آثار اردو

بابائے قوم قائداعظم محمدعلی جناحؒ کے واضح فرامین، تحریک پاکستان کے پیداکردہ قومی جذبہ اور آئین پاکستان، ۱۹۷۳ء کی دفعہ ۲۵۱ (۱) کے تقاضوں کی بجاآوری کے لیے ملک کے اندر قومی زبان کے نفاذ کی بات کی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں بعض حلقوں کی طرف سے آواز اٹھتی ہے کہ نفاذکے لیے قومی زبان 'اردو' کی تیاری ابھی نامکمل ہے۔ بادی النظر میں یہ دلیل قوی محسوس ہوتی ہے مگر اس حقیقت کو فراموش کردیا جاتا ہے کہ بطور قومی زبان اردو کا نفاذ تو برطانوی حکومت نے ۱۸۳۵ء میں ہی کردیا تھا۔ اگر یہ کام اس قدر ہی نامکمل ہے تو کم وبیش دو صدیاں قبل کیسے ممکن ہوسکا۔
۱۸۳۵ء میں اردو سرکاری زبان کا درجہ پاکراپنے عہدزرّیں میں داخل ہوگئی ۔ اس کے نتیجے میں اردو نے صرف نظام سلطنت کے دفاتر کو ہی سیراب نہیں کیا بلکہ مذہبی، اخلاقی، طبی، سیاسی، قانونی، مکتوبی، اخباری، تقریری اور اشتہاری شعبہ جات تک میں لسانی انقلاب برپا کردیا۔ اردو کے بطور سرکاری زبان نفاذ کا یہ تجربہ نہایت کامیاب رہا جس کی سنہری کرنیں ہمارے آج کو بھی جگمگارہی ہیں۔
اردو زبان کے ارتقاء کی ان کیفیات کو اردو کے نامور ادیب احسن مارہروی نے ۱۹۲۹ء میں 'نمونۂ منثورات' کے نام سے یکجا کرکے امر کردیا۔اردو زبان کی شعبہ وار تاریخی ترقی کے نقطۂ نظر سے اس مجموعۂ دستاویزات کو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے ۱۹۳۰ء میں شائع کیا گیا۔ ہم انیسویں اور بیسویں صدی عیسوی کی دفتری اردو کے ان نمونوں میں سے چند نمونے پیش کررہے ہیں تاکہ ہمیں آج اکیسویں صدی عیسوی میں ان کامیاب ابتدائی مساعی کا ادراک ہوسکے۔ احسن مارہروی کے مرتبہ دفاتر سلطنت سے متعلق احکام، عرائض،تجاویز ،اطلاع نامہ جات، سمن اور تمسکات کے ان نمونہ جات میں ۱۸۴۱ء سے ۱۹۲۶ء تک کے نمونے شامل ہیں۔ انھیں باقاعدہ دو ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اولین دور (۱۸۴۱ء تا ۱۸۵۹ئ) کے چھ جبکہ دوسرے دور (۱۸۶۰ء تا ۱۹۲۹ئ) کے سولہ نمونہ جات شامل ہیں۔ فاضل مرتب نے صرف نمونے دینے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنے تبصرہ و کیفیت میں اس دور کے دوران دفتری اردو میں ہونے والی لسانی تبدیلیوں کو بیان کرتے ہوئے دفتری نظام کے ارتقأ کا مفصل جائزہ بھی لیا ہے۔ احسن مارہروی کا یہ جائزہ ہمارے مطالعہ کے لیے بے حد ضروری ہے تاکہ ہم اس بنیاد پر آج اکیسویں صدی عیسوی میں قومی زبان کے نفاذ کی راہ ہموار کرسکیں۔
احسن مارہروی کا اصل نام سیدعلی احسن تھا جو یکم نومبر ۱۸۷۶ء کو مارہرہ میں سید مجتبیٰ حسن کے ہاں پیدا ہوئے۔ اردو، فارسی اور عربی کی تعلیم خانقاہ میں مختلف اساتذہ سے حاصل کی اور قرآن پاک حفظ کیا۔ ۱۸۹۲ء میں مرزا داغ دہلوی سے بذریعہ خط کتابت تلمذ پایا۔ ۱۸۹۷ء تا ۱۹۰۳ء اپنے استاد کی خدمت میں رہ کر تکمیل ذوق کی۔ ۱۹۲۱ء تا ۱۹۳۸ء مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے شعبہ اردو سے وابستہ ہوگئے۔ احسن مارہروی پہلے انٹرمیڈیٹ کالج اور بعدازاں یونیورسٹی میں استاد رہے۔ نمونۂ منثورات کا انتساب نظام حیدرآباد دکن میرعثمان علی خان کے نام ہے جنھوں نے اردو ذریعۂ تعلیم کی حامل جامعہ عثمانیہ قائم کرکے ریاست حیدرآباد کو ترقی کی راہ پر گامزن کردیا تھا۔
فصیح اللغات ؛ کسوف الشمسین؛ اردو لشکر ؛ شاہکار عثمانی اور نمونۂ منثورات کے علاوہ کئی دیگر یادگار تصانیف و تالیفات کے خالق جناب احسن مارہروی نے ۶۴ سال کی عمرمیں ۳۰ اگست ۱۹۴۰ء کو وفات پائی۔
آثار اردو میں دفتری اردو کی ۸۵ سالہ جدوجہد پر محیط احسن مارہروی کی مرتبہ دستاویزات کا ۱۷۳ سے ۸۸ سال قبل کا یہ انتخاب مملکت خداداد 'پاکستان' کے نظام حکومت کو قومی زبان آشنا کرنے کی مساعی کا حصہ ہے۔ مدیر