لیلیٰ عبدی خجستہ
پی ایچ ڈی اسکالر، اُردو؛ سندھ یونی ورسٹی،جام شورو،حیدر آباد

خوش کلامی اور اُردو زبان

Abstract
In written or spoken language, we prefer to use some words or phrases or ignore some others. In linguistic this is called euphemism. "A word or phrase used as a substitute for a vulgar, profane, blahphemous or otherwise disturbing expression". (Dictionary of lexicography, 1998, p:53) The paper investigates the use of euphemism in contemporary Urdu language. More examples are given from Persian and English languages. Also the paper traces euphemism in old Urdu books and dictionaries.

۱۔ یوفی میزم کی تشریح
زبان، انسانی کردار کی سب سے واضح شکل ہے۔ زبان کے بولنے والے کو کم از کم اپنی زبان کے دو اسلوب اپنانا ہوتے ہیں۔ایک جو وہ بے تکلفّانہ ماحول اور اپنے دوستوں کے ساتھ استعمال کرتا ہے۔ دوسرا وہ ہے جو سنجیدہ اور رسمی گفتگو میں اختیار کرتا ہے۔ گویا زبان کے بولنے والے گفتگو کرتے وقت الفاظ کے استعمال میں تین باتوں کا خیال رکھتے ہیں: زمان، مکان اور مخاطب کا۔ مثلاً ہم روزمرّہ زندگی میں بار بار یہ الفاظ و عبارات بولتے اور سنتے ہیں:
’’کہنا‘‘؛ ’’بتانا‘‘؛ ’’عرض کرنا‘‘؛ ’’فرمانا‘‘۔
’’اُس سے لے لو!‘‘؛ ’’اُس سے مانگ لو!‘‘؛’’اُن سے درخواست کرنا‘‘؛ ’’اُن سے گزارش کرنا‘‘۔
جب ہم کسی سے بات کرتے ہیں تو ہمیں اچھی طرح سے معلوم ہوتا ہے کہ اِن الفاظ میں سے کس کو ، کہاں، کس کے ساتھ اور کس طرح استعمال کرنا ہے۔ بعض اوقات کسی ناگوار موضوع سے متعلقہ الفاظ ادا کرنا بُرے، ناشائستہ یا ناگوار سمجھے جاتے ہیں لیکن دورانِ گفتگواِن کا ذکر چوں کہ ناگزیر ہے اِس لیے اشخاص الفاظ کا مفہوم ادا کرنے کے لیے ایسے کنایے ایجاد کرتے ہیں جن سے مطلب ادا ہو جائے لیکن بُرائی ، ناشائستگی یا ناگواری کا کوئی پہلو نہ نکلے۔ گویا ایک ہی بات کو مقتضائے کلام کی بناء پر بہتر، شائستہ اور خوش گوار انداز میں بیان کرنا چاہتے ہیں۔ اِس سلسلے میں لسانیات میں ایک اصطلاح ہوتی ہے : ’’خوش کلامی‘‘ (euphemism)۔ اس کا اُردو ترجمہ :
) ’’انگلش۔ اُردو ڈکشنری‘‘ (فیلن، ۱۸۷۹ء،ص:۳۵۳)بُری بات کا اس طور پر کہنا جس سے کوئی ناراض نہ ہو، شکر ریزی
) ’’انگریزی۔ اُردو لغت‘‘ (احمد، ۱۹۹۷ء، ج: ۲، ص ۴۳۲): ’’سخت مفہوم کو نرم الفاظ سے استعمال کرنا؛ کڑی بات کو ہلکی بولی میں
کہہ جانا؛ حُسنِ تعبیر؛ بُری بات کے لیے ملائم الفاظ کا استعمال۔ لسانیات: خوش لفظی
) ’’فرہنگِ اصطلاحاتِ لسانیات انگریزی۔ اُردو ‘‘ ( علی خاں، ۲۰۱۰ء، ص : ۷۴): خوش گواریت
یوفی میزم ’’euphemism‘‘ ایک انگریزی اصطلاح ہے جس کا لاطینی مادّہ :eu(=wellخوب) اور phemism (=speakبولنا) ہے۔ ہینری واٹسن فاولر (۱۸۵۸۔ ۱۹۳۳ء، Henry Watson Fowler) نے اس لسانی اصطلاح کی یوں تشریح کی ہے : ’’ یہ ایک ایسی ملائم اور نرم اصطلاح ہے جو تلخ اور ناگوار حقیقت کی جا گزین ہوتی ہے۔ ‘‘ (فاولر، ری پرنٹ ۲۰۰۲ء، ص : ۴۴۵) یعنی: ’’ یوفی میزم ایک ایسا لسانی اسلوب ہے جو ایک ناگوار اور آزار دہندہ مفہوم و عبارت کو بیان کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ اُن کی تلخی اور ناگواری کو کم اور بالواسطہ طریقے سے بیان کیا جا سکے ۔‘‘ (آئی۔ ای۔ ایل، ۲۰۰۶ء، ج:۲، ص: ۶۹)*
دیگر لفظوں میں یوفی میزم ایک ایسا اسلوب ہے جس کے ذریعے ہم الفاظ کے ظاہر کو آراستہ و پیراستہ لباس پہناتے اور کسی مفہوم یا عبارت کو اچھے ، لطیف، نرم، خوب صورت، ملائم، محترمانہ یا مودّبانہ طریقے سے بیان کرتے ہیں۔ مثلاً اُردو میں : جب ’’اندھا ‘‘ کو ’’نابینا‘‘ یا ’’موٹا‘‘ کو ’’صحت مند‘‘ کہتے ہیں تو اپنے آراستہ الفاظ کے ذریعے سے مخاطب کی تحقیر یا رنجش کا باعث نہیں بننا چاہتے ہیں۔دوسروں کے سامنے’’بوڑھے اشخاص‘‘ کو ’’سینئرسیٹی زن‘‘ مخاطب کرتے ہوئے ان کی بڑی عمر کی نشاندہی نہیں کرتے بلکہ اُن کے تجربے اور پختگی کا اِظہار کرتے ہیں۔ چناں چہ ’’ڈکشنری آف لیکز یکو گرافی ‘‘میں یوفی میزم کے معنوں میں ’’double-speak‘‘ کا لفظ بھی استعمال کیا گیا ہے۔ ( ڈکشنری آف لیکزیکو گرافی؛ ۱۹۹۸ء، ص: ۵۳)۔
۲۔یوفی میزم اپنانے کے محرّکات
اریک ہنی ووڈ پیٹریج ( ۱۸۹۴۔ ۱۹۷۹ء، Eric Honeywood Patridge) خوش کلامی اپنانے کی یہ وجوہات بتاتے ہیں : ’’ اپنے آپ کو کسی موقع، محل یا گروہ میں مناسب طریقے میں عادی بنانے کی خواہش رکھنا؛ دوسروں کو حوصلہ یا ترغیب دینا؛ اپنے مخاطب کا احترام؛ متاثر یا خوش کرنا؛ کسی درد ناک واقعے کا اثر کم کر دینا۔‘‘ ( پیٹریج، ۱۹۳۳ء، ص: ۱۱۱۔۱۱۲)۔ آر ایچ ہولڈر(R.H.Holder) نے ’’ ڈکشنری آف یوفی میزم ‘‘ کے مقدّمے میں خوش کلامی یعنی یوفی میزم اختیار کرنے کے یہ اسباب بیان کیے ہیں:’’ کسی بات کا نظر انداز کرنا یا اُس کا اَصل معنی و مفہوم چھپانا؛ منافقت اور دوغلاپن سے کام لینا؛ احتیاط اور انکسار کا اِظہار کرنا؛ دھوکا اور فریب دینا ‘‘ ( ہولڈر، ۱۹۹۵ء، صvii:) عام طور پر یوفی میزم اپنانے کے مندرجہ ذیل محرّکات ہوتے ہیں:
۲۔۱: باادب اور محترم ہونا
ہم گفتگو کرتے وقت زمان، مکاں اور مخاطب کے شان و رتبہ کا خیال رکھتے ہوئے چُنیدہ الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً اُردو میں: کسی بزرگ کی اُس کے درجے کے موافق تعظیم و تکریم کرنے کے لیے ’’ آداب بجا لانا‘‘ کہیں گے۔ جب کوئی معزّز یا بزرگ کسی کام کو کہتا ہے تو اُس موقع پر لفظ ارشاد سے بات کو تعبیر کر کے کہیں گے:’’ارشاد کرنا‘‘۔ ’’عورت‘‘ کے لیے ’’خانم،بی بی‘‘؛’’لیڈی، میڈیم‘‘ جیسے الفاظ اختیار کرتے ہیں یا اگر کسی سے یہ پوچھنا ہے:’’ کیوں آئے ہو؟‘‘ تو مؤدبانہ طریقے سے پوچھیں گے: ’’ تمہارا کیسے آنا ہوا؟‘‘انگریزی میں :’’ Barbers‘‘ کو ’’hair consultant‘‘کہتے ہیں ۔ ’’ booking‘‘ کو ’’home science‘‘ کہتے ہیں۔ ’’flight service director‘‘ کو ’’ chief steward on an aircraft‘‘ کہتے ہیں۔ (بروکفیلڈ، ۲۰۰۴ء، ص: ۲۶۸)
۲۔۲: الفاظ کا (جزئی) تفاوت دکھانا
مثلاً اُردو میں حقیقتِ اَمر دریافت کرنے کے لیے یہ الفاظ استعمال ہوتے ہیں:’’تحقیق‘‘، ’تجسّس‘‘، تفحّص‘‘ اور ’’تفتیش‘‘۔ اِن میں باریک فرق ہوتے ہیں:
تحقیقات میں حق جوئی ہے۔ تجسّس، کے مادّے میں خبر کی تلاش اور وہ بھی بدی کے لیے مخصوص ہے۔ جاسوسی، اِسی مادّے سے نکلا ہے۔ تفحّص میں بھی کریدنے کا جزو شامل ہے اور ساتھ ہی اُس کی عیب جوئی اور راز جوئی بھی ہے۔ تجسّس و تفحّص میں نیّت اور ارادہ نیک نہیں ہوتے۔ تفتیش، کریدنا اور کرید کرید کر کسی بات کا نکالنا ہے۔ اِ س میں کسی قسم کی بد نیّتی کا دخل نہیں ۔ (عابد، ۱۹۹۶ء، ص: ۱۶۲)
’’gaoler‘‘ کو ’’prison officers‘‘ کہتے ہیں؍’’Commercial travelers‘‘ کو ’’Sales representatives‘‘ کہتے ہیں۔ (بروکفیلڈ، ایضاً)
۲۔۳: کسی بات (موضوع) کے اصل مفہوم کو بالواسطہ بیان کرنا
بعض اوقات کوئی بات، اپنی اصلی شکل میں سماجی، تہذیبی، مذہبی یا اخلاقی پس منظر کی بنا پر، نیچی نظروں سے دیکھی جاتی ہے، جب کہ اگر وہی بات بالواسطہ کہی جائے تو اُس کی ناگواری کم ہو جاتی ہے۔ مثلاً اُردو معاشرے میں ’’رشوت‘‘ مذہبی اور قانونی پس منظر کی بنا پر بُری سمجھی جاتی ہے۔ چناں چہ عموماً اِس بات کا اشارہ دوسروں کے سامنے براہ راست نہیں ہوتا اور رشوت دینے اور لینے والوں کی طرف سے یہ عبارت اختیار کی جاتی ہیں: ’’ چائے پانی کا پیسہ دینا‘‘؛ ’’قائداعظم دینا‘‘؛’’مٹھائی دینا‘‘؛مٹھی (جیب) گرم کرنا‘‘؛’’لال (ہری) والا پیسہ نکالنا؛ یا یہ جملہ بولا جاتا ہے :’’ آپ سائیڈ پہ آئیے گا!‘‘ یا ’’ میز کے نیچے سے دیجیے گا!‘‘۔
میدانِ سیاست میں خوش کلامی اپنانے کا سب سے بڑا محرّک یہ ہوتا ہے کہ بالواسطہ الفاظ کے ذریعے عوام کے اذہان میں اپنی باتیں منوانا۔ مثلاً انگریزی میں : ’’reduction of staff‘‘کو ’’outplacement, restructuring, downsizing‘‘ کہتے ہیں۔ (بروکفیلڈ، ایضاً)
۲۔۴: ناگوار اور تلخ موضوع (یادوں ) کو دور کرنا
بعض اوقات گفتگو کرتے ہوئے اَصل لفظ سے اس لیے پرہیز کرتے ہیں کہ یہ لفظ تلخ اور ناپسند موضوع کی یاد آوری کراتا ہے ۔ مثلاً کھیلوں میں جب اپنی پسندیدہ ٹیم ہار جاتی ہے تو اس تلخ بات کو ذہن سے دور کرنے کے لیے لفظ بدل کر کہتے ہیں: ’’ہماری ٹیم نہیں جیت سکی‘‘۔
‘‘جب امریکہ نے ویت نام پر حملہ کیا تو اُس نے تمام جنگ کے دوران یوفی میزم یعنی خوش کلامی سے اپنا پورا فائدہ اُٹھایا ۔ جنگِ خلیج کے دوران بہت سے سپاہی:’friendly fire‘ یعنی اسی سرد مہر توصیف کے نام سے مر گئے‘‘۔ (بروکفیلڈ، ایضاً)۔ ’’۱۹۹۱ء میں صدام حسین (۱۹۳۷ء۔ ۲۰۰۶ء) عراق کے سابق صدر ’’حرب الخلیج الثّانیۃ‘‘ کے دوران اس عبارت کی جگہ ’’اُمّ المُعارِک‘‘ کا انتخاب اور رائج کر دیا‘‘۔ (آئی۔ای۔ ایل، ۲۰۰۶ء، ج: ۲، ص۷۱) [حزب الخلیج الثّانیۃ: دوسری جنگِ خلیج کے معنو ں میں۔ یہ عبارت اُس دور کے ذرائع ابلاغ میں کثرت سے استعمال ہوتی تھی، جب کہ اُمّ المُعارِک : جنگوں کی ماں یعنی:’’عظیم جنگ‘‘ کے مفہوم میں آتا ہے۔ پہلے والی عبارت ’’جنگ و خون‘‘ کے مفہوم میں اور دوسری والی ’’ بہادری اور ہمت‘‘ کے مفہوم میں۔
۲۔۵: پسِ منظر (روحانی ، مذہبی و تہذیبی وغیرہ) کا اِظہار کر نا یا اجتناب کرنا
اُردو میں جب کبھی روحانی بُزرگوں کے حوالے سے بات کرنا ہوتی ہے تو الفاظ کے ذریعے ان کی روحانیت کی عزت کا اِظہار بھی کرتے ہیں ۔ چناں چہ اس حوالے سے ایسے الفاظ کا انتخاب کرتے ہیں: ’’قبر‘‘ کی جگہ :’’مزار‘‘؛ ’’مزار پر جانا‘‘ کی جگہ ’’مزار کی زیارت کرنا‘‘۔ نیز’’قرآن ‘‘ اور ’’اذان ‘‘ مذہب سے متعلقہ موضوع ہیں ۔ چناں چہ ’’قرآن پڑھنا‘‘ کی جگہ ’’ قرآن کی تلاوت کرنا‘‘ ؛ ’’اذان سُننا‘‘ کی جگہ ’’اذان کی سماعت حاصل کرنا‘‘ اختیار کرتے ہیں۔
بعض ایسے الفاظ بھی ملتے ہیں کہ جادو ٹونے ، نحوست وغیرہ کے پسِ منظر کی وجہ سے اُن کے بولنے سے احتراز کرتے ہیں اور ان کے بجائے دوسرے مروج الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً پُرانے دور میں ’’دُھوبن ‘‘ کو’’ اُجلی ‘‘ کہتے تھے۔ کیونکہ ’دھوبن‘ ایک سیاہ رنگ کی چڑیا کا بھی نام تھا جس کی سیاہ رنگت کی وجہ سے اس کو جادو ٹونے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا ‘‘۔ (نسیم، ۱۹۷۹ء، ص:۸۷)
۲۔۶: خواہش اور آرزو کا اِظہار کرنا
بعض اوقات ہم اپنی گفتگو میں ایسے الفاظ اختیار کرتے ہیں جن سے اپنی خواہشوں اور آرزوؤں کا اِظہار کرتے ہیں۔ ’’عربی زبان میں ایک پرانا طریقہ ہے ‘‘۔ ( آئی ۔ ای ۔ ایل، ۲۰۰۶ء، ج:۲، ص:۷۰)۔ چناں چہ عربی میں ’’اندھے شخص‘‘ کو ’’عَمی‘‘ کہا جاتا ہے لیکن اس لفظ کی خوش کلامی ہے :’’ بصیر‘‘ کیوں کہ :’’ عمی‘‘کا معنی ہے: جس کی آنکھوں میں روشنی نہ ہو جب کہ’’ بصیر‘‘کا مطلب ہے : روشن آنکھوں والا۔ اس حوالے سے فارسی میں بھی یہی انداز اختیار کیا جاتا ہے۔ فارسی میں ’’اندھے شخص ‘‘ کو ’’ کور، نابینا‘‘ کہتے ہیں۔ اس لفظ کی خوش کلامی :’’ روشن دل ‘‘ یعنی: اُس کی آنکھوں میں روشنی نہیں تاہم اُس کا دل روشن ہے۔
۲۔۷: بہتر اور خوب صورت بنانا
اُردو میں انکسارانہ اور تکلفانہ اندازِ بیان، بات کو بہتر اور مؤثر بناتا ہے۔ مثلاً کسی کو ’’ تم سے کام ہے‘‘ کے بجائے یہ جملہ بولیں گے:’’ آپ کو تھوڑی سی زحمت دینی ہے ‘‘۔ یا ایسے موقع پر کام کرانے سے پہلے اُس شخص سے مخاطب ہوتے ہوئے کہیں گے:’’ اگر تم یہ زحمت قبول کرو۔۔۔‘‘۔
۲۔۸: کسی کا ذہن و فکر اپنی طرف متوجہّ کرنا
کبھی کبھی بالواسطہ بولنے کا اثر زیادہ ہوتا ہے بہ نسبت براہ راست بولنا۔ چناں چہ اس موقع پر ہم خوش کلامی یعنی یوفی میزم استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً انگریزی میں ’’honorarium‘‘ یا ’’ convey‘‘ کی بجائے ’’plagiarize‘‘۔
۲۔۹: حقیقت چھپانا
خوش کلامی کا زیادہ استعمال، اصل مطلب چھپانا ہے کیوں کہ خوش کلامی سے سُننے والے کا ذہن غیر شعوری طور پر دوسری طرف پر چلا جاتا ہے۔مثلاً ۱۹۹۰ء کے آغاز میں ’’recession‘‘ یورپ میں ایک منفور لفظ شمار کیا جاتا تھا کیوں کہ اُس سے ‘‘ ہار اور پست ہمّتی‘‘ کا مفہوم اخذ کیا جاتا تھا۔ چناں چہ اُس دور کے اخبار نویس عبارت ’’The R word‘‘ استعمال کرنے لگے جب کہ Masstrichtمعاہدے کے بعد یورپی کمیونٹی کی طرف سے ’’federalism‘‘ رائج ہوئی۔ ( کرسٹل، ۲۰۰۱ء، ص: ۱۷۲)
۲۔۱۰: دوسروں کا لحا ظ کرنا
ڈیویڈکرسٹل نے :’’ دی کیمبرج انسائیکلو پیڈیا آف دی انگلش لینگویج‘‘ میں یوفی میزم یعنی خوش کلامی کی ایک اور دلچسپ دلیل بتائی ہے۔ اُن کے خیال میں؛ ’’یوفی میزم ایک ایسی تکنیک ہے کہ لوگ اس کے ذریعے ایک دوسرے کا لحاظ کرتے ہیں‘‘۔ ( کرسٹل، ایضاً)۔ چناں چہ بعض اوقات :
۔ اپنی گفتگو میں سامنے والے شخص کا لحاظ کرتے ہیں ۔ مثلاً ایک غیر ملکی، جسے اُردو زبان اچھی نہیں آتی، پہلے اپنے مخاطب سے : ’’ میری اُردو کو معاف کیجیے گا !‘‘ بول کر اپنی بات پوری کرتا ہے ۔
۔ دوسروں کی موجودگی کا لحاظ کرتے ہیں:مثلاً کہتے ہیں: ’’ اِدھر خواتین بیٹھی ہوئی ہیں۔ تمیز سے بات کرو!‘‘یا’’ اِدھر بچے ہیں۔ منہ سنبھال کر بات کرو!‘‘
۳۔ خوش کلامی اور موضوعات
خوش کلامی کی تعریف مدِ نظر رکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ خوش کلامی کوناشائستہ، ناگوار اور تلخ موضوعات سے احتراز کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔ چناں چہ سیلنگ(slang) ۱؂ اور ٹیبو(taboo) ۲؂ الفاظ و عبارات کی بجائے ’’خوش کلامی ‘‘ بہت ہی کار آمد ہے۔
۳۔۱: عقیدتی اور مذہبی موضوعات
پاکستانی معاشرے میں حضور ﷺ کا نام کبھی نہیں لیا جاتابلکہ آپ ؐ کے صفاتی نام استعمال کیے جاتے ہیں۔ جیسے : حضورﷺ، گنبد خضریٰ والے ۔ نیز پاکستانی معاشر ے میں یہ ایک عام مذہبی تصور ہے کہ فقیر کو پیسے دینے سے انکار نہیں کرنا چاہیے۔ تاہم آج کل کے معاشرے میں کچھ لوگ فقیر کے روپ میں پیسے کماتے ہیں ۔ چناں چہ لوگ ان فقیروں کو بالواسطہ پیسے دینے سے انکار کرنے کے لیے خوش کلامی استعمال کرتے ہیں : ’’ با با (یا اماں ) معاف کرو!‘‘
۳۔۲: شرف و عزت والے موضوعات
پاکستانی معاشرے میں اس حوالے سے بڑی احتیاط سے گفتگو کرنی چاہیے۔مثلاً دوسروں کے سامنے شوہر اپنی بیوی اور بیوی اپنے شوہر کو بالترتیب ’’ گھر والی ‘‘ اور ’’ گھر والا‘‘ بولے گی۔
۳۔۳: غیر قانونی کاروبار
غیر قانونی کاروبار نہ پھیلانے کے لیے خوش کلامی (euphemism) استعمال کیا جاتا ہے۔جیسے چوری، اسمگلنگ، نشہ آور چیزوں کے لین دین وغیرہ کے کاروبار میں۔ انگریزی میں: ’’casket‘‘ایک خوش کلامی ہے: ’’coffin‘‘ کے لیے۔
۳۔۴: موت
موت ایک ایسا موضوع ہے جس کے بارے میں محتاط رویہ اختیار کرنا چاہیے تا کہ مخاطب کے جذبات و احساسات مجروح نہ ہوں۔ چناں چہ موت اور اُس کے متعلق موضوعات ہمیشہ خوش کلامی کے دائرہ ء کار میں آ جاتے ہیں۔
مثلاً اُردو میں:
لفظ
خوش کلامی
مرنا
انتقال ہونا یا ؛ڈیتھ ہونا یا؛ فوت ہونا یا؛ وفات پانا
موت
انتقال ؛ ڈیتھ؛ فوت؛ وفات
مُردہ۔ مرا ہوا
فوت شُدہ؛ مرحوم؛ مغفور؛ وفات یافتہ
قبرستان
شہرِ خموشاں
فارسی میں:
واژہ
حُسنِ تعبیر *
مُردَن
دَر گُزَشتَن؛ فوت کَردَن؛ وَفات یافتَن
مَرگ
در گُذَشت؛ فوت؛ وَفات
مُردہ
شادرَوان؛ خُدا بیامرز؛ زِندہ یا د؛ مَرحوم
مُردہ شور
غَسّال (غُسّالہ)
انگریزی میں:
euphemism
word
pass on; fall asleep
die
after life
death
departed
dead
professional car
hearse
slumber room
funeral business
۳۔۵: بیماری
بیماری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اُس کی خطرناکی اور درد ناکی دور کرنے کے لیے خوش کلامی استعمال کرتے ہیں۔مثلاً اُردو میں : ’’تپِ دق‘‘ اور ’’ سرطان‘‘ جیسی خطرناک بیماریوں کے نام لینے کی جگہ ’’ موذی بیماری‘‘ کہتے ہیں۔ یا ازمنۂ وسطیٰ کے ولندیزی طبیب ’’piles‘‘ کی جگہ ’’figs in the secret passage‘‘ لکھا کرتے تھے۔ ( آئی۔ ای ۔ ایل، ۲۰۰۶ء، ج: ۴، ص: ۴۵۵)
۳۔۶: ذہنی اور جسمانی معذوری
جب کوئی شخص ذہنی یا جسمانی معذوری کا شکار ہوتا ہے تو اگر ہم براہ راست اُس کی معذوری کی طرف اشارہ کریں تو یقیناًاُس کی تحقیر، توہین اور نتیجتاً اُس کی دل آزاری کا سبب بن جائیں گے۔ چناں چہ ایسے موقع پر خوش کلامی سے کام لیتے ہیں۔ مثلاً اُردو میں: ’’وُہ بہرہ ہے۔‘‘ کے بجائے ’’ وُہ اُونچا سُنتا ہے‘‘۔ کہیں گے۔ یا مثلاً فارسی میں جہاں پاگل لوگوں کا علاج کیا جاتا ہے ، اُسے ’’ دیوانہ خانہ‘‘ کہتے ہیں۔البتہ اِس ذہنی معذوری کو دوررکھنے کے لیے خوش کلامی اختیار کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’’تیمارستان‘‘ یا اُس سے اور بہتر لفظ ’’ مراکز بیمارانِ روانی‘‘ [ ذہنی بیماروں کا سینٹر]۔ ( ’’ تیمارستان‘‘ پرانی فارسی میں فعلِ مرکّب’’ تیمار کردن‘‘ موجود تھا بہ معنی :’’ علاج کرنا‘‘ اور ’’ستان‘‘ ایک فارسی لاحقہ ہے بہ معنی: ’’محل۔جگہ‘‘۔ چناں چہ:’’تیمارستان‘‘ یعنی ایک ایسی جگہ جہاں بیماروں کا علاج کیا جاتا ہے۔ آج کل یہ جگہ، پاگلوں کے علاج خانہ کے لیے مختص ہے۔)
۳۔۷: عورتوں سے متعلق موضوعات
پاکستانی معاشرے میں پردہ کی وجہ سے عورتوں کے متعلق بڑی احتیاط کے ساتھ بات کرنا ہوتی ہے۔ مثلاً اُردو میں : ’’فلاں عورت حاملہ ہے‘‘۔ کہنے کے بجائے خوش کلامی استعمال کرتے ہوئے بولیں گے:’’ وہ اُمید سے ہے‘‘ یا ’’ اُس کا پاؤں بھاری ہے‘‘۔
۳۔۸: جنسی اعضاء ، افعال اوردیگر متعلق موضوعات
جنس سے وابستہ موضوعات کو ہمیشہ خوش کلامی کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے۔ اِس حوالے سے یہ الفاظ و عبارات استعمال کی جاتی ہیں۔ مثلاً اُردو میں :’’ اِندامِ نہانی‘‘؛ ’’شرم گاہ‘‘؛’’رفع حاجت‘‘؛’’پینٹی‘‘؛’’واش روم‘‘۔نیز’’زیادتی کرنا‘‘ کہنے کی بجائے:’’کسی کے ساتھ غلط کام کرنا‘‘۔
انگریزی میں:
euphemism
word
powder my nose
go to the toilet
relieve
urinate
۴۔ خوش کلامی اور لسانیات
خوش کلامی استعمال کرنے کے لیے تمام لسانی وسائل ، قواعد ( اسم، فعل، صفت وغیرہ) ، صوتیات، معنیات، ساختیات، اسلوبیات اور سماجیات وغیرہ سے کام لیا جاتا ہے۔
۴۔۱: استعارہ و تشبیہ سے کام لینا
مثلاً اُردو میں: ’’ وُہ بہت بوڑھا ہو گیا ہے‘‘، کہنے کے بجائے تشبیہ سے کام لیتے ہوئے کہیں گے: ’’ وُہ آفتابِ لبِ بام ہے‘‘۔
یا انگریزی میں :’’ old age‘‘ کی جگہ مندرجہ ذیل الفاظ و عبارات بولی جاتی ہیں:
mature, mellow, riper years ( at a ripe old age), sunset years, the golden years,
twilight years.
۴۔۲:متضاد الفاظ و عبارات استعمال کرنا
۴۔۲۔۱: الفاظ کے متضاد معانی:
مثلاً اُردو میں :’’ فلاں گندہ شخص ہے‘‘ کے بجائے صفت کا متضاد لفظ استعمال کرتے ہوئے بولیں گے: ’’ فلاں صحیح شخص نہیں ہے‘‘۔
۴۔۲۔۲: لاحقہ یا سابقہ جن کا معنی نفی یا اثبات ہو۔ جیسے: ( منفی مفہوم کے معنوں میں ) : ’’اَ‘‘؛ ’’بَد‘‘؛ ’’بے‘‘؛ ’’خلاف‘‘؛ ’’ضد‘‘؛ ’’غیر‘‘؛ ’’نا‘‘۔ (مثبت مفہوم کے معنوں میں) : ’’با‘؛ ’’خوب‘‘؛ ’’خوش‘‘؛ ’’والا‘‘؛ ’’والی‘‘۔
مثلاً اُردو میں: ’’ وہ بات کرتے ہوئے دو چار گالی والی ضرور شامل کرتا ہے‘‘۔ کے بجائے اِس جملے میں خوش کلامی استعمال کرتے ہوئے بولیں گے:’’ وُہ بَد تمیزی سے بات کرتا ہے۔‘‘ اسی طرح :’’ وُہ اپنے کرتوتوں کی وجہ سے اپنے ابّو کی نیک نامی برباد کرتا ہے‘‘۔ کے بجائے اِس جملے میں خوش کلامی استعمال کرتے ہوئے بولیں گے:’’ وُہ اپنے ابّو کا ناخلف بیٹا ہے‘‘ اور ’’ وُہ پھوہڑ عورت ہے‘‘ کے بجائے اس جملے کو خوش کلامی میں بیان کرتے ہوئے بولیں گے: ’’ وہ سلیقہ مند خاتون نہیں ہے‘‘۔
ہولڈر کے بہ قول:’’ انگریزی میں ’ anti‘ حکم رانوں کا ایک ایسا قابلِ دست رس حلقہ ہے کہ وہ جہاں چاہیں اِ س کے ذریعے سے اپنے جابرانہ اور سیاسی مقاصد اور ڈکیٹیٹر شپ چلائیں گے۔ مثلاًقریباً ۱۹۴۵ سے لے کر ۱۹۹۰ء تک کی سرد جنگ (cold war) ۳؂ کے دوران امریکن ’’اشتراکیت‘‘ کا لفظ بولنے سے احترازکرتے تھے اور اُس کی جگہ ’’ انٹی فشیسٹ‘‘ کہتے تھے‘‘۔ ( ہولڈر، ۱۹۹۵ء، ص:۱۱)۔ ’’anti-personnel weapon‘‘ ایک خوش کلامی ہے’’killer weapon‘‘ کے لیے۔ انگریزی میں ’’under‘‘ ایک ایسا لاحقہ ہے جس میں ’’impropriety‘‘ اور ’’illegality‘‘ کے مفہوم چھپے ہوئے ہیں۔ جیسے: ’’under world‘‘؛ ’’under age‘‘ جب کہ ’’above‘‘ ایک ایسا لاحقہ ہے جس میں ’’superiority‘‘ کا مفہوم پوشیدہ ہے۔
۴۔۲۔۳: مثبت معنی رکھنے والے اسمائے صفات؛ جیسے :’’ اچھّا‘‘؛ ’’صحیح‘‘؛ ’’مناسب‘‘۔
مثلاً :’’ تم جھوٹ بول رہے ہو‘‘۔ کہنے کے بجائے یہ جملہ بولیں گے:’’ تم صحیح نہیں بول رہے ہو‘‘۔
ہولڈر کے مطابق:’’ انگریزی میں’appropriately‘ اور ’appropriate‘ بیورو کریسی والوں کا پسندیدہ لفظ خوش کلامی ہے۔ مثلاً ’appropriate technology‘ ایک یوفی میزم ہے ’electric shock treatment‘ کے لیے‘‘۔ (ہولڈر ایضاً)
۴۔۲۔۴: فعلِ نفی سے اجتناب کرنا یا اختیار کرنا
مثلاً :’’ وُہ بَد صورت ہے ‘‘۔ کہنے کے بجائے یہ جملہ بولیں گے:’’ وُہ خوب صورت نہیں ہے‘‘۔
’’ اِ س میچ میں ہماری ٹیم ہار گئی‘‘۔ کہنے کے بجائے یہ جملہ بولیں گے:’’ اِس میچ میں یہ ٹیم جیت نہیں سکی‘‘۔
۴۔۳: فعل مجہول بجائے فعل معلوم استعمال کرنا ( یا برعکس)
فعل مجہول اپنانے میں فاعل یعنی: کام کرنے والا معلوم نہیں ہوتا ہے جب کہ فعلِ معلوم کے استعمال سے فاعل پہچان لیا جاتا ہے۔
فعل مجہول اپنانے میں فعل یعنی: کام پر زور دیا جاتا ہے، جب کہ فعلِ معلوم کے استعمال سے فاعل اور فعل دونوں پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔
مثلاً اِ س جملے میں:’’ میں نے گلاس توڑ دیا ‘‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ کس نے گلاس توڑا۔ اِس میں فاعل (یعنی: میں) کی غلطی کا احساس و اعتراف پوشیدہ ہے اور ساتھ ساتھ مذمّت کا مفہوم بھی۔ یہ جملہ اگر مجہول کے روپ میں :’’ گلاس ٹو ٹ گیا۔‘‘ بیان کیا جائے تو مفعول یعنی : ’’گلاس‘‘ پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ دوسرے معنوں میں گلاس توڑنے والا جو بھی ہو گا وہ بچ جائے گا۔[ یہاں مراد جملہ بولنا ہے ورنہ یہ الگ بات ہے کہ قصور والے کا سُراغ لگایا جائے۔]
۴۔۴: فعلِ متعدی بجائے فعلِ لازم استعمال کرنا ( یا برعکس)
فعلِ لازم میں فاعل موجود اور مفعول غائب ہے، جب کہ فعلِ متعدی میں فاعل اور مفعول دونوں موجود ہیں۔چناں چہ اپنی گفتگو میں جب بُری یا ناشائستہ بات کو چھپانا ہے تو فعلِ لازم استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً ان دو جملوں کو ملاحظہ کیجیے:’’ جیل میں جانا‘‘، ’’جیل میں ڈالنا‘‘۔ پہلے جملے سے یوں سمجھا جاتا ہے کہ فلاں نے جُرم کیا ہے۔ یعنی اپنے جُرم کی وجہ سے۔ دوسرے جملے میں یوں سمجھا جاتا ہے کہ پولیس نے بے گناہ شخص کو گرفتار کیا ہے۔ اسی طرح:’’ نوکری میں نہ جانا‘‘ یا ’’ نوکری سے نکال دینا‘‘کی مثال ہے۔
۴۔۵: پرانے الفاظ کی بازیافت کرنا
مثلاً انگریزی میں خوش کلامی ( یوفی میزم) کے لیے الفاظ کا لاطینی مادّہ استعمال کیا جاتا ہے۔ مثلاً اُردو لغت نویسی میں ایس ۔ ڈبلیو۔ فیلن (۱۸۷۱ء۔ ۱۸۸۰ء) کی لغت ’’ اے نیو ہندوستانی انگلش ڈکشنری ‘‘( ۱۸۷۹ء) پر سب سے زیادہ نکتہ چینیاں کی گئی ہیں کہ اِس میں فُحش الفاظ اور محاورات شامل ہیں۴؂ ۔اِس سلسلے میں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ فیلن نے بعض فُحش محاروات کی تشریح انگریز ی میں نہیں کی ہے۔ مثلاً:’’ نیولے کی پھانسی‘‘ کے ذیل میں لاطینی میں لکھا ہے :’’pudendum foemina‘‘ ( فیلن، ۱۸۷۹ء، ص: ۱۱۸۱) یعنی اِس محاورے میں اتنا سوقیانہ پن موجود تھا کہ فیلن بھی برداشت نہیں کر سکے اور اسے انگریزی الفاظ میں کھلم کھلا تشریح نہیں کر سکے۔
۴۔۶: دوسری زبان کے الفاظ ادھار لینا
یہ طریقہ کثر ت سے اُردو زبان میں استعمال کیا جاتاہے اور اس میں فارسی ، عربی اور انگریزی کی مدد لی جاتی ہے۔ اس کی وجہ کے بارے میں کہہ سکتے ہیں کہ : گذشتہ دور سے لے کو موجودہ دور تک ، فارسی ادیبوں کی زبان، عربی عالموں کی زبان اور انگریزی بڑے افسروں کی زبان سمجھی جاتی ہے۔ مثلاً اُردو میں: ’’ چُپ‘‘ کی جگہ ’’ خاموشی‘‘ ( فارسی زبان کا اُدھار) ؛ ’’پورا‘‘ کی جگہ ’’مکمل‘‘ (عربی زبان کا اُدھار)؛ ’’طلاق کی جگہ ’’ ڈیورس‘‘( انگریزی زبان کا اُدھار) ہے۔
’’ انگریزی میں گفتگو کرنے میں جنس سے متعلقہ الفاظ کا اجتناب کرتے ہوئے اُن کے لیے خوش کلامی سے دوسری زبانیں : یونانی ، لاطینی اور فرانسیسی الفاظ سے اُدھار لیے جاتے ہیں‘‘۔ (آئی۔ ای۔ ایل، ۲۰۰۶ء، ج: ۴، ص: ۴۶۰)
۴۔۷: تکنیکی اور علمی الفاظ استعمال کرنا
فالر لکھتے ہیں :’’ یوفی میزم بیان کرنے میں خاص علموں کی اصطلاحات سے مدد لیتے ہیں۔ چناں چہ فلسفے کی یہ دو اصطلاحیں:’ آپ ٹی مزم‘ اور ’پیس مزم‘ خوش کلامی کے طور پر استعمال ہوتی ہیں:’ بَد گُمان‘ اور ’ خوش گُمان‘ شخص بولنے کے لیے ‘‘۔ ( فالر، ری پرنٹ، ۲۰۰۲ء، ص:۴۴۵)۔ مثلاً اُردو میں ’’ وہ پاگل ہے‘‘ کے بجائے کہیں گے:’’ اُس کا سائیکو مسئلہ ہے‘‘۔ (psychoneuroticنفسیات کی اصطلاح ہے)۔ مثلاً اُردو میں جنسی اعضاء سے متعلق بات کرتے ہوئے اُن کی انگریزی میڈیکل اصطلاحیں استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً :’’anaus‘‘۔
۴۔۸: مختصر کرنا
۴۔۸۔۱: الفاظ کی یک طرفہ تراش خراش کرنا
صرف الفاظ کے پہلے حروف بولے جاتے ہیں۔مثلاً اُردو میں ’’ شریفانہ گالی‘‘ ۵؂ دینے میں یہ طریقہ اپنایا جاتا ہے :’’ بی ۔سی‘‘یا ’’ڈی۔سی‘‘۔ مثلاً عربی میں بدعا کے طور کہا جاتا ہے: ’’یَلعَن الدّینک!‘‘ ( یعنی لعنت ہے تمہارے دین و مذہب پر) جب کہ اُس کی خوش کلامی میں ’’ن‘‘ حذف کر دیا جاتا ہے اور بولا جاتا ہے:’’یَلعَن الدّیک!‘‘ [یہاں مزاح بھی ہے کہ عربی میں ’’دیک‘‘ کو ’’ مرغا‘‘ کہا جاتا ہے] یا نفرین کے طور پر :’’یَلعَن حَریمُک!‘‘کہا جاتا ہے ( یعنی لعنت ہے تمہاری عزت پر) ، جب کہ ’’م‘‘ کو ’’ش‘‘ میں بدل کر اُ س کی خوش کلامی بناتے ہیں : ’یَلعَن حَریشک!‘‘۔ یا انگریزی میں ’jeeze‘‘ یا ’’gee‘‘ خوش کلامی کے طور پر استعمال ہوتے ہیں ’’jesus‘‘ کے لیے۔
اسی کی دوسری صورت میں صرف الفاظ کے آخری حروف بولے جاتے ہیں۔ مثلاً انگریزی میں ’’nation‘‘ خوش کلامی ہوتی ہے ’’damnation‘‘ کے لیے۔
۴۔۸۔۲: سرنامیے (acronym)
اِس طریقے میں کسی لمبی عبارت کے صرف پہلے حروف بولے جاتے ہیں۔ مثلاً انگریزی میں: ’’snafu‘‘ بولا جاتا ہے:’’situation normal, all fucked up‘‘ کے بجائے
۴۔۸۔۳: الفاظ کی تخفیف (truncation)
اِس طریقے میں تخفیف کیے گئے الفاظ بولے جاتے ہیں۔ مثلاً: ’’t.b‘‘ بجائے ’’tuberculosis‘‘ یا ’’big C‘‘ بجائے ’’cancer‘‘ کے۔
۴۔۸۔۴: ستارہِ نشان (asterisks)
اِس طریقے میں الفاظ کے کچھ حصّے نہیں لکھے جاتے ہیں اور بہ تعداد ، اُن کی جگہ خاص علامتیں رکھی جاتی ہیں۔ یہ طریقہ اکثرتحریری متون میں اختیار کیا جاتا ہے۔ مثلاً bl'''' ( بجائے :bloody)؛ f**k(بجائے:fuck)؛ s--t(بجائے : shit)۔
۵۔خوش کلامی اور دیگر طریقے
۵۔۱ کُل سے جزء مُراد لینا
اُردو میں :’’ وُہ بہت گندہ شخص ہے، چوری کرتا ہے، شراب پیتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، جواء بھی کھیلتا ہے اور عورتوں کے ساتھ واسطہ رکھتا ہے‘‘۔ جیسے تفصیلی جملے کی بجائے کہیں گے:’’ وُہ پانچوں عیب شرعی رکھنے والا شخص ہے‘‘۔
۵۔۲: کسی کمپنی کے پروڈکٹس کا نام لینا
مثلاً اُردو میں :’’ بال صفا کریم دیجیے گا!‘‘ کی خوش کلامی بنانے کے لیے کمپنی کی مصنوعہ کا نام لے کر کہتے ہیں:’’ ویٹ دیجیے گا!‘‘
۵۔۳: بات کو طویل بنانا
مثلاً اُردو میں :’’ وُہ بہت کنجوس ہے‘‘۔ کہنے کے بجائے بات کو طویل بنا کر کہیں گے:’’ وُہ بہت سوچ سمجھ کر پیسہ خرچ کرتا ہے‘‘۔
۵۔۴: خاموشی اختیار کرنا
فارسی میں جب کوئی دوسرے کو الّو بنا رہا ہے تو دوسرا اُس کے جواب میں بولے گا:’’ خودِتی!‘‘ ( اُس کا پورا جملہ یہ ہوتا ہے: خَرخودِتی! لیکن خوش کلامی استعمال کرتے ہوئے ’’خَر‘‘ کو حذف کرتے ہیں۔) یا انگریزی میں ’’Go to hell!‘‘ کے بجائے یہ جملہ بطور ناقص بولیں گے: ’’you know where to go‘‘۔ ( یہاں خاموشی اختیار کرتے ہیں)
۵۔۵: ہاتھ سے اشارہ کرنا
لفظ بولنے سے اجتناب کرنے کے لیے ہاتھ سے کوئی نہ کوئی اشارہ (gesture) کرتے ہیں۔ مثلاً اُردو میں :’’ فلاں پاگل ہے‘‘ کہنے کے بجائے ایک ہاتھ کی بڑی انگلی سے سر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یعنی؛ اُس کے دماغ میں کوئی مسئلہ ہے۔ یا رفعِ حاجت کے لیے ہاتھ کی چھوٹی انگلی کو سیدھا کھڑا کرتے ہوئے دکھاتے ہیں۔
۵۔۶: ضمیر استعمال کرنا
لفظ بولنے سے احتراز کرنے کے لیے ضمائر سے مدد لیتے ہیں۔ مثلاً اُردو میں :’’ وہ کمینہ شخص ہے‘‘۔ کہنے کے بجائے ضمیر استعمال کرتے ہوئے بولیں گے:’’ وہ ایسے ویسے شخص ہے‘‘۔یا مثلاً جنسی اعضاء کے بولنے سے اجتناب کرتے ہوئے بولیں گے : ’’وہ‘‘، ’’یہ‘‘، ’’فلاں‘‘۔
۵۔۷: آگاہ دہندہ علامتوں کا استعمال کرنا
لانگ مین ڈکشنری آف لینگویج اینڈ کلچر‘‘ کے مطابق :’’ جہاں تک ممکن ہے فلموں ، سینما اور میڈیا میں فور لیٹرورڈز کے استعمال کی روک تھام ہے اور اگر کبھی استعمال ہو جائے تو xعلامت کو استعمال کیا جائے گا۔ اُس کا مطلب یہ ہے کہ اِن فلموں کے مکالموں میں سوقیانہ الفاظ بولے جاتے ہیں اور صرف بڑوں ( عمر کے لحاظ سے )کو دیکھنے کی اجازت ہے‘‘۔(۱۹۹۲ء، ص: ۱۳۳۹)۶؂
۵۔۸: معاشے کے مرسوم عقائد و تصورات سے کام لینا
پاکستانی معاشرے میں:’’نصیب یا قسمت‘‘ ایک ایسا پکا عقیدہ ہے جس کے ذریعے ہر با ت کی دلیل بن جاتی ہے۔ اِس متداول عقیدے سے فائدہ اُٹھا کر بات کی تلخی و ناگواری کو کم کرتے ہیں۔ مثلاً:’’ وہ امتحان میں فیل ہو گیا‘‘۔ کہنے کے بجائے کہیں گے:’’اِس ا متحان میں نصیب نے اُس کا ساتھ نہیں دیا‘‘۔ یا’’ وہ اپنی زندگی میں خوش نہیں ہے‘‘۔ کے بجائے کہیں گے:’’ اُس کا نصیب اچھا نہیں تھا‘‘۔
۵۔۹: تحریری صورت اختیار کرنا
اکثر اوقات بُرے الفاظ ( مثلاً دُشنام الفاظ) سے اجتناب کرنے کے لیے کاغذ و قلم اُٹھا کر لکھ دیتے ہیں۔ مثلاً :’’ جنوبی افریقہ کے سوتھو (Sotho) قبیلے میں جب عورت کو کسی خاص لفظ بولنے سے اجتناب کرنا ہے تو وہ لفظ لکھ کر اپنا مطلب سمجھاتی ہے ‘‘۔ (آئی۔ ای ۔ ایل ، ۲۰۰۶، ج:۴، ص: ۴۶۵)
۶۔خوش کلامی اور بوڈ لریت
اُنیسویں صدی عیسوی میں ڈاکٹر ٹامس بوڈلر (۱۷۵۴ء۔ ۱۸۲۵ء،Thomas Bowdler) نے اپنی بہن کے ساتھ شکسپئیر کے فن پاروں کی اصلاح کرنا شروع کی اور ’’فیملی شکیسپئیر‘‘ تالیف کی۔ انھوں نے کتاب کے تعارف پر لکھا:’’ اِس میں وہ تمام الفاظ و عبارات حذف کر دی گئی ہیں جو اونچی آواز سے فیملی کے ساتھ پڑھنا مناسب نہیں ہیں‘‘۔ (آئی۔ ای۔ ایل، ۲۰۰۶ء،ج:۴، ص: ۴۵۹) ۔ اِس کتاب کی اشاعت کے بعد، بوڈلر یت (Bowdlerism) لسانیات میں ایک ایسی اصطلاح کا عنوان بن گیا جس سے مُراد یہ تھا کہ کسی فن پارہ کو اِس طرح ترمیم کیا جائے کہ اِس سے جنسی افعال اور دُشنام سے متعلق الفاظ و عبارات حذف کر دی جائیں تاکہ یہ فن پارہ اپنی دیگر خوبیاں کی بناء پر بڑے وسیع پیمانے پر لوگوں کی دست رس میں آسکے۔
اُردو میں بوڈلریت کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔ جب منشی نول کشو ر(۱۸۳۶ء۔ ۱۸۹۵ء) نے نظیر اکبر آبادی (۱۷۳۹ء۔ ۱۸۳۰ء) کے دیوان کا پہلا ایڈیشن شائع کیا تو اُس میں جنسی الفاظ سے متعلق تمام اشعار موجود تھے لیکن دوسرے ایڈیشن میں اُن تمام اشعار و نظموں سے فُحش الفاظ حذف کر کے خالی جگہوں میں نقطے ڈال دیے گئے ۔ نیز فورٹ ولیم کالج سے شائع ہونے والی مشہور داستان’’ طوطا کہانی ‘‘ میں ایسی ایسی کہانیاں شامل تھیں جنھیں آج کے دور میں آسانی سے محرّب الاخلاق کہا جا سکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب ڈاکٹر وحید قریشی (۱۹۲۵ء۔ ۲۰۰۹ء) نے اُسے مرتب کر کے شائع کیا تو اُس میں سے بہت سی عبارتیں بدل دیں یا حذف کردیں۔
۷۔خوش کلامی اور زمانہ کی اقدار
الفاظ کا تعلق لوگوں کے ذہن سے بہت گہرا ہوتا ہے ۔ الفاظ کے اندر پوشیدہ احساس، دراصل کسی معاشرے کی تہذیبی اور روایتی علامت ہوتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں بھی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جن کے اثرات الفاظ پر بھی پڑتے ہیں۔ دراصل کوئی قدر دائمی اور مستقل نہیں ہوتی ۔ اِس کے علاوہ ایک دور میں جو لفظ اور عبارت ’’ناگوار‘‘، ’’ناشائستہ‘‘ یا ’’غیر مہذب‘‘ تصور کی جاتی ہے وہ دوسرے دور میں نہیں رہتی یا اُس کا مفہوم یکسر تبدیل ہو جاتا ہے ۔ مثلاً انگلستان کے وکٹورین دور میں ’’legs‘‘، ’’trousers‘‘، ’’underclothing‘‘کے لیے بالترتیب یہ خوش کلامی الفاظ استعمال ہوتے تھے:’’unhittable‘‘، ’’unmentionables‘‘، ’’inexpressibles‘‘ (آئی۔ ای ۔ ایل، ۲۰۰۶، ج: ۴، ص: ۴۵۵)جب کہ آج کل کے انگریز معاشرے میں پہلے والے الفاظ سُننے اور بولنے میں بُرائی محسوس ہوتے ہیں۔ واقعتاً الفاظ معاشرے میں ہونے والے فیشن، معیارِ تعلیم اور سیاسی روّیوں وغیرہ جیسی تبدیلیوں سے متاثر ہوتے رہتے ہیں۔
اِس سلسلے میں ڈاکٹر پرویز ناتل خانلری لکھتے ہیں: ’’ جب ہم کسی تابو لفظ کے لیے کچھ شائستہ اور بہتر الفاظ انتخاب کرتے ہیں تو رفتہ رفتہ رواج اور کثرتِ استعمال کی بنا پر یہ الفاظ بھی ادب اور معاشرے کی اقدار کے خلاف ٹھہرے جائیں گے۔ نتیجتاً یہ الفاظ بھی بدلتے رہیں گے۔ مثلاً فارسی میں پہلے واش روم کے لیے ’مُبال‘ (بہ معنی: محلِ بول)، ’بیت الخلاء‘( بہ معنی: جائے تنہائی) اور ’مُستراح‘ ( ریسٹ روم یعنی: آرام گاہ) استعمال ہوتے تھے۔ کچھ عرصے سے پہلے سے اُن کی جگہ یہ الفاظ :’قضائے حاجت‘، ’آب دست‘ اور ’دست بہ آب‘ استعمال ہوئے۔ اب یہ الفاظ معمولی بن چکے ہیں اور اُن کی جگہ یہ الفاظ : ’کابینہ‘، ’ڈبلیو سی‘ اور ’توالت‘ خوش کلامی کے طور پر استعمال ہورہے ہیں۔ (ناتل خانلری، ۱۹۶۸ء، ص:۱۰۲) ۷؂
۸۔ خوش کلامی اور اُردو زبان
اُردو ادب کے کلاسیکی دور میں’’فصاحت‘‘ و ’’بلاغت‘‘ پر زور دیا جاتا تھا اور اُن میں جانِ مطلب یہ تھا: ’’ الفاظ کے استعمال میں محتاط رہنا۔ یعنی: شاعر اور ادیب اپنے اندرونی جذبات کو تخیل کی زبان میں بیان کرنے کے لیے کبھی معانی کے لیے موزوں الفاظ تلاش کرتا ہے او ر کبھی الفاظ کے لیے معانی۔ معانی لفظوں کی خارجی صورت معین کرتے ہیں اور لفظوں کے بر محل استعمال سے خود معانی کا معّین عمل میں آتا ہے ۔ الفاظ اور معانی کے صحیح ربط سے حُسنِ ادا کی جلوہ گری ہوتی ہے جس کے بغیر کلام میں تاثیر نہیں آ سکتی۔ چناں چہ گزشتہ اُردو زبان و ادب کے مطالعے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ خوش کلامی اُردو زبان میں استعمال ہوتی رہتی تھی لیکن اس کو باقاعدہ اصطلاحی نام نہیں دیا جاتا تھا۔ گزشہ دور میں بر اعظم میں اُردو بولنے والے کچھ اسباب کی بنا پر:توہم، نحوست یا قدامت وغیرہ خوش کلامی استعمال کرتے تھے۔ انکساری اور متکلف اندازِ بیان ہمارے گزشہ دور کی خوش کلامی کی عمدہ اور واضح مثال ہے۔ مثلاً دورانِ گفتگو اپنے آپ کو ’’بندہ‘‘، ’’حقیر‘‘، ’’ناچیز‘‘ وغیرہ کے عنوانات سے یاد کرنا ، در حقیقت بالواسطہ کسی بُزرگ سے اجازتِ اظہارخیالات کا موّدبانہ طریقہ ہوتا تھا۔ الغرض یہاں کچھ مشہور اُردو لغات اور کتابوں کے ذریعے اِس بات پر روشنی ڈالی جائے گی۔ مندرجہ ذیل الفاظ مع تشریحاتِ لغت پیش ہیں۔
اُردو لغات:
۸۔۱:’’ہندوستانی مخزن المحاورات‘‘ از : منشی چرنجی لال دہلوی، طبع اوّل: ۱۸۸۶ء
بہت ہے، بہت ہی بہت:برکت ہے، نہیں ہے۔ عورتیں’نہیں‘ کے لفظ کو منحوس خیال کر کے یہ محاورہ بولتی ہیں ۔ (ص: ۲۰۴) [یعنی’’برکت‘‘ خوش کلامی تھی ’’نہیں‘‘ کے لیے]
۸۔۲: ’’بہارِ ہند‘‘ از : مرزا محمد مرتضیٰ عاشق لکھنؤی عرف مچھو بیگ، ۱۸۸۸ء
آپ کی بات بڑی ہوتی ہے یا بڑی کر کے کہتے ہیں: اہلِ تہذیب جب قطع سخن کرتے ہیں تو عذریہ یہ کلمہ زبان پر لاتے ہیں کیوں کہ بات میں بات کرنا عیب ہے۔(ص: ۵۷)[یعنی موّدبانہ انداز میں کسی کی بات قطع کرتے ہوئے یہ جملہ بولا جاتا تھا۔]
۸۔۳: ’’فرہنگِ آصفیہ‘‘ از: سیّد احمد دہلوی، جلد اوّل و دوّم: ۱۸۸۸ء، جلد سوّم: ۱۸۹۸ء، جلد چہارم: ۱۹۰۱ء
اب سے دور!جب کسی بیماری یا کسی اور ناگوار واقعہ مثلاً وبا وغیرہ کا ذکر دہرانا ہوتا ہے تو یہ [الفاظ] زبان سے کہہ کر اُس کا ذکر کیا جاتا ہے۔ یعنی: ’’خدا اُس وقت سے دور رکھے ! دور از جان!‘‘ (ج ا ، ص۷۷) [ یعنی کسی بیماری یا تلخ واقعے کا ذکر کرنے سے پہلے یہ جملہ خوش کلامی کے طور پر بولا جاتا تھا۔]
اپنی ایڑی دیکھو! نظر نہ لگاؤ! ( عورتوں کا خیال ہے کہ اگر کوئی شخص ، کسی کی تعریف کر کے اپنی ایڑی دیکھ لے تو اُس کی نظرِ بد اثر نہیں کرتی۔)[ج ا، ص:۱۰۰][یعنی کسی کی تعریف کرتے ہوئے یہ جملہ خوش کلامی کے طور پر استعمال ہوتا تھا]
آنکھوں میں خاک!: جب کوئی شخص کسی چیز کو ٹوکتا ہے تو عورتیں اِس خیال سے کہ یہ چیز ٹوک میں نہ آ جائے اِس عبار ت کو زبان پر لاتی ہیں اور جب کسی کی تعریف کرنا منظور ہوتی ہے تو اُس موقع پر بھی اِس لفظ کا استعمال ہوتا ہے ۔ مجازاً : چشمِ بَد دور! نظر نہ لگے! فقرہ۔ ’’میری آنکھوں میں خاک کیا پیارا پیارا بچہ ہے!‘‘( ج ا ، ص:۲۸۲) [ یعنی کسی کی تعریف کرتے ہوئے یہ جملہ خوش کلامی کے طورپر استعمال ہوتاتھا۔]
اسبابِ جہالت: انکساراً سامانِ تصنیف و تألیف (ج ا ، ص: ۱۶۱) [ کسی عالم کے پاس اپنی تصنیف کا ذکر کرتے ہوئے یہ خوش کلامی استعمال کرتے تھے۔]
۸۔۴:’’امیر اللغات‘‘ از : امیر احمد مینائی، جلد اوّل: ۱۸۹۱ء، جلد دوّم: ۱۸۹۲ء، جلد سوّم: ۱۸۹۵ء
اندر والی : کلیجی۔ عورتیں بد شگونی کے وہم سے صبح صبح ’ کلیجی‘ نہیں کہتی ہیں۔ (ج۲، ص:۲۵۵) [ یعنی’’ اندر والی‘‘ خوش کلامی تھی ’’کلیجی‘‘ کے لیے اور اِس طرح لفظ کی نحوست کو دور کیا جاتا تھا]
بھرا گھر: رچا بچا گھر، مکینوں سے بھرا ہوا گھر۔ عورتیں بد شگونی کے خیال سے خالی گھر کو بھی ’’بھرا گھر‘‘ کہتی ہیں۔ جیسے:’’ اُس کے چلے جانے سے گھر کیسا بھرا بھرا معلوم ہوتا ہے۔‘‘ (ج۳، ص:۲۴۳)[یعنی ’’بھرا گھر‘‘ خوش کلامی تھی ’’خالی گھر‘‘ کے لیے اور اِس طرح لفظ کی نحوست کو دور کیا جاتا تھا۔]
بارہ وفات: ربیع الاوّل کا مہینہ جس کی بارھویں تاریخ کو حضرت رسول ﷺ نے وصال فرمایا تھا۔ اکثر عوام اور عورتیں بولتی ہیں اور اِس مہینے کے ابتدائی بارہ دن کو تخصیص کے ساتھ ’’بارہ وفات‘‘ کہتی ہیں۔ (ج۳، ص:۶۰)[یعنی ’’بارہ وفات‘‘ خوش کلامی تھی ’’ بارہ ربیع الاوّل‘‘ کے لیے اور اِس طرح لفظ کی قدامت کا اظہار بھی کرتی تھیں۔ اب اس کی جگہ عید میلاد النبیؐ کی خوش کلامی استعمال ہوتی ہے۔]
بدن:اندامِ نہانی، شرم گاہ (ج۳، ص:۱۲۵) [ یعنی جنسی اعضاء نام لینے سے پرہیز کرتے تھے اور کُل سے جز ء مُراد ہوتی تھی۔]
بڑا آزار (روگ): دیا سل کی نسبت عورتیں کہتی ہیں۔ (ج۳، ص: ۱۵۰) [ یعنی بیماری کا نام لینے کے بجائے اُس کی جگہ رائج شُدہ لفظ ’’بڑا آزار‘‘ خوش کلامی کے طور پر استعمال کرتی تھیں۔]
بلا تشبیہ: جب کسی مبتذل شے کو کسی مقّدس چیز سے مثال دینا چاہتے ہیں تو یہ لفظ کہہ لیا کرتے ہیں۔ (ج۳، ص:۱۸۵) [یعنی کسی چیز یا شخص کی توصیف کرتے ہوئے پہلے یہ ترکیب خوش کلامی کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔]
کتابوں میں:
۸۔۵:’’سرگذشتِ الفاظ‘‘ از: احمد دین ، طبعِ اوّل، ۱۹۲۳ء
۸۔۵۔۱:’’الفاظ انسانی دل کی کم زوریاں دکھاتے ہیں۔ انسان مصیبت کو اچھے نام سے یاد کر کے اُس کے رنج کے احساس اور بُرے نتائج سے محفوظ رہنے کی کوشش کرتا ہے اور یقین کرتا ہے کہ اُس کی یہ کوشش بارآور ہو گی اور حقیقت یہ ہے کہ ایک حد تک دل مضبوط رکھنے میں کوشش کام یاب بھی ہوتی ہے۔ چناں چہ سانپ کو ڈسا ہوا کہتا ہے‘‘۔ (۱۹۶۹ء، اشاعتِ دوّم، ص: ۸۷)
۸۔۵۔۲:’’بدی یا معصیت کو ایسے الفاظ سے یاد کریں کہ اُن کی کراہیت کم ہو جائے اور پردہ پوشی بھی۔ اِس لیے کہ جیسا کسی نے کہا کہ لوگ بدی سے نہیں شرماتے۔ چناں چہ ’مخمور‘ کو ’متوالا‘ ، ’سرخوش‘ اور ’چڑھی ہوئی‘ کہتے ہیں‘‘۔ (ایضاً، ص: ۹۵)
۸۔۶: ’کیفیہ (اُردو زبان کی مختصر تاریخ اور اُس کی انشا، اِملا وغیرہ کے متعلق ہر قسم کے ضروری اور اہم اُمور سے بحث) ‘‘ از : برجموہن دتاتریہ کیفی ، طبعِ اوّل،۱۹۴۳۲ء
بعض الفاظ اہلِ زبان کے اعلیٰ کلچر کا ثبوت ہیں۔جیسے ’’نہایت کام یاب شخص‘‘ کو ’’بخت آور‘‘؛ نحوست لانے والے کو ’’سبز قدم‘‘؛ کُند ذہن اور ناسمجھ کو ’’خوش فہم‘‘؛ اندھے کو ’’حافظ‘‘ اور ’’سورداس‘‘ کہا گیا۔ ایسے شخص کو جو اپنی سادہ لوحی کی وجہ سے ہر شخص کے تمسخر اور پھبتی کا شکار ہو ’’نقل محض‘‘ کہا گیا؛ دیہات کے رہنے والے کو اِس کی حیثیت کی تمیز کے بغیر ’’ چودھری‘‘ کہتے ہیں ۔ اسی طرح ’’ کمہار‘‘ کو ’’ بھگت جی‘‘؛ ’’سقّے ‘‘ کو ’’بہشتی‘‘؛ ’’حجّام ‘‘ کو ’’خلیفہ‘‘؛ ’’کہار‘‘ کو ’’مہرا‘‘ کہتے ہیں۔ (۱۹۵۰ء، اشاعتِ دوّم، ص: ۷۷)
۸۔۷: ’’عورت اور اُردو زبان ‘‘ از: وحیدہ نسیم، ۱۹۷۹ء
’’ عورتیں اِس قد رتوہم پرست تھیں کہ موت یا موت سے متعلقہ الفاظ بھرے پُرے گھر میں اپنی زبان سے نکالنا، بدشگونی سمجھتی تھیں۔ چوں کہ دورانِ گفتگو میں اِن کا ذکر ناگزیر تھا ، اِسی لیے اُنھوں نے اِس کا مفہوم ادا کرنے کے لیے ایسے کنایے ایجاد کیے جن سے اُن کا مطلب تو ادا ہو جائے لیکن بد شگونی کا کوئی پہلو نہ نکلے‘‘۔ (نسیم، ۱۹۷۹ء، ص: ۸۷) اُنھوں نے اپنی کتاب میں مختلف مثالوں کے ساتھ اِس حوالے سے تفصیلی بات کی ہے۔ اُنھوں نے لکھا ہے کہ عورتیں ’’حکیم یا جرّاح‘‘ کو ’’چیرے والا‘‘؛ ’’دھوبن‘‘ کو ’’اُجلی‘‘ کہتی تھیں۔ اُنھوں نے اپنی کتاب میں یہ طریقہ اپنانے کی وجوہات یوں بیان کی ہیں:
۸۔۷۔۱: توہمّ کے ڈر سے
’’ چھپکلی ‘‘ کو ’’ مُرداری‘‘ کہتی تھیں۔ چھپکلی اِس قدر ناپاک خیال کی جاتی ہے کہ اگر چھپکلی کا نام منہ سے نکالا جاتا تو اُس کے بعد عورتیں فوراً زمین پر تھوک دیا کرتی تھیں۔ اگر چھپکلی کسی کے اوپر گر جاتی تو سونے کا چھّلا دھو کر اُس کا پانی اُس آدمی پر چھڑک دیا جاتا تھا تاکہ وہ پاک ہو جائے۔(نسیم ، ایضاً)
۸۔۷۔۲: جادو ٹوٹکے سے بے زاری
’’کلیجی‘‘ کو ’’اندروالی‘‘ کہتی تھیں۔ کیوں کہ کلیجی اکثر جادو ٹونوں میں استعمال ہوتی تھی۔ ( نسیم، ایضاً)
۸۔۷۔۳:نحوست سے احتراز
’’بندر‘‘ کو ’’روکھ چڑھا‘‘؛ ’’ڈال والا‘‘؛ ’’کالا منہ‘‘ کہتی تھیں کیوں کہ بندر کو منحوس سمجھتی تھیں۔ (نسیم ، ایضاً)
۸۔۷۔۴: بیماری سے بچنا
’’ہیضہ‘‘ کو ’’تھتکارا‘‘؛ ’’دِق ‘‘ کو ’’ بڑا آزار‘‘؛’’بُرا آزار‘‘؛ ’’پُرانی بیماری ‘‘ یا ’’راج روگ‘‘ کہتی تھیں۔( ایضاً، ص: ۸۹)
۹۔ خوش کلامی اور بَد کلامی
بَد کلامی (dysphemism) خوش کلامی کا بالعکس ہے۔ اگر خوش کلامی کسی لفظ کی بُرائی ، ناپاکیزگی یا تلخی کو دور کرتی ہے تو بَد کلامی کسی لفظ کی بُرائی ، ناپاکیزگی یا تلخی کا اظہار کرتا ہے۔ اِس اظہار کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں: نفرت، توہین، تحقیر، دل آزاری وغیرہ کے لیے۔ مثلاً’’صورت‘‘ کے بجائے ’’شکل‘‘ بولنے سے کسی شخص سے اپنی نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔ ’’بہت ضعیف ہونا‘‘ کے بجائے جب کہتے ہیں:’’ قبر میں ٹانگیں ہونا‘‘ تو اُس شخص کے لیے موت کی خواہش کا بیان کرتے ہیں۔
لفظ
خوش کلامی
بَد کلامی
فقیر
گدا گر؛ ضرورت مند
بھکاری
سوسو کرنا
رفعِ حاجت کرنا
پیشاب کرنا
صورت
چہرہ
شکل
فضول خرچ
شاہ خرچ
عیّاش
کنجوس
میانہ رو
ناخُن خُشک
نتائج:
۱۔ الفاظ بذات خود غیر جانب دار (neutral) ہوتے ہیں۔ کوئی لفظ شائستہ یا غیر شائستہ نہیں ہوتا ہے۔ یہ ہمارا معاشرتی، تہذیبی اور ثقافتی پسِ منظر ہے کہ الفاظ کو کوئی خاص کردار عطا کرتا ہے۔ مثلاً جب یہ دو الفاظ سُنتے ہیں:’’ حرکت ‘‘ اور ’’ کرتوت‘‘ تو غیر شعوری طور پر پہلے لفظ سے مثبت اور دوسرے لفظ سے منفی معنی نکالتے ہیں۔
۲۔ اِس معاشرتی ، تہذیبی اور ثقافتی پسِ منظر کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اپنی بول چال اور تحریروں میں خوش کلامی استعمال کرتے ہیں تاکہ دوسروں کا احترام کرتے ہوئے اپنی بات کے مفہوم کا اظہار کر سکیں۔ چناں چہ الین کے اور بریڈج کے (Allan,, K, Burridge, K) نے ایک لغت مرتّب کی ہے جس کا عنوان ہے: ’’Euphemism and Dyphemism: Language used as Shield and Weapon‘‘(۱۹۹۱ء)۔ یعنی:’’ خوش کلامی اور بَد کلامی: زبان بطور محافظ اور ہتھیار ‘‘۔
۳۔ بعض ایسے موضوعات ہیں جو دنیا کے ہر معاشرے میں بُرے اور ناشائستہ یا تلخ سمجھے جاتے ہیں۔ چناں چہ دوسروں کے سامنے یہ الفاظ بولنے سے احتراز کے لیے خوش کلامی اختیار کی جاتی ہے۔ مثلاً جنسی اعضاء و افعال اور موت سے متعلق موضوعات۔ ملاحظہ کیجیے گا کہ ’’ مرنا‘‘، ’’مُردَن‘‘ اور ’’to die‘‘ کے لیے اُردو، فارسی اور انگریزی میں کتنی کتنی خوش کلامیاں استعمال ہوتی ہیں۔
اُردو:’’ اپنے رب کی ندا سُن لینا‘‘؛ ’’ اللہ کے پاس جانا‘‘؛ ’’ ’’ اللہ کو پیارا ہونا‘‘؛ ’’انتقال ہونا‘‘؛ ’’چل بسنا‘‘؛ ’’داغِ مفارقت دینا‘‘؛ ’’ راہیِ مُلکِ عدم ہونا‘‘؛ ’’ رِحلت فرمانا‘‘؛’’ شہید ہونا‘‘؛ ’’ عمر کا پیمانہ بھر جانا‘‘؛ ’’فوت ہونا‘‘؛ ’’گزر جانا‘‘؛’’ وِصال پانا‘‘؛ ’’وفات پانا‘‘؛ ہم سے بچھڑ جانا‘‘۔
فارسی :’’ بہ آرام گاہِ اَبَدی شِتافتَن‘‘؛ ’’بہ رَحمتِ خُدا رَفتَن‘‘؛ ’’ پیشِ خُدا رَفتَن‘‘؛ ’’پیمانہء عمر لَبریز شُدَن‘‘؛ ’’جامِ شَہادَت نوشیدَن‘‘؛ ’’جان بہ جان آفرین تسلیم کَردَن‘‘؛ ’’ دارِ فانی راوِداع کَردَن‘‘؛ ’’ دَر گُذشتَن‘‘؛’’ رِحلَت کَردَن‘‘؛ ’’شَہید شُدَن‘‘؛ ’’فوت کَردَن‘‘؛ ’’نِدایِ حق را لَبّیک گُفتَن‘‘؛ ’’وَفات یافتَن‘‘یا یہ عبارات :’’دیگر دَر بین ما نیست‘‘؛ ’’ فِلانی عُمرَش رابہ شُما داد‘‘۔
English: "to pass away"; "be no more"; "leave this world"; "go to a better world"; "go west"; "pass over"; "expire"; "breath one's last"; "fall asleep"; "in the Lord"; "join the great majority".
۴۔ ملحوظ رہے کہ کچھ ایسے الفاظ ملتے ہیں جو کچھ لوگوں کے لیے ’’خوش کلامی‘‘ ہوتے ہیں اور کچھ دوسرے لوگوں کے لیے ’’بَد کلامی ‘‘ ۔
۵۔ مغرب میں خوش کلامی (یوفی میزم) کے حوالے سے بہت سی لغات مرتّب کی گئی ہیں جن میں سے مندرجہ ذیل بہت مشہور ہیں:
* Neaman, Judith - Carole, G.Silver, (1983), "Kind Words: A Thesaurus of Euphemism".
* "Rawsons's Dictionary of Euphemism and other doubletalk", (2003).
* Ayto, Jogn, (2000), " Bloomsbury Dictionary of Euphemism".
* Holder, R.H, (2008), "How to say what you mean: A Dictionary of Euphemism".
حواشی:
پاکستانی تہذیب و ثقافت کا احترام کرتے ہوئے خود راقم الحروف کو بھی مضمون کو تحریر کرتے ہوئے خوش کلامی کا استعمال کرنا پڑا ہے۔
۱۔ ’’اوکسفرڈ انگلش۔ اُردو ڈکشنری‘‘ میں اِس کی تشریح میں یہ لکھا ہوا ہے: ’’ عامیانہ بولی، بے تکلفانہ بولے جانے والے عوامی الفاظ، فقرے وغیرہ یا جو کسی
خصوصی موضوع یا کسی مخصوص گروہ سے تعلق رکھتے ہوں‘‘۔ (حقّی، ۲۰۰۳ء، ص: ۱۶۱۷)۔ رجوع کیجیے: ’’اوّلین اُردو سلینگ لغت‘‘ از :رؤف پاریکھ، ۲۰۰۶ء،
فضلی سنز، کراچی۔
۲۔ ’’اوکسفرڈ انگلش۔ اُردو ڈکشنری‘‘ میں اِس کی تشریح میں یہ لکھا ہوا ہے: ’’(۱) کسی شخص یا شے کو حرام یا حلال، نجس یا پاک قرار دینے کا رواج، دستور یا عمل
(۲) بندش، ممانعت، تحدید۔ کسی شے کو شجرِ ممنوعہ قرار دینے کا عمل‘‘۔ (حقّی، ۲۰۰۳ء، ص: ۱۷۷۶)۔مثلاً اُردو معاشرے میں جنس کے حوالے سے باتیں کرنا
ایک ٹیبو ہے۔
۳۔ امریکہ اور سویت یونین اور اُن کے متعلقہ اتحادیوں کے درمیان ۱۹۴۵ء سے لے کر ۱۹۹۰ء تک جاری رہنے والے تنازع، تناؤ اور مقابلے کو’’ Cold
War‘‘ کہاجاتا ہے۔
۴۔ رجوع کیجیے گا:’’ فرہنگِ آصفیہ‘‘ ، جلد سوّم ، ۱۸۹۸ء ، ص: ۱۱۹؛ ’’کلیاتِ نثر حالی‘‘، ۱۹۶۷ء، جلد اوّل ، مرتّبہ محمد اسماعیل پانی پتی، ص: ۱۵۵؛ ’’ لغتِ کبیر
اُردو‘‘، ۱۹۷۳ء، جلد اوّل، مقدمہ۔
۵۔ اِس دلچسپ عبارت کو رئیس رام پوری نے اپنے لغت:’’روہیل کھنڈاُردو لغت۔ رام پور میں بول چال کے الفاظ ‘‘ ( ۱۹۹۵ء، ص:۶۴) میں استعمال کیا ہے۔
۶۔ ’’اوکسفرڈ انگلش۔ اُردو ڈکشنری‘‘ میں اِس کی تشریح میں یہ لکھا ہوا ہے: ’’ کوئی ایسے چار حروف والے الفاظ جن کے معنی تابو سمجھے جاتے ہیں۔ جنسی اُرگین،
جنسی افعال، بدن کے زائد مواد سے متعلق ہیں۔ گالی‘‘ (حقّی، ۲۰۰۳ء، ص: ۲۶۳)۔مثلاً انگریزی میں :’’fuck‘‘ ۔ اُردو میں ’’ قاموس الفصاحت‘‘ میں اِس
کا نمونہ ملتا ہے۔ اِس کتاب میں: ذیل ’’لعنت ‘‘ یہ تشریح لکھی گئی ہے:’’ چار حرف: لعنت کے لیے ملیح اندازِ بیان ہے۔ استعمال میں طنز اور ذم ہے‘‘۔ ( قاموس
الفصاحت، ۱۹۷۳ء، ص: ۱۵۶)
۷۔ البتّہ آج کل فارسی میں یہ سارے الفاظ ٹیبو سمجھے جاتے ہیں اور اِ ن سب کی جگہ مہذّب لفظ:’’ سرویسِ بہداشتی‘‘ استعمال ہوتا ہے۔
فہرستِ اسنادِ محولّہ:
اُردو حوالہ جات:
* امیر مینائی، امیر احمد؛ (۱۸۹۱ء۔ ۱۸۹۲ء)؛ ’’امیر اللغات‘‘؛ جلد اوّل ودوّم؛ ۱۹۸۸ء؛ مقبول اکیڈمی، لاہور۔
* امیر مینائی، امیر احمد؛ (۱۸۹۵ء)؛ ’’امیر اللغات‘‘؛ جلد سوّم؛ رؤف پاریکھ؛ ۲۰۱۰ء، پنجاب یونی ورسٹی، لاہور۔
* چرنجی لال ، منشی؛ (۱۸۸۶ء)، ’’ ہندوستانی مخزن المحاورات‘‘؛ تدوین اشاعتِ اوّل؛ محّبِ ہند پریس، دہلی۔
* دہلوی، سیّد احمد؛ ’’ فرہنگِ آصفیہ‘‘ (جلد اوّل و دوّم: ۱۸۸۸ء، جلدِ سوّم: ۱۸۹۸ء، جلد چہارم: ۱۹۰۱ء)؛ ۴ جلدیں؛ ۱۹۷۷ء؛ مرکزی اُردو بورڈ، لاہور۔
* دین احمد، (۱۹۶۹ء)؛ ’’سرگذشتِ الفاظ‘‘؛ اشاعتِ دوّم؛ شیخ غلام علی اینڈ سنز، لاہور۔
* رام پوری، رئیس؛ ۱۹۹۵ء؛ ’’ روہیل کھنڈ اُردو لغت۔ رام پور میں بول چال کے الفاظ ‘‘؛ خدا بخش اوریئنٹل پبلک لائبریری ، پٹنہ۔
* عابد، سیّد عابد علی؛ ۱۹۶۶ء ’’اُصولِ اِنتقادِ ادبیات‘‘؛ اشاعتِ دوّم؛ مجلسِ ترقیِ ادب، لاہور۔
* عاشق لکھنؤی، مرزا محمد مرتضیٰ؛ ۱۸۸۸ء؛ ’’بہارِ ہند‘‘ شوکت جعفری، لکھنؤ۔
* علی خان، عامر؛ ۲۰۱۰ء؛ ’’فرہنگِ اصطلاحاتِ لسانیات انگریزی۔ اُردو‘‘؛ مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد۔
* کیفی، برجموہن دتاتریہ؛ ۱۹۵۰ء؛’’کیفیہ (اُردو زبان کی مختصر تاریخ اور اُس کی انشا، اِملا وغیرہ کے متعلق ہر قسم کے ضروری اور اہم امور سے بحث)‘‘ ؛ اشاعتِ
دوّم؛ مکتبہء معین الادب، لاہور۔
* مخمور اکبر آبادی، محمود رضوی؛ ۱۹۷۳ء؛ ’’قاموس الفصاحت‘‘؛ انجمنِ اسلامیہ پاکستان، کراچی۔
* نسیم، وحیدہ؛ ۱۹۷۹ء؛ ’’عورت اور اُردو زبان‘‘؛ غضنفر اکیڈمی پاکستان، کراچی۔
فارسی حوالہ جات:
* آریان پور کاشانی، حسین۔ عاصی، مصطفیٰ؛ ۲۰۰۷ء؛ ’’فرہنگِ بزرگِ یک جلدی پیش رو آریان پورفارسی انگلیسی‘‘؛ چاپِ ہفتم؛ جہانِ رایانہ، تہران۔
* ناتل خانلری، پرویز؛ ۱۹۶۸ء؛ ’’ زبان شناسی و زبانِ فارسی‘‘؛ چاپِ سوّم؛ بنیادِ فرہنگِ ایران، تہران۔
انگریزی حوالہ جات:

* Ahmad, Kalimuddin; 1997; "English - Urdu Dictionary"; second volume; National Council for Promotion of Urdu
Language, New Delhi.
* Burchfield, R.W; 2004; "Flower's Modern English Usage"; Third revised edition; Oxford University Press, London.
* Haqqi, Shanul Haq; 2003; "Oxford English - Urdu Dictionary"; Oxford University Press; First edition; Karachi.
* Crystal, David 2001; "The Cambridge Encyclopedia of The English Language"; Cambridge University Press, U.K.
* Fallon, S.W; 1879; "A New Hindustani - English Dictionary"; Medical Hall Press, Banaras + London.
* Fallon, S.W; 1883; "A New English - Hindustani Dictionary"; Reprint; 1976; Urdu Science Board, Lahore.
* Fowler, H.W; 1926; "A Dictionary of Modern English Usage"; First edition with an introduction by: Simon Winchester,
Reissued in new covers; 2002; London.
* Hartmann, R.R.K - James, Gregory; 1998; "A Dictionary of Lexicography"; Routledge, London & New York.
* Holder, R.W; 1995; "A Dictionary of Euphemisms"; Oxford University Press, London.
* Honeywood Partridge, Eric; 1942; "Usage and Abusage - A guide to good English"; Harper Brothers, New York.
* International Encyclopedia Of Language & Linguistic; 2006; second edition; second & fourth volume; Elsevier Ltd,
Canada.
* Longman Dictionary of Language and Culture; 1992; second edition; New York.