English اُردو        
  رابطہ اغراض و مقاصد تعارف سرورق

۱۳ ستمبر ۲۰۱۱ء

پریس ریلز


مقتدرہ قومی زبان اور فرہنگستان زبان وادب ایران دونوں علمی ادارے لسانی اور ثقافتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے مستقبل قریب میں ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کریں گے۔یہ بات گذشتہ روز پاکستان میں تعینات ایرانی ثقافتی قونصلر آقاء علی نوری اور صدرنشین مقتدرہ قومی زبان ڈاکٹر انوار احمد کے درمیان مقتدرہ قومی زبان کے صدر دفتر میں ہوئی ۔دونوں نے ملاقات کے دوران اس بات پر زور دیا کہ ہمیں سماجی اور لسانی سرگرمیوں کو مزید فرغ دینا چاہیے ۔ اور امید ظاہر کی گئی کہ دونوں ادارے تبادلہ کے پروگرام کے تحت تربیتی کورسوں ،فنی تربیت ،کتب ،معلوماتی مواد، تربیت دینے والے ماہرین اور سمعی و بصری مواد کا باہمی تبادلہ کریں گے ۔یہ بات بھی زیر غور آئی کہ مفاہمتی یاداشت میں اس بات کو بھی شامل کیا جائے گا کہ اردواور فارسی کے کلاسیکل ادب پر مشترکہ تحقیقی منصوبے شروع کیے جائیں اور سیمنار کا انعقاد ہو۔
مقتدرہ کے صدرنشین ڈاکٹر انوار احمد نے کہا کہ پاکستان میں فارسی ادبیات کے فروغ سے ہمارے معاشرے میں رواداری بڑھے گی ۔ کچھ دہائیاں قبل ہمارے طالب علم شیخ سعدی ،مولانا رومی اور حافظ شیرازی کو پڑھا کرتے تھے تو معاشرے میں اعتدال پسندی پائی جاتی تھی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں علمی اداروں میں زیادہ سے زیادہ تعاون ہونا چاہیے تاکہ ثقافتی تعلقات میں ماضی جیسا فروغ ہو ۔انہوں نے مزید کہا کہ فرہنگستان زبان و ادب اور مقتدرہ قومی زبان ذو لسانی لغات پر مشترکہ طور پر ایسے کام کر سکتے ہیں جو مقتدرہ کی ویب گاہ پر دستیاب ہوں اور اردو زبان کے طالب علموں ،استاتذہ اور سکالرز کے لیے مفید ثابت ہوں۔انہوں نے کہا اصطلاحات سازی میں مقتدرہ قومی زبان فرہنگستان زبان و ادب کے تجربات سے استفادہ کر سکتاہے۔

(جاوید اخترملک)
مشیر ابلاغ عامہ

 
 
جملہ حقوق بحق ادارۂ فروغِ قومی زبان محفوظ ہیں