آثارِ اُردو
پروفیسر ڈاکٹر معین الدین عقیل
سابق ڈین ،کُلیہ لسانیات و سماجی علوم ، بین الاقوامی یونیورسٹی، اسلام آباد


اُردو کی اوّلیں لغت

اُردوزبان کی اوّلیں لغت سے قطع نظر، اوّلیں قواعد کے تعین کے تعلق سے، دستیاب شواہد کی روشنی میں، اس بات پر محققین کا اب قریب قریب اتفاق ہے کہ یہ ہندوستان کی تہذیب وثقافت سے متعلقہ موضوعات پر مشتمل قاموسی نوعیت کی ایک فارسی تصنیف ’’تحفتہ الہند‘‘میں ایک باب کے طور پر لکھ کر شامل کی گئی تھی۔ اس کے مصنف کا نام تین طرح سے: (۱)میرزا خان بن فخرالدین محمد، (۲)میرزا محمد خان بن فخرالدین محمد، (۳)میرزا جان بن فخرالدین محمد جیسی قدرے مختلف صورتوں میں ملتا ہے۔ اس کا تعلق عہد جلال الدین اکبر (۱۵۵۶ء -۱۶۰۵ء)کے مدبر و دانش ورعبدالرحیم خانخاناں (۱۵۵۶ء - ۱۶۲۷ء) کے اخلاف سے تھا، لیکن اس کے حالاتِ زندگی اور سرگرمیوں پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ [ مسعود حسن رضوی ادیب (۱۸۹۳ء-۱۹۷۵ء) کے مطابق کتب خانے میں قصائد عرفی کی ایک شرح ’’ مفتاح النکات‘‘ کے دو قلمی نسخے تھے، جن کا مصنف میرزا جان بن فخرالدین محمدتھا اور یہ شرح ۱۰۷۲ھ مطابق ۱۶۶۱ء میں، بعہدِ اورنگ زیب لکھی گئی تھی۔ مسعود حسن رضوی کے مطابق میرزا جان، میرزا خان کا بھائی ہو سکتا ہے یا ممکن ہے کہ خود میرزا خان ہی میرزا جان ہو، کیوں کہ ’’ تحفتہ الہند‘‘ کے بعض قلمی نسخوں پر بطور مصنف میرزا جان بھی لکھا ہے، پھر اس نام کی مزید تائید دیگر نسخوں سے بھی ہوتی ہے ۔ ۱؂]
یہ تصنیف متنوع موضوعات کا احاطہ کرتی ہے اور اس کے لکھے جانے کے کافی عرصے کے بعد اس میں بطورِ مقدمہ اُردو زبان کے ایک ابتدائی روپ’برج بھاشا‘ ، ’کھڑی بولی‘ یا ’ ہندوستانی‘ کی قواعد کو ایک نصابی ضرورت کے تحت بالارادہ لکھا اور شامل کیا گیا تھا ۲؂ ۔ اگرچہ یہ تصنیف خاصی معروف ہے لیکن اس کی اس مناسبت سے اُردو دُنیا سے اس کا اور اس میں شامل قواعد کا اوّلین تعارف پروفیسر مسعود حسن رضوی ادیب (۱۸۹۳ء۔ ۱۹۷۵ء) نے جون ۱۹۳۰ء میں کرایا تھا ۳؂ اور پھر بعد میں اُنھوں نے ایک مزید تعارف کے ساتھ اس قواعد کے فارسی متن کا اُردو ترجمہ بھی شائع کیا ۴؂ ۔
’’ تحفتہ الہند‘‘ سات ابواب ، مقدمہ اور خاتمہ پر مشتمل ہے جس میں علمِ عروض، علمِ قافیہ، علمِ بیان و بدیع، علمِ موسیقی، علمِ مباشرت، علمِ قیافہ پر مفصل معلومات درج کی گئی ہیں لیکن اس کے آخر میں دراصل اُردو -فارسی لغت بھی شامل ہے ، جو لغت نویسی کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی اوّلین لغت بھی ہے۔ حالانکہ اب تک یہ تسلیم کیا جاتا رہا ہے کہ اُردو کی اوّلیں لغت عبدالواسع ہانسوی کی ’’غرائب اللغات‘‘ ہے جو اورنگ زیب ہی کے زمانے میں لکھی گئی اور اس کے کچھ سال بعد ۱۱۶۵ھ یا ۱۷۴۸ء میں سراج الدین علی خان آرزو(۱۶۸۸ء۔ ۱۷۶۵ء) نے ’’نوادرالالفاظ‘‘ لکھی اور اوّل الذکر سے استفادہ بھی کیااور اس میں شامل الفاظ اپنی لغت میں شامل کیے ۵؂ ۔ اس کے قریبی عرصہ میں کئی اور لغاتِ اُردو و فارسی بھی مرتب ہوئیں لیکن وہ تاحال شائع نہ ہو سکیں ۶؂ اور اس وقت ہمارا مو۳ضوع بھی نہیں۔ ’’ تحفتہ الہند‘‘اگرچہ ۱۶۷۶ء سے قبل کی تصنیف ہے لیکن مصنف نے اپنے ایک مربیّ اور اورنگ زیب عالم گیر (۱۶۵۸ء تا ۱۷۰۷ء) کے فرزند اعظم شاہ ( متوفی ۱۷۰۷ء) کی خوشنودی یا ایماء پر ، جو برج بھاشا کا سرپرست بتایا جاتا ہے ، شہزادہ جہاندار شاہ (متوفی ۱۷۱۲ء) کی تعلیم و تربیت کی خاطر، اس میں اضافہ کر کے ایک مختصر اُردو -فارسی (برج بھاشا -فارسی)لغت اور قواعد اس میں شامل کی تھی۔ اُس نے یہ اضافہ ۱۷۱۱ء میں کیا تھا ۷؂ ۔مصنف نے اس کتاب کی تالیف میں بڑی محنت اور جانفشانی کا ثبوت دیا ہے۔ اس نے اس میں شامل مطالب کی توضیح و تشریح اور معلومات کے جمع کرنے میں بڑی کدو کاوش اور جستجو سے کام لیا ہے اور کہیں کہیں مثالیں بھی درج کی ہیں پھراس نے جو لغت ترتیب دی ہے اس میں یہ اہتمام کیا ہے کہ اُردو لفظ کے مقابل جہاں فارسی معنی تحریر کیے ہیں، وہیں اس نے اس لفظ کو دیونا گری رسم الخط میں بھی لکھ دیا ہے۔ اس طرح وہ پہلا شخص ہے جس نے، چاہے ایک ترغیب وتحریک ہی کے تحت سہی، ایک شعور اور ارادے کے تحت اور ایک مقصد کو سامنے رکھ کر ضمنی طور پر اُردو کی یہ اوّلیں لغت مرتب کی ہے۔
اگرچہ ’’ تحفتہ الہند‘‘ کے اجزاء یا ابواب شائع ہوتے رہے ہیں لیکن اس کا مکمل متن اب تک شائع نہیں ہوا ۔البتہ اِس میں شامل لغت تا حال مرتب و شائع نہیں ہوئی۔ یہاں ذیل میں اِس کے ابتدائی چند صفحات کا عکس بطور نمونہ پیش کیا جا رہا ہے۔ اس تصنیف کے متعدد قلمی نسخے ہندوستان اور یورپ کے کئی کتب خانوں میں محفوظ ہیں۔ یہاں جو عکس پیش کیے گئے ہیں وہ کتب خانہ انڈیا آفس کے نسخے سے ماخوذ ہیں، جس کی تمام دیگر نسخوں کے مقابلے میں یہ اہمیت ہے کہ یہ معروف و ممتاز مستشرق سرولیم جونز ( ۱۷۴۶ء تا ۱۷۹۴ء Sir William Jones)کے استفادے اور ملکیت میں رہا۔ ان صفحات پر انگریزی زبان میں جو یادداشتیں نظر آ رہی ہیں یہ سب جونز کے قلم سے ہیں اور نہایت قیمتی ہیں۔
حواشی:
۱؂ لچھمی نرائن شفیق نے فارسی شعراء کے اپنے تذکرے’’گلِ رعنا‘‘، مخزونہ برٹش میوزیم، لندن (Or. 2044) میں اس کا تذکرہ کیا ہے اور اس کا نام مرزا خان بن فخر الدین محمد تحریر کیا ہے۔ بحوالہ چارلس ریو (Charles Rieu) ، Catalogue of Persian Manuscripts in the British Museum.جلد سوم، برٹش میوزیم، لندن ۱۹۶۵ء ، ص ۱۰۷۹، الف؛ ریو کے مطابق اس تذکرے کے اسی ذخیرے میں شامل ایک اور نسخے (Or. 2014)میں اس کا نام محمد مرزا خان لکھا ہے۔ ایضاً۔ لیکن ہَرمن ایتھے (Hermann Ethe)، Catalogue of Persian Manuscripts in the India Office Library، لندن، انڈیا آفس لائبریری اینڈ ریکارڈ ، ۱۹۸۰ء ، ص۱۱۹، کے مطابق مصنف کا نام میرزا محمدبن فخرالدین محمد ہے ۔ چارلس ریو اور ایتھے کی فہارسِ مخطوطات میں ’’تحفتہ الہند‘‘ کے ذیل میں اس کے دیگر نسخوں کی نشاندہی بھی موجود ہے۔ اس کی تائید نجمہ پروین احمد کی کتاب Indian Music، نئی دہلی، منوہر، ۱۹۸۴ء، ص:۲۴میں بھی ملتی ہے کہ مصنفہ نے ’’تحفتہ الہند‘‘ کے کئی نسخوں میں مصنف کا نام ’ میرزا جان‘لکھا دیکھا۔
۲؂ اس تصنیف کے متعدد قلمی نسخے ہندوستان اور یورپ کے کتب خانوں میں محفوظ ہیں۔ تفصیلات کے لیے: ڈی۔ این۔ مارشل (D.N. Marshall) Mughals in India, a Bibliographical Survey: Manuscripts.جلد اوّل، ایشیا پبلشنگ کمپنی، بمبئی، ۱۹۶۷ء، ص ص ۶۹۲-۲۹۵؛ مارشل کی اس تصنیف کا ترجمہ، مع اضافہ جات: ’’مغولاں در ہند: بررسی کتابشاختی دستنویس ہا‘‘، ترجمہ حسین برز گر کشتلی، مرکز پژ و ہش کتابخانہ، تہران، ۱۳۸۹ھ، ص ۶۲۲؛ ’’تحفتہ الہند‘‘ کے باب اوّل کو مع انگریزی ترجمہ و حواشی شانتی نکیتن، کلکتہ کے پروفیسر ایم۔ ضیا الدین نے مرتب کر کے شائع کیا تھا: (1676)A Grammar of the Braj Bhakha by Mirza Khanمطبوعہ، کلکتہ: وشوابھارتی بک شاپ، ۱۹۳۵ء۔
۳؂ ’’برج بھاشا کی پہلی گرامر‘‘،مشمولہ : ’’ادب ‘‘، لکھنؤ، جون ۱۹۳۰ء؛ یہی مقالہ بعد میں ’’نقوش‘‘، لاہور، جولائی ۱۹۵۵ء، ص ص ۲۰۷-۲۱۹، میں شائع کیا تھا جو دوبارہ اسی مجلے میں اپریل ۱۹۶۰ء، ص ص۱۹۹۔ ۲۱۳میں بھی نقل ہوا۔ پھر اُنھوں نے اس قواعد کے فارسی متن کا اُردو ترجمہ ایک معلوماتی مقدمے کے ساتھ کتابی صورت میں، بعنوان ’’قواعد کلیۂ بھاکا‘‘ ، کتاب نگر، لکھنؤ سے ۱۹۶۸ء میں شائع کیا۔ اس میں شامل عرضِ ناشر کے مطابق رضوی صاحب نے اس موضوع پر اپنا اوّلین مقالہ انگریزی زبان میں بھی تحریر کیا جسے انھوں نے سنسکرت کے ممتاز عالم اور الٰہ آباد یونی ورسٹی کے وائس چانسلر و پروفیسر گنگا ناتھ جھاکے اعزاز میں شائع ہونے والے ارمغان: Jha Commemoration Volumeکے لیے لکھا جو ۲۴ ، نومبر ۱۹۳۳ء کو پیش کیا گیا اور یہ پونا اورئینٹل بک ایجنسی سے ۱۹۳۷ء میں شائع ہوا۔ اظہر مسعود رضوی،عرضِ ناشر، ایضاً، ص ۳
۴؂ ایضاً، ص ص ۱۱-۳۹۔
۵؂ سید عبداللہ، ’’نوادر الالفاظ مع غرائب اللغات‘‘، مرتبہ: انجمن ترقی اُردو، کراچی، ۱۹۵۱ء، ص ص ۳-۴۔
۶؂ ایضاً، ص ص ۱۶-۱۷؛مگر اسی زمانے میں لکھی ہوئی ایک لغت ’’کمالِ عترت‘‘ مصنفہ میر محمد ی عترت اکبر آبادی نے لکھی تھی جسے ڈاکٹر عارف نوشاہی نے اپنے فاضلانہ مقدمے کے ساتھ مرتب و شائع کیا ، مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد، ۱۹۹۹ء۔
۷؂ ’’تحفتہ الہند‘‘ ، مرتبہ : نورالحسن انصاری، بنیاد فرہنگِ ایران، دہلی، ۱۹۷۵ء، جلد اوّل، ص ۲۶؛ ’’تحفتہ الہند‘‘ کا بقیہ متن بہ اہتمام ڈاکٹر نور الحسن انصاری، ۱۹۸۳ء میں بخشِ فارسی، دانشگاہِ دہلی کے ’’مجلہ تحقیقاتِ فارسی‘‘ کے شمارۂ مخصوص میں شائع ہوا۔ ’’تحفتہ الہند‘‘ پر سرولیم جونز (Sir William Jones) نے ’’ایشیاٹک سوسائٹی کلکتہ‘‘ کے تحت اپنے جاری کیے ہوئے تحقیقی مجلے Asiatic Researches، ۱۷۸۵ء، شمارہ ۳، ص ۶۶، پر اس کے حصۂ موسیقی کا تعارف On the Musical Modes of Hindusتحریرکیا تھا،بحوالہ چارلس ریو، تصنیفِ مذکور، جلد اوّل، لندن، ۱۹۶۵ء، ص ۶۲، الف؛ یہ مقالہ بعد میں Indian Music and its Instruments، مرتبہ: ولیم ریوز، مطبوعہ، روز نتھال، لندن، ۱۹۲۸ء میں شائع ہوا۔ بحوالہ: رشید ملک، تصنیفِ مذکور،ص۲۰۔ اس تصنیف کے ایک مخطوطے مخزونہ’انڈیا آفس لائبریری‘ پر سر ولیم جونز نے انگریزی میں جا بجا تشریحات اور معانی تحریر کیے ہیں۔ ڈینیسن روس(Denison Ross) اور ای۔ جی۔ براؤن (E.G. Brown) ،Catalogue of Two Collections of Persian and Arabic Manuscripts in the India Office Library، مطبوعہ: ایر ااینڈ سپوٹس ووڈ، لندن، ۱۹۰۲ء، ص ۵۹۔