اربابِ علم و فن

ارباب علم و فن کی قابل قدر آراء کے منتخب اقتباسات۔ ادارے کا فاضل رائے نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ (مدیر)

پروفیسر ڈاکٹر معین الدین عقیل (پی۔ ایچ ڈی؛ڈی لٹ)
علم و فن کا دوسرا شمارہ بابت ۲۰۱۳ء موصول ہوا۔ بصد اشتیاق اسے بالاستیعاب دیکھا۔ مقالہ ''قرآن کا تصور قومی زبان'' تو اپنے موضوع کی کشش کے اعتبار سے بے مثال ہے۔ اس موضوع کی طرف تو کسی نے توجہ دی نہ اس طرح تفصیلات و جزئیات کے ساتھ کسی نے اس کا احاطہ کیا۔ یہ مقالہ شمارے کا حاصل ہے۔ آثاراردو کے تحت انتخاب قابل تحسین جبکہ اصطلاحات سازی کا سلسلہ بے حد مفید ہے۔ مجموعی طور پر تمام مقالات اس مجلہ کے ادارہ جاتی مقاصد کے عین تابع ہیں۔ دعا ہے کہ ''علم و فن'' اپنی اسی روایت کے ساتھ پابندی سے جاری رہے لیکن کاش یہ سہ ماہی بن سکے۔
پرویش شاہین (ڈائریکٹر ، لینگویجز ریسرچ پروجیکٹ سینٹر، منگلور ، سوات)
مجلہ ''علم و فن'' شمارہ : ۲،۳ (مشترکہ) موصول ہوا۔ آپ نے ایک قابل تحسین قدم اٹھایا ہے کہ جریدہ میں عملی زندگی کے موضوعات پر تحقیقی مقالات اردو میں شامل کردیے ہیں۔ اب نراادب عوام کی ضرویات پوری نہیں کرسکتا۔ کیا خوب ہو کہ اگلے شماروں میں معدنیات، حیوانات، چراگاہوں، قدرتی وسائل، سائنسی ایجادات وغیرہ جیسے تمام شعبہ ہائے علمی کے تحقیقی مقالات بھی شائع ہوں۔ ادب کے سُوتے تو یہی چیزیں ہیں۔ کلچر تو عوام ہی میں اُگتا ہے۔ آگے بڑھ کر شہروں میں اسے چمکایا جاتا ہے۔ پھولوں پر نظر ڈالنے کے لیے کیا ضروری نہیں کہ جڑ اور تنے کا بھی خیال رکھا جائے اور قدرتی ماحول کو ان چیزوں کی پرورش کے لیے سازگار بنایا جائے۔ پانی اورپہاڑ کیسے محفوظ کیے جاسکتے ہیں۔ اگر اس قسم کی چیزیں ادب کی طرف نہیں لے جائیں گی تو یقینا ہمارے ادب کی زبان سنسکرت ہی بن جائے گی اور وہ عوام سے دور رہ جائے گی۔ قرآن کا تصور قومی زبان خاصے کی چیز ہے۔میرے خیال میں ہماری اصطلاحات کی زبان بڑی مشکل ہے۔ دوسرے یہ کہ نئی مجوزہ اصطلاحات کا موازنہ پہلے سے زیراستعمال اصطلاحات کے ساتھ کرنا مناسب ہوگا۔ اس سلسلے میں درج ذیل اصطلاحات قابل توجہ ہیں۔
ص: ۱۵۶ پلیٹ فارم اب اردو کا ہی لفظ ہے۔
ص: ۱۵۶ پروٹین پاشی دو زبانوںکو ملاکر اصطلاح بنانے کی کوشش کی گئی ہے، مناسب نہیں۔
ص: ۱۵۷ چھڑق پشتو کا نہایت مناسب لفظ ہے مگر اس کا املاء چڑک ہونا چاہیے۔
آفتاب ضیاء کالم نگارروزنامہ نوائے وقت، اسلام آباد ، ۱۳۔جولائی ۲۰۱۴ء
علم و فن کے شمارہ : ۲ کے مقالات اور تجزیاتی مضامین کے مطالعہ سے نہ صرف معلومات میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ اگر اداروں کو مالی دشواریوں اور سرخ فیتے کا شکار نہ ہونے دیا جائے تو اہل قلم و ہنر اس ملک کی کایا پلٹ سکتے ہیں۔ علم و فن میں شامل محمد اسلام نشتر کا مقالہ ''قرآن کا تصور قومی زبان'' ایک ایسی دستاویز ہے جو نہایت لگن اور تحقیق سے تیار کی گئی ہے۔ تحقیقی مقالات ''گندم کی مختلف اقسام کے اگاؤ پر نمکیات کا اثر'' ؛ ''پاکستان میں غذائی تحفظ کی صورت حال'' اور ''پاکستان میں صوبوں کا نظام حکومت'' جہاں علمی لحاظ سے کارآمد ہیں وہاں شعبہ وار ترویج قومی زبان کے مقاصد کے حصول میں بھی مددگار ہیں۔ علم و فن ۲۰۱۳ء اپنی اہمیت کے حوالے سے نہایت کارآمد مجلہ ہے جس کا ایک ایک مقالہ اردو زبان کے عملی نفاذ میں ممدومعاون ثابت ہوگا۔ کسی بھی تحریر کا اثرانگیز ہونا بے حد نتیجہ خیز ہوتا ہے۔ یہ بات جس دن ہمارے پالیسی سازوں کی سمجھ میں آگئی، ملک کا مستقبل تابناک ہوجائے گا۔ اندھیروں کے حصارکو توڑنے کے لیے علم و فن جیسے مجلات کی اشاعت میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جانا چاہیے۔ علم و فن کی ترقی کے لیے ششماہی ''علم و فن'' کو کم از کم سہ ماہی ہونا چاہیے۔

ڈاکٹر عبدالکریم (پی ۔ایچ ڈی) ہفت روزہ ''مون کریشنز'' مظفرآباد، آزادکشمیر
''علم و فن'' کے دوسرے شمارے کی صورت میں بہت عرصے بعد ایک مجلہ دیکھنے اور پڑھنے کو ملا جو منفرد ہے۔ آپ نے ''قرآن کا تصور قومی زبان'' ایک طویل مقالہ پیش کیا ہے۔ تاہم معذرت کے ساتھ عرض کروں گا کہ عربی کو اپنے علاقوں میں کسی اور زبان سے کوئی خطرہ تھا نہ ہوگا۔ وہ ماضی میں اقتدار کی زبان رہی ہے اور آج بھی درجنوں ممالک کی اقتداری زبان ہے۔ ہمارے ملک میں اقتدار اردو کو ملا ہی نہیں۔ سب سے فکرانگیز مقالہ شوریتی زراعت پر ''گندم کی مختلف اقسام کے اُگاؤ پر نمکیات کا اثر'' ہے۔ اگر ہم اردو کو ایک زندہ اور متحرک زبان کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں تو اس طرح کے مزید مقالات کو سامنے لانا ہوگا۔ دوسرا وقیع مقالہ ''پاکستان میں غذائی تحفظ کی صورت حال'' ہے۔ پاکستان اور آزاد کشمیر میں خوراک کی صورت حال اچھی نہیں ہے۔ ایس ڈی پی آئی کی رپورٹ خوفناک صورت حال کی نشان دہی کررہی ہے کہ پاکستان کے ۱۳۱ اضلاع میں سے ۸۰ اضلاع غذائی قلت کا شکار ہیں۔ مقالے کا مثبت پہلو اصلاح احوال کی کارگر تدابیر تجویز کرنا ہے۔ نظام حکومت میں ''آزادکشمیراور گلگت و بلتستان'' پر بھی مبسوط مقالے کی ضرورت ہے۔ اصطلاحیات کا سلسلہ خوب ہے اور کچھ اصطلاحات تو نہایت معیاری ہیں۔ مجلے کی انفرادیت کو بحال رکھنے کی ضرورت ہے اور طب کے شعبے سے بھی مقالات کی ضرورت ہے۔ ہمارے ملک میں بے شمار ایسے اہل افراد موجود ہیں جو انجینئری، تعمیرات ، تابکاری، ماحولیات، نفسیات وغیرہ جیسے علوم پر اردو میں بہترین تحقیقی مقالات پیش کرسکتے ہیں۔

سفیراختر مدیر، ششماہی نقطۂ نظر اسلام آباد اپریل تا ستمبر ۲۰۱۴ء
ادارہ فروغ قومی زبان مجلہ علم و فن کے مندرجات مفید ہیں جن سے قارئین اپنے اپنے ذوق کے مطابق استفادہ کریں گے۔ اصطلاحات سازی کے سلسلے میں ادارے نے ایک آن لائن پروگرام جاری کررکھا ہے، جس میں کوئی بھی شریک ہوکر کسی بھی مضمون کی انگریزی اصطلاح کا اردو مترادف تجویز کرسکتا ہے۔ اس کام میں عامۃ الناس کے دلچسپی لینے سے مفید نتائج کے برآمد ہونے کی اُمید کی جاسکتی ہے۔ اشاریہ سازی کے تحت مجلات کے انتخاب میں جامعات کے شعبہ ہائے اردو زیادہ نمایاں ہیں۔ شمارہ (۱) میں منشور کی جمع 'منشورات' درست نہیں۔ اگر لفظ 'منشور' ہی لکھ دیا جاتا تو ابلاغ میں کوئی کمی نہ آتی۔