہ ذیل امور شامل ہیں:
۱۔ ڈویژنوں ، ملحقہ محکموں ، وفاقی حکومت کے دفاتر اور محکموں، خود مختار اداروں اور حکومت کے انتظامی اختیار میں لی ہوئی
صنعتوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ان کی تنظیم ، کارہائے منصبی اور طریق کار کا جائزہ؛
۲۔ کسی ڈویژن یا ملحقہ محکمے کی دوبارہ تنظیم یا کسی ملحقہ محکمے کی حیثیت کی تبدیلی؛
۳۔ ڈویژنوں ، ملحقہ محکموں اور وفاقی حکومت کے دیگر تمام دفاتر کے عملہ کی تعداد کا میقاتی جائزہ؛
۴۔ سرکاری امور کی مؤثر اور باکفایت انجام دہی کے لیے ضابطے، فارم اور طریق کار آسان بنانے کے لیے تجاویز پیش کرنا
تاکہ عوام کی پریشانی کم کی جا سکے اور بدعنوانی کے خلاف لازمی تحفظات کا ارتقا ہو؛
۵۔ تنظیم و طریق کار (او اینڈ ایم) ، تنقیدی طریق اسلوب (سی پی ایم) ، جائزہ و جانچ پروگرام (پی ای آرٹی) تکنیک،
نظام کا تجزیہ اور عملیاتی تحقیق میں حکومتی عہدے داروں کی اندرون پاکستان اور بیرون پاکستان تربیت ؛
۶۔ تمام حکومتی دفاتر اور اداروں میں فروغِ علم اور تنظیم و طریق کار (او اینڈ ایم) کے تصورات، تنقیدی طریق اسلوب ، جائزہ
و جانچ پروگرام تکنیک ، نظام کا تجزیہ اور عملیاتی تحقیق کے استعمال کا فروغ؛
۷۔ آئیڈیا ایوارڈ سکیم؛
۸۔ نظم و نسق عامہ مرکز تحقیقات پاکستان؛
۹۔ کسی ڈویژن میں سیکشن (صیغہ) کے علاوہ کسی واحدۂ کار (ورکنگ یونٹ) کی مستقل بنیاد پر تنظیم؛
۱۰۔ سرکاری دفاتر کی حیثیت کا تعین؛
۱۱۔ وفاقی سرکاری ملازمین کے زائد عملہ کا پول اور انھیں سرکاری دفاتر میں کھپانے کے لیے انتظامات
۵۔ بہبود عملہ:
عملہ ڈویژن سول ملازمین اور ان کے زیر کفالت افراد کی فلاح وبہبود کا بھی خیال رکھتا ہے۔ اس مقصد کے لیے د وملحقہ محکمے (تنظیم بہبود عملہ اور وفاقی ملازمین رفاہی فنڈو گروہی بیمہ) خدمات انجام دیتے ہیں۔
۶۔ متفرق ذمہ داریاں:
عملہ ڈویژن کی ذمہ داریوں میں مندرجہ ذیل امور بھی شامل ہیں۔
۱۔ درج ذیل سے متعلق معاملات:
(الف) مرکزی انتخاب بورڈ؛
(ب) خصوصی انتخاب بورڈ، سوائے ان خصوصی انتخابی بورڈوں کے جو بیرون ملک پاکستانی سفارتی مشنوں میں تعیناتی
کے لیے افسروں کے انتخاب سے متعلق متعلقہ ڈویژنوں میں تشکیل دیے جائیں؛
(ج) آل پاکستان یونی فائیڈ گریڈز سے متعلق صوبائی اسامیوں کے لیے انتخاب کمیٹی؛
۲۔ پیشہ وارانہ منصوبہ بندی:
(الف) سرکاری ملازمین کی سالانہ خفیہ رپورٹیں تحریر کرنے اور ان کی نگہداشت سے متعلق ہدایات؛
(ب) افسروں کی اصل یا مثنیٰ سالانہ خفیہ رپورٹوں کے دو سیٹوں کے بندوبست کے لیے مرکزی انتظامات
۳۔ انتظامی اصلاحات
۴۔ سول ملازمین ایکٹ، ۱۹۷۳ء اور اس کے تحت وضع کردہ قواعد کا نظم و نسق
۵۔ سروس ٹریبونل ایکٹ، ۱۹۷۳ء
۶۔ رخصت اتفاقی
۷۔ دفتری اوقات کار
۸۔ سرکاری ملازمین کی وردیاں
۹۔ انجمن وفاقی ملازمین کے بارے میں پالیسی مسائل
۱۰۔ نان سیکریٹریٹ افسروں کو بربنائے عہدہ رتبہ کی منظوری
۷۔ عملہ ڈویژن کے سر شعبہ جات:
عملہ ڈویژن کو تعین کردہ کام انجام دینے کے لیے مندرجہ ذیل سر شعبہ جات (ونگز) میں تقسیم کیا گیا ہے
۱۔ پیشہ ورانہ منصوبہ بندی ونگ
۲۔ تربیت ونگ
۳۔ نظم و ضبط ومقدمات ونگ
۴۔ ضابطہ ونگ
۵۔ انتظامی خدمات ونگ
۶۔ عملہ ونگ
۷۔ انتظامیہ ونگ
مندرجہ بالا سرشعبہ جات (ونگز) کو مندرجہ ذیل تنظیمی چارٹ کے ذریعے ظاہر کیا گیا ہے۔

تنظیمی چارٹ عملہ ڈویژن
نوٹ: اس تنظیمی چارٹ میں بنیادی تنخواہ سکیل ۲۰ تا ۲۲ کے افسر دکھائے گئے ہیں۔ ہر جائنٹ سیکریٹری کے تحت حسب ضرورت ڈپٹی سیکریٹری اور سیکشن افسر تعینات کیے گئے ہیں۔
عملہ ڈویژن کے ملحقہ محکمہ جات
تنظیم بہبود عملہ کی نمایاں سرگرمیاں
عملہ ڈویژن کے ملحقہ محکمہ جات کی فہرست قواعد کار ۱۹۷۳ء میں دی گئی ہے۔ ان ملحقہ محکموں میں ایک ملحقہ محکمہ تنظیم بہبود عملہ، اسلام آبادہے۔ ۱۹۵۱ء میں اس کا قیام عملہ ڈویژن کے سیکشن کے طور پر عمل میں آیا۔ بعد میں اسے ایک علیحدہ نظامت بنادیا گیا۔مثال کے طور پر اس ملحقہ محکمہ کی نمایاں سرگرمیاں مندرجہ ذیل ہیں۔
نمایاں سرگرمیاں
وفاقی ملازمین اور ان کے زیر کفالت افراد کے لیے قرآن کریم کی تعلیم، تعلیمی وظائف، سرکاری ملازمین کے انتقال یا بیماری یا بصارت کمزور ہونے پر مالیاتی معاونت، معذور سرکاری ملازمین اور ان کے زیر کفالت معذور بچوں کے لیے آلۂ سماعت ، ٹرائیسکل ، وہیل چیئر اور مصنوعی اعضاء کی فراہمی، ایمبولینس سروس اور مردہ خانہ گاڑی کی فراہمی، صحت افزامقامات پر رہائش کی فراہمی، برسرِکار خواتین کے لیے ہوسٹل ، برسرکار خواتین کے لیے نگہداشت اطفال کی سہولت، سرکاری ملازمین اور ان کے زیر کفالت افراد کے لیے ٹائپ کاری، مختصر نویسی، کمپیوٹر وغیرہ میں تربیت، مختلف معاشرتی، ثقافتی، مذہبی اور تفریحی سرگرمیوں کے لیے کمیونٹی مراکز کی سہولت نیز صحت مند سرگرمیوں اور کھیلوں کی سہولتیں۔

باب نمبر۷ ڈویژنوں کی تنظیم اور تقسیم کار

۱۔ ڈویژن کا سرکاری سربراہ:
ہر ڈویژن کا ایک سیکریٹری (اس اصطلاح میں سیکریٹری جنرل، پرنسپل سیکریٹری، قائم مقام سیکریٹری، ایڈیشنل سیکریٹری یا جائنٹ سیکریٹری انچارج شامل ہے) اور اس کے تحت دوسرے عہدے دار ہوتے ہیں۔ ایک ہی شخص ایک سے زائد ڈویژنوں کا انچارج ہو سکتا ہے۔ سیکریٹری ڈویژن کا سرکاری سربراہ ہوتا ہے۔
۲۔ سر شعبہ جات:
ہر ڈویژن کو سر شعبہ جات(ونگز) میں تقسیم کیا جا تا ہے ہر سرشعبہ (ونگ) کا سربراہ جائنٹ سیکریٹری / سینئر جائنٹ سیکریٹری ہوتا ہے۔ (بڑے ڈویژنوں میں سیکریٹری اور جائنٹ سیکریٹری کے درمیان ایڈیشنل سیکریٹری بھی تعینات ہوتے ہیں)جائنٹ سیکریٹری کے تحت دو یا زیادہ ڈپٹی سیکریٹری ہوتے ہیں۔ ہر ڈپٹی سیکریٹری کے تحت عام طور پر دو یا دو سے زیادہ سیکشن ہوتے ہیں۔
۳۔ صیغہ جات:
سیکشن (صیغہ) ہر ڈویژن کی بنیادی انتظامی اکائی ہے جس کی تشکیل عملہ ڈویژن (انتظامی خدمات ونگ) کے مقرر کردہ معیار کے مطابق کی جاتی ہے۔
۴۔ غیر معمولی انتظامی اکائی:
اگر کسی اکائی کا ڈھانچا سیکشن کے مطابق نہ ہو تو عملہ ڈویژن کی مشاورت سے مستقل بنیاد پر سیکشن کے بجائے کسی اور طریقے سے اس کی تنظیم کی جا سکتی ہے۔ کسی غیر معمولی اکائی جیسے ریسرچ سیل کی تشکیل کی صورت میں عملہ ڈویژن کو مطلع کر دیا جاتا ہے۔
۵۔ سیکریٹری کی ذمہ داریاں: ڈویژن میں تقسیم کار
(۱) وزارت / ڈویژن کا سربراہ ہونے کی حیثیت سے معتمد (سیکریٹری) اس کے مؤثر انتظام اور نظم وضبط کا ذمہ دار ہے۔ وہ
قواعد کار ۱۹۷۳ء کے تحت ڈویژن کو تعین کردہ سرکاری امور اور ہدایات معتمدی (سیکریٹریٹ انسٹرکشنز) کے مطابق سرکاری کام کی
انجام دہی کا بھی ذمہ دار ہے۔
(۲) سیکریٹری کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس امر کو یقینی بنائے کہ جو معاملات وزیر انچارج، وزیر اعظم ، صدر مملکت یا کابینہ کو
پیش کیے جائیں وہ مکمل صورت میں ہوں۔
(۳) سیکریٹری کی یہ ذمہ داری ہے کہ اپنے ماتحت افسران کو اختیارات تفویض کرے اور ایسا کرتے ہوئے ان اختیارات کی
زیادہ سے زیادہ حد کا تعین کرے ؛ ان اختیارات پر مبنی واضح مستقل احکامات جاری کرے اور ڈویژن میں معاملات نمٹانے کا طریق
کار طے کرے۔
(۴) سیکریٹری اس امرکو یقینی بنائے گا کہ ڈویژن میں تقسیم کار منصفانہ ہو؛ معاملات عمودی طریقے پر پیش کیے جائیں، نہ کہ افقی
طریقے پر؛ اور کارروائی کے دوران کوئی معاملہ بشمول سیکریٹری عام طور پر دو مرحلوں سے زیادہ نہ گزرے۔
(۵) سیکریٹری مختلف افسران کو تفویض اختیارات کا وقتاً فوقتاً جائزہ لے گا تاکہ معاملات نمٹانے کے لیے ابتدائی اور درمیانی
سطح پر زیادہ سے زیادہ تفویضِ اختیار کو یقینی بنایا جا سکے۔ وہ ڈویژن کے معاملات سے اپنے آپ کو مکمل باخبر رکھنے کے لیے ایک
مناسب نظام وضع کرے گا۔
۶۔ ایڈیشنل سیکریٹری/ جائنٹ سیکریٹری کو فرائض کا تعین:
سیکریٹری اپنے تحت کام کرنے والے ایڈیشنل سیکریٹریوں اور جائنٹ سیکریٹریوں کو بہت واضح دائرے میں فرائض تفویض کرے گا۔ اپنے دائرہ فرائض میں متعلقہ افسر پوری ذمہ داری اٹھائیں گے اور احکامات کے لیے وزیر انچارج کو معاملات براہ راست پیش کریں گے۔ یہ معاملات سیکریٹری کے ذریعے متعلقہ افسر کو واپس جائیں گے تاکہ سیکریٹری باخبر رہے۔ سیکریٹری کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ تفویض کردہ کسی معاملے کو اپنے غور کے لیے طلب کرے۔ وہ یہ بھی ہدایت کر سکتا ہے کہ وزیر کو پیش کرنے سے پہلے کسی خاص معاملہ پر اس سے مشاورت کی جائے۔
۷۔ نائب معتمد کا اختیار:
نائب معتمد (ڈپٹی سیکریٹری) ایسے تمام معاملات نمٹائے گا جن میں پالیسی کا کوئی بڑا مسئلہ درپیش نہ ہو؛ قواعد یا مستقل احکامات کے تحت وہ معاملات نمٹانے کے لیے بااختیار ہو۔
۸۔ افسر صیغہ کا اختیار:
افسر صیغہ ایسے تمام معاملات نمٹائے گا جہاں واضح نظائر موجود ہوں اور ان نظائر سے انحراف کا کوئی مسئلہ درپیش نہ ہو؛ قواعد یامستقل احکامات کے تحت وہ معاملات نمٹانے کے لیے با اختیار ہو۔ کسی شک کی صورت میں وہ اپنے اعلیٰ افسر سے ہدایات لے سکتا ہے۔

باب نمبر ۸ وفاقی حکومت میں انصرام کار

۱۔ عمومی ہدایات:
وفاقی حکومت میں کوئی اہم پالیسی فیصلہ وزیر اعظم کی منظوری کے بغیر نہیں کیا جائے گا۔ وزیر اعظم کی طرف سے کیا گیا پالیسی فیصلہ وزیر اعظم سے مشورہ کے بغیر نہ تبدیل کیا جائے گا اور نہ ہی اس کی خلاف ورزی کی جائے گی۔
۲۔ وزیر کی ذمہ داری:
(۱) وزیر کا یہ فرض ہوگا کہ پالیسی کی تشکیل میں وزیر اعظم کی مدد کرے۔ وہ اپنے ڈویژن سے متعلق پالیسی کا ذمہ دار ہوگا اور کسی ایسے اہم معاملہ کے بارے میں جسے اس نے وزیر اعظم سے رجوع کیے بغیر نمٹایا ہو، وزیراعظم کو آگاہ کرے گا۔
(۲) انچارج وزیر قومی اسمبلی میں ڈویژن کے معاملات کی پیروی کا ذمہ دار ہوگا۔
۳۔ سیکریٹری کی ذمہ داریاں:
(ا) سیکریٹری پالیسی کی تشکیل میں ڈویژن کے انچارج وزیر کی مدد کرے گا اور منظور شدہ پالیسی کی حسب ضابطہ تعمیل کرے
گا۔ وہ وزیر کی منظوری سے قانون سازی کے لیے تمام تجاویز کا بینہ کو پیش کرے گا۔ ڈویژن کا کام عام طور پر انچارج وزیر کے اختیار
سے یا اس کی اجازت سے نمٹایا جائے گا۔ وہ انچارج وزیر کو ڈویژن کی عمومی کارکردگی اور کسی ایسے اہم معاملے سے متعلق جسے وزیر
سے رجوع کیے بغیر نمٹایا گیا ہو، آگاہ کرے گا۔
(۲) پرنسپل اکاؤنٹنگ افسر:سیکرٹری ڈویژن ، ملحقہ محکموں اور ماتحت دفاتر کا پرنسپل اکاؤنٹنگ افسر ہوگا اور اس امر کو یقینی
بنائے گا کہ اس کے اختیار میں دیے گئے فنڈ وزارت مالیات کے وضع کردہ قواعد کے مطابق خرچ ہوتے ہیں۔
(۳) مستقل احکام کا اجراء:قواعد کار ۱۹۷۳ء کی شرائط کے تحت اور انچارج وزیر کی منظوری سے ایسے مستقل احکام جاری
کرے گا جن میں ڈویژن کے افسران کے درمیان کام کی تقسیم سمیت ڈویژن میں معاملات نمٹانے کا طریقہ دیا گیا ہو اور ایسے
احکامات میں ان معاملات یا معاملات کی نوعیت کی صراحت کی گئی ہو جو اس کا ماتحت افسر نمٹائے گا۔
(۴) قواعد کار ۱۹۷۳ء کی پابندی:وہ احتیاط او رتوجہ سے ان قواعد کی پابندی کا ذمہ دار ہوگا اور جہاں وہ یہ سمجھے کہ ان قواعد
سے نمایاں انحراف ، خواہ اس کے اپنے ڈویژن میں ہو یا کسی دوسرے ڈویژن میں ، ہو رہا ہے تو وہ معاملے کو انچارج وزیر کے علم میں
لائے گا۔
(۵) انچارج وزیر کو معاملات پیش کرنا:جب سیکریٹری کو ئی معاملہ وزیر کو پیش کرتا ہے تو وزیر سیکرٹری کی تجاویز یا آراء منظور کر
سکتا ہے یا مسترد کر سکتا ہے ۔ سیکرٹری بالعموم وزیر کے فیصلہ کا پاس کرے گا اور اسے نافذ کرے گا۔
(۶) سیکرٹری اور وزیر میں اختلاف کی صورت میں طریق کار:اگر سیکریٹری محسوس کرتاہے کہ وزیر کا فیصلہ صریحاً غلط ہے
اور شدید ناانصافی یا بے جا مشکل کا سبب بنے گا تو وہ وجوہات بیان کر کے معاملہ دوبارہ وزیر کو پیش کرے گا۔ اگر وزیر پھر بھی اپنا پہلا
فیصلہ برقرار رکھتا ہے اور معاملہ کافی اہم ہے تو وہ وزیر سے درخواست کرے گا کہ معاملہ احکامات کے لیے وزیر اعظم کو بھیج دیاجائے۔
اگر معاملہ وزیر اعظم کو نہیں بھیجا جاتا تو سیکریٹری انچارج وزیر کی آراء کے ساتھ اسے براہِ راست وزیر اعظم کو پیش کرے گا ۔
۴۔ زبانی احکامات:
حکومت کے کسی عہدیدار کے زبانی احکامات کو معمول کے مطابق قلمبند کیا جائے گا اور جاری کنندہ حاکم مجاز کو پیش کیا جائے گا۔ اگر وقت اجازت دے تو کارروائی شروع کرنے سے پہلے احکامات کی توثیق حاصل کی جائے گی۔ تاہم فوری ضرورت کے تحت جب کارروائی فوراً مطلوب ہو یا اگر کارروائی شروع کرنے سے پہلے احکامات کی تحریری توثیق حاصل کرنا ممکن نہ ہو تو وہ عہدیدار جسے زبانی احکام دیے گئے ہیں، مطلوبہ کارروائی کرے گا اور جونہی اسے موقع ملے گا وہ حاکم مجاز کو جاری کنندہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے مطلوبہ توثیق حاصل کرے گا۔
۵۔ قواعد کار ۱۹۷۳ء کی تعبیر:
(۱) اگر ان قواعد کی تعبیر میں یا یہ تعین کرنے میں کہ کوئی معاملہ صحیح طور پر کس ڈویژن سے متعلق ہے یا کوئی شک یا اختلاف پیدا
ہوجائے تو معاملہ کابینہ ڈویژن کو ارسال کیا جائے گا جس کا فیصلہ حتمی ہوگا۔
(۲) جہاں ضروری ہو، کابینہ ڈویژن وزیر اعظم کے احکامات حاصل کرے گا۔
(۳) جب کبھی ضروری ہوگا، ان قواعد سے متعلق ضمنی ہدایات کابینہ ڈویژن جاری کرے گا، تاہم ان قواعد کی رُو سے ڈویژنوں
کی جانب سے وضع ہونے والے مطلوبہ خصوصی یا عمومی احکام کا بینہ ڈویژن سے مشاورت کے بعد متعلقہ ڈویژن جاری کریں گے۔
۶۔ خلاف قانون/ پالیسی حکم کا اجراء:
اگر جاری کیا گیا کوئی حکم کسی قانون، قاعدے یا پالیسی کے خلاف ہوتو اگلے ماتحت افسر کی یہ ذمہ داری ہوگی کہ وہ حکم جاری کرنے والے حاکم مجاز کو اس کی نشاندہی کرے۔
۷۔ انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری:
صدر کو بھیجی گئی رائے یا صدرمملکت کے نام پر جاری کیے گئے انتظامی احکامات کے لیے خواہ وہ اکیلے وزیر کی جانب سے ہوں یا کابینہ کے فیصلہ کا نتیجہ ہوں، کا بینہ اجتماعی پرطور ذمہ دار ہوگی تاہم اپنے قلمدان سے متعلق نمٹائے گئے کام کی بنیادی ذمہ داری وزیر قبول کرے گا۔
۸۔ احکامات و دستاویزات، سمجھوتے اور معاہدات:
(۱) آئین کے آرٹیکل ۱۷۳ کے تحت وفاقی حکومت کے تمام انتظامی اقدامات صدر مملکت کے نام پر تصور کیے جائیں گے۔
نوٹ: صوبائی حکومتوں کے تعلق سے ’’وفاقی حکومت‘‘ اور غیر ملکی حکومتوں کے تعلق سے ’’حکومت پاکستان‘‘ کے الفاظ موزوں ہوں گے۔
(۲) قواعد کار ۱۹۷۳ء کے شیڈول چہارم میں درج شدہ افسران صدر مملکت کے نام پر جاری کیے گئے احکام اور تکمیل کی گئی
دستاویزات کی توثیق اپنے دستخط سے کر سکتے ہیں۔ تاہم بعض معاملات میں کسی افسر کو کسی مخصوص موقع کے لیے وزیر اعظم کے حکم سے
مجاز قرار دیا جا سکتا ہے۔
(۳)بیرونی ملکوں میں یا بین الاقوامی کانفرنسوں میں اور بین الاقوامی سمجھوتوں اور عہدناموں (ٹریٹیز) میں پاکستان کی نمائندگی کے
سلسلے میں احکامات اور دستاویزات کی توثیق کے طریق کار سے متعلق ہدایات امور خارجہ ڈویژن کی طرف سے جاری کی جائیں گی۔
(۴)صدر مملکت کی طرف سے کیے جانے والے معاہدے (کنٹریکٹ) اور ایسے معاہدوں کی تکمیل اور جائیداد سے متعلق تمام بیموں
پر ہدایات قانون، انصاف اور پارلیمانی امور ڈویژن کی طرف سے جاری ہوں گی۔

باب نمبر ۹ ڈویژنوں میں باہمی مشاورت

۱۔ عمومی ہدایات:
جب کسی معاملے کا موضوع ایک سے زائد ڈویژنوں سے متعلق ہو تو ڈویژن انچارج دوسرے متعلقہ ڈویژن سے مشاورت کا ذمہ دار ہوگا۔ کوئی حکم جاری کرنے سے پہلے یا کوئی معاملہ کابینہ یا وزیر اعظم کو پیش کرنے سے پہلے تمام متعلقہ ڈویژن اس معاملے پر غور کریں گے اور اپنی رائے پیش کریں گے۔ ایسی مشاورت جتنی جلدی قابل عمل ہو منعقد کی جائے گی۔ شدید ضروری معاملات میں، وزیر اعظم کی منظوری سے، اس ضرورت سے صرف نظر کیا جا سکتا ہے مگر اس کے بعد بعجلت ممکنہ یہ معاملہ دوسرے متعلقہ ڈویژنوں کے علم میں لایا جائے گا۔
۲۔ سیکریٹریوں کی کمیٹی:
کسی ڈویژن، وزیر یا وزیر اعظم کی طرف سے ارسال کردہ معاملات پر غور کرنے کے لیے سیکریٹریوں کی ایک کمیٹی ہوگی تاکہ زیر غور موضوع پر سینئر افسروں کے تجربے اور اجتماعی فراست سے استفادہ کیا جا سکے۔ سیکریٹریوں کی کمیٹی میں غور کردہ معاملہ میں اگر کسی ڈویژن کا سیکریٹری کسی تجویز سے اتفاق کرتا ہے تو اس تجویز پر اس کے ڈویژن سے دوبارہ مشورہ کرنا ضروری نہیں ہو گا۔
۳۔ مخصوص ڈویژنوں سے مشاورت کے لیے ہدایات:
مندرجہ ذیل ڈویژنوں سے مشاورت کے لیے قواعد کار ، ۱۹۷۳ء میں تفصیلی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
(۱) کابینہ ڈویژن
(۲) عملہ ڈویژن
(۳) مالیات ڈویژن
(۴) قانون و انصاف ڈویژن
(۵) امورخارجہ ڈویژن
(۶) محاصل ڈویژن
۴۔ کابینہ ڈویژن سے مشاورت:
(۱) کسی وفاقی وزارت / ڈویژن کی طرف سے کابینہ ڈویژن سے پیشگی مشاورت کیے بغیر ایسے احکام جاری نہیں ہوں گے یا
جاری کرنے کے اختیار نہیں دیے جا ئیں گے جن میں درج ذیل معاملات شامل ہوں:
(الف) قواعد کار، ۱۹۷۳ء کی تعبیر؛
(ب) وزارت کے مختلف ڈویژنوں کے درمیان تعین کار میں تبدیلی؛
(ج) وزراء ، وزرائے مملکت ، خصوصی معاونین برائے وزیر اعظم اور دوسرے اعلیٰ عہدے دار جن کا عہدہ اور حیثیت
وزیر یا وزیر مملکت کے برابر ہو، کے ذاتی عملہ کی تعداد اور ان کی ملازمت کی شرائط و قیود؛ اور
(د) ادارہ سراغ رسانی (انٹیلی جنس بیورو) میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹر کی سطح کے افسر کا انتخاب
(۲)آئین کے آرٹیکل ۱۴۵ کی شق (۱) کے تحت صدر مملکت کی طرف سے کسی صوبائی گورنر کو دی جانے والی ہدایات کی تجاویز متعلقہ
ڈویژن کی طرف سے صدر مملکت کو پیش کی جائیں گی مگرصدارتی فرمان کی نقل کابینہ ڈویژن کو فراہم کی جائے گی۔
(۳) متعلقہ ڈویژن غیر ملکوں کو وفود بھیجنے کی ایسی تجاویز کی منظوری کابینہ ڈویژن سے حاصل کریں گے جو اس ڈویژن کی طرف
سے بین الاقوامی کانفرنسوں کی زمرہ بندی کے بارے میں وضع کردہ طریق کار کے مطابق نہ ہوں۔
۵۔ عملہ ڈویژن سے مشاورت:
کوئی وزارت/ڈویژن عملہ ڈویژن سے پیشگی مشاورت کیے بغیر ایسے احکام جاری نہیں کرے گا یا جاری کرنے کا اختیار نہیں دے گا جو درج ذیل معاملات کے بارے میں عملہ ڈویژن کے دیے گئے عمومی یا خصوصی اختیارات کے تحت جاری کردہ احکامات کے علاوہ ہوں:
(۱) بنیادی پیمانہ تنخواہ ۲۰ اور اس سے بالا یا مساوی اسامی پر تقرر خواہ وہ ابتدائی تقرر کے ذریعے ہو یا ترقی یا تبادلے کے ذریعے؛
(۲) وفاقی سول ملازمین کی ملازمت کی شرائط و قیود میں تبدیلی؛
(۳) کسی وفاقی سرکاری ملازم کے آئینی حقوق اور مراعات میں تبدیلی؛
(۴) قواعد کار ۱۹۷۳ء کے قاعدہ ۱۲ کے تحت مالیات ڈویژن سے متعلق اخراجات کی تجاویز؛
(۵) عملہ ڈویژن کے وضع کردہ قواعد اور احکام کی تعبیر، اور
(۶) کسی اسامی یا ملازمت پر بھرتی کے قواعد بشمول بھرتی کے مقاصد کے لیے وفاقی پبلک سروس کمیشن کے دائرہ اختیار میں سے کوئی
اسامی یا ملازمت نکالنے کا مسئلہ
۶۔ مالیات ڈویژن سے مشاورت:
کوئی ڈویژن مالیات ڈویژن کی پیشگی اجازت کے بغیر ایسے احکام ، ماسوائے ایسے احکامات کے جو عمومی یا خصوصی طور پر تفویض شدہ اختیارات کے تحت جا ری کیے جائیں، جاری کرنے کا اختیار نہیں دے گا جو بلا واسطہ یا بالواسطہ وفاق کی مالیات پر اثر انداز ہوں یا جو خاص طور پر درج ذیل سے متعلق ہوں۔
(۱) حقیقی یا امکانی محاصل سے دست برداری ، معافی یا تفویض یا اس پر ضمانت دہی؛
(۲) اخراجات جن کے لیے میزانیہ میں گنجائش نہ ہو یا جن کی منظوری نہ ہو؛
(۳) قرضوں کا اجراء؛
(۴) رقوم میزانیہ کے اندر دوبارہ مد بندی؛
(۵) حسابات یا تخمینہ جات میزانیہ کے طریقۂ تدوین میں تبدیلی؛
(۶) غیر ملکی زر مبادلہ کی وصولی یا خرچ جب کہ وہ پہلے سے مختص نہ ہو؛
(۷) سرکاری ملازمین کے قانونی حقوق و مراعات ، جن کے مالیاتی مضمرات ہوں، کے ضمن میں ملازمت کی شرائط و قیود میں تبدیلی؛
(۸) مالیات ڈویژن کے وضع کردہ قواعد کی تعبیر؛
کوئی تجویز جس کے لیے مالیات ڈویژن کی پیشگی موافقت درکار ہو، پر کارروائی نہیں ہوگی جب تک کہ مالیات ڈویژن رضا مندی دینے سے انکار کرے۔ اگر متعلقہ ڈویژن کا وزیر ، وزیر خزانہ سے اتفاق نہیں کرتا اور اپنی تجویز پر زور دیتا ہے تو اپنی تجویز وزیر اعظم کو پیش کرے گا یا اگر وزیر اعظم چاہے تو وہ کابینہ کو پیش کرے گا۔ جب تجویز کے ساتھ تفصیلات فراہم نہ کی گئی ہوں تو اس وقت تک رسمی احکامات جاری نہیں ہوں گے جب تک کہ مالیات ڈویژن تجویز کی تفصیلات پر اپنی جانچ پڑتال کی رپورٹ نہ پیش کر دے۔
ماسوائے ایسی صورت کے جہاں مالیات ڈویژن کے وضع کردہ قواعد کے تحت ڈویژنوں کو اختیار تفویض کیے گئے ہوں ، انتظامی ڈویژن کا ہر حکم جس کے ذریعے آڈٹ میں عمل درآمد کے لیے منظوری دی گئی ہو، آڈٹ حکام کو وزارت خزانہ کے ذریعے ارسال کیا جائے گا۔
۷۔ محاصل ڈویژن سے مشاورت:
محاصل ڈویژن کی جانب سے تفویض کردہ عمومی یا خصوصی اختیارات کے ماسوائے ، محاصل ڈویژن سے پیشگی مشاورت کیے بغیر کوئی ڈویژن ایسے احکام جاری نہیں کرے گا یا جاری کرنے کی اجازت نہیں دے گا جو بلاواسطہ یا بالواسطہ وفاقی ٹیکسوں، ٹیکس عائد کرنے، محصولات ، سیس (مقامی محصول) یا فیسوں سے محاصل (ریونیو) اکٹھا کرنے پر اثر انداز ہوں۔
۸۔ امور خارجہ ڈویژن سے مشاورت:
امور خارجہ ڈویژن کے تفویض کردہ عمومی یا خصوصی احکامات کی تعمیل میں ، پاکستان کی خارجہ پالیسی یا اس کے خارجہ تعلقات کی انجام دہی پر اثر انداز ہونے والے تمام معاملات پر امور خارجہ ڈویژن سے مشاورت کی جائے گی۔
۹۔ قانون ، انصاف، انسانی حقوق اور پارلیمانی امور ڈویژن سے مشاورت:
(۱) درج ذیل معاملات میں قانون و انصاف ، انسانی حقوق اور پارلیمانی امور ڈویژن سے مشاورت کی جائے گی۔
۱۔ کسی معاملہ پر اٹھنے والے تمام قانونی سوالات پر؛
۲۔ کسی قانون کی تعبیر پر؛
۳۔ آئینی اختیار کو بروئے کار لاتے ہوئے، کوئی حکم، قاعدہ ، ضابطہ، ضمنی قانون، اعلان وغیرہ جاری کرنے یا
جاری کرنے کی اجازت دینے سے قبل؛
۴۔ کسی قانونی عدالت میں کوئی فوجداری یا دیوانی کارروائی ، جس سے حکومت متعلق ہو، شروع کرنے سے قبل؛
۵۔ جب حکومت کے خلاف فوجداری یا دیوانی کارروائی عمل میں لائی جائے تو اولین ممکنہ مرحلہ پر؛ اور
۶۔ کسی ڈویژن یا اس کے انتظامی کنٹرول کے تحت کسی دفتر یا کارپوریشن میں قانونی مشیر کے تقرر سے قبل اور
قانون انصاف، انسانی حقوق اور پارلیمانی امور ڈویژن اٹارنی جنرل سے مشاورت کے بعد اپنی
سفارشات پیش کرے گا۔
(۲) کوئی ڈویژن قانون، انصاف، انسانی حقوق اور پارلیمانی امور ڈویژن کے توسط کے بغیر اور اس ڈویژن کے وضع کردہ
طریق کار کو اپنائے بغیر اٹارنی جنرل سے مشورہ نہیں کرے گا۔
(۳) اگر اٹارنی جنرل اور قانون و انصاف ڈویژن میں اختلاف رائے پیدا ہو جائے تو معاملہ وزیر قانون و انصاف کی رائے
حاصل کرنے کے لیے پیش کیا جائے گا۔ اگر وزیر کو اٹارنی جنرل سے اختلاف ہو تو معاملہ احکامات کے لیے وزیر اعظم کو
پیش کیا جائے گا جو اگر چاہے تو معاملہ کابینہ کو ارسال کر سکتا ہے۔
(۴) قواعد کار ۱۹۷۳ء کے قواعد ۲۷ تا ۳۰ کے مطابق، کسی مجوزہ قانون سازی کے لیے قانون و انصاف ڈویژن سے مشورہ کیا
جائے گا۔
(۵) صدر مملکت کی توثیق یا ہدایات کے لیے صوبائی حکومتوں یا گورنروں سے وصول شدہ مسودات قانون یا ہنگامی قوانین کا
متعلقہ ڈویژن میں جائزہ لیا جائے گا اور انھیں قانون و انصاف ڈویژن کے توسط سے صدر مملکت کو پیش کیا جائے گا۔

باب نمبر ۱۰ وزیر اعظم کی منظوری کے لیے معاملات

۱۔ درج ذیل معاملات میں وزیر اعظم کی منظوری کے بغیر کوئی حکم جاری نہیں کیا جائے گا۔
(۱) اہم پالیسی معاملات:
اہم پالیسی سے متعلق معاملات یا اہم پالیسی سے انحراف، بشمول کابینہ یا وزیر اعظم کے سابقہ فیصلہ سے انحراف ؛
(۲) آئین کے آرٹیکل ۱۴۵ کا اطلاق:
آئین کے آرٹیکل ۱۴۵ کے تحت گورنر اور آرٹیکل ۱۴۹ کے تحت صوبائی حکومت کو ہدایات سے متعلق معاملات؛
(۳) صوبائی دائرہ کار سے متعلق بین الاقوامی معاہدہ:
ایسے معاملات جن میں تجویز کیا گیا ہو کہ وفاقی حکومت صوبائی دائرہ کار سے متعلق موضوع پر کسی بین الاقوامی معاہدے کے نفاذ کی ذمہ داری لے؛
(۴) اعزازات و تمغہ جات:
بہادری اور تعلیمی امتیاز کے اعتراف میں ، اعزازت، تمغہ جات کے معاملات؛
(۵)عرضداشت بنا م وزیر اعظم:
وزیر اعظم کے نام ایسی عرضداشتوں سے متعلق معاملات جنھیں ہدایات کے تحت وزیر اعظم کو ارسال کرنے کے لیے نہ تو روکا گیا ہو اور نہ ہی منظور کیا گیا ہو۔
(۶) صدر مملکت سے رحم کی عرضداشت:
عدالتوں کی طرف سے دی گئی سزائے موت کے خلاف رحم کی عرضداشتوں سے متعلق معاملات جن میں صدر مملکت کے خصوصی اختیار معافی کو بروئے کار لانا ہو؛
متفرق معاملات
(۷) قواعد کار ۱۹۷۳ء کے شیڈول پنجم الف میں صراحت کردہ معاملات؛
(۸) قواعد کار ۱۹۷۳ء کے شیڈول پنجم الف میں دیے گئے معاملات جو کسی اسامی کے حامل کے خلاف مقدمے کی منظوری سے متعلق ہوں۔
۲۔ معاملات پیش کرنے کا طریق کار:
وزیر اعظم کو معاملات پیش کرنے کا طریق کار مندرجہ ذیل ہے۔
(الف) خلاصہ برائے وزیر اعظم: وزیر اعظم کو احکامات کے لیے پیش کردہ معاملہ مکمل، جامع اور معروضی خلاصہ پر مشتمل ہوگا جس
میں متعلقہ حقائق اور فیصلے کے لیے نکات بیان کیے گئے ہوں اور جنھیں ان ہی خطوط پر تیار کیا گیا ہو جو خلاصہ برائے کابینہ کے لیے
قواعد کار میں مقرر کیے گئے ہیں سوائے اس کے کہ اس کی صرف ایک نقل درکار ہوگی جس کو طبع نہیں کیا جائے گا۔ خلاصہ میں انچارج
وزیر کی خصوصی سفارشات شامل ہوں گی اور جہاں مناسب ہو مراسلہ کا مسودہ ساتھ ارسال کیا جائے گا۔
(ب) زبانی گفتگو میں وزیر اعظم کے احکام: اگر کسی معاملے میں وزیر، وزیر مملکت ، خصوصی معاون برائے وزیر اعظم، ڈپٹی چیئرمین
منصوبہ بندی کمیشن یا حکومت کے کسی اور افسر سے زبانی گفتگو میں وزیر اعظم کے احکام حاصل کیے گئے ہوں تو وزیر اعظم سے گفتگو اور
احکامات کے متعلق مختصر ریکارڈ پر مشتمل ایک تحریری نوٹ وزیر اعظم کی اطلاع کے لیے وزیر اعظم سیکریٹریٹ (پبلک) کو پیش کیا
جائے گا۔

باب نمبر ۱۱ کابینہ کے سامنے پیش کیے جانے والے معاملات
۱۔ معاملات کی تفصیل:
مندرجہ ذیل معاملات کابینہ کے سامنے پیش کیے جائیں گے ؛
(۱) قانون سازی کے لیے سرکاری یا غیر سرکاری تجاویز بشمول مطالبات زر کے مسودات قانون؛
(۲) ہنگامی قوانین کا اعلان اور تنسیخ؛
(۳) آئین کے آرٹیکلز۸۰ اور ۸۴ کے تحت سالانہ کیفیت نامہ میزانیہ (بجٹ) اور کیفیت نامہ ضمنی میزانیہ یا کیفیت نامہ زائد
میزانیہ پیش کرنے سے قبل میزانیہ کی صورت حال اور تجاویز؛
(۴) کسی ٹیکس کے نفاذ، خاتمہ، معافی، تبدیلی یا انضباط اور قرضوں کے اجراء کے لیے تجاویز؛
(۵) آرٹیکل ۱۸۶ کی شق (۱) کے تحت کسی قانونی سوال پر مشورہ کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع؛
(۶) بجلی کی پیداوار اور بین الصوبائی تاریں لگانا؛
(۷) بیرونی ممالک کے ساتھ مذاکرات سے متعلق تجاویز؛ مثلاً سفارتی اور تجارتی نمائندوں کا تبادلہ، معاہدات اور سمجھوتے،
خیر سگالی وفود کے دورے، بین الاقوامی کانفرنسوں اور اجلاسوں میں نمائندگی؛
نوٹ: کسی بیرونی ملک سے ثقافتی یا دیگر سمجھوتے کرنے کے لیے سب سے پہلے تمام تجاویز کابینہ میں اصولی منظوری کے لیے پیش کی جائیں گی اور حقیقی مذاکرات اسی وقت شروع کیے جائیں گے جب تجویز کابینہ سے منظور ہو جائے۔
(۸) اہم رپورٹیں اور دستاویزات جنھیں اسمبلی یا سینیٹ میں پیش کرنا ہو۔
(۹) ایسے معاملات جو اہم سیاسی ، اقتصادی اور انتظامی پالیسیوں سے متعلق ہوں؛
نوٹ: اس نوعیت کے معاملات انچارج وزیر کی طرف سے سب سے پہلے وزیر اعظم کے علم میں لائے جائیں گے۔ وزیر اعظم فیصلہ کرے گا کہ آیا ایسا کوئی معاملہ کابینہ میں پیش کیا جائے۔
(۱۰) ایسا معاملہ جس کے متعلق انچارج وزیر کا یہ خیال ہو کہ یہ اتنا اہم ہے کہ اس پر کابینہ میں غور کیا جائے۔
(۱۱) دوسرے معاملات جو قواعد کار ، ۱۹۷۳ء کے تحت کابینہ میں پیش کیے جانے مطلوب ہوں؛
(۱۲) ۱۔کوئی معاملہ جس کے متعلق وزیر اعظم کی خواہش ہو کہ وہ کابینہ میں پیش کیا جائے۔
۲۔ وزیراعظم کا اختیار:
وزیر اعظم کو اختیار ہے کہ کسی معاملہ کو کابینہ میں پیش کیے بغیر نمٹانے سے متعلق طریق کار کی ہدایات دے سکتا ہے۔
۳۔ کابینہ کے معاملات نمٹانے کا طریقہ:
(۱)کابینہ کو سپرد کیے گئے معاملات مندرجہ ذیل طریقے سے نمٹائے جائیں گے:
(الف) کابینہ کے اجلاس میں بحث کے ذریعے؛ یا
(ب) وزراء کے مابین گردش کے ذریعے؛ یا
(ج) کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں بحث کے ذریعے؛
تاہم کمیٹی کے فیصلوں کی کابینہ سے توثیق ہوگی بجز اس کے کہ کابینہ نے بصورت دیگر اختیار دیا ہو۔
سیکریٹری برائے کابینہ وزیر اعظم کے عمومی یا خصوصی احکامات کے تحت معاملہ نمٹانے کے طریقہ کی نشاندہی کرے گا۔
۴۔ کابینہ کمیٹیاں: یکساں قسم کے معاملات یا کوئی خصوصی معاملہ نمٹانے کے لیے کابینہ کی کمیٹیاں تشکیل دی جا سکتی ہیں اور ان کے امور حوالہ اور شرائط رکنیت کا بینہ یا وزیر اعظم طے کریں گے۔ ایسی کمیٹیاں قائمہ یا خصوصی کمیٹیاں ہو سکتی ہیں
۵۔ کابینہ میں معاملات پیش کرنے کا طریق کار:
(۱) کابینہ کو پیش کیے جانے والے تمام معاملات کے ضمن میں متعلقہ ڈویژن کا سیکریٹری معاملے کا ایک جامع ، واضح اور طبع شدہ
خلاصہ جس میں پس منظر اور متعلقہ حقائق، نکات برائے فیصلہ اور انچارج وزیر کی سفارشات دی گئی ہوں، کابینہ سیکریٹری کو ارسال
کرے گا۔ اگر ڈویژن کی رائے وزیر کی رائے سے مختلف ہو تو دونوں آراء خلاصہ میں شامل کی جائیں گی۔
(۲) تجویز کردہ قانون سازی کے معاملہ میں، جس میں اصولی طور کابینہ کی منظوری مطلوب ہو تو خلاصہ میں، ایسے اہم امور واضح طور
پر بیان کیے جائیں گے جن پر قانون سازی کرنی ہو۔
(۳) خلاصہ حتی الامکان مکمل اور دو طبع شدہ صفحات سے زائد نہ ہو اور اس کے ساتھ صرف ایسے متعلقہ کاغذات بطور ضمیمہ شامل ہوں جو
معاملے کے صحیح ادراک کے لیے ضروری ہوں۔ کابینہ سیکریٹری خلاصہ کی نقول کی تعداد اور صورت کا تعین کرے گا۔
(۴) اگر معاملہ ایک سے زائد ڈویژنوں سے متعلق ہو تو جب تک تمام متعلقہ ڈویژن اس پر غور نہ کر لیں، خلاصہ کابینہ ڈویژن کو پیش
نہیں کیا جائے گا۔ ان میں اختلاف رائے کی صورت میں اختلافی نکات خلاصہ میں واضح طور پر بیان کیے جائیں گے جس کی ایک
نقل کابینہ ڈویژن کو خلاصہ کی ترسیل کے ساتھ پیش کنندہ ڈویژن کی طرف سے دوسرے متعلقہ ڈویژن کو ارسال کی جائے گی۔
(۵)تمام مسودات قانون، ہنگامی قوانین یا احکام وزارت قانون، انصاف اور پارلیمانی امور ڈویژن سے جانچ پڑتال کے بعد کابینہ
کو پیش کیے جائیں گے اور اس ڈویژن سے مشاورت کے بغیر ان میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔
(۶) کوئی معاملہ کابینہ کے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کرنے کے لیے قبول نہیں کیا جائے گا جب تک کہ وہ اجلاس سے کم از کم
سات مکمل دن قبل سیکریٹری کابینہ کو موصول نہ ہو؛ تاہم اگر معاملہ فوری نوعیت کا ہو اور اسے مختصر مدتی اطلاع پر اٹھانا ہو تو سیکریٹری
کابینہ کو ارسال کرنے سے قبل متعلقہ سیکریٹری اس معاملہ کی ایجنڈا میں شمولیت کے لیے وزیر اعظم کی منظوری حاصل کرے گا۔
(۷) اس امر کی تسلّی کرنا سیکریٹری کابینہ کا فرض ہوگا کہ وہ متعلقہ سیکریٹری کی طرف سے پیش کردہ کاغذات مکمل اور مناسب
صورت میں ہیں۔ وہ قواعد کے تقاضے پورا کرنے کے لیے معاملہ واپس بھیج دے گا۔ اگر سیکریٹری کابینہ مطمئن ہو کہ معاملہ کابینہ میں
پیش کیے جانے کے قابل نہیں تو وہ مشورہ دے گا کہ معاملہ مناسب فورم یا وزیر اعظم کو پیش کیا جانا چاہیے۔

باب نمبر ۱۲ صدر مملکت کی منظوری کے لیے معاملات

۱۔ وزیر اعظم کے مشورہ پر صدر مملکت کے احکامات:
بلا لحاظ اس امر کے کہ قواعد کار ۱۹۷۳ء میں کچھ دفعات رکھی گئی ہوں، جہاں آئین کے کسی آرٹیکل کے تحت صدر مملکت نے کوئی کار منصبی انجا م دینا ہو یا احکامات جاری کرنا ہوں یا صدر مملکت کی خصوصی منظوری درکار ہو تو متعلقہ ڈویژن اس امر کے بارے میں خلاصہ بعنوان ’’خلاصہ برائے وزیر اعظم‘‘ میں ایک پیراگراف شامل کرے گا۔ وزیر اعظم اپنا مشورہ دے گا اور معاملہ صدر مملکت کو پیش کرے گا۔ جب صدر مملکت معاملہ دیکھ لیں اور منظوری دے دیں تو اسے وزیر اعظم کو واپس بھیج دیاجائے گا۔ ایسے معاملات جن پر اس ذیلی قاعدہ کا اطلاق ہوتا ہے اس کی صراحت قواعد کار ۱۹۷۳ء کے شیڈول پنجم ب میں دی گئی ہے۔
۲۔ صدر مملکت کے صوابدیدی احکامات:
بلالحاظ اس امر کے کہ قواعد کار ۱۹۷۳ء میں کچھ دفعات رکھی گئی ہوں جہاں آئین کے کسی آرٹیکل کے تحت صدر مملکت نے کوئی کار منصبی انجام دینا ہو یا اپنی صوابدید پر کوئی احکامات جاری کرنا ہوں، تو متعلقہ ڈویژن وزیر اعظم کے توسط سے صدر مملکت کو ایک مکمل، جامع اور معروضی خلاصہ بعنوان ’’خلاصہ برائے صدر مملکت‘‘ کی صورت میں معاملہ پیش کرے گا جس میں متعلقہ حقائق اور فیصلہ کے لیے نکات بیان کیے گئے ہوں اور جو ان ہی خطوط پر تیار کیا گیا ہو جو ’’خلاصہ برائے کابینہ‘‘ کے لیے قواعد کار ۱۹۷۳ء میں وضع کئے گئے ہیں ماسوائے اس کے کہ صرف ایک نقل درکار ہوگی جسے طبع نہ کیاجائے ۔ تاہم ایسی صورت میں اس طریق کار کا اطلاق نہیں ہوگا جہاں صدر مملکت نے اپنی صوابدید کے معاملات میں احکام جاری کرنے کے لیے وزیر اعظم کو فیصلہ ارسال کیا ہو۔ ایسے معاملات جن پر اس ذیلی قاعدے کا اطلاق ہوتا ہے، قواعد کار ۱۹۷۳ء کے شیڈول ششم میں صراحت کی گئی ہے۔
۳۔ معاملات برائے اطلاع:
قواعد کار ۱۹۷۳ء کے شیڈول ہفتم میں درج شدہ معاملات اور کاغذات صدر مملکت کو برائے اطلاع پیش کیے جائیں گے۔

باب نمبر ۱۳ متفرق ادارے

قومی معاشی کونسل:
آئین کے آرٹیکل ۱۵۶ کے تحت صدر مملکت ایک قومی معاشی کونسل تشکیل دیں گے۔ کونسل کے ارکان مندرجہ ذیل ہوں گے۔
(۱) وزیر اعظم جو کونسل کا چیئرمین ہوگا۔
(۲) وزراء اعلیٰ اور ہر صوبے سے ایک رکن جس کی نامزدگی وزیر اعلیٰ کرے گا۔
(۳) دوسرے چار ارکان جن کی نامزدگی وقتاً فوقتاً وزیر اعظم کرے گا۔
کونسل کے کارہائے منصبی:
قومی معاشی کونسل ملک کی مجموعی معاشی حالت کا جائزہ لے گی اور وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کومشورہ دینے کے لیے مالیاتی، تجارتی، معاشرتی اور معاشی پالیسیوں کے بارے میں منصوبے تشکیل دے گی اور ایسے منصوبے تشکیل دیتے وقت دوسرے عناصر سمیت متوازن ترقی اور علاقائی مساوات کو یقینی بنائے گی اور پالیسی کے ان اصولوں سے رہنمائی حاصل کرے گی جو آئین کے حصہ دوم کے باب ۲ میں درج ہیں۔
کونسل کا اجلاس:
کونسل کا اجلاس چیئرمین بلائے گا یا کونسل کے نصف ارکان کی درخواست پر کونسل کا اجلاس بلایا جائے گا۔ کونسل کا اجلاس سال میں کم از کم دو مرتبہ ہوگا اور کونسل کے اجلاس کا کورم اس کی کل رکنیت کا نصف ہوگا۔
سالانہ رپورٹ:
کونسل مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے سامنے جواب دہ ہوگی اور مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے ہر ایوان کو سالانہ رپورٹ پیش کرے گی۔
۲۔ قومی مالیاتی کمیشن:
وفاق اور صوبوں کے درمیان محاصل کی تقسیم کے لیے آئین کی دفعہ ۱۶۰ کے تحت قومی مالیاتی کمیشن تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ کمیشن وفاقی حکومت کے وزیر مالیات، صوبائی حکومتوں کے وزرائے مالیات اور ایسے دیگر اشخاص پر مشتمل ہے جنھیں صدر صوبوں کے گورنروں سے مشورے کے بعد مقرر کرے۔
کمیشن کی سفارشات:
قومی مالیاتی کمیشن کافرض ہے کہ وہ صدر کو حسب ذیل کے بارے میں سفارشات پیش کرے؛
مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے اختیار کے تحت مندرجہ ذیل وصول شدہ محصولات کی خالص آمدنی (وہ آمدنی جو وصولی کے اخراجات وضع کرنے کے بعد باقی بچے اور اس کی تحقیق و تصدیق آڈیٹر جنرل کی طرف سے کی جائے) کی وفاق اور صوبوں کے درمیان تقسیم:
(۱) آمدنی پر محصولات جس میں محصول کارپوریشن شامل ہے لیکن وفاقی مجموعی فنڈ میں سے ادا شدہ معاوضے پر مشتمل آمدنی پر
محصولات شامل نہیں ہیں۔
(۲) درآمد شدہ، برآمد شدہ، پیدا کردہ، مصنوعہ یا صرف شدہ مال کی فروخت اور خرید پر محصول
(۳) کپاس پر برآمدی محصولات اور ایسے دوسرے برآمدی محصولات جن کی صراحت صدر کرے
(۴) آبکاری کے ایسے محصولات جن کی صدر صراحت کرے
آئین کے آرٹیکل ۱۶۰ میں اٹھارھویں ترمیم کے ذریعے مندرجہ ذیل اضافہ کیا گیا ہے
(۵) ایسے دوسرے محصولات جن کی صدر صراحت کرے
سفارشات پر عمل درآمد:
قومی مالیاتی کمیشن کی سفارشات موصول ہونے کے بعد، جتنی جلدہوسکے، صدر، فرمان کے ذریعے، کمیشن کی سفارشات کے مطابق، مذکورہ محاصل کی اصل آمدنی کی اس حصے کی صراحت کرے گا جو ہر صوبے کے لیے مختص کیا جائے گا اور وہ حصہ متعلقہ صوبے کی حکومت کو ادا کر دیا جائے گا اور وفاقی مجموعی فنڈ کا حصہ نہیں بنے گا۔
ایوارڈ پر عمل درآمد:
وفاقی وزیر خزانہ اور صوبائی وزرائے خزانہ ہر سال دو مرتبہ ایوارڈ پر عمل درآمد کا جائزہ لیں گے اور اپنی رپورٹیں مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے دونوں ایوانوں (سینیٹ و قومی اسمبلی) اور صوبائی اسمبلیوں کے سامنے پیش کریں گے
(ب) وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی حکومتوں کو امدادی رقوم دینا
(ج)وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے قرضہ لینے کے اختیارات کا استعمال جو آئین نے عطا کیے ہیں
(د) مالیات سے متعلق کوئی اور معاملہ جسے صدر نے کمیشن کو ارسال کیا ہو
قومی مالیاتی کمیشن کے ہر ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ پچھلے ایوارڈ میں صوبوں کو ادا کردہ حصے سے کم نہیں ہوگا۔
۳۔ بین الصوبائی کانفرنس:
بین الصوبائی کانفرنس کا اجلاس بین الصوبائی رابطہ ڈویژن منعقد کرے گا جس کی صدارت وزیراعظم کرے گا۔
کارہائے منصبی:
کانفرنس میں مندرجہ ذیل اُمور پیش کیے جائیں گے۔
(۱) معاشی، معاشرتی اور انتظامی دائرہ کار میں صرف بڑی اہمیت کے معاملات جن پر پالیسی فیصلوں اور وفاقی اور صوبائی
حکومتوں کے درمیان باہمی گفتگو کی ضرورت ہو، بین الصوبائی کانفرنس میں پیش کیے جائیں گے۔
(۲)اس کانفرنس کا ایک بڑا مقصد قومی مفاد کے تمام معاملات میں وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کے درمیان پالیسی کی تشکیل اور
اس کے نفاذ میں یکساں انداز نظر کو فروغ دینا ہے
(۳) یہ کانفرنس صوبائی حکومتوں کے تجویز کردہ ایسے پالیسی مسائل پر بھی گفتگو کرتی ہے جو ملک کے لیے بحیثیت مجموعی معاشی ،
معاشرتی یا انتظامی مضمرات کے حامل ہیں
۴۔ مشترکہ مفادات کونسل
کونسل کی تشکیل : آئین کے آرٹیکل ۱۵۳ کے تحت ایک مشترکہ مفادات کونسل کا اہتمام کیا گیا ہے۔ کونسل کی تشکیل صدر مملکت کریں گے اور یہ کونسل مندرجہ ذیل پر مشتمل ہوگی۔
(۱) وزیر اعظم جو کونسل کا چیئرمین ہوگا؛
(۲) صوبوں کے وزراء اعلیٰ؛
(۳) وفاقی حکومت کے تین ارکان جنھیں وقتاً فوقتاً وزیراعظم نامزد کرے گا
کونسل مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے سامنے جواب دہ ہوگی اور دونوں ایوانوں کے سامنے ایک سالانہ رپورٹ پیش کرے گی۔
کارہائے منصبی اور طریق کار:
کونسل کے کارہائے منصبی اور طریق کار مندرجہ ذیل ہیں؛
(۱) کونسل وفاقی قانون سازی فہرست کے حصہ دوم میں درج شدہ معاملات کی پالیسیوں کی تشکیل اور ضابطہ بندی کرے گی اور
متعلقہ اداروں کی نگرانی اور ان پر کنٹرول کرے گی
(۲) وزیر اعظم کے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے تیس یوم کے اندر کونسل کی تشکیل کی جائے گی
(۳)کونسل کا مستقل سیکریٹریٹ ہوگا اور نوّے دن میں کم از کم ایک دفعہ اپنا اجلاس منعقد کرے گا مگر شرط یہ ہے کہ کسی ہنگامی معاملہ پر
کسی صوبہ کی درخواست پر وزیر اعظم اجلاس منعقد کر سکے گا
(۴) کونسل کے فیصلوں کا اظہار اکثریت کی رائے کے اعتبار سے کیاجائے گا
(۵) مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) اپنے مشترکہ اجلاس میں ، قرارداد کے ذریعے ، وفاقی حکومت کے توسط سے ، کونسل کو عمومی طور پر یا کسی
خاص معاملے میں ، ایسی کارروائی کرنے کے لیے جو مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) مبنی بر انصاف اور مناسب خیال کرے، وقتاً فوقتاً
ہدایات جاری کر سکے گی اور کونسل ایسی ہدایات کی پابند ہوگی۔
(۶)اگر وفاقی حکومت یا کوئی صوبائی حکومت کونسل کے کسی فیصلے سے غیر مطمئن ہو تو وہ اس معاملے میں مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے
مشترکہ اجلاس سے رجوع کرے سکے گی جس کا فیصلہ اس بارے میں حتمی ہوگا۔
(۷) اگر و فاقی حکومت کسی صوبے میں بجلی پیدا کرنے کی غرض سے انتظامات کرے اور اس سلسلے میں وفاقی حکومت اور صوبائی
حکومت میں کوئی تنازعہ پیدا ہو جائے تو اس تنازعہ کے حل کے لیے کوئی بھی حکومت مشترکہ مفادات کونسل کے سامنے یہ معاملہ اٹھا
سکتی ہے۔
آب رسانی میں مداخلت کی شکایات:
اگر کسی صوبے ، وفاقی دارالحکومت یا وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں یا ان کے باشندوں میں سے کسی کے، کسی قدرتی سرچشمہ آب رسانی یا ذخیرۂ آب سے پانی کے حصول کے مفادات پر مندرجہ ذیل امور کی وجہ سے مضر اثر پڑاہو، یا پڑنے کا امکان ہو؛
(الف) کوئی عاملانہ کارروائی جو زیر عمل لائی گئی ہو ، یاقانون جو منظور کیا گیا ہو، یا جس کے زیر عمل لائے جانے یا منظور کیے جانے کی
تجویز ہو ، یا
(ب)مذکورہ سرچشمے سے پانی کے استعمال اور تقسیم یا کنٹرول کے سلسلے میں کسی ہیئت مجاز کی طرف سے اپنے اختیارات میں سے کسی کو
بروئے کار لانے میں کوتاہی ہو تو وفاقی حکومت یا صوبائی حکومت کونسل سے تحریری طورپر شکایت کر سکے گی۔
۵۔ اسلامی نظریاتی کونسل
آئین کے آرٹیکل ۲۲۷ میں بیان کیا گیا ہے کہ تمام موجودہ قوانین کو قرآن و سنت میں منضبط اسلامی احکام کے مطابق بنایا جائے گا اور ایسا کوئی قانون وضع نہیں کیا جائے گا جو مذکورہ احکام کے منافی ہو
نوٹ: (۱) کسی مسلم فرقے کے قانون شخصی پر اس شق کا اطلاق کرتے ہوئے عبارت ’’قرآن و سنت‘‘ سے مراد مذکورہ فرقے کی تو ضیح
کردہ قرآن وسنت ہوگا۔
(۲) کسی امر کا غیر مسلم شہریوں کے قوانین شخصی یا شہریوں کے بطور ان کی حیثیت پر اثر نہیں پڑے گا
کونسل کی تشکیل:
اسلامی نظریاتی کونسل کم از کم آٹھ اور زیادہ سے زیادہ بیس ایسے ارکان پر مشتمل ہوگی جو صدر ان اشخاص میں سے مقرر کرے گا جنھیں اسلام کے اصولوں اور فلسفے کا ، جس طرح کہ قرآن و سنت میں ان کا تعین کیا گیا ہے، علم ہو یا پاکستان کے معاشی ، سیاسی، قانونی اور انتظامی مسائل کا فہم و ادراک ہو۔
اسلامی کونسل کے ارکان مقرر کرتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھا جائے گا
(۱) جہاں تک قابل عمل ہو کونسل میں مختلف مکاتبِ فکر کونمائندگی حاصل ہو
(۲) کم از کم دو ارکان ایسے اشخاص ہوں جن میں سے ہر ایک عدالت عظمیٰ یا کسی عدالت عالیہ کا جج ہو یا رہا ہو
(۳) کم از کم تہائی ارکان ایسے ہوں جن میں سے ہر ایک کم سے کم پندرہ سال کی مدت سے اسلامی تحقیق یا تدریس کے کام سے
وابستہ چلا آ رہا ہو، اور
(۴) کم از کم ایک خاتون رکن ہو۔
صدر اسلامی نظریاتی کونسل کے ارکان میں سے ایک کو اس کا چیئر مین مقرر کرے گا۔ کونسل کا کوئی رکن تین سال کی مدت کے لیے اپنے عہدے پر فائز رہے گا۔
صدر یا کسی صوبے کا گورنر، اگر چاہے یا اگر کسی ایوان یا کسی صوبائی اسمبلی کی کل رکنیت کا ۴۰ فیصدحصہ اگر مطالبہ کرے تو کسی سوال پر کونسل سے مشورہ کیا جائے گا کہ آیا کوئی مجوزہ قانون اسلام کے احکام کے منافی ہے یانہیں۔
کارہائے منصبی:
اسلامی کونسل کے کارہائے منصبی مندرجہ ذیل ہوں گے
(۱) مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) اور صوبائی اسمبلیوں سے ایسے ذرائع اور وسائل کی سفارشات کرنا جن سے پاکستان کے مسلمانوں کے
اپنی زندگیاں انفرادی اور اجتماعی طور پر ہر لحاظ سے اسلام کے ان اصولوں اور تصورات کے مطابق ڈھالنے کی ترغیب اور حوصلہ افزائی
ہو جن کا قرآن و سنت میں تعین کیا گیا ہے۔
(۲) کسی ایوان، کسی صوبائی اسمبلی، صدر یا کسی گورنر کو کسی ایسے سوال کے بارے میں مشورہ دینا جس میں کونسل سے اس بابت رجوع
کیا گیا ہو کہ کوئی مجوزہ قانون اسلامی احکام کے منافی ہے یا نہیں۔
(۳) ایسی تدابیر کی جن سے نافذ العمل قوانین کو اسلامی احکام کے مطابق بنایا جائے گا۔ نیز ان مراحل کو جن سے گزر کر محولہ تدابیر کا
نفاذعمل میں لانا جانا چاہیے، سفارش کرنا ، اور
(۴) مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ)اور صوبائی اسمبلیوں کی رہنمائی کے لیے اسلام کے ایسے احکام کی ایک موزوں شکل میں تدوین کرنا
جنھیں قانونی طور پر نافذ کیا جا سکے گا۔

باب نمبر ۱۴ ملازمتیں

۱۔ملازمتوں میں امتیاز کے خلاف تحفظ: آئین کے آرٹیکل ۲۷ میں بیان کیا گیا ہے کہ کسی شہری کے ساتھ جو بہ اعتبار دیگر پاکستان کی ملازمت میں تقرر کا اہل ہو ، کسی ایسے تقرر کے سلسلے میں محض نسل، مذہب، ذات، جنس، سکونت یا مقام پیدائش کی بنا پر امتیاز روا نہیں رکھا جائے گا؛ تاہم آئین کے یوم نفاذ سے زیادہ سے زیادہ چالیس سال کی مدت تک کسی طبقے یا علاقے کے لوگوں کے لیے اسامیاں محفوظ کی جا سکیں گی تاکہ پاکستان کی ملازمت میں ان کو مناسب نمائندگی حاصل ہو جائے۔ مذکورہ ملازمت کے مفاد میں مخصوص اسامیاں یا ملازمتیں کسی ایک جنس کے افراد کے لیے محفوظ کی جا سکیں گی ۔ اگر مذکورہ اسامیوں یا ملازمتوں میں ایسے فرائض اور کارہائے منصبی کی انجام دہی ضروری ہو جو دوسری جنس کے افراد کی جانب سے مناسب طور پر انجام نہ دینے جا سکتے ہوں۔
مذکورہ بالا تحفظ میں کوئی امر کسی صوبائی حکومت یا کسی صوبے کی کسی مقامی یا دیگر ہیئت مجاز کی طرف سے مذکورہ حکومت یا ہیئت مجاز کے تحت کسی اسامی یا کسی قسم کی ملازمت کے سلسلے میں اس حکومت یا ہئت مجاز کے تحت تقرر سے قبل، اس صوبے میں زیادہ سے زیادہ تین سال تک، سکونت سے متعلق شرائط عائد کرنے میں مانع نہیں ہوگا۔
۲۔پاکستان کی ملازمت میں تقرر اور شرائط ملازمت: آئین کے آرٹیکل ۲۴۰ کے مطابق وفاق کی ملازمتوں، وفاق کے امور کے سلسلے میں اسامیوں اور کل پاکستان ملازمتوں کی صورت میں مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے ایکٹ کے تحت یا اس کے ذریعے ہوگا ۔ (کل پاکستان ملازمت سے مراد وفاق اور صوبوں کے درمیان وہ مشترکہ ملازمت ہے جو آئین کے یوم نفاذ سے فوری قبل موجود تھی یا وہ جو مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے ایکٹ کے ذریعے قا ئم کی گئی)۔
(۱) سول ملازمین ایکٹ ۱۹۷۳ء: پاکستان کی ملازمت میں اشخاص کے تقرر اور ان کی ملازمت کی قیود و شرائط منبظ
کرنے کے لیے اور ان سے متعلقہ ذیلی امور کے بارے میں احکام وضع کرنے کے لیے مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ)نے سول ملازمین
ایکٹ ۱۹۷۳ء منظور کیا۔صدر مملکت نے ۲۶ ستمبر ۱۹۷۳ء کو اس ایکٹ کی توثیق کی اور ۲۹ ستمبر ۱۹۷۳ء کو یہ ایکٹ جریدۂ پاکستان ، غیر
معمولی ، حصہ میں اول میں شائع ہوا۔ اس ایکٹ میں چار ابواب اور ۲۶ سیکشن ہیں۔ پہلے باب (ابتدائیہ) میں اس ایکٹ سے متعلق
ضروری اصطلاحات کی تعریفیں بیان کی گئیں ہیں۔ دوسرے باب میں سول ملازمین کی قیود وشرائط بیان کی گئیں ہیں۔ تیسرے باب
میں متفرق احکام ہیں جبکہ چوتھے باب کے سیکشن ۲۵ میں صدر مملکت یا ان کی طرف سے مجاز شخص کو یہ اجازت دی گئی ہے کہ وہ ایسے
قواعد کی تشکیل کر سکتا ہے جنھیں وہ اس ایکٹ کے مقاصد پورا کرنے کے لیے ضروری یا قرین مصلحت سمجھے۔
(۲) قواعد سول ملازمین (تقرر،ترقی، تبادلہ) ۱۹۷۳ء: سول ملازمین ایکٹ ۱۹۷۳ء کے سیکشن ۲۵ کی رُو سے حاصل اختیارات کو
بروئے کار لاتے ہوئے صدر مملکت نے سول ملازمین کے قواعد (تقرر، ترقی، تبادلہ) ۱۹۷۳ء وضع کیے۔ یہ قواعد پانچ حصوں اور
اکیس ابواب پر مشتمل ہیں۔ پہلے حصے میں قواعد میں استعمال کی ہوئی اصطلات کی تعریفات بیان کی گئی ہیں اور مختلف اسامیوں پر
تقرر کرنے کے مجاز حکام کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ دوسرے حصے میں تقرر بذریعہ ترقی یا تبادلہ، تیسرے حصے میں ابتدائی تقرر،
چوتھے حصے میں ایڈہاک تقرر اور پانچویں حصے میں تقرر یافتہ افراد کی آزمائشی مدت کے بارے میں احکامات بتائے گئے ہیں۔
(۳) وزارتی اسامیوں پر تقرر کے قواعد: عملہ ڈویژن نے ان قواعد کی رُو سے اختیارات بروئے کار لاتے ہوئے وفاقی حکومت کے
تحت وزارتوں /ڈویژنوں اور محکموں میں وزارتی اسامیوں پر تقرر کے لیے طریقہ، قابلیت اور دیگر شرائط وضع کی ہیں۔
۴۔ سول ملازمین کے لیے متفرق قوانین و قواعد:
سول ملازمین کے لیے مندرجہ ذیل قوانین و قواعد بھی بنائے گئے ہیں
۱۔ سرکاری ملازمین کے قواعد (طرز عمل) ۱۹۶۴ء
۲۔ سول ملازمین کے قواعد (استعداد و انضباط)۱۹۷۳ء
۳۔ سول ملازمین کے لیے تنخواہ ، الاؤنس اور دیگر فوائد
۴۔ سول ملازمین کے لیے قواعد پنشن وگریجویٹی
۵۔ قواعد رخصت (نظر ثانی شدہ)، ۱۹۸۰ء
۶۔ عمومی کفالتی فنڈ کے قواعد
۷۔ وفاقی ملازمین کا رفاہی فنڈ اور گروہی بیمہ ایکٹ ۱۹۶۹ء
۸۔ سول ملازمین کے قواعد (اپیل)، ۱۹۷۷ء
۹۔ پیشہ وارانہ گروپوں سے متعلق قواعد اور طریق ہائے کار
وفاقی پبلک سروس کمیشن: آئین کے آرٹیکل ۲۴۲ میں اس امر کا اہتمام کیا گیا ہے کہ مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) وفاق کے امور سے متعلق اور کسی صوبے کی صوبائی اسمبلی اس صوبے کے امور سے متعلق قانون کے ذریعے پبلک سروس کمیشن کے قیام اور تشکیل کے احکام وضع کر سکے گی۔
کارہائے منصبی:
وفاقی پبلک سروس کمیشن کے کارہائے منصبی مندرجہ ذیل ہوں گے
(الف) پاکستان کی مسلح افواج کے افسران کے علاوہ ایسے اشخاص کی بھرتی کے لیے ٹیسٹ اور امتحانات منعقد کرنا جن کا تقرر صدر
مملکت کی طرف سے اس مقصد کے لیے تشکیل دیے گئے اعلیٰ اختیاراتی انتخاب بورڈ کی سفارشات پر کل پاکستان ملازمتوں ، وفاق کی
سول ملازمتوں اور وفاق کے امور سے متعلق مقررہ اسامیوں پر کیا جاتا ہے۔
(ب) صدر مملکت کو مندرجہ بالا ملازمتوں اور اسامیوں کے معاملات کے بارے میں قابلیت اور بھرتی کے طریق کار اور کسی ایسے دیگر
معاملہ کے بارے میں جو صدر مملکت کی طرف سے کمیشن کے سپرد کیا گیا ہو، مشورہ دینا ۔ ان احکامات میں بھرتی سے مراد تقرر کے تین
طریقوں میں سے تقرقی یا تبادلے کے علاوہ ابتدائی تقرر ہے۔ جب صدر مملکت نے کمیشن کا مشورہ قبول نہ کیا ہو تو وہ اس بارے میں
کمیشن کو آگاہ کریں گے

سالانہ رپورٹ:
کمیشن کے لیے لازم ہو گا کہ اپنی کارکردگی کی سالانہ رپورٹ صدر مملکت کوپیش کرے اور صدر مملکت کے لیے یہ ضروری ہوگا کہ وہ مذکورہ رپورٹ کی ایک نقل قومی اسمبلی اور سینیٹ کو پیش کرنے کا اہتمام کرائیں۔
مسلح افواج
(۱) مسلح افواج کی کمان: آئین کے آرٹیکل ۲۴۳ وفاقی حکومت کے پاس مسلح افواج کا کنٹرول اور کمان ہوگی۔ قبل الذکر حکم کی عمومیت پر اثر انداز ہوئے بغیر، مسلح افواج کی اعلیٰ کمان صدر کے پاس ہوگی۔
صدر کو قانون کے تابع ، یہ اختیار ہوگا کہ وہ
(الف) پاکستان کی بری، بحری اور فضائی افواج اور ان افواج کے محفوظ دستے قائم کرے اور ان کی نگہداشت کرے؛
(ب) ان افواج میں کمیشن عطا کرے؛
صدر، وزیر اعظم کے مشورے پر، چیئرمین ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، چیف آف آرمی سٹاف، چیف آف نیول اسٹاف اور چیف آف ایر اسٹاف کا تقرر کرے گا اور ان کی تنخواہوں اور الاؤنسوں کا تعین کرے کا۔
(۲) مسلح افواج کا حلف: مسلح افواج کا ہر رکن آئین کے شیڈول سوم میں دی گئی عبارت میں حلف اٹھائے گا۔
(۳) مسلح افواج کے کارہائے منصبی: مسلح افواج وفاقی حکومت کی ہدایات کے تحت بیرونی جارحیت یا جنگ کے خطرے کے خلاف پاکستان کا دفاع کریں گی اور قانون کے تابع شری حکام کی امداد میں، جب ایسا کرنے کے لیے طلب کی جائیں، کام کریں گی؛ تاہم وفاقی حکومت طرف سے جاری شدہ کسی ہدایت کے جواز کو کسی عدالت میں زیر اعتراض نہیں لا یا جائے گا ۔

باب نمبر ۱۵ وفاقی حکومت کا مالیاتی طریق کار

۱۔ وفاقی مجموعی فنڈ:
وفاقی مجموعی فنڈ مندرجہ ذیل رقوم پر مشتمل ہوگا
(ا) وفاقی حکومت کے وصول شدہ تمام محاصل
(ب) وفاقی حکومت کے جاری کردہ جملہ قرضہ جات
(ج) کسی قرض کی واپسی کے سلسلے میں وصول ہونے والی تمام رقوم
۲۔ وفاق کاسرکاری حساب:
وفاق کا سرکاری حساب دیگر تمام رقوم پر مشتمل ہوگا جو :
(ا) وفاقی حکومت یا اس کی طرف سے وصول ہوں؛
(ب) عدالت عظمیٰ یا وفاق کے اختیار کے تحت قائم شدہ کسی دوسری عدالت کو وصول ہوں یا ان کے پاس جمع کرائی جائیں
۳۔ وفاقی مجموعی فنڈ اور سرکاری حساب کی تحویل وغیرہ:
وفاقی مجموعی فنڈ کی تحویل ، اس فنڈ میں رقوم کی ادائیگی ، اس سے رقوم کی باز خواست، وفاق کے سرکاری حساب میں ان کی ادائیگی اور اس میں سے باز خواست اور مذکورہ بالا امور سے متعلقہ یا ضمنی جملہ امور مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے ایکٹ کے ذریعے منضبط ہوں گے
۴۔سالانہ کیفیت نامہ میزانیہ:
وفاقی حکومت ہر مالی سال کی بابت ق وفاقی حکومت کی اس سال کی تخمینی آمدنی اور مصارف کا کیفیت نامہ قومی اسمبلی کے سامنے پیش کرے گی۔ سالانہ کیفیت نامہ میزانیہ میں مندرجہ ذیل رقوم علیحدہ علیحدہ ظاہر کی جائیں گی۔
(الف) ایسی رقوم جو ان مصارف کو پورا کرنے کے لیے درکار ہوں جنھیں آئین میں وفاقی مجموعی فنڈ پر واجب الادا بیان کیا گیا ہے؛ اور
(ب) ایسی رقوم جو ایسے دیگر مصارف کو پورا کرنے کے لیے درکار ہوں جن کی وفاقی مجموعی فنڈ سے ادائیگی کی تجویز کی گئی ہو۔ اور
محاصل کے حساب میں سے ہونے والے مصارف اور دیگر مصارف میں تفریق رکھی جائے گی۔
۵۔ وفاقی مجموعی فنڈ پر واجب الادا مصارف
مندرجہ ذیل مصارف وفاقی مجموعی فنڈ پر واجب الادا مصارف ہوں گے:۔
(ا) صدر کو واجب الادا مشاہرہ اور اس کے عہدے سے متعلق دیگر مصارف اور مشاہرہ جو مندرجہ ذیل کو واجب الاد ا ہوگا
(۱) عدالت عظمیٰ کے جج
(۲) چیف الیکشن کمشنر
(۳) سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین
۶۔ سالانہ کیفیت نامہ میزانیہ کی بابت طریق کار:
(۱) سالانہ کیفیت نامہ میزانیہ کے اس حصہ پر جو وفاقی مجموعی فنڈ سے واجب الادا مصارف سے تعلق رکھتا ہو، قومی اسمبلی میں بحث ہو
سکے گی لیکن اسے قومی اسمبلی کی رائے شماری کے لیے پیش نہیں کیا جا ئے گا۔
(۲) سالانہ کیفیت نامہ میزانیہ کا وہ حصہ جو دیگر مصارف سے تعلق رکھتا ہو مطالبات زر کی شکل میں قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا اور
اسمبلی کو کسی مطالبے کو منظور کرنے یا منظور کرنے سے انکار کرنے یا کسی مطالبے کو اس میں تصریح کردہ رقم کی تحفیف کے ساتھ منظور
کرنے کا اختیار ہوگا
(۳) وفاقی حکومت کی سفارش کے بغیر کوئی مطالبہ زر پیش نہیں کیا جائے گا۔
وزیر اعظم اپنے دستخط سے توثیق شدہ ایک جدول قومی اسمبلی میں پیش کرے گا۔ اس جدول میں حسب ذیل کی تصریح ہوگی۔
(الف) اس رقوم کی جو قومی اسمبلی نے منظور کی ہوں یا جن کا منظور کیا جاتا تصور کیا گیا ہو؛
(ب) ان مختلف رقوم کی جو وفاقی فنڈ سے واجب الادا مصارف پورا کرنے کے لیے مطلوب ہوں لیکن یہ رقم اس رقم سے
زیادہ نہیں ہوگی جو قومی اسمبلی میں اس سے قبل پیش کردہ کیفیت نامہ میں دکھائی گئی ہو۔ اس توثیق شدہ جدول کو قومی اسمبلی
میں پیش کیا جائے گا لیکن اس پر بحث یا رائے شماری نہیں ہوگی
(ج) وفاقی مجموعی فنڈ سے کوئی مصارف باضابطہ منظور شدہ تصور نہیں کیا جائے گا جب تک کہ توثیق شدہ جدول میں اس
کی صراحت نہ کر دی گئی ہو اور مذکورہ جدول کو قومی اسمبلی کے سامنے پیش نہ کر دیا گیا ہو۔
(۴) قومی اسمبلی کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر
(۵) محاسب اعلیٰ
(ب) عدالت عظمیٰ ، محاسب اعلیٰ کے محکمے، چیف الیکشن کمشنر، اور انتخابات کمیشن کے دفتر، سینیٹ اور قومی اسمبلی کے دفاتر کے انتظامی
مصارف بشمول افسران اور ملازمین کو واجب الادا مشاہرے؛
(ج) جملہ واجبات قرضہ جن کی ادائیگی وفاقی حکومت کے ذمے ہو، بشمول سود ، مصارف ، ذخیرہ ادائیگی، سرمائے کی باز ادائیگی یا بے
باقی اور قرضوں کے حصول کے اور وفاقی مجموعی فنڈ کی ضمانت پر قرض کے معاوضے اور انفکاک کے سلسلے میں کیے جانے والے
دیگر مصارف؛
(د) وہ رقوم جو پاکستان کے خلاف کسی عدالت یا ٹریبونل کے کسی فیصلے، ڈگری یا فیصلہ ثالثی کی تعمیل کے لیے درکار ہوں؛
(ہ) وہ دیگر رقوم جو کوآئین یا مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے ایکٹ کے ذریعے مذکورہ طور پر واجب الادا قرار دے دیا گیا ہو۔

۷۔ ضمنی اور زائد رقوم:
اگر کسی مالیاتی سال میں کسی خاص خدمت کے لیے رقم ناکافی ہے یا نئی خدمت پر خرچ کی ضرورت پیدا ہوگئی ہے یا کسی خدمت پر زائد رقم خرچ کر دی گئی ہے تو وفاقی حکومت کو اختیار ہے کہ وفاقی مجموعی فنڈ سے خرچ کی منظوری دے دے اور قومی اسمبلی کے سامنے ایک ضمنی کیفیت نامہ یا زائد کیفیت نامہ پیش کرے۔ ان کیفیت ناموں پر باقی کارروائی اسی طرح ہوگی جس طرح سالانہ کیفیت نامہ میزانیہ پر ہوتی ہے۔
۸۔ قومی اسمبلی تحلیل ہونے کی صورت میں اخراجات کی منظوری دینے کا اختیار:
قومی اسمبلی کی تحلیل کے دوران تخمینی اخراجات کی بابت رقوم کی منظوری کے لیے وفاقی حکومت کسی مالی سال کے کسی حصے کے لیے جو چارماہ سے زائد نہ ہو وفاقی مجموعی فنڈ سے اخراجات کی منظوری دے سکے گی۔

باب نمبر ۱۶ محاسب اعلیٰ پاکستان

۱۔ محاسب اعلیٰ کا تقرر:
آئین کے آرٹیکل ۱۶۸ کے مطابق صدر ایک محاسب اعلیٰ (آڈیٹر جنرل)کا تقرر کرتا ہے۔ اپنا عہدہ سنبھالنے سے قبل، محاسب اعلیٰ پاکستان چیف جسٹس کے سامنے حلف اٹھاتا ہے۔ حلف کی عبارت آئین کی جدول سوم میں درج کی گئی ہے۔
۲۔ کارہائے منصبی اور اختیارات:
محاسب اعلیٰ کے کارہائے منصبی اور اختیارات مندرجہ ذیل ہیں
(۱لف) حسابات:
(۱) وفاق اور صوبوں، ماسوائے ریلوے اور دفاع ،کے حسابات کے رکھنے کا ذمہ دار ہوگا۔ تاہم صدر مملکت کسی عمومی یا
خصوصی حکم کے ذریعے محاسب اعلیٰ کو دفاع اور ریلوے سے متعلق وفاق کے حسابات یا وفاق یا کسی صوبے کی طرف سے قائم کردہ کسی
مختار ادارے کے حسابات رکھنے کا حکم دے سکتے ہیں۔
(۲) جہاں تک وفاق کے حسابات کا تعلق ہے، صدر مملکت اور جہاں تک صوبے کے حسابات کا تعلق ہے، گورنر اگر چاہیں تو
محاسب اعلیٰ سے صلاح مشورہ کے بعد قواعد کے ذریعے گنجائش پیدا کر سکتے ہیں کہ محاسب اعلیٰ کو کسی خاص سروس یا محکمہ کے حسابات
تیار کرنے کی ذمہ داری سے سبکدوش کر دیا جائے۔
(۳)صدر مملکت اگر چاہیں تو محاسب اعلیٰ سے صلاح مشورہ کے بعد قواعد کے ذریعے گنجائش پیدا کر سکتے ہیں کہ محاسب اعلیٰ کو کسی
خاص درجے یا نوعیت کے حسابات تیار کرنے کی ذمہ داری سے سبکدوش کر دیا جائے۔
(۴) محاسب اعلیٰ اپنے تیار کردہ حسابات اور سرکاری حسابات رکھنے کے ذمہ دار دوسرے اشخاص کے حسابات سے ہر سال حسابات
(ان حسابات کے بارے میں جو وہ تیار کرتا ہے، حسابات کی مد بندی بھی شامل ہے) کا ایک گوشوارہ تیار کرے گا جس میں وفاق اور
ہر صوبے کے مقاصد کے لیے سالانہ وصولیاں اور ادائیگیاں درج ہوں گی جن کی مکمل وضاحت متعلقہ مدات میں کی گئی ہوگی اور ان
حسابات کو وفاقی حکومت، یا جیسی بھی صورت ہو، صوبے کی حکومت کو ایسی تاریخی پر پیش کرے گا جو وہ متعلقہ حکومت کی رضا مندی سے
متعین کرے گا۔
(۵) محاسب اعلیٰ اس بارے میں صدر مملکت ، یا جیسی بھی صورت، گورنر کے عمومی یا خصوصی احکام کی تعمیل کرے گاکہ کسی خاص
معاملے یا خصوصی نوعیت کے معاملات کو حسابات میں مخصوص مدات کے تحت دکھائے۔ تاہم اس قسم کے احکامات جن کا اوپر بیان کیا
گیا ہے جاری کرنے سے پہلے صدر مملکت، یا جیسی بھی صورت ہو، گورنر محاسب اعلیٰ سے مشورہ کریں گے

(ب) عمومی مالیاتی کیفیت نامہ:
محاسب اعلیٰ کا فرض ہوگا کہ وہ ہر سال صدر مملکت کو عمومی مالیاتی کیفیت نامہ پیش کرے ۔ اس عمومی مالیاتی کیفیت نامہ میں وہ گزشتہ سال کے بارے میں وفاق اور تمام صوبوں کے حسابات کا خلاصہ اور ان کے بقایا جات کے کوائف اور واجب الادا ذمہ داریاں شامل کرے گا اور اس میں ان کی مالیاتی صورت حال کے بارے میں ایسی تمام معلومات شامل کی جائیں گی جن کو صدر مملکت اس کیفیت نامہ میں شامل کرنے کا حکم دیں گے۔
(ج) محاسبہ:
(۱) محاسب اعلیٰ کا فرض ہو گا کہ :
(الف) وہ ان تمام اخراجات کا محاسبہ کرے جو کہ وفاق اور صوبوں کے محاصل سے کیے گئے ہوں اور اس بات کو
معلوم کرے کہ آیا حسابات میں ادا شدہ دکھائی گئیں رقوم قانونی طور پر دستیاب تھیں اور ان ہی خدمات اور مقاصد کے
لیے تھیں جن کے لیے انھیں استعمال میں لایا گیا ہے اور آیا کہ اخراجات اس اختیار سے مطابقت رکھتے ہیں جس کے
تحت خرچ عمل میں لایا گیا ہے؛
(ب) قرض، امانات، بے باقی فنڈ، پیشگیوں ، معلق حسابات اور مرسلہ رقوم سے متعلق تمام وفاقی اور صوبائی لین دین کا
محاسبہ کرے؛
(ج) صدر مملکت یا کسی صوبے کے گورنر کے محکمے کے تحت رکھے گئے تجارتی، صنعتی اور نفع و نقصان کے حسابات اور فرد
ہائے توازن کامحاسبہ کرے؛
(د) وفاق یا صوبے کے قائم کردہ کسی ہیئت مجاز یا ادارے کا محاسبہ کرے اور ہر معاملے میں صدر مملکت، یا جیسی بھی
صورت ہو، گورنر کو محاسبہ شدہ اخراجات، لین دین یا حسابات کے بارے میں رپورٹ پیش کرے۔
(۲) محاسب اعلیٰ، صدر یا گورنر کی منظوری سے، یا اگر وہ ایسا کرنے کا حکم دیں تو مندرجہ ذیل کا محاسبہ کرے گا اور رپورٹ پیش
کرے گا۔
(الف) وفاقی حکومت یا صوبائی حکومت کے کسی محکمے کے بارے میں؛
(ب)وفاقی حکومت یا صوبائی حکومت کے کسی دفتر یا محکمے میں رکھے گئے سٹور کے حسابات کے بارے میں؛
وفاق او ر صوبوں کے حسابات ایسی شکل میں اور ایسے اصولوں اور طریقوں کے مطابق رکھے جائیں گے جنھیں محاسب
اعلیٰ صدر مملکت کی منظوری سے مقرر کرے گا۔
محاسب اعلیٰ کی رپورٹیں: آئین کے آرٹیکل ۱۷۱ کے مطابق وفاق کے حسابات سے متعلق محاسب اعلیٰ کی رپورٹیں صدر مملکت کو پیش کی جاتی ہیں جو انھیں قومی اسمبلی میں پیش کرتا ہے۔ کسی صوبے سے متعلق محاسب اعلیٰ کی رپورٹیں اس صوبے کے گورنر کو پیش کی جاتی ہیں جو انھیں صوبائی اسمبلی میں پیش کرتا ہے۔

کتابیات
۱۔ مطالعہ پاکستان(لازمی) انٹر میڈیٹ کلاسوں کے لیے ؛ وفاقی وزارت تعلیم(حکومت پاکستان)، اسلام آباد؛ ۱۹۸۲ء
۲۔ جدید دساتیر؛ خرم ملک و فاروق ملک؛ خرم بکس، لاہور؛ س:ن
۳۔ پاکستان کا نظام حکومت اور سیاست ؛ ڈاکٹر ایم اے فاروق؛ مکتبۂ فریدی ، کراچی؛ ۱۹۷۶ء
۴۔ قواعد کار ۱۹۷۳ء ؛ حکومت پاکستان ، (مسودہ)،
مترجم قاضی عزیر الرحمن عاصم؛ نظر ثانی جمشید عالم، مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد
۵۔ ایسٹا کوڈ ، ضابطہ امور عملہ؛ عبد الرحیم خان؛ مقتدرہ قومی زبان؛ ۲۰۰۴ء
۶۔ تربیت معتمدی؛ نور احمد شاد؛ نظر ثانی عرفان احمد امتیازی؛ مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد؛ ۲۰۰۸ء
۷۔ قانونی انگریزی اردو لُغت (بلیکس لاء ڈکشنری سے ماخوذ)؛
نگران پروفیسر فتح محمد ملک ؛ مقتدرہ قومی زبان ، اسلام آباد؛ ۲۰۰۲ء
۸۔ قومی انگریزی اردو لغت؛ تدوین : ڈاکٹر جمیل جالبی؛ مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد؛ ۱۹۹۲ء
۹۔ اوکسفرڈ انگلش اردو ڈکشنری؛ مرتب و مترجم ؛ شان الحق حقی؛ اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس، کراچی؛ ۲۰۰۳ء
۱۰۔ دفتری اصطلاحات (انگریزی ۔ اردو) ؛ عبد الرحیم خان؛ مقتدرہ قومی زبان ۔ اسلام آباد ؛ ۲۰۰۶ء
۱۱۔ محکموں اور اداروں کے نام؛ مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد؛ ۱۹۸۵ء
۱۲۔ پاکستان میں پارلیمانی جمہوریت؛ محمد سرور، گلزار محی الدین؛ علمی کتب خانہ، لاہور؛ طبع دوم؛ ۱۹۷۴ء۔

13. Constitution of the Islamic Republic of Pakistan; 1973
14. Constitution (Eighteenth Amendment). Act, 2010
15. Government and Administration in Pakistan; by: Dr Jameel-ur-Rehman; MS Wing, PPRC); Islamabad; 2003.
16. Rules of Business 1973; Government of Pakistan (Cabinet Division); Islamabad.
website Cabinet Division
17. Secretariat Instructions; (Ed:2004)(online) Government of Pakistan
(Cabinet Division); Islamabad: 2004
18. Social Sceince Encyclopedia; Ddited by: Adam Kuper and Jessica Kuper;
Services Book Club; 1989
19. Year Book 2003-2004;
Government of Pakistan (Cabinet Secetariat, Establishment Division);
Islamabad.
20. EstaCode, Civil Establishment Code. Vol-I, Government of Pakistan,
Establishment Division, ( MS Wing, PPRC, Islamabad); 2007
21. Lecture Distribution of Legislative Powers;
by: GM Chaudhary; Ministry of Law, Justice and Human Rights, Islamabad.
22. Constitutional Integrity and the Constitution of 1973; by: M. Ainjad Khan;
Frontier Post; Dt: April, 9, 2000.