پارلیمان
ڈاکٹر محمد ارشد اویسی
اسسٹنٹ پروفیسر، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، فیصل آباد

پاکستان سینیٹ۱۹۷۳ء تا ۱۹۹۸ء اور اُردو

Abstract
Senate of Pakistan was established in 1973 in pursuance of the constitution of the Islamic Republic of Pakistan, 1973. Its silver jubilee was celebrated in 1998. The research paper deals with the legislation performance of Senate of Pakistan in regard of adoption of Urdu as official language; short history; speeches of the honourable members; debates; Senate election; rules of business and working while taking up various items in the House.

تعارف:
نظام مملکت میں قانون ساز ادارے کو اولین حیثیت اور اہم مقام حاصل ہوتا ہے۔آج کے دور میں جہاں عدلیہ اور انتظامیہ کا تذکرہ ہوتا ہے، وہاں مقننہ کے ذکر کے بغیر ایک آزاد اور خود مختار مملکت کا تصور بھی ممکن نہیں۔ جدید جمہوری معاشرے میں تو قانون ساز ادارے کی اہمیت اور افادیت مزید بڑھ گئی ہے۔مقننہ قوم کے اجتماعی شعورکا ایک ایسا ادارہ ہوتاہے جو ایک آئینہ کی حیثیت رکھتا ہے جس میں قومی زندگی کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔جمہوری معاشروں میں ان قانون ساز اداروں کی حاکمیت صرف اور صرف اس لیے ہوتی ہے کہ وہاں پر جو اظہار کیا جاتا ہے وہ عوام کی آرأ اور خواہشات کا نچوڑ ہوتا ہے اور یہی عنصران کو اولین اور اعلیٰ ادارہ بناتا ہے۔ یہ عوام کے اجتماعی اظہار کے علاوہ ملک و قوم کے احساسات و جذبات کا ترجمان بھی ہوتا ہے اور امین بھی۔
پسِ منظر:
مقامی نمائندوں پر مشتمل قانون ساز ادارے کے تصور کی بنیاد دراصل ۱۸۵۸ء ۱؂ کے ملکہ برطانیہ کے اس حکم پر رکھ دی گئی تھی جس کے تحت برصغیر پاک و ہند کا انتظام ایسٹ انڈیا کمپنی سے لے کر تاج برطانیہ کے سپرد کر دیا گیا۔ یہ ایکٹ برصغیر میں آئینی ارتقا ء کا نقطہ آغاز کہا جا سکتا ہے۔قیامِ پاکستان سے پہلے کے پچاس برسوں میں اس خطہ کے قانون ساز ادارے پانچ مختلف قوانین کے تحت وجود میں آتے رہے۔ ان میں انڈین کونسلز ایکٹ ۱۸۶۱ء ۲؂ ؛ انڈین کونسلز ایکٹ ۱۸۹۲ء ؛گورنمنٹ انڈیا ایکٹ ۱۹۰۹ء؛ گورنمنٹ انڈیا ایکٹ ۱۹۱۹ء ۳؂ اور گورنمنٹ انڈیا ایکٹ ۱۹۳۵ء ۴؂ شامل ہیں۔
جنوبی ایشیا میں دو ایوانی مقننہ کا آغاز ۱۹۱۹ء کے ایکٹ کے تحت ہوا جب گورنمنٹ انڈیا ایکٹ ۱۹۱۹ء نے ایک چیمبر پر مشتمل امپیریل کونسل کی جگہ دو ایوانی مقننہ کا اہتمام کیا۔پارلیمنٹ کے دو ایوانوں کے نام بالترتیب مرکزی دستور ساز اسمبلی اور کونسل آف اسٹیٹس تھے۔۵؂
قیامِ پاکستان کے بعد پارلیمانی نظام یک ایوانی نظام کے تحت ہی قائم رہا، تاآں کہ۱۹۷۲ء میں تمام پارلیمانی جماعتیں آئینی اصلاحات کے اس معاہدے پر پہنچیں جس میں دو ایوانی پارلیمنٹ کاا ہتمام کیا گیا تھا، یعنی قومی اسمبلی اور سینیٹ۔سینیٹ کے قیام کا بنیادی مقصد وفاق کی تمام اکائیوں کو مساوی نمائندگی دینا تھا کیوں کہ قومی اسمبلی کی رکنیت آبادی کی بنیاد پر تھی۔ لہٰذا ۱۹۷۳ء کے آئین کے نفاذ کے بعد دو ایوانی مقننہ (مجلس شوریٰ) پارلیمنٹ تشکیل دی گئی جوقومی اسمبلی اور سینیٹ پر مشتمل تھی۔ سینیٹ جسے عرف عام میں ایوان بالاکہا جاتا ہے، بنیادی طور پر قانون ساز ادارے کا کام کرتا ہے۔یہ ادارہ۶اگست ۱۹۷۳ء کو معرض وجود میں آیا جب سینیٹ کے منتخب ارکان نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا اورحاضری رجسٹر( رول آف ممبرز) پر دستخط کیے۔ قانون ساز ادارے کی حیثیت سے سینیٹ میں وفاق کے تمام یونٹوں کو ان کی آبادی اور رقبے سے قطع نظر مساوی نمائندگی حاصل ہے۔پاکستان سینیٹ ایک مستقل قانون ساز ادارہ ہے اور قومی امور میں تسلسل کے عمل کا نشان ہے۔ اس کے تقریباً نصف ارکان ہر تین سال بعد چھ سال کی مدت کے لیے منتخب کیے جاتے ہیں۔۱۹۷۳ء میں اپنی تشکیل کے بعد پاکستان سینیٹ نے اپنا پارلیمانی کردار نہایت احسن طریقے سے نبھانا شروع کیا۔ ۱۹۷۷ء میں مارشل لاء کے نفاذ کے بعد آئینی طور پر سینیٹ کے مستقل ادارے کو بھی معطل کر دیا گیا۔ ۵جولائی ۱۹۷۷ء سے لے کر ۲۰مارچ ۱۹۸۵ء کا عرصہ ہمارے لیے سوالیہ نشان ہے کہ پاکستان کے ایوان بالاکو کیوں معطل کیا گیا جس کے بارے میں آئین یہ کہتا ہے کہ یہ مستقل ادارہ ہے۔ ۱۹۸۵ء کے بعد پاکستان سینیٹ نے انتہائی کامیابی سے عوام کی توقعات کے مطابق اپنا پارلیمانی کردار ادا کیا ہے اور نہ صرف جمہوری روایات کا علم بلند رکھا بلکہ پاکستان کے عوام کی امنگوں اور جذبات کی ترجمانی بھی نہایت خوش اسلوبی سے کی۔
مباحث:
یہ بحث پاکستان سینیٹ میں شروع ہی سے( ۶،اگست ۱۹۷۳ء کو ارکان سینیٹ نے حلف اُٹھایا) کسی نہ کسی طورپر کہ اردو ہی ذریعہ اظہار ہوسینیٹ کے مختلف ادوار میں موضوع سُخن رہی۔ معزز ارکان سینیٹ نے اردو کے نفاذ اور فروغ کے سلسلے میں ہر ہرانداز میں آواز بلند کی اور حکومت کو اس آئینی اورقومی فریضہ کی بجا آوری کی طرف متوجہ کیا۔ قومی زبان اردو کے نفاذ اور فروغ کے سلسلے میں پاکستان سینیٹ کا یہ کردار اردو زبان کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے جس پر بجاطور پر فخر کیا جا سکتا ہے۔
اردو زبان کے ذخیرۂ الفاظ میں ہر نئی تحریک اور نئے نظام نے نت نئے الفاظ دیے۔ نئے الفاظ سماجی تبدیلیوں ،اہلِ وطن کی نفسیاتی کش مکش اور معاشی رد و بدل سے بھی پیدا ہوتے رہتے ہیں۔مذاہب نے بھی نئے الفاظ کے ذخیرے دیے اور ہر معاشی اور سیاسی انقلاب نے بھی نئے الفاظ بخشے۔ جمہوری دنیا میں جب پارلیمانی نظام متعارف ہوا تو اس نظام کے حوالے سے پارلیمانی آداب و روایات اور پارلیمانی اقدار کے چرچے ہوئے اور لفظوں کے حوالے سے پارلیمانی اور غیر پارلیمانی الفاظ کی تخصیص سامنے آئی۔ پاکستان سینیٹ کے مباحث کے مطالعہ کے دوران بھی لفظوں کے پارلیمانی اور غیر پارلیمانی قرار پانے کے متعلق محسوس کیا جا سکتا ہے جو کہ دراصل رسمی اختلاف، تمدنی اور تہذیبی ضرورتوں کے تحت ہے۔ سینیٹ کی رودادوں میں پاکستان سینیٹ کی پارلیمانی تاریخ کے نشیب و فراز محفوظ ہیں۔ اس پارلیمانی تاریخ میں جہاں اردو کے پارلیمانی اور غیر پارلیمانی الفاظ کی تخصیص سامنے آئی، وہاں اردو محاورات اور ضرب الامثال کا ارکان کی طرف سے استعمال بھی دیکھنے میں آیا۔شعر و شاعری کے حوالے سے دیکھا جائے تو اردو ادب کی اس صنف کے موتی معززپاکستان سینیٹ کے مباحث میں جا بجابکھرے پڑے ملتے ہیں۔ اس سے ارکان کے ادبی ذوق اور اپنی قومی زبان کے ساتھ وابستگی سے آگاہی ہوتی ہے کہ ہمارے رہنماؤں میں کتنے ہیں جو ادب کے مستقل قاری ہیں ۔ علاوہ ازیں وہ قومی زبان کو بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کے اِفکار کی روشنی میں اور آئینی تقاضوں کی بجا آوری کے لیے حساس قلب و ذہن کے مالک ہیں۔
پاکستان میں ۱۹۷۳ء کے آئین کے تحت پہلی بار سینیٹ وجود میں آیا اور تناسب کی بنیاد پر ۴جولائی ۱۹۷۳ء کو پنجاب ؛ ۶جولائی ۱۹۷۳ء کو سندھ؛ ۸جولائی ۱۹۷۳ء کو بلوچستان؛ ۹جولائی ۱۹۷۳ء کو فاٹا اور وفاقی دارالحکومت ؛جبکہ۱۰جولائی ۱۹۷۳ء کو سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا)سے ارکان سینیٹ کو پہلی بارمنتخب کیا گیا۔۶؂
سینیٹ کا پہلا اجلاس حلف اور اردو زبان
سینیٹ کا پہلا اجلاس ۶اگست ۱۹۷۳ء کو نو بجے صبح سینیٹ ہال اسلام آباد میں منعقد ہوا۔قواعد کے مطابق تلاوت کلام پاک کے بعد سیکریٹری سینیٹ نے جناب فضل الٰہی چودھری ٗ سپیکر قومی اسمبلی بطورپریزائڈنگ آفیسر کی نامزدگی کے حوالے سے صدارتی حکم نامہ پڑھا ۔اِس کے بعد جناب فضل الٰہی چودھری کرسئ صدارت پر متمکن ہوئے اور تمام ارکان کو اس اعلیٰ ترین ایوان کا رُکن منتخب ہونے پر مبارک باد دی اور کہا کہ آج کے ایجنڈے کی پہلی شق ارکان کا حلف ہے۔ حلف اردو یا انگریزی میں سے کسی ایک زبان میں اٹھایا جا سکتا ہے اور دونوں زبانوں میں چھپا ہوا حلف نامہ ارکان کی نشستوں پر رکھ دیا گیا ہے۔۷؂
چیئرمین اور ڈپٹی چیئر مین سینیٹ کاانتخاب اور اردو
ارکان کے حلف کے بعد ایجنڈے کے مطابق دوسرا مرحلہ چیئرمین اور ڈپٹی چیئر مین کے انتخابات کے طریقہ کا اعلان کرتے ہوئے پریزائڈنگ آفیسر نے کہا:
"Those who would like to hear the Urdu translation may do so with the help of ear phones."
(جو اردو ترجمہ سننا پسند کرتے ہیں وہ ائیر فون کی سہولت سے استفادہ کر سکتے ہیں۔)۸؂
سینیٹ کے پہلے چیئر مین کے انتخاب میں جناب حبیب اللہ خان اور خواجہ محمد صفدر نے بطور اُمیدوارحصہ لیا۔ نتائج کے مطابق جناب حبیب اللہ خان نے ۳۲ ووٹ حاصل کیے اور کامیاب قرار پائے۔۹؂ ان کے مدمقابل خواجہ محمد صفدر نے ۱۳ ووٹ حاصل کیے۔
چیئر مین سینیٹ کا حلف اٹھانے کے بعد جناب حبیب اللہ خان کرسی صدارت پر متمکن ہوئے اور ڈپٹی چیئر مین کا انتخاب ان کی ہی صدارت میں منعقد ہوا۔ اس میں مرزا طاہر محمد خاں نے ۳۲ ووٹ اور ان کے مدِ مقابل مسٹر محمد ظہورالحق نے ۱۳ ووٹ حاصل کیے۔ اس طرح مرزا طاہر محمد خاں کامیاب قرار پائے۔۱۰؂
ہدیہ تہنیت اور اردو
پارلیمانی روایات کے مطابق نئے منتخب چیئر مین اور ڈپٹی چیئر مین کی خدمت میں خواجہ محمدصفدر، جناب جے اے رحیم، جناب محمدظہور الحق اور میر نبی بخش زہری نے ہدیہ تہنیت پیش کیا ۔ ان سب نے توقع ظاہر کی کہ معزز چیئر مین اور ڈپٹی چیئرمین آئین کی پاسداری،قانون کی بالادستی اور اعلیٰ پارلیمانی روایات کے فروغ میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے اچھی اورقابل تقلید روایات کی بنیاد رکھیں گے۔
خواجہ محمد صفدر اور میر نبی بخش زہری نے اردو زبان میں تہنیتی کلمات کہے جب کہ جناب جے اے رحیم اور جناب محمد ظہورالحق نے انگریزی زبان کو ذریعہ اظہار بنایا۔ ان تقاریر کے جواب میں جناب چیئر مین نے انگریزی میں جبکہ ڈپٹی چیئر مین نے اردو میں خطاب کیا۔۱۱؂
قواعد انضباط کار اور اردو
پاکستان سینیٹ کی کارروائی کی انجام دہی اور طریق کار کے لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین ۱۹۷۳ء کی دفعہ ۶۷ کی شق (۲) بملاحظہ دفعہ ۲۶۵کی شق (۳) کے موجب،صدر پاکستان نے پاکستان سینیٹ کے ضابطہ کار و انصرام کارروائی کو منضبط کرنے کے لیے قواعد وضع کیے۔
قواعد ضابطہ کار و انصرام کارروائی برائے سینیٹ (۱۹۷۳ء) کا قاعدہ نمبر ۲۲۲ سینیٹ کی زبان کے متعلق ہے جس میں تحریر ہے کہ :
’’۲۲۲(۱) ارکان اردو یا انگریزی میں خطاب کریں گے مگر چیئر مین کسی ایسے رکن کو ،جو ان میں سے کسی زبان میں اپنا مافی الضمیر مناسب طور پر بیان نہ کر سکتا ہو، اپنی مادری زبان میں سینیٹ سے خطاب کرنے کی اجازت ہو گی۔
(۲) اگر کوئی رکن چاہے کہ اس کی اردو یا انگریزی کے سوا کسی دوسری زبان میں کی گئی تقریر کا اردو خلاصہ سینیٹ کو پڑھ کر سنایا جائے تو وہ اس خلاصہ کی ایک نقل چیئر مین کو مہیا کرے گا جو اپنی صوابدید سے کام لیتے ہوئے اسے سینیٹ کو پڑھ کر سنانے کی اجازت دے سکتا ہے۔ ایسا خلاصہ سینیٹ کی کارروائی کے ریکارڈ میں شامل کر لیا جائے گا۔
(۳) سینیٹ کی کارروائی کا سرکاری ریکارڈ اردو اور انگریزی میں رکھا جائے گا۔‘‘۱۲؂
فیصلہ جات صدر نشین اور اردو
۱۹۷۳ء تا ۱۹۷۷ء جناب چیئر مین اور جناب ڈپٹی چیئر مین سینیٹ نے سینیٹ کی کارروائی کے دوران مختلف موضوعات پر اٹھائے گئے فیصلہ طلب نکات پر فیصلے (رولنگ) دیے۔ ان فیصلوں کی تعداد ۲۳۰ ہے۔ سینیٹ سیکرٹریٹ نے ۱۹۸۱ء میں ان تمام فیصلہ جات کو اردو میں کتاب ’’فیصلہ جات صدر نشین‘‘ میں شائع کیا ہے۔
۲۵۹صفحات پر مشتمل اس کتاب میں جن موضوعات پرفیصلے صادر کیے گئے، ان میں عدم موجودارکان، تحاریک التوا کار، مسودات قانون، ترمیمات،آداب مجلس، استحقاق اور دیگر تحاریک، سوالات،قراردادیں اور غیر پارلیمانی الفاظ شامل ہیں۔
جناب چیئر مین سینیٹ کا ایک فیصلہ جو انگریزی مسودہ قانون میں قومی یا علاقائی زبان کے کسی لفظ کو شامل کرنے کے متعلق ہے ، درج ذیل ہے۔
’’مسودہ قانون: انگریزی میں لکھے ہوئے کسی مسودہ قانون میں ماسوائے ناگزیر حالات کے قومی یا علاقائی زبان کے کسی لفظ کو شامل نہ کیا جائے‘‘۔ ۲۲۔اپریل ۱۹۷۴ء کو پیپلز اوپن یونیورسٹی کے مسودہ قانون مجریہ ۱۹۷۴ء کی دوسری خواندگی کے دوران ایک رکن سینیٹ نے شق ۳ کی ذیلی شق (۱) میں لفظ پیپلز کی بجائے لفظ’’عوامی‘‘درج کرنے کے لیے ایک ترمیم کی تحریک پیش کی۔
وزیرانچارج نے ترمیم کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ لفظ پیپلز ہر لحاظ سے مناسب اور عمدہ ہے۔
ترمیم تجویزکنندہ نے کہا کہ ان کے خیال میں لفظ’’پیپلز‘‘ سے جانبداری کی بو آرہی ہے اور یہ بہتر ہو گا کہ اس سیاسی معنویت اور سیاسی رنگ کو خارج کر دیا جائے۔ انھوں نے مزید کہا کہ لفظ ’’عوامی‘‘ پاکستان کے عام شہری کے لیے زیادہ جاذب اور پُر اثر ہوگا۔
اس پر جناب چیئر مین نے ارشاد فرمایا: ’’مجھے تو انگریزی لفظ ’پیپلز ‘اور اردو لفظ ’عوامی‘ میں کوئی خاص فرق نظر نہیں آتا۔’عوامی‘ کا مطلب ’’پیپلز‘‘ ہوتا ہے لیکن جب تک ضروری نہ ہو، آپ اردو، پنجابی، پشتو، بلوچی یا سندھی کا کوئی لفظ انگریزی میں لکھے ہوئے کسی مسودہ قانون میں شامل نہیں کر سکتے۔‘‘۱۳؂
سینیٹ کا ۲۵ سالہ جشن اور اردو
پاکستان سینیٹ کے ۲۵ سالہ جشن (سلور جوبلی)کی تقریبات کا انعقاد ۶اگست ۱۹۹۸ء پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔اس سلسلے میں سینیٹ کا اجلاس سینیٹ ہال میں چیئر مین سینیٹ جناب وسیم سجاد کی صدارت میں ہوا۔ حسبِ قواعدتلاوت کلام پاک اور اس کے اردو ترجمہ سے کارروائی کاآغاز ہوا۔۱۴؂
سینیٹ کے اس اجلاس سے جناب آفتاب احمدشیخ (انگریزی میں خطاب)؛ حافظ فضل محمد؛جناب اکرم شاہ؛پروفیسر ساجد میر؛ ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ؛ مولانا عبدالستار خان نیازی؛جناب حبیب جالب بلوچ ؛ جناب خدائے نور؛ جناب رفیق احمد شیخ؛ قاضی محمد انور؛ جناب طاہر بزنجو؛ حاجی عبدالرحمٰن؛ جناب الیاس احمدبلور؛ جناب محمد اجمل خاں خٹک؛ جناب بشیر احمد مٹہ؛ چودھری اعتزاز احسن (انگریزی میں خطاب) اور میاں محمدنواز شریف وزیر اعظم پاکستان نے خطاب کیا اور سینیٹ کی اعلیٰ کارکردگی کو سراہااور بعض ارکان نے سینیٹ کے قیام اور استحکام کو ملک کے استحکام اور بقا ء کے لیے انتہائی ضروری قرار دیا۔ چیئر مین سمیت ۱۸ معزز ارکان نے اظہار خیال کیا۔ ان میں سے جناب آفتاب احمد شیخ اور چودھری اعتزاز احسن نے ذریعہ اظہارکے لیے انگریزی زبان کو اختیار کیا جب کہ وزیر اعظم سمیت باقی تمام معزز ارکان نے اردو میں تقریریں کیں۔ دل چسپ امر یہ ہے کہ چودھری اعتزاز احسن نے اپنے انگریزی خطاب کے دوران اردو میں ایک آزاد نظم پڑھی جو یہ ہے:
وہ کون سخی تھے جن کے لہو کی اشرفیاں
چھن چھن دھرتی کے پیہم پیاسے
کشکول کو بھرتی جاتی تھیں
کشکول میں ڈھلتی جاتی تھیں
وہ کون جو ان تھے ارض وطن
وہ لکھ لٹ جن کے جسموں کی
بھرپور جوانی کا کندن
یوں خاک میں ریزہ ریزہ ہے
یوں کوچہ کوچہ بکھرا ہے
اے ارض وطن کیوں نوچ کے ہنس ہنس پھینک دیے
ان آنکھوں نے اپنے نیلم
ان ہونٹوں نے اپنے مرجان
ان ہاتھوں کی بے کلی چاندی کس ہاتھ کھلی
کس کام آئی ٗ کس کام آئی ۱۵؂
پاکستان کی علاقائی زبانوں کے حوالے سے ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ نے کہا:
’’یہ ملک کی تمام قومیتیں، قومی کلچر، یہ قومی زبانیں، یہ سب کی زبانیں ہیں ۔پنجابی ہماری قومی زبان ہے، سندھی ہماری قومی زبان ہے، پشتو ہماری قومی زبان ہے اور بلوچی ہماری قومی زبان ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان تمام زبانوں سے محبت کریں۔ یہ گلدستہ کی مانند ہیں۔ یہ ملک کے مختلف پھول ہیں ۔اس سے ملک مضبوط ہوتا ہے۔‘‘۱۶؂
یک جہتی اور زبان کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے جناب محمد اجمل خان خٹک نے کہا:
’’پاکستان کا مشرقی حصہ، جو آج بنگلہ دیش کہلاتا ہے اس میں ایک زبان کے مسئلے نے، جس میں ہم نے ان کے حق کو تسلیم نہیں کیا ،ملک کو دو ٹکڑے کر دیا۔ اگر یہ موہنجوداڑو کی تہذیب اور تاریخ ، جذبات اور نفسیات اور حقائق کو ہڑپہ کے، بھٹ شاہ کے، خوش حال خاں خٹک کے، فرید بابا کے اور بلوچستان کے پہاڑوں اور دریاؤں کو نظرانداز یا پامال کرنے کی کوشش کریں گے تو وہ ایک زبان کا مسئلہ بن سکتا ہے۔‘‘۱۷؂
نتائج:
دستوری تحفظات کے باوجود خدشات اپنی جگہ موجود رہے اور نفاذ اردو کی راہ میں ہر گام پر ایک نئی رکاوٹ سر اٹھائے کھڑی ہے۔ اس کے باوجود اردو نے اپنا سفر جاری وساری رکھا اور محبان اردو کی بدولت آج اردو زبان قانون ساز اداروں میں شان و شوکت کے ساتھ جلوہ افروز ہے۔ سینیٹ کے معزز ارکان کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات اور ان ارکان کی جانب سے مخصوص پارلیمانی اصطلاحات( ٹرمینالوجی) (مثلاً بل، سوالات،تحریک استحقاق،تحریک التوا، ایجنڈا ، کورم، قرارداد، ترامیم کے نوٹس، کٹوتی کی تحریک،رولنگ، عام بحث، ترامیم کے نوٹس، پوائنٹ آف آرڈر ،واک آؤٹ و دیگر) کو اردو کے لیے بروئے کار لانا ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔

حوالہ جات

۱۔ پنجاب گزٹ؛۳۔نومبر ۱۸۵۸ء
۲۔ انڈین کونسلز ایکٹ؛ ۱۸۶۱ء، ۱۸۹۲ء
۳۔ گورنمنٹ انڈیا ایکٹ ؛ ۱۹۱۹ء
۴۔ گورنمنٹ انڈیا ایکٹ ؛۱۹۳۵ء
۵۔ نذیر احمد مہر؛ سینیٹ نیوز(سلور جوبلی نمبر)؛جلد ۵؛شمارہ ۸؛اگست ۱۹۹۸ء
۶۔ Constitution making in Pakistan; P.172
۷۔ مباحث سینیٹ آف پاکستان؛ ۶۔اگست ۱۹۷۳ء؛ ص: ۱
۸۔ مباحث سینیٹ آف پاکستان؛ ۶۔اگست ۱۹۷۳ء؛ ص :۴
۹۔ مباحث سینیٹ آف پاکستان؛ ۶۔اگست ۱۹۷۳ء؛ص :۷
۱۰۔ مباحث سینیٹ آف پاکستان؛ ۶۔اگست ۱۹۷۳ء؛ ص:۱۰
۱۱۔ مباحث سینیٹ آف پاکستان؛ ۶۔اگست ۱۹۷۳ء؛ ص :۱۰تا ۱۶
۱۲۔ قواعد ضابطہ کار و انصرام کارروائی سینیٹ آف پاکستان؛ ۱۹۷۳ء ؛ ص: ۹۹۔۱۰۰
۱۳۔ فیصلہ جات صدر نشین سینیٹ سیکرٹریٹ ؛۱۹۸۱ء ؛ص :۱۷۲۔۱۷۳
۱۴۔ مباحث سینیٹ آف پاکستان؛ ۶۔اگست ۱۹۷۳ء؛ ص: ۱
۱۵۔ مباحث سینیٹ آف پاکستان؛ ۶۔اگست ۱۹۹۸ء؛ ص :۴۳
۱۶۔ مباحث سینیٹ آف پاکستان؛ ۶۔اگست۱۹۹۸ء؛ص: ۱۲
۱۷۔ مباحث سینیٹ آف پاکستان؛ ۶۔اگست۱۹۹۸ء؛ ص:۳۳