استقبال

اللہ کے نام سے جس نے اپنا ہر رسول اس کی قوم ہی کی زبان میں بھیجا کہ انھیں صاف بتائے۔
مقتدرہ قومی زبان کی ۳۳ سالہ جہد مسلسل پر نظر دوڑائی جائے تو یقیناً خوشی ہو تی ہے کہ ملک میں نفاذ اور فروغ قومی زبان کے لیے مقتدرہ کے تحت ہمہ جہت مساعی کی گئی ہیں۔ بیسویں صدی عیسوی کی یہی دو آخری دہائیاں ہیں جب دنیا بھر میں زبانوں کے فروغ کے بین الاقوامی سطح پرنئے مواقع تیزی سے پیدا ہوئے۔ہمارے ہاں ان نئے امکانات نے اس اندازِ فکر کو پروان چڑھایاکہ اب صرف اُردو ادب کو نہیں بلکہ اُردو لسانیات کو ہمارا مرکزِ نگاہ ہونا چاہیے تاکہ قومی زبان میں علوم و فنون کی تحقیق و تدوین اور ترویج و اشاعت میں حائل عملی دشواریوں کو دور کر کے آنے والے دور کے لسانی مسائل کو بروقت حل کیا جائے۔ چنانچہ ضروری تھا کہ ماہرین جدید مسائل پر تحقیق کے لیے قومی زبان کو وسیلہ بنائیں۔ مقتدرہ کی طرف سے مجلہ ’’علم و فن‘‘ کا اجراء اسی سلسلے کی بنیاد ی کڑی ہے۔
’علم و فن‘ میں تحقیقی جرائد کے روایتی ادبی موضوعات سے ہٹ کر ہر شعبۂ زندگی میں قومی زبان کے اثر ونفوذ اور ضروریات پر کی گئی تحقیقات کو منظر عام پر لایا جائے گا۔ آپ ’علم وفن‘ کے زیر نظر پہلے شمارے کے موضوعات اور مقالات کے مندرجات پر غور کرنے سے یہ حقیقت جان جائیں گے کہ مقتدرہ قومی زبان پہلے سے استوار مضبوط لسانی بنیادوں پر بلند تر عمارت تعمیر کرنے میں سرگرم عمل ہے۔
’علم و فن‘ میں نہ صرف نظامِ مملکت کو قومی زبان سے آمیز کرنے کی کوشش کی جائے گی بلکہ جُملہ علوم و فنون کے جدید ترین موضوعات پر بھی اُردو میں لکھے گئے خالص تحقیقاتی اور تجزیاتی مقالات شائع کیے جائیں گے۔ اس کے تین بڑے مقاصد واضح ہیں۔
اوّل: اُمور مملکت کو قومی زبان آشنا اور اُردو آمیز کر کے نظامِ مملکت کی لسانی پالیسی کی عملی رکاوٹوں کو دور کرنا۔
دوّم: جُملہ علوم و فنون کے قومی اور بین الاقوامی معیار کے تحقیقاتی مقالات قومی زبان میں لکھنے کو رواج دینا۔
سوم: موجودہ دور کے تناظر میں نئی اُردو لفظیات اور اصطلاحات کی تشکیل جو قومی زبان کی ثروت مندی کا باعث ہو اور اس سے تمام
پاکستانی زبانیں بھی فیض یاب ہوسکیں۔

ہم ’علم وفن‘ کے تحقیقی مقالات اور آثارِ اُردو کے ذریعے بالترتیب جہاں تحقیق اور تاریخ اُردو کی عکسی ورق گردانی کریں گے، وہاں قومی زبان کی ماضی کی روایات کو بھی سامنے لانے کی کوشش کریں گے۔ اس طرح ہمیں ماضی کے روشن چراغوں سے آنے والے دور کے لیے رہنمائی حاصل ہو سکے گی۔
اُردو میں کم و بیش ربع صدی سے ادارہ جاتی سطح پر وضع اصطلاحات کا عمل جمود کا شکارہے اور اب اسے صرف انفرادی طور پر انجام دیا جا رہا ہے۔ مقتدرہ قومی زبان اب اکیسویں صدی عیسوی میں وضع اصطلاحات کا کام ایک نئے جذبے کے ساتھ اور جدید تناظرات میں کرنے جا رہا ہے مگراس بارپہلی دفعہ ملک بھر سے اہل علم و دانش کی مشاورت عامہ سے یہ عمل انجام دیا جائے گا۔ ’’مقتدرہ کا پروگرام نئی اصطلاحات‘‘ اس کی ایک صورت ہے جس میں جدید ترین تکنیکی سہولیات کے طفیل آپ ایسے ذی وقار صاحبان علم ودانش بآسانی شریک ہو کر یہ قومی خدمت انجام دے سکتے ہیں۔مقتدرہ آپ کو اس کام میں شریک کرنا چاہتا ہے۔ آئیے مقتدرہ کی اس ’’ لسانی تجربہ گاہ‘‘ میں ہماری مدد کیجیے۔
پاکستان بھر کی جامعات اور پوسٹ گریجویٹ کالجوں سے اُردو کے متعدد تحقیقی جرائد شائع ہوتے ہیں۔ اِن میں سے کچھ اعلیٰ تعلیم کمیشن یعنی ایچ ای سی سے تسلیم شدہ بھی ہیں مگر ابھی تک ان کی اشاریہ سازی کا کام نہیں ہو سکا تھا۔ مقتدرہ قومی زبان نے اس کام کا بیڑا اُٹھایا ہے۔ سردست اعلیٰ تعلیم کمیشن کے تسلیم شدہ اُردو جرائد سے آغاز کیا جا رہا ہے ، جسے آئندہ شماروں میں وسعت دی جائے گی ۔ اس طرح اُردوتحقیقات کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر انٹر نیٹ پر لا کر محققین کے لیے سہولیات پیدا کی جا سکیں گی۔
یہ اور اس طرح کے مزید کئی علمی و تحقیقی کام ’علم وفن‘ کے حوالے سے ہمارے پیش نظر ہیں مگر یہ سب کچھ آپ جیسے اہلِ علم ودانش کے تعاون کے بغیر ہرگز ممکن نہیں ہے ۔ مقتدرہ قومی زبان ایک ایسا سرکاری ادارہ ہے جسے نفاذو فروغ قومی زبان کے لیے قوم کے ہر ماہر اور صاحبِ علم ہی نہیں ہر پاکستانی کے علمی اور عملی تجربے کے لسانی تعاون کی اشد ضرورت ہے۔ دراصل روزمرہ زندگی میں قومی زبان کا استعمال ہی ہمیں زندہ قوموں کے ہم سر لا سکتا ہے۔ بابائے قوم قائداعظم محمد علی ؒ جناح، شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ کے فرمودات اور ہمارے آئین کا یہی تقاضا ہے۔
’علم و فن‘ کا پہلا شمارہ آپ کے پیشِ نظر ہے، اسے ملاحظہ فرمائیے اور ہمیں اپنے مشوروں سے نوازئیے تاکہ آئندہ شمارہ اس سے بہتر ہو سکے۔ آپ کے تعاون کا منتظر۔

محمد اسلام نشتر
مدیر