English اُردو        
  رابطہ اغراض و مقاصد تعارف سرورق

روزنامہ ایکپریس میں شائع شدہ مقتدرہ کی کتابوں کے بارے عامر ہاشم خاکوانی کا کالم

ہنگاموں سے دور چند روز

پچھلے تین دن شہر کے ہنگاموں سے دور گزرے۔ میڈیا کی بک بک جھک جھک سے دور مری کی گلیات کا خنک ماحول اور پھر دوستوں کا ساتھ۔۔۔ اور کیا چاہیے؟ ویسے بھی پلانٹیڈ انٹرویو کی لیکڈوڈیو والے معاملے کے بعد عجب ساڈ پریشن چل رہا تھا۔ جو ہوا وہ افسوناک تھا کہ یوں لگا بطور صحافی کسی سے نظریں ملانے کے قابل نہیں رہے۔ خیر یہ تو جملہ ہائے معترضہ تھے، ذکر ہنگاموں سے دور پہاڑ پر گزرے لمحات کا ہو رہا تھا۔ اس بار البتہ ایک سوغات ساتھ تھی۔ میری ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ چھٹیوں کے ان وقفوں میں اخبار اور ٹی وی سے دور رہا جائے۔ ہمارے دوستوں میں سے بعض عاقبت نا اندیش ہر با رٹریکنگ اور واک کیلئے اکساتے رہتے ہیں۔ الحمد اللہ اس کوشش کو ہمیشہ ایک باوقار متنانت اور پُروقار سنجدہ انکار کے ساتھ ناکام بنایا۔ اس خاکسار کا تفریح کے بارے میں سیدھا سادا فارمولا ہے کہ جی بھر کے نیندپوری کی جائے، ہر تھوڑے تھوڑ ے وقفے کے بعد کچھ نہ کچھ کھایا پیا جائے، بھاپ اڑاتی چائے اور قہوہ جات کے دور چلتے رہیں ، دوستوں کے ساتھ گپ شپ ہو اور باقی ماندہ لمحات کھڑکی کے پاس آرام دہ کرسی پر نیم دراز ہو کو کر اپنی من پسند کتاب پڑھی جائے۔ گاہے گرد ن اونچی کر کے باہر جھانکا اور اللہ سوہنے کے تخلیق کردہ حسین نظارے دیکھ کر زیر لب داد دی جائے۔ ٹریکنگ کو ہم نے ہمیشہ پہاڑی بکروں کا حق ہی تصور کیا ہے۔ ویسے اس سے یہ مراد نہ لی جائے کہ ہم واک کے مخالف ہیں۔ چہل قدمی کو ہم نے ہمیشہ شرفا کا دستور قرار دیا ہے۔ گاہے گاہے یہ شوق فرماتے بھی رہے ہیں۔
اس بار ایک ایسی کتاب ہمارے ساتھ تھی ، جسے پڑھنے کی خاصے عرصے سے آرزو تھی۔ ایڈورڈگبن مشہور مغربی (برطانوی)مورخ گزرے ہیں۔ ان کی کتاب انحطاط و زوال رومتہ الکبریٰ یعنی Fall Of Roman Empire Decline And ایک غیر معمولی کتاب ہے۔ گبن کی اس کتاب کے ترجمے کے بارے میں چند دن پہلے ہی پتہ چلا۔ معلوم ہوا کہ مقتدرہ قومی زبان نے اسے چار جلدوں میں شا ئع کیا ہے۔ انگریزی میں یہ کتاب تین جلدوں میں دستیاب ہے۔ مقتدرہ قومی زبان کے سربراہ آج کل مشہور ادیب، نقاد اور استاد ڈاکٹر انوار احمد ہیں۔ ڈاکٹر انوار ملتان کی بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے بہت مقبول استاد رہے ہیں۔ میری ان سے کبھی کوئی ملاقات نہیں ہوئی تاہم ملاقات نہ ہونے کے باوجود میں ڈاکٹر انوار کا باضابطہ قسم کا مداح ہوں۔ کوئی سال بھر پہلے میں نے ان کے خاکوں کا مجموعہ پڑھا اور سحر زدہ ہو کر رہ گیا۔ احمد بشیر کے خاکوں کا مجموعہ مجھے پسند آیا تھا، مگر ڈاکٹر انوار نے اپنے دوستوں کا جس طرح خاکہ اڑایا، وہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ بعد میں ایک ویب سائیٹ ٹاپ سٹوری آ ن لائن پر ان کے چند مضامین پڑھے تو میری مرعوبیت بڑھ گئی۔ ملتان کے مخصوص سرائیکی کلچر کی عکاسی کرتی دلکش تحریریں، زندگی کے ایسے کردار جو اپنی بے پناہ قوت سے مبہوت کر دیں۔ ڈاکٹر انوار اردو فکشن کے اہم اور سنجیدہ نقاد بھی ہیں۔ ان کی مشہور کتاب''اردو افسانہ ، ایک صدی کا قصہ‘‘ ادبی حلقوں میں پذیرائی حاصل کر چکی ہے۔ کئی سو صفحات پر مشتمل اس ضخیم کتاب کا ایک پورا ایڈیشن صرف ڈیڑھ سو روپے میں شائع کیا گیا تھا، مقصد صرف یہ کہ اردو ادب کے طالب علموں کے لیے اس ریفرنس کتاب کا خریدنا ممکن ہو جائے۔
خیر بات گبن کی کتاب کی ہو رہی تھی۔ ای کرات اس کتاب کے ساتھ گزری، تین حسین صبحوں کا آغاز گبن کی خستہ، کراری تحریر پڑھنے سے ہوئی۔ کہتے ہیں کہ ابھی گبن کا یہ کتاب لکھنے کا ارادہ نہیں تھا، مگر تاریخ سے اپنی دلچسپی کے باعث اس نے شوقیہ ہزاروں صفحات کا مواد جمع کیا۔ مشہور ادیب ای ایم فورسٹر لکھتا ہے، ''گبن نے تاریخ کے حوالے سے جو کتابیں پڑھیں، جو نوٹس تیار کئے، ان کی تعداد حیران کن ہے، تاہم اس زمانے میں اس مطلق علم نہیں تھا کہ وہ یہ سب کچھ کیوں پڑھ رہا ہے۔ ‘‘ بنیادی طور پر یہ روم کے ابتدا سے زوال تک کی داستان ہے۔ تاریخ کی اہم ترین کتابوں میں اس کا شمار ہوتا ہے ۔ گبن کی تحقیق ، اس کا شاندار اسلوب ، غیر جذباتی اور غیر معتصب تجزیاتی انداز سے تاریخ انسانی کے عظیم مورخین میں شامل کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی سنجیدہ اور اعلیٰ کتاب ہے جسے ہر پڑھے لکھے کی نظر سے گزرنا چاہیے۔ ویسے تو چاروں جلدیں ہی باکمال ہیں، مگر تیسری اور چوتھی جلد میں جب اسلام کی آمد اور پھر مسلمان فاتحین کے رومیوں پر حملوں کا تذکرہ آتا ہے، قاری ایڈورڈگبن کے بے مثل غیر جانبدارانہ نقطہ نظر کا قائل ہو جاتا ہے۔ مجھے ان لوگوں پر ہمیشہ حیرت ہوتی ہے جو اردو میں اچھی کتابیں نہ ہونے کا شکوہ کرتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اردو کا دامن اب بہت سی اعلیٰ کتابوں سے لبریز ہے۔ ٹائن بی کی سٹڈی آف ہسٹری پیس (ناشر مجلس ترقی ادب) ہو، ابن خلدون کی مقدمہ ، ہیروڈوٹس کی ''تواریخ‘‘ وغیرہ یا پھر عالمی ادب کے وار اینڈ ، برادرز کرامازوف، کرائم اینڈ پنشمنٹ جیسے شاہکار ناول ہوں۔۔۔ اردو میں ان سب کے عمدہ تراجم موجود ہیں۔ ہمیں صرف اپنے نوجوانوں میں مطالعہ کا ذوق پیدا کرنا ہوگا، کتابوں کی کمی نہیں۔ خود مقتدرہ قومی زبان کی کتابوں کی فہرست میں ایسی بہت سی کتابیں نظر آئیں جنہیں لینے کو دل مچل گیا۔ چھ جلدوں میں مکالمات افلاطون بھی شائع ہوئے ہیں، قیمت بھی ان کی مناسب ہے کہ سرکاری اور نیم سرکاری اداروں سے پچاس فیصد تک رعایت مل جاتی ہے۔
چلتے چلتے ہمارے دوست اور ایکسپریس کے کالم نگار اعجاز حفیظ خان کی شائع ہونے والی دو کتابوں کا تذکرہ کہ کچھ عرصے سے ان پر بھی لکھنا چاہتا تھا۔ اعجاز حفیظ صحافیوں کی اس قسم سے تعلق رکھتے ہیں جو ہمیشہ ڈاؤن ٹوارتھ رہے، سرکار دربار سے دور۔ پیپلز پارٹی اور بھٹو صاحب سے البتہ انہیں عشق کی حد تک لگاؤ ہے۔ ان کی تحریروں میں یہ رنگ بار بار جھلکتا ہے۔ ان کے نظریات اور سوچ سے ہمیں اختلاف ہے، مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایک اچھے اور مخلص انسان ہیں۔ پریس کلب کے کمپاؤنڈ میں ایک چھوٹے درخت کے نیچے بچھی سیمنٹ ک بنچ ان کا تکیہ یا ڈیرہ ہے۔ برسوں سے ہم نے توا نہیں یہیں پر بیٹھے دیکھا۔ شدید حبس آلود گرمی اور یخ بستہ سرد راتوں میں بھی ان کی یہی روٹین رہی۔ اعجاز حفیظ خان کی دو کتابیں کچھ دن پہلے شائع ہوئی ہیں۔ ایک شعری مجموعہ ، شاعری ایک زمانے میں ہمیں مرغوت تھی،مگر پچھلے کئی برسوں سے اس جانب کوئی توجہ نہیں، اس لیے اس بارے میں کوئی رائے دینے سے گریز کروں گا۔ تاہم اعجاز حفیظ خان کے کالم کی ایک وجہ مقبولیت اس میں درج خوبصورت اشعار ہوتے ہیں۔ توقع ہے کہ ان کی اپنی تخلیق کردہ شاعری بھی پذیرائی حاصل کرے گی۔ دوسری کتاب''محبت‘‘ کے نام سے دس سچی کہانیوں کا مجموعہ ہے۔ یہ کہانیاں البتہ میں نے تمام پڑھی ہیں۔ سیدھی سادی زبان میں بڑی عمدگی سے معاشرے کے مختلف پہلوؤں کو بیان کیا گیا ۔ان میں سے بعض کردار وں سے میں بھی واقف ہوں۔ یہ کتابیں حفیظ خان فاؤنڈیشن نے شائع کی ہیں، مزید معلومات کے لیے 0300-4459161 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے

بشکریہ روزنامہ ایکسپریس

 
 
جملہ حقوق بحق ادارۂ فروغِ قومی زبان محفوظ ہیں