پنجاب اسمبلی اور مسودات قانون برائے نفاذِ قومی زبان
(۱۹۶۳ئ۔۱۹۹۷ئ)

ڈاکٹرمحمد ارشد اویسی *

ِAbstract

National Language is the basic binding force for a nation. Nations never progress nor develop without the adoption and progress of their national language, which unite them. The research paper describes the legislative struggle in Punjab Assembly from 1963 to 1997 to adopt "Urdu" as National Language in the light of constitutional obligation. For this purpose total nine bills had been moved during this period, time to time, as private member bill. However, none of them had become Act for implimentation. Research paper cemprises even all background of this struggle from 1897 without which one can't clearly understand this national issue. Research paper has become the historical document of our parlimentary life in reference of provincial Assembl.

تعارف

دنیا میں کسی آزاداور خود مختار مملکت کا تصور بھی مقننہ کے بغیرممکن نہیں ۔ جدید ریاستی نظام میں قانون ساز ادارے ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔یہ عوام کے اجتماعی اظہار کے علاوہ ملک و قوم کے احساسات کے ترجمان ہوتے ہیں اور امین بھی۔ صوبائی اسمبلی پنجاب ملک کے دیگر پارلیمانی اداروں کی طرح آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد کے عرصہ کے دوران دستوری پیش رفت کے طویل عمل سے گزری ہے۔


پس منظر

یہ بحث پنجاب اسمبلی میں شروع ہی سے کسی نہ کسی طور آج تک جاری ہے کہ اردو ہی ذریعہ اظہار ہو۔ پنجاب اسمبلی کے مختلف ادوار میں معزز ارکان اسمبلی نے اردو کے نفاذ اور فروغ کے سلسلہ میں مختلف انداز میں آواز بلند کی اور حکومت کواس اہم قومی فریضہ کی بجا آوری کی طرف متوجہ کیا۔یکم نومبر ۱۸۹۷ء میں اپنا ارتقائی سفر شروع کرنے والا یہ قانون ساز ادارہ ایک سو پندرہ سال کے قلیل عرصہ میں علم و ادب کے کئی پہلو اپنے اندر محفوظ کیے ہوئے ہے۔
نفاذ اردو کے لیے پنجاب اسمبلی میں ارکان اسمبلی نے کئی مسودات قانون پیش کیے۔ قانون سازی کے دوران معزز ارکان نے ترامیم کے نوٹس دیے؛ بجٹ اردو میں پیش نہ کرنے پر احتجاج کیا ؛ سوالات اٹھائے ؛ قراردادیں پیش کیں؛نقطۂ اعتراض( پوائنٹ آف آرڈر) پر قومی زبان کی اہمیت و ضرورت کی وضاحت کی ؛ اردو سے بے اعتنائی پر احتجاجاً واک آئوٹ کیا ؛ اردو میں ایجنڈا مہیا کرنے کا مطالبہ کیا؛ کورم پورا نہ ہونے کی وجہ یہ بتائی کہ ۸۰ فی صد ارکان انگریزی نہیں سمجھتے ؛ تحاریک التوا پیش کی گئیں؛ اسمبلی میں اردو ذریعہ اظہار پرا سپیکر کی رولنگ اور اردو کے نفاذ کے سلسلے میں معزز ارکان اسمبلی کی طرف سے استحقاق کی تحریکیں بھی زیرِ بحث آئیں۔قومی زبان اردو کے نفاذ اور فروغ کے سلسلے میں پنجاب اسمبلی کا یہ کردار اردو زبان کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے جس پر بجا طور پر فخر کیا جا سکتا ہے۔
وقت کبھی تھمتاہے نہ اس کی رفتار سست ہوتی ہے۔ وہ دنوں ، مہینوں ، برسوں اور صدیوں کی منزلیں طے کرتا رہتا ہے۔ افراد ،اداروں اور قوموں کی زندگی میں بعض ایسے لمحات آتے ہیں جو یادوں کے نقوش کی صورت اختیار کر جاتے ہیں۔ انہی میں سے بعض نقوش کو ترتیب و تجزیہ کے سانچے میں ڈھالا جاتا ہے تو وہ تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔پنجاب اسمبلی ایک ایسا ادارہ ہے جو ایک تاریخی عمل کے نتیجے میں معرض وجود میں آیااور تاریخ ساز بن گیا۔اردو زبان کے نفاذ اور فروغ کے حوالے سے کئی گراں قدر پہلو اور انمٹ نقوش اپنے اندر محفوظ کیے ہوئے ہے۔

مباحث

نظام مملکت میں جس طرح قانون ساز اداروں کو اولین حیثیت حاصل ہے، اسی طرح قومی زبان کومملکت کی قومی زندگی میں اہم مقام حاصل ہے۔ قومیت کے اہم اجزا میں ایک اہم جز رابطے کی زبان بھی ہے اور قومیت کا تصور ہر قوم کے لیے ایک مخصوص زبان پر زور دیتا ہے۔یہی زبان اس قوم کی قومی زبان کہلاتی ہے جو علاقائی اکائیوں کے درمیان سے ابھرکر مشترکہ ہونے اعزاز پاتی اور رابطے کا کام دیتی ہے۔قائد اعظم محمد علی جناح نے آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد بھی کئی مواقع پر واشگاف الفاظ میں فرمایا : '' اردو اور صرف اردو پاکستان کی قومی زبان ہو گی۔''پنجاب اسمبلی کے ہر ایک دور میں کئی ایک معزز ارکان نے اردو کے نفاذ اور فروغ کے سلسلے میں ایوان میں آواز بلند کی اور حکومت اس کو اہم قومی فریضہ کی بجا آوری کی طرف متوجہ کیا۔ بعض مواقع پر معزز ارکان نے اردو کے نفاذ کے سلسلے میں مناسب توجہ نہ دینے پر احتجاج تک کیا۔
۱۸۹۷ء میں جب پنجاب کے قانون ساز ادارے کا پہلا اجلاس(۱) منعقد ہوا تو کسے علم تھا کہ یہ ادارہ آگے چل کر اردو زبان کے فروغ اور نفاذ کے لیے اتنی گراں قدر خدمات انجام دے گا جو نشان راہ نہیں نشان منزل کہلائیں گی۔
پنجاب کے لیے مقامی نمائندوں پر مشتمل قانون ساز ادارے کے تصور کی بنیاد دراصل ۱۸۵۸ء کے ملکہ برطانیہ کے اس حکم میں ہی رکھ دی گئی تھی جس کے تحت برصغیر پاک و ہند کا انتظام ایسٹ انڈیا کمپنی سے لے کر تاج برطانیہ کے سپرد کر دیا گیا تھا۔یہ ایکٹ (قانون ہند) برصغیر میں آئینی ارتقاء کا نقطہ آغاز کہا جا سکتا ہے۔ملکہ برطانیہ کے اس حکم کی انگریزی، اردو، گورمکھی اور ہندی زبان میں نقول فراہم کرنے کے سلسلے میں جوڈیشل کمشنر مسٹر ای تھورٹن نے ایک نوٹس جاری کیا تھا: تا کہ برصغیر میں بسنے والے ہر طبقہ کے لوگ اس کو آسانی سے سمجھ سکیں۔نوٹس میں درج تھا:
''گورنمنٹ آف انڈیا کی منتقلی سے متعلق ملکہ برطانیہ اور گورنر جنرل کے اعلانات کی انگریزی ، اردو ، گورمکھی اور ہندی زبان میں نقول لاہور میں واقع چیف کمشنر کے دفتر سے درخواست دے کر حاصل کی جا سکتی ہیں۔''(۲)
اختیارات کی منتقلی کے حوالے سے ۳۔ نومبر ۱۸۵۸ء کو جاری ہونے والے ایک اعلان میں کہا گیا تھا :
''ملکہ برطانیہ کے ہندوستان میں برطانوی علاقوں کی حکومت اپنے ہاتھ میں لینے پر وائسرائے اور گورنر جنرل بذریعہ تحریر ہٰذا اعلان کرتے ہیں کہ حکومت ہند کے تمام امور صرف ملکہ کے نام سے ہی انجام پائیں گے۔۔۔۔ہر نسل اور ہر طبقے کے ایسے تمام اشخاص جوایسٹ انڈیا کمپنی کے تحت برطانیہ کی قوت و سطوت برقرار رکھنے میں شامل رہے ہیںصرف وہی ملکہ کے ملازم شمار ہوں گے۔''(۳)
۱۸۵۸ء کے قانون ہند(۴) کے بعد حکومت ہند کی مرکزیت مکمل کر دی گئی۔ اہل ہند پر حکومت کرنے کے لیے ان کی رائے عامہ سے حکومت کو واقف ہونا چاہیے۔ اس کا تعلق رعایا کے ساتھ واضح، گہرا اور پائیدار ہو تاکہ جن لوگوں کے لیے حکومت قانون بنانا چاہتی تھی، ان کے منشأ اور خواہشوں کی اسے اطلاع ہونی چاہیے۔ حکومت ہند یہ مقصد صرف اس وقت حاصل کر سکتی تھی جب قوانین بنانے کے لیے غیر سرکاری عنصر کو اپنے ساتھ شریک کرے جو جمہور کی نمائندگی کر سکے۔ یہ بات اس وقت مناسب نہیں سمجھی گئی کہ قانون بنانے کا سارا کام حسب سابق گورنر جنرل اور اس کی کونسل کے سپرد کیا جائے تا کہ ۱۸۵۸ء کے قانون ہند کے نفاذ کے بعد جو مشکلات پیدا ہوئی ہیں، انھیں دور کیا جائے اور قوانین بنانے میں رائے عامہ کی خواہش کو معلوم کرنے کی تدبیر نکالی جائے۔ اس کو انڈین کونسلز ایکٹ ۱۸۶۱ء (قانون مجالس ہند ۱۸۶۱ء ) کہتے ہیں۔
انڈین کونسلز ایکٹ ۱۸۶۱ء کے ساتھ ہی کونسل کے کاروبار کو احسن طریق سے چلانے کے لیے قواعد وضع کر دیے گئے۔ یہ قواعد انضبا ط کار انڈین کونسلز ایکٹ کی دفعہ ۸ کے تحت حاصل شدہ اختیارات کو بروئے کار لانے کے لیے گورنر جنرل نے وضع کیے۔ ان قواعد انضباط کار برائے کونسل میں زبان کے حوالے سے درج ذیل قاعدے دیے گئے ہیں۔قاعدہ نمبر ۹ کوئی رکن کسی ایسے رکن کی درخواست پر یا اس کی جانب سے بات کر سکتا ہے جو اپنا مؤقف انگریزی زبان میں بیان کرنے سے قاصر ہو۔(۵)
قاعدہ نمبر ۱۵ سیکریٹری فی الفور مسودہ قانون مع بیان اغراض وجوہ شائع کرانے کا اہتمام کرے گا اور ہر رکن کے استفادہ کے لیے اس کی نقل بھیجے گا۔ وہ مسودہ قانون مع بیان اغراض وجوہ کو ان ارکان کے لیے جو انگریزی زبان سے ناآشنا ہیں ہندوستانی زبان میں ترجمہ کرانے کا اہتمام بھی کرے گا۔(۶)
قاعدہ نمبر ۱۷ اگر کونسل یہ فیصلہ کرے تو مسودہ قانون رپورٹ کی غرض سے ایک مجلس منتخبہ کے سپرد کیا جائے گا اور بیان اغراض وجوہ سمیت انگریزی اور ورنیکلرزبانوں میں ہندوستان کے ایسے حصوں کے سرکاری جریدوں میں شائع کرایا جائے گا جو مسودہ قانون سے متاثر ہوں۔(۷)
قاعدہ نمبر ۲۳ سیکرٹری مجالس منتخبہ کی رپورٹیں شائع کرانے کا اہتمام کرے گا اور ہر رکن کے استفادے کے لیے ان رپورٹوں کی نقول مہیا کرے گا۔ وہ ان رپورٹوں کو ان ارکان کی سہولت کے لیے ہندوستانی زبان میں ترجمہ کرانے کا اہتمام بھی کرے گا جو انگریزی زبان سے ناآشنا ہیں۔(۸)
قاعدہ نمبر ۲۵ وہ (سیکریٹری) ایسی تمام ترامیم کو ان ارکان کی سہولت کے لیے ہندوستانی زبان میں ترجمہ کرانے کا اہتمام بھی کرے گا جو انگریزی زبان سے ناواقف ہیں۔(۹)
اس کے بعد اردو کی ترویج کے لیے جو کچھ عمل میں آیا وہ حسب ذیل ہے:
لیفٹیننٹ گورنر پنجاب کی کونسل ، انڈین کونسلز ایکٹ ۱۸۶۱ئ؛ ۱۸۹۲ء اور ایکٹ ۱۹۰۹ء کے تحت تشکیل پاتی رہیں۔ ۱۸۹۷ء سے ۱۹۲۰ء کے دوران یہ چار مختلف ادوار میں قوانین اور قواعد وضع کرتی رہیں۔ پہلا دور ۱۸۹۷ء تا ۱۹۰۹ء ٗ دوسرا دور ۱۹۱۰ء تا ۱۹۱۲ء ٗ تیسرا دور ۱۹۱۳ء تا ۱۹۱۶ء اور چوتھا دور ۱۹۱۶ء تا ۱۹۲۰ء پر محیط ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر پنجاب کی کونسل کے یکم نومبر ۱۸۹۷ء سے ۶ اپریل ۱۹۲۰ء تک ۸۹ اجلاس منعقد ہوئے ۔ ان اجلاسوں کے دوران مندرجہ ذیل مسودات قانون انگریزی اور اردو زبان میں پنجاب گورنمنٹ گزٹ میں اشاعت کے لیے بھیجے گئے :

1. The Punjab General Clauses Bill, 1897.(۱۰)
2. Punjab Riverain Boundaries Bill.(۱۱)
3. Punjab Land Preservation (Chos).(۱۲)
4. Punjab Limitation (Ancestral Land Alienation).(۱۳)
5. Sind Sagar Doab Colonisation. (۱۴)
6. Bill to amend Section 8 of the Punjab Laws Act. (۱۵)
7. Punjab Registration of Transport Animals Bill. (۱۶)
8. Punjab Steam Boilers and Prime Movers Bill. (۱۷)
9. Punjab Law of Pre-emption Bill. (۱۸)
10. Punjab Court of Wards Bill.(۱۹)
11. The Delhi Darbar Bill. (۲۰)
12. Punjab Loans Limitation Bill. (۲۱)
13. Law of Arbitration in the Punjab. (۲۲)
14. The Punjab Municipal Bill. (۲۳)
15. The Punjab Courts Bill. (۲۴)
16. Colonization of Government Lands (Punjab) Bill. (۲۵)
17. The Punjab Panchayat Bill.(۲۶)
18. Village Criminal Justice (Punjab) Bill. (۲۷)
19. Punjab Tenancy Act, 1887 (Amendment) Bill. (۲۸)
20. Punjab District Board (Amendment) Bill. (۲۹)

پنجاب لیجسلیٹوکونسل ،گورنمنٹ انڈیا ایکٹ ۱۹۱۹ء کے تحت تشکیل پائی ۔ ۱۹۲۱ء سے ۱۹۳۶ء کے دوران یہ اپنے فرائض انجام دیتی رہی ۔اِس کا پہلا دور ۱۹۲۱ء تا ۱۹۲۳ء ، دوسرا دور ۱۹۲۴ء تا ۱۹۲۶ء ، تیسرا دور ۱۹۲۷ء تا ۱۹۳۰ء اور چوتھا دور ۱۹۳۰ء تا ۱۹۳۶ء پر محیط ہے ۔ مجموعی طور پر پانچ سو آٹھ یوم اِس کونسل کے اجلاس منعقد ہوتے رہے۔ صاحب ِ صدر نے کونسل کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو ارکان انگریزی بول چال میں روانی نہیں رکھتے، وہ اپنی زبان میں کونسل سے خطاب کر سکتے ہیں۔(۳۰)
پنجاب لیجسلیٹوکونسل ،گورنمنٹ انڈیا ایکٹ ۱۹۱۹ء کے تحت تشکیل پائی ۔ ۱۹۲۱ء سے ۱۹۳۶ء کے دوران یہ اپنے فرائض انجام دیتی رہی ۔اِس کا پہلا دور ۱۹۲۱ء تا ۱۹۲۳ء ، دوسرا دور ۱۹۲۴ء تا ۱۹۲۶ء ، تیسرا دور ۱۹۲۷ء تا ۱۹۳۰ء اور چوتھا دور ۱۹۳۰ء تا ۱۹۳۶ء پر محیط ہے ۔ مجموعی طور پر پانچ سو آٹھ یوم اِس کونسل کے اجلاس منعقد ہوتے رہے۔ صاحب ِ صدر نے کونسل کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو ارکان انگریزی بول چال میں روانی نہیں رکھتے، وہ اپنی زبان میں کونسل سے خطاب کر سکتے ہیں۔(۳۰)
پنجاب لیجسلیٹو کونسل کے ۱۶ سالہ دور میں اُردو کی ترویج و ترقی کے لیے مختلف اوقات میں کونسل کے ارکان نے آواز بلند کی۔ جب اُردو کی بات کی جاتی تو ردِّ عمل میں ہندی ، پنجابی اور دیگر علاقائی زبانوں کی ضرور آواز سننے میں آتی لیکن خوش قسمتی سے صرف اُردو ہی کے حوالے سے دو قرار دادیں پاس ہوئیں جو مولوی محرم علی چشتی نے پیش کی تھیں۔در ج ذیل ایک قرار داد ''کونسل کی کارروائی'' اُردو میں کرنے سے متعلق تھی۔
'' کونسل کی کارروائی انگریزی میں تحریر کی جائے گی تاہم کوئی رُکن کونسل اُردو یا صوبے کی دیگر کسی علاقائی زبان میں خطاب کر سکتا ہے ۔ ''(۳۱)
دوسری قرار داد ''روداد کونسل'' کی اُردو میں اشاعت کے سلسلے میںیہ تھی:
''روداد کونسل کی اردو میں اشاعت کے سلسلے میں ۲۵ اکتوبر ۱۹۲۳ء کو جو تحریک صاحب ِ صدر زیرِ غور لائے اِس پر ۲۶ اکتوبر ۱۹۲۳ء کو رائے شماری ہوئی ۔ ۱۵ ووٹ اِس قرار داد کے حق میں آئے اور ۴ ووٹ خلاف'' ۔(۳۲)
گورنمنٹ انڈیا ایکٹ ۱۹۳۵ء کے تحت پنجاب لیجسلیٹوکونسل کا درجہ بڑھا کر پنجاب لیجسلیٹواسمبلی کر دیا گیااور ساتھ ہی صدر کے عہدے کی موسومیت نو (Redesignate)کر کے ا سپیکر کا نام دیا گیا۔پہلی پنجاب لیجسلیٹواسمبلی ۱۹۳۶ء میں جب کہ دوسری ۱۹۴۶ء میں منتخب ہوئی ۔گورنمنٹ انڈیا ایکٹ ۱۹۳۵ء کی دفعہ ۸۵ اسمبلی کی زبان سے متعلق ہے جس کی رو سے اسمبلی کی تمام کارروائی انگریزی میں ہونا قرار پائی۔ صرف ایک استثنیٰ رکھا گیا کہ ایسے ارکان جو انگریزی زبان سے واقف نہ ہوں، وہ صوبہ کی مختلف زبانوں میں سے کسی زبان میں تقریر کر سکتے ہیں۔ اِس ضمن میں ایوان کی رضا مندی سے قواعد مرتب کرنے کے لیے کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیااور یہ تجویز سامنے آئی کہ اسمبلی کی ساری کارروائی انگریزی یا ورنیکلر زبان میں سرانجام دی جائے گی۔ ورنیکلر سے مراد تھی ''اردو ، ہندوستانی اور پنجابی ''(۳۳)۔تاہم قطعی طور پر قاعدہ ۵۰، حسب ذیل، منظور ہوا۔
'' اسمبلی کی ساری کارروائی انگریزی میں سرانجام دی جائے لیکن جو رکن اعلان کرے کہ وہ انگریزی زبان سے ناواقف ہے یا کافی واقفیت نہیں رکھتا، وہ اس امر کا مجاز ہو گا کہ اسمبلی کے سامنے اُردو ، پنجابی یا صاحب ِ اسپیکر کی اجازت سے صوبہ کی کسی دیگر مسلمہ زبان میں تقریر کرے ۔ ''(۳۴)
قیامِ پاکستان کے بعد صوبہ مغربی پنجاب کا پہلا بجٹ انگریزی زبان میں میاں ممتاز خاں دولتانہ وزیر خزانہ نے ۶ جنوری ۱۹۴۸ء کو ایوان میں پیش کیا جس پر عام بحث اکثر و بیشتر اُردو زبان میں ہوئی۔ بجٹ پر بحث کے دوران ہی بیگم سلمٰی تصدق حسین نے اُردو کو جلد ازجلد ذریعہ تعلیم اختیار کرنے پر زور دیا۔(۳۵)دیہی مساجد میں مکاتب کے قیام کی قرار داد اِس اسمبلی میں پیش ہوئی ۔۱۹۵۱ء سے ۱۹۵۵ء کے دوران پنجاب لیجسلیٹو اسمبلی میں اردو زبان کی ترویج و اشاعت کے لیے قراردادیں منظور کی گئیںاوراُردو کے نفاذ کی بابت سوالات اُٹھائے گئے ۔(۳۶)
قیامِ مغربی پاکستان ایکٹ کے تحت مغربی پاکستان لیجسلیٹواسمبلی تشکیل پائی ۔ اِس اسمبلی میں اُردو کے حوالے سے اُٹھائے گئے بہت سے سوالات میں سے ایک یہ سوال بھی تھا کہ تلاوت کی گئی قرآن پاک کی آیات اور اُن کا ترجمہ کارروائی کا حصہ بنے ۔ اس پرجناب اسپیکر نے کہا جب قواعد میں ترمیم ہو گی تو اس وقت ایسا کر دیا جائے گا ۔(۳۷)آج تلاوت کی گئی آیات مبارکہ اور اس کا اردو ترجمہ اسمبلی کی کارروائی کا حصہ ہے ۔
پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد پنجاب اسمبلی میں اور ون یونٹ کے دور میں مغربی پاکستان اسمبلی میں اردو کے نفاذ کے سلسلے میں ۱۹۹۷ء تک مختلف اوقات میں اردو کے نفاذ کی ضرورت محسوس کرنے والے معزز ارکان اسمبلی نے نو مسودات قانون برائے نفاذ اردو ایوان میں پیش کیے۔ یہ پرائیویٹ بل کی صورت میں پیش کیے جاتے رہے۔اسمبلی کے مباحث گواہ ہیں کہ ان مسودات کے محرکین نے اردو کی حمایت میں بڑی پرمغز اور مدلل تقاریر کیں اور اردو کے نفاذ کے لیے ایک بھرپور مؤقف اختیار کیا۔ اردو کے لیے ان کی خدمات ہمیشہ یادرکھی جائیں گی۔
مسودات قانون برائے قومی زبان اردو :
(الف) مسودہ قانون قومی زبان مغربی پاکستان مصدرہ ،۱۹۶۳ء
(ب) مسودہ قانون قومی زبان مغربی پاکستان مصدرہ،۱۹۶۵ء
(ج) مسودہ قانون قومی زبان مغربی پاکستان مصدرہ ،۱۹۶۸ء
(د) مسودہ قانون قومی زبان مغربی پاکستان مصدرہ ،۱۹۶۸ء
(ہ) مسودہ قانون قومی زبان پنجاب مصدرہ،۱۹۷۲ء
(و) مسودہ قانون نفاذ اردو پنجاب مصدرہ، ۱۹۹۱ء
(ز) مسودہ قانون نفاذ اردو پنجاب مصدرہ ،۱۹۹۱ء
(ح) مسودہ قانون نفاذ اردو پنجاب مصدرہ، ۱۹۹۳ء
(ط) مسودہ قانون نفاذ اردو پنجاب،۱۹۹۷ء
سرکاری دفاتر ٗ عدالتوں ٗ تعلیمی اداروں اور زندگی کے دیگر شعبوں میں قومی زبان رائج کرنے کے پیش نظر پہلا مسودہ قانون برائے نفاذ اردو بعنوان ''مسودہ قا نون قومی زبان مغربی پاکستان مصدرہ ،۱۹۶۳ئ'' علامہ رحمت اللہ ارشد رکن صوبائی اسمبلی نے ۲۱۔مارچ ۱۹۶۳ء کو ایوان میں پیش کیا ٗ جسے مجلس قائمہ برائے قانون و پارلیمانی امور کے سپرد کر دیا گیا۔مجلس نے اپنے اجلاسوں میں مسودہ مذکور پر غوروخوض کیا۔ اس مجلس کے چیئر مین خواجہ محمد صفدر تھے۔ ۲۷۔فروری ۱۹۶۳ء کومجلس قائمہ کی رپورٹ ایوان میں پیش کی گئی اور اسی روز اس پر بحث کا آغاز ہوا۔ اسی رپورٹ پر ۱۸۔ مارچ ۱۹۶۴ء کو دوبارہ بحث شروع ہوئی۔ ابھی بحث جاری تھی کہ قصداً کورم توڑ دیا گیا۔حکومتی ارکان کے اس رویہ کے خلاف علامہ رحمت اللہ ارشد نے تحریک استحقاق پیش کر دی۔ اس پر بھی بحث مباحثہ ہوا۔ اس ضمن میں جناب اسپیکر نے ایک رولنگ بھی دی۔
سرکاری دفاتر ٗ عدالتوں ٗ تعلیمی اداروں اور زندگی کے دیگر شعبوں میں قومی زبان رائج کرنے کے پیش نظر پہلا مسودہ قانون برائے نفاذ اردو بعنوان ''مسودہ قا نون قومی زبان مغربی پاکستان مصدرہ ،۱۹۶۳ئ'' علامہ رحمت اللہ ارشد رکن صوبائی اسمبلی نے ۲۱۔مارچ ۱۹۶۳ء کو ایوان میں پیش کیا ٗ جسے مجلس قائمہ برائے قانون و پارلیمانی امور کے سپرد کر دیا گیا۔مجلس نے اپنے اجلاسوں میں مسودہ مذکور پر غوروخوض کیا۔ اس مجلس کے چیئر مین خواجہ محمد صفدر تھے۔ ۲۷۔فروری ۱۹۶۳ء کومجلس قائمہ کی رپورٹ ایوان میں پیش کی گئی اور اسی روز اس پر بحث کا آغاز ہوا۔ اسی رپورٹ پر ۱۸۔ مارچ ۱۹۶۴ء کو دوبارہ بحث شروع ہوئی۔ ابھی بحث جاری تھی کہ قصداً کورم توڑ دیا گیا۔حکومتی ارکان کے اس رویہ کے خلاف علامہ رحمت اللہ ارشد نے تحریک استحقاق پیش کر دی۔ اس پر بھی بحث مباحثہ ہوا۔ اس ضمن میں جناب اسپیکر نے ایک رولنگ بھی دی۔
۶۔اپریل ۱۹۶۴ء کو یہ مسودہ قا نون مجلس منتخبہ (سلیکٹ کمیٹی ) کے سپرد کردیا گیا تا کہ اس پر مزید غور کیا جا سکے ۔ اس مجلس کے کئی ایک اجلاس ہوئے۔ اس مجلس کی رپورٹ یکم جولائی ۱۹۶۴ء کو ایوان میں پیش کر دی گئی لیکن بحث و مباحثہ کے بعد ایوان اسمبلی کے فیصلہ کے مطابق اس مسودہ قانون قومی زبان کو دوبارہ غور و خوض کے لیے اس ہدایت کے ساتھ اسی مجلس منتخبہ کے سپرد کیا گیا کہ وہ ۳۰۔ستمبر ۱۹۶۴ء تک اس کی رپورٹ ایوان میں پیش کر دے۔ مجلس نے مقررہ تاریخ سے کئی روز پہلے اس پر ایک رپورٹ جاری کر دی جو ایوان میں پیش نہ کی جا سکی اور اسمبلی برخاست کر دی گئی۔
اردو کو بطور قومی زبان اختیار کرنے کے سلسلے میں دوسرا ''مسودہ قانون قومی زبان مغربی پاکستان مصدرہ ،۱۹۶۵ئ''خواجہ محمدصفدر نے یکم جولائی ۱۹۶۵ء کو ایوان میں پیش کیاجسے حسب معمول مجلس قائمہ برائے قانون و پارلیمانی امور کے سپرد کر دیا گیا۔ اس مجلس کی رپورٹ پر ۵۔دسمبر ۱۹۶۶ء اور پھر ۵۔جون ۱۹۶۷ء کو طویل بحث ہوئی۔ اس کی افادیت اور اہمیت پر بحث کے بعد رائے شماری (ووٹنگ ) ہوئی تو اس مسودہ قانون کو مسترد کر دیا گیا۔
علامہ رحمت اللہ ارشد کی جانب سے پیش کیا جانے والامسودہ قانون تاخیری حربوں کی نذر ہو گیا اور خواجہ محمد صفدر کی طرف سے پیش کیا جانے والا مسودہ قانون حکومتی اکثریت کے سامنے بے بس ہو گیا لیکن اردو کے خادم مسلسل کوشش میں رہے ۔چنانچہ تیسری بار ملک محمداختر نے ۲۔جولائی ۱۹۶۸ء کو '' مسودہ قانون زبان مغربی پاکستان مصدرہ ،۱۹۶۸ئ'' ایوان میں پیش کیا جسے پہلے ہی مرحلے پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ ملک صاحب نے ہمت نہ ہاری ۔انھوں نے ۱۶۔جنوری ۱۹۶۹ء کو دوبارہ (چوتھی بار) مسودہ قانون برائے نفاذ اردو ایوان میں پیش کر دیا لیکن یہ کوشش بھی بارآور نہ ہوئی۔ اسمبلی برخاست کر دی گئی اور ون یونٹ بھی توڑ دیا گیا۔یہ وہی ملک محمد اختر ہیں جنھوں نے بعدازاں ۱۹۷۳ء کے آئین کی تیاری کے دوران قومی اسمبلی میں قومی زبان کے حوالے سے آرٹیکل ۲۵۱ کی منظوری میںاہم کردار ادا کیا تھا۔
اردو کے نفاذ کے لیے پانچویں دفعہ سیدتابش الوری نے ''مسودہ قانون قومی زبان پنجاب مصدرہ، ۱۹۷۲ئ'' ۷۔جولائی ۱۹۷۲ء کو ایوان میں پیش کیا۔ اس پر مجلس قائمہ کی رپورٹ ۲۵۔جنوری ۱۹۷۳ء کو پیش کی گئی ۔ حکومت کی یقین دہانی کی بنا پر اس مسودہ قانون پر مزید کارروائی نہ ہوئی۔
۱۹۷۲ء کے بعد ۱۹۹۱ء میں جناب ارشاد حسین سیٹھی ٗ جناب فرید احمد پراچہ اور میاں محمودالرشید نے ''مسودہ قانون نفاذ اردو پنجاب۱۹۷۲ء کے بعد ۱۹۹۱ء میں جناب ارشاد حسین سیٹھی ٗ جناب فرید احمد پراچہ اور میاں محمودالرشید نے ''مسودہ قانون نفاذ اردو پنجاب مصدرہ ،۱۹۹۱ئ'' پیش کیا۔ اسی سال (۱۹۹۱ئ) میںمیاں محمودالرشید نے دوبارہ نفاذ اردو بل پیش کیا۔ اس سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے ایک بار پھر سید تابش الوری نے نفاذ اردو بل ۱۹۹۳ء پیش کیا اور ۱۹۹۷ء میں مولانا منظور احمد چنیوٹی کی طرف سے ''مسودہ قانون نفاذ اردو پنجاب بابت ۱۹۹۷ئ'' پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دیا گیا۔
اگرچہ ان تمام مسودات قانون برائے نفاذ اردو میں سے کوئی بھی باقاعدہ قانون کی صورت اختیار نہ کر سکا لیکن اس کے باوجود اس ضمن میں کی جانے والی کوششوں کو اردو زبان کی ترویج و ترقی میں نمایاں مقام حاصل رہے گا اور یہ کوششیں ان شاء اللہ ضرور کامیاب ہوں گی۔ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ان تمام مسودات قانون برائے نفاذ اردو کا الگ الگ جائزہ لے لیا جائے۔
٭ مسودہ قانون قومی زبان مغربی پاکستان مصدرہ ،۱۹۶۳ء (مسودہ قانون نمبر ۱۲ بابت ۱۹۶۳ئ)
منجاب : علامہ رحمت اللہ ارشد ٗ رکن اسمبلی
٭ مسودہ قانون قومی زبان مغربی پاکستان مصدرہ ،۱۹۶۳ء (مسودہ قانون نمبر ۱۳ بابت ۱۹۶۳ئ)
منجانب: مولانا غلام غوث ہزاروی ٗ رکن اسمبلی
٭ مسودہ قانون قومی زبان مغربی پاکستان مصدرہ ،۱۹۶۳ء (مسودہ قانون ۱۴ بابت ۱۹۶۳ئ)
منجانب: چودھری گل نواز خاں ٗ رکن اسمبلی
مندرجہ بالا تین مسودات قانون برائے قومی زبان صوبائی اسمبلی مغربی پاکستان سیکریٹریٹ میں جمع کروائے گئے۔ ان میں سے قرعہ علامہ رحمت اللہ ارشد کے نام کا نکلا۔ لہٰذا علامہ صاحب نے ایوان میں یہ مسودہ قانون پیش کیا۔علامہ رحمت اللہ ارشد کے پیش کیے گئے مسودہ قانون قومی زبان مغربی پاکستان مصدرہ، ۱۹۶۳ء کے ''بیان اغراض و وجوہ '' میں کہا گیا:
''مسلمان برطانوی عہد سے اردو زبان کو برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کرتے چلے آئے ہیں اور ماضی میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین گائے کی تقدیس اور زبان کے مسئلے پر فرقہ وارانہ فسادات اور خون خرابہ ہوتا رہا ہے ۔ اردو ملک کی قومی زبان تسلیم کی گئی ہے اور ملک میں ہر شخص کو اس زبان سے اُنس ہے۔ تعلیمی اداروں میں طلبہ اور اساتذہ اس زبان کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ عدالتوں میں مدعی و مدعا علیہ مقدمہ باز اور ملزم ؛ وکیل اور مؤکل؛ گواہ اور جج''مسلمان برطانوی عہد سے اردو زبان کو برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کرتے چلے آئے ہیں اور ماضی میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین گائے کی تقدیس اور زبان کے مسئلے پر فرقہ وارانہ فسادات اور خون خرابہ ہوتا رہا ہے ۔ اردو ملک کی قومی زبان تسلیم کی گئی ہے اور ملک میں ہر شخص کو اس زبان سے اُنس ہے۔ تعلیمی اداروں میں طلبہ اور اساتذہ اس زبان کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ عدالتوں میں مدعی و مدعا علیہ مقدمہ باز اور ملزم ؛ وکیل اور مؤکل؛ گواہ اور جج سب پاکستانی ہیں۔ ملک کے موجودہ حالات میں ایک غیر ملکی زبان کی حوصلہ افزائی اور سرپرستی خلاف مصلحت ہے نیز یہ امر کہ تمام سرکاری کارروائی انگریزی میں کی جا رہی ہے ۔ عوام کے لیے بہت دقت اور تکلیف کا باعث ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں انگریزی کا ذریعہ تعلیم ہونا وطن دشمن احساسات کا مظہر اور تضییع اوقات کے مترادف ہے اور سرکاری کارروائی و امور کی انجام دہی میں غیر ضروری طواطت کا باعث ہے۔ یہ پاکستان کے خصوصی مفادات کے عین منافی ہے۔ اس مسودہ قانون کا منشأ مذکورہ مشکلات کو دور کرنا ہے ۔ (۳۸)
علامہ رحمت اللہ ارشد نے اس مسودہ قانون The West Pakistan National Language Bill 1963کو ایوان میں پیش کرنے کی اجازت چاہی تو وزیر ریلوے ،مسٹر عبدالوحید خاں، نے اس حوالے سے کہا کہ صرف اتنا عرض کرنا ہے کہ اگر علامہ صاحب اس میں نیشنل کی بجائے آفیشیل کر دیں تو مجھے کوئی اعتراض نہ ہو گا کیونکہ اس آئین (Constitution)سے کوئی تضاد) (Conflictنہیں رہے گا۔ اگر ایسا کر دیں تو میں اس کو Opposeنہیں کروں گا کیونکہ آئین کے آرٹیکل نمبر ۲۱۵ میں نیشنل لینگویج جو ہے اسے آفیشیل لینگویج لکھا ہے۔محرک نے اس ترمیم سے اتفاق کیا۔ ایوان میں پیش کیے جانے کے بعد اس مسودہ قانون کو مجلس قائمہ برائے قانون و پارلیمانی امور کے سپرد کر دیا گیا ۔ (۳۹) مجلس قائمہ نے، اپنے اجلاس جو ۲۴ ستمبر ۱۹۶۳ء ، ۲۳ جنوری ۱۹۶۴ء اور ۱۰۔۱۱ فروری ۱۹۶۴ء کو عمارت اسمبلی میں منعقد کیے گئے تھے، مسودہ قانون مذکورہ پر غور و خوض کیا۔ اس مجلس قائمہ کی رپورٹ علامہ رحمت اللہ ارشد نے ایوان میں پیش کی کہ مجلس قائمہ نے اس کی سفارش کی ہے، لہٰذا فی الفور زیر بحث لایا جائے۔ (۴۰)
جناب سینئر ڈپٹی ا سپیکر نے اس تحریک کو ایوان کے سامنے رکھا تو وزیر تعلیم میاں محمد حسین وٹو نے اس کی مخالفت کی ۔ (۴۱) حکومت کی طرف سے مخالفت کے بعد اس مسودہ قانون پر بحث کا آغاز علامہ رحمت اللہ ارشد نے کیا۔ اس بحث میں محرک کے علاوہ سردار عنایت اللہ حسن خاں عباسی؛ صاحبزادی محمودہ بیگم ؛ امیر حبیب اللہ خاں سعدی ؛ میاں محمد اکبر ؛ مولانا غلام غوث ہزاروی؛مسٹر منور خاں؛ بیگم جہاں آرا شاہنواز ؛ خواجہ محمد صفدر ؛ مسٹر مبین الحق صدیقی ؛خان ملنگ خاں؛ مسٹر ایس ایم سہیل ؛ مسٹر عبدالرزاق خاں؛چودھری سعی محمد؛ حاجی میر محمد بخش؛ خان اجون خان جدون ؛ مسٹر افتخار احمد خاں پارلیمانی سیکرٹری ؛ میاں محمد شریف ؛ راؤ خورشید علی خاں؛مسٹر ایم حمزہ ؛ سید احمد سعید کرمانی ؛ حاجی گل حسن منگھی اور وزیر تعلیم نے اس میں حصہ لیا ۔ علامہ رحمت اللہ ارشد نے اپنے پیش کردہ بل کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایک آزاد؛ خود مختار؛ با غیرت اور باہمت قوم کا سب سے پہلا فرض اور سب سے اہم فرض یہ ہے کہ اس کی اپنی قومی زبان ہو اور وہ قومی زبان تمام عوامل کی حامل ہو ۔ علامہ صاحب نے مزید کہا کہ اس بل کو ملک کے عمائدین کے پاس رائے معلوم کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا ۔ پشاور یونیورسٹی ، حیدر آباد یونیورسٹی ،کراچی یونیورسٹی ، پنجاب یونیورسٹی کے علاوہ تمام ڈویژنوں کے کمشنروں ،پروفیسروں اور دانشوروں کی آراء بھی میرے پاس ہیں جنھوں نے اس کے ساتھ اصولاً اتفاق کیا (اس مسودہ قانون کو رائے عامہ کے لیے مشتہر کیا گیا ۔ ڈویژنل کمشنروں اور مختلف یونیورسٹیوں کی اردو بل کے حق میں رپورٹیں موصول ہوئیں۔ ان تمام کو ڈاکٹر سید عبداللہ نے اپنی تصنیف ''پاکستان میں اردو کا مسئلہ '' مکتبہ خیابان ادب لاہور، ۱۹۷۶ء میں شامل کیا۔ ڈاکٹر سید عبداللہ کی اس تصنیف کو ادارہ فروغ قومی زبان ،حکومت پاکستان ،نے ''تحریک نفاذ اردو'' کے نام سے شائع کیا ۔ اردو کے عدالتی زبان ہونے کے حوالے سے کہا گیا کہ ملک کے سب سے بڑے جیورسٹ اور ملک کی سب سے بڑی عدالت کے عہدے دار جسٹس اے آر کارنیلیس نے اردو ڈائجسٹ لاہور کے نامہ نگار کو انٹرویو دیا تھا۔ اس میں (جسٹس اے آر کارنیلس سے انٹرویو الطاف حسن قریشی نے کیا جو اردو ڈائجسٹ لاہور کی جنوری ۱۹۶۴ء کی اشاعت میں شائع ہوا۔ )وہ فرماتے ہیں کہ آپ کے نظام تعلیم میں بنیادی نقص یہ ہے کہ اب بھی اردو زبان کو ثانوی حیثیت حاصل ہے ۔ اور یہ کہ اعلیٰ عدالتوں میں اردو زبان کو رائج کیا جا سکتا ہے۔ صاحبزادی محمودہ بیگم نے اردو بل کے حق میں دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہ آپ نے حال ہی میں دیکھا ہو گا کہ چین کے وزیر اعظم جب یہاں تشریف لائے (۴۲)تو میری ذاتی رائے (چین کے وزیر اعظم جناب چو این لائی نے ۲۴ فروری ۱۹۶۴ء کو مغربی پاکستان اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کیا ۔ ) ہے اور میں نے لوگوں سے بھی معلوم کیا ہے کہ وہ اچھی خاصی انگریزی جانتے ہیں لیکن انھوں نے پاکستان کے قیام کے تمام عرصہ میں ایک لفظ بھی انگریزی کا استعمال نہیں کیا اور میں سمجھتی ہوں کہ یہی زندہ قوموں کی دلیل ہے ۔ مجلس قائمہ کی رپورٹ پر دوبارہ بحث کا آغاز ۱۸ مارچ ۱۹۶۴ء کو ہوا۔ ابھی بحث جاری تھی کہ قصداً کورم توڑ دیا گیا۔(۴۳) کورم نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس ۱۹ مارچ ۱۹۶۴ء صبح نو بجے تک ملتوی کر دیا گیا ۔ (۴۴)علامہ رحمت اﷲ ارشد نے مسودہ قانون قومی زبان مغربی پاکستان پر بحث کے دوران کورم توڑے جانے کے حوالے سے تحریک استحقاق پیش کی اور کہا کہ حکومت نے میرے غیر سرکاری بل قومی زبان کے پاس ہونے میں دانستہ رکاوٹ پیدا کی اور بعض وزراء غیر پارلیمانی پریکٹس کے ذریعے نہایت ہی ناپسندیدہ انداز سے ایوان کا کورم توڑ کر قومی زبان ایسے مسئلہ پر ایوان کو فیصلہ دینے میں رکاوٹ ثابت ہوئے۔(۴۵) علامہ صاحب نے اسے روزنامہ امروز لاہورمیں ۱۹ مارچ ۱۹۶۴ء کو بھی پیش کیا جس کے صفحہ ۴ پر خرامہ کے عنوان سے کارروائی ملاحظہ کی جا سکتی ہے ۔ انھوں نے مزید کہا کہ مسٹر غلام نبی میمن وزیر قانون کے اس طریق کار اور پارلیمانی سیکریٹریوں کی اس سرگرمی سے ایوان کا وقار بری طرح مجروح ہو ا ہے اور شدید قسم کی استحقاق شکنی ہوئی ہے ۔ جناب اسپیکر نے ۲۶ مارچ ۱۹۶۴ء کو رولنگ دیتے ہوئے اس تحریک استحقاق کو آؤٹ آف آرڈر قرار دے دیا (تفصیل کے لیے دیکھیے معیار ۸ شعبہ اردو ؛بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، ۲۰۱۲ئ، ص ۸۵۔۱۱۸)
جناب سینئر ڈپٹی ا سپیکر نے اس تحریک کو ایوان کے سامنے رکھا تو وزیر تعلیم میاں محمد حسین وٹو نے اس کی مخالفت کی ۔ (۴۱) حکومت کی طرف سے مخالفت کے بعد اس مسودہ قانون پر بحث کا آغاز علامہ رحمت اللہ ارشد نے کیا۔ اس بحث میں محرک کے علاوہ سردار عنایت اللہ حسن خاں عباسی؛ صاحبزادی محمودہ بیگم ؛ امیر حبیب اللہ خاں سعدی ؛ میاں محمد اکبر ؛ مولانا غلام غوث ہزاروی؛مسٹر منور خاں؛ بیگم جہاں آرا شاہنواز ؛ خواجہ محمد صفدر ؛ مسٹر مبین الحق صدیقی ؛خان ملنگ خاں؛ مسٹر ایس ایم سہیل ؛ مسٹر عبدالرزاق خاں؛چودھری سعی محمد؛ حاجی میر محمد بخش؛ خان اجون خان جدون ؛ مسٹر افتخار احمد خاں پارلیمانی سیکرٹری ؛ میاں محمد شریف ؛ راؤ خورشید علی خاں؛مسٹر ایم حمزہ ؛ سید احمد سعید کرمانی ؛ حاجی گل حسن منگھی اور وزیر تعلیم نے اس میں حصہ لیا ۔ علامہ رحمت اللہ ارشد نے اپنے پیش کردہ بل کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایک آزاد؛ خود مختار؛ با غیرت اور باہمت قوم کا سب سے پہلا فرض اور سب سے اہم فرض یہ ہے کہ اس کی اپنی قومی زبان ہو اور وہ قومی زبان تمام عوامل کی حامل ہو ۔ علامہ صاحب نے مزید کہا کہ اس بل کو ملک کے عمائدین کے پاس رائے معلوم کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا ۔ پشاور یونیورسٹی ، حیدر آباد یونیورسٹی ،کراچی یونیورسٹی ، پنجاب یونیورسٹی کے علاوہ تمام ڈویژنوں کے کمشنروں ،پروفیسروں اور دانشوروں کی آراء بھی میرے پاس ہیں جنھوں نے اس کے ساتھ اصولاً اتفاق کیا (اس مسودہ قانون کو رائے عامہ کے لیے مشتہر کیا گیا ۔ ڈویژنل کمشنروں اور مختلف یونیورسٹیوں کی اردو بل کے حق میں رپورٹیں موصول ہوئیں۔ ان تمام کو ڈاکٹر سید عبداللہ نے اپنی تصنیف ''پاکستان میں اردو کا مسئلہ '' مکتبہ خیابان ادب لاہور، ۱۹۷۶ء میں شامل کیا۔ ڈاکٹر سید عبداللہ کی اس تصنیف کو ادارہ فروغ قومی زبان ،حکومت پاکستان ،نے ''تحریک نفاذ اردو'' کے نام سے شائع کیا ۔ اردو کے عدالتی زبان ہونے کے حوالے سے کہا گیا کہ ملک کے سب سے بڑے جیورسٹ اور ملک کی سب سے بڑی عدالت کے عہدے دار جسٹس اے آر کارنیلیس نے اردو ڈائجسٹ لاہور کے نامہ نگار کو انٹرویو دیا تھا۔ اس میں (جسٹس اے آر کارنیلس سے انٹرویو الطاف حسن قریشی نے کیا جو اردو ڈائجسٹ لاہور کی جنوری ۱۹۶۴ء کی اشاعت میں شائع ہوا۔ )وہ فرماتے ہیں کہ آپ کے نظام تعلیم میں بنیادی نقص یہ ہے کہ اب بھی اردو زبان کو ثانوی حیثیت حاصل ہے ۔ اور یہ کہ اعلیٰ عدالتوں میں اردو زبان کو رائج کیا جا سکتا ہے۔ صاحبزادی محمودہ بیگم نے اردو بل کے حق میں دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہ آپ نے حال ہی میں دیکھا ہو گا کہ چین کے وزیر اعظم جب یہاں تشریف لائے (۴۲)تو میری ذاتی رائے (چین کے وزیر اعظم جناب چو این لائی نے ۲۴ فروری ۱۹۶۴ء کو مغربی پاکستان اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کیا ۔ ) ہے اور میں نے لوگوں سے بھی معلوم کیا ہے کہ وہ اچھی خاصی انگریزی جانتے ہیں لیکن انھوں نے پاکستان کے قیام کے تمام عرصہ میں ایک لفظ بھی انگریزی کا استعمال نہیں کیا اور میں سمجھتی ہوں کہ یہی زندہ قوموں کی دلیل ہے ۔ مجلس قائمہ کی رپورٹ پر دوبارہ بحث کا آغاز ۱۸ مارچ ۱۹۶۴ء کو ہوا۔ ابھی بحث جاری تھی کہ قصداً کورم توڑ دیا گیا۔(۴۳) کورم نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس ۱۹ مارچ ۱۹۶۴ء صبح نو بجے تک ملتوی کر دیا گیا ۔ (۴۴)علامہ رحمت اﷲ ارشد نے مسودہ قانون قومی زبان مغربی پاکستان پر بحث کے دوران کورم توڑے جانے کے حوالے سے تحریک استحقاق پیش کی اور کہا کہ حکومت نے میرے غیر سرکاری بل قومی زبان کے پاس ہونے میں دانستہ رکاوٹ پیدا کی اور بعض وزراء غیر پارلیمانی پریکٹس کے ذریعے نہایت ہی ناپسندیدہ انداز سے ایوان کا کورم توڑ کر قومی زبان ایسے مسئلہ پر ایوان کو فیصلہ دینے میں رکاوٹ ثابت ہوئے۔(۴۵) علامہ صاحب نے اسے روزنامہ امروز لاہورمیں ۱۹ مارچ ۱۹۶۴ء کو بھی پیش کیا جس کے صفحہ ۴ پر خرامہ کے عنوان سے کارروائی ملاحظہ کی جا سکتی ہے ۔ انھوں نے مزید کہا کہ مسٹر غلام نبی میمن وزیر قانون کے اس طریق کار اور پارلیمانی سیکریٹریوں کی اس سرگرمی سے ایوان کا وقار بری طرح مجروح ہو ا ہے اور شدید قسم کی استحقاق شکنی ہوئی ہے ۔ جناب اسپیکر نے ۲۶ مارچ ۱۹۶۴ء کو رولنگ دیتے ہوئے اس تحریک استحقاق کو آؤٹ آف آرڈر قرار دے دیا (تفصیل کے لیے دیکھیے معیار ۸ شعبہ اردو ؛بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، ۲۰۱۲ئ، ص ۸۵۔۱۱۸)
مسودہ قانون قومی زبان مغربی پاکستان مصدرہ، ۱۹۶۳ء پر تیسری بار بحث کے آغاز ہی میں پارلیمانی سیکریٹری چودھری امتیاز علی گل نے یہ تحریک پیش کی کہ مسودہ قانون قومی زبان مغربی پاکستان مصدرہ ،۱۹۶۳ء کو جیسا کہ اس کے بارے میں مجلس قائمہ برائے قانون و پارلیمانی امور نے سفارش کی ہے مجلس منتخبہ (سلیکٹ کمیٹی ) کے سپرد کیا جائے۔ مجلس منتخبہ کے ارکان کی تعداد ۱۳ تھی اور مجلس کو ہدایت کی گئی کہ وہ ۳۰ جون ۱۹۶۴ء تک اپنی رپورٹ پیش کر دے ۔ (۴۶)کمیٹی نے مسودہ قانون پر اپنے اجلاس منعقدہ ۱۸ مئی ۱۹۶۴ء ؛۹ جون ۱۹۶۴ء اور ۲۶ جون ۱۹۶۴ء میں غوروخوض کیا ۔ سلیکٹ کمیٹی کی رپورٹ ایوان کی طرف سے مقرر کردہ وقت سے کئی روز پہلے جاری کر دی گئی۔ یکم جولائی ۱۹۶۴ء کو یہ رپورٹ غور و خوض کے لیے ایوان کے سامنے رکھی گئی۔ ابھی بحث کا آغاز نہیں ہوا تھا کہ وزیر قانون نے یہ تحریک پیش کی: ''اس مسودہ قانون کو دوبارہ اسی مجلس کے سپرد کردیا جائے تاکہ وہ مسودہ قانون کے نفاذ پر انگریزی سے اردو کی تبدیلی کے سلسلے میں آنے والے اخراجات اور صوبہ کے مختلف محکموں اور اداروں کو اس پر مؤثر طور پر اور پوری طرح عمل درآمد کرنے کے لیے جو وقت درکار ہو گا، ان سب کی تفصیلات معلوم کرے۔ ''(۴۷)وزیر تعلیم کی طرف سے پیش کی گئی ترمیم پر علامہ رحمت اللہ ارشد نے کہا کہ اردو زبان کا بل اس Ruling Partyکے حلق میں اٹکا ہوا ہے نہ یہ اسے اُگل سکتی ہے اور نہ ہی نوکر شاہی اسے ہضم کرنے دیتی ہے ۔ بہرحال یہ مسودہ قانون دوبارہ مجلس منتخبہ کو اس ہدایت کے ساتھ سپرد کیا گیا کہ ۳۰ ستمبر ۱۹۶۴ء تک اس کی رپورٹ پیش کر دی جائے۔(۴۸) بہرکیف اس بار بھی یہ رپورٹ ایوان میں پیش نہ کی جا سکی کیونکہ اسمبلی برخاست کر دی گئی تھی (اس اسمبلی کا آخری اجلاس ۳ جولائی ۱۹۶۴ء کو منعقد ہوا۔ )
نئی اسمبلی وجود میں آئی تو ایک بار پھر اردو کے چاہنے والے میدان عمل میں سرگرم ہو گئے اور خواجہ محمد صفدر نے دوسرا مسودہ قانون قومی زبان مغربی پاکستان مصدرہ، ۱۹۶۵ء ایوان میں پیش کیا ۔(۴۹) اس پر مجلس قائمہ نے اپنے اجلاس ۷ اگست، ۱۱ اور ۱۲ نومبر ۱۹۶۵ء میں مسودہ قانون پر غور وخوض کیا۔ مجلس قائمہ کی رپورٹ خواجہ محمد صفدر نے ایوان میں ابھی پیش کی ہی تھی کہ پارلیمانی سیکریٹری سر دار محمد اشرف نے یہ ترمیم پیش کردی کہ مسودہ قانون قومی زبان مغربی پاکستان، ۱۹۶۵ئ، جس کی مجلس قائمہ برائے قانون و پارلیمانی امور نے سفارش کی ہے، کو مجلس منتخبہ کے سپرد کر دیا جائے۔(۵۰) ۵ دسمبر ۱۹۶۶ء کے بعد ۵ جون ۱۹۶۷ء کو مجلس قائمہ کی رپورٹ دوبارہ ایوان میں بحث کے لیے پیش کی گئی تو اس پر بحث کا آغاز ملک محمد اختر نے کیا ۔ قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کی تقاریر کے بعد جناب ا سپیکر نے یہ سوال اسمبلی کے سامنے رکھا کہ مسودہ قانون مغربی پاکستان مصدرہ ،۱۹۶۵ئ، جیسا کہ اس پر مجلس قائمہ برائے قانون و پارلیمانی امور نے سفارش کی، پر فوری غورو خوض کیا جائے ۔ جناب اسپیکر نے کہا، جو اس کے حق میں ہیں ۔ ''ہاں'' کہیں تو اردو بل کی حمایت کرنے والوں نے ''ہاں'' کہا اور جب جناب ا سپیکر نے کہا کہ جو اس کے مخالف ہیں ''نہ'' کہیں تو اس طرح ''نہ '' کہنے والوں کی آواز یں آئیں۔ جناب ا سپیکر نے فیصلہ دیا کہ فیصلہ ''نہ '' والوں کے حق میں ہے۔ اس فیصلہ کو خواجہ محمد صفدر نے چیلنج کیا اور درخواست کی کہ بہت اہم مسودہ قانون ہے، لہٰذا ڈویژن کروائی جائے ۔ ڈویژن کرائی گئی تو ڈویژن کے نتائج اس طرح سے تھے۔ حق میں ۵ ووٹ مخالف میں ۶۳ ووٹ ۔(۵۱)
نئی اسمبلی وجود میں آئی تو ایک بار پھر اردو کے چاہنے والے میدان عمل میں سرگرم ہو گئے اور خواجہ محمد صفدر نے دوسرا مسودہ قانون قومی زبان مغربی پاکستان مصدرہ، ۱۹۶۵ء ایوان میں پیش کیا ۔(۴۹) اس پر مجلس قائمہ نے اپنے اجلاس ۷ اگست، ۱۱ اور ۱۲ نومبر ۱۹۶۵ء میں مسودہ قانون پر غور وخوض کیا۔ مجلس قائمہ کی رپورٹ خواجہ محمد صفدر نے ایوان میں ابھی پیش کی ہی تھی کہ پارلیمانی سیکریٹری سر دار محمد اشرف نے یہ ترمیم پیش کردی کہ مسودہ قانون قومی زبان مغربی پاکستان، ۱۹۶۵ئ، جس کی مجلس قائمہ برائے قانون و پارلیمانی امور نے سفارش کی ہے، کو مجلس منتخبہ کے سپرد کر دیا جائے۔(۵۰) ۵ دسمبر ۱۹۶۶ء کے بعد ۵ جون ۱۹۶۷ء کو مجلس قائمہ کی رپورٹ دوبارہ ایوان میں بحث کے لیے پیش کی گئی تو اس پر بحث کا آغاز ملک محمد اختر نے کیا ۔ قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کی تقاریر کے بعد جناب ا سپیکر نے یہ سوال اسمبلی کے سامنے رکھا کہ مسودہ قانون مغربی پاکستان مصدرہ ،۱۹۶۵ئ، جیسا کہ اس پر مجلس قائمہ برائے قانون و پارلیمانی امور نے سفارش کی، پر فوری غورو خوض کیا جائے ۔ جناب اسپیکر نے کہا، جو اس کے حق میں ہیں ۔ ''ہاں'' کہیں تو اردو بل کی حمایت کرنے والوں نے ''ہاں'' کہا اور جب جناب ا سپیکر نے کہا کہ جو اس کے مخالف ہیں ''نہ'' کہیں تو اس طرح ''نہ '' کہنے والوں کی آواز یں آئیں۔ جناب ا سپیکر نے فیصلہ دیا کہ فیصلہ ''نہ '' والوں کے حق میں ہے۔ اس فیصلہ کو خواجہ محمد صفدر نے چیلنج کیا اور درخواست کی کہ بہت اہم مسودہ قانون ہے، لہٰذا ڈویژن کروائی جائے ۔ ڈویژن کرائی گئی تو ڈویژن کے نتائج اس طرح سے تھے۔ حق میں ۵ ووٹ مخالف میں ۶۳ ووٹ ۔(۵۱)
تیسری دفعہ ملک محمد اختر نے مسودہ قانون مغربی پاکستان مصدرہ، ۱۹۶۸ء پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اردو تمام سرکاری اور نیم سرکاری اور روزمرہ کے کاموں میں انگریزی کی جگہ لے۔ اس مسودہ قانون کو پیش کرنے کی اجازت کے سوال پر اس کے حق میں ۴ ووٹ اور ۲۸ ووٹ مخالف میں آئے۔ (۵۲)لہٰذا یہ مسودہ قانون مغربی پاکستان ۱۹۶۸ء بھی سرکاری اکثریت کی نذر ہو گیا ۔ نفاذ اردو کے لیے اردوکے خادم مسلسل سرگرم عمل رہے اور ملک محمد اختر نے چھ ماہ بعد (چوتھی بار) مسودہ قانون قومی زبان مغربی پاکستان ۱۹۶۸ء اسمبلی میں پیش کر دیا ۔ (۵۳)اور بھرپور دلائل دیے۔ جناب سپیکر نے جب یہ بل پیش کرنے کی اجازت کا سوال ایوان کے سامنے رکھا تو یہ تحریک مسترد کر دی گئی۔ (۵۴)
پانچویں دفعہ اردو کے نفاذ کے لیے سید تابش الوری نے مسودہ قانون قومی زبان پنجاب مصدرہ ،۱۹۷۲ء ایوان میں پیش کیا ۔(۵۵) اسے مجلس قائمہ برائے اطلاعات کے سپرد کر دیا گیا ۔ مجلس قائمہ برائے اطلاعات نے اپنے اجلاس منعقدہ ۲۸ اگست ؛ ۲۵ ستمبر اور ۱۶ اکتوبر ۱۹۷۲ء میں اس مسودہ قانون پر غور و خوض کیا (۵۶)اور اس کی رپورٹ ملک محمد خالد نے ایوان میں پیش کی۔(۵۷)
اس کے بعد اسمبلی کی کارروائیوں میں اس بل کے متعلق کوئی اطلاع نہیں ملتی کہ اس بل کے ساتھ کیا سلوک ہوا۔ ڈاکٹر سید عبداللہ لکھتے ہیں :
'' عوامی حکومت کے دور میں سید تابش الوری نے بھی پنجاب اسمبلی میں بل کا نوٹس دیا لیکن پھر پیچھا نہیں کیا کیونکہ گورنر پنجاب نے دفتری زبان کا اعلان کر دیا تھا۔ ''(۵۸)
چھٹی بار ، مسودہ قانون نفاذ اردو پنجاب مصدرہ ،۱۹۹۱ء جناب ارشاد حسین سیٹھی ؛جناب فرید احمد پراچہ اور میاں محمود الرشید نے پیش کیا ۔(۵۹) حکومت کی طرف سے یقین دہانی پر اس بل پر زور نہ دیا گیا اور یہ بل بنٹا) (Dispose of دیا گیا ۔ (۶۰)
ساتویں بار میاں محمود الرشید نے مسودہ قانون نفاذ اردو پنجاب مصدرہ، ۱۹۹۱ء پیش کیا۔ جناب ڈپٹی سپیکر نے جب ایوان کے سامنے یہ سوال رکھا کہ نفاذ اردو پنجاب، ۱۹۹۱ء پیش کرنے کی اجازت دی جائے جو اس تحریک کے حق میں ہیں وہ ''ہاں'' کہیں اور جو خلاف ہیں وہ ''نہ '' کہیں توتحریک نا منظور ہوئی ۔ (۶۱)اس مرحلہ پر میاں محمود الرشید ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔
بعدازاں ۱۹۹۳ء میں سید تابش الوری نے اور ۱۹۹۷ء میں مولانا منظور احمد چنیوٹی نے نفاذ اردو بل پنجاب اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرائے ۔ سید تابش الوری کے پیش کیے گئے مسودہ قانون نفاذ اردو پنجاب بابت ۱۹۹۳ء کے بیان اغراض و جود میں کہا گیا :
بعدازاں ۱۹۹۳ء میں سید تابش الوری نے اور ۱۹۹۷ء میں مولانا منظور احمد چنیوٹی نے نفاذ اردو بل پنجاب اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرائے ۔ سید تابش الوری کے پیش کیے گئے مسودہ قانون نفاذ اردو پنجاب بابت ۱۹۹۳ء کے بیان اغراض و جود میں کہا گیا :
'' پاکستان کے تینوں دساتیر میں اردو کو قومی زبان قرار دیا گیا ہے ۔ قومی تشخص اور حب الوطنی کا تقاضا ہے کہ قومی زبان کو سرکاری زبان بنایا جائے۔ دستور ۱۹۷۳ء کے آرٹیکل ۲۵۱ کے مطابق ۱۴ اگست ۱۹۸۸ء تک سرکاری دفاتر ، عدالتوں ، تعلیمی اداروں ، امتحانات مقابلہ اور سرکاری گزٹ میں انگریزی کی جگہ اردو رائج ہونی چاہیے تھی۔ قائداعظم کے فرامین ۱۰ اپریل ۱۹۴۶ء ؛ ۲۱ مارچ ۱۹۴۸ء اور ۲۴ مارچ ۱۹۴۸ء کی رو سے اردو کو سرکاری زبان بننا چاہیے ۔ انگریزی کے ساتھ فرنگی تہذیب وابستہ ہے جبکہ اردو اسلامی تہذیب و تمدن کی آئینہ دار ہے۔ نفاذ اردو سے قومی یک جہتی کو فروغ ہو گا۔ مقتدرہ قومی زبان نے نفاذ اردو کے مکمل انتظامات کر لیے ہیں۔ اردو ذریعہ تعلیم سے طلبہ کی تخلیقی صلاحیتیں بیدار ہوں گی ۔ روس ، چین ، جاپان ، کوریا ، جرمنی و فرانس نے سائنس انگریزی میں نہیں بلکہ اپنی قومی زبانوں میں پڑھی لہٰذا ترقی کر گئے۔ ملکی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ سائنس قومی زبان میں پڑھی جائے ۔ لازمی انگریزی کی وجہ سے محض انگریزی میں فیل ہونے کی وجہ سے ساٹھ فی صد طلبہ امتحان میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ اردو ہر جگہ سمجھی جاتی ہے اور بین الصوبائی رابطہ کی زبان ہے جب کہ آدھے فی صد سے بھی کم ملکی آبادی انگریزی سمجھتی ہے۔ اردو دُنیا کی تیسری بڑی بولی اور سمجھی جانے والی انتہائی ترقی یافتہ بین الاقوامی زبان ہے ۔ پاکستان میں میٹرک تک اردو یا صوبائی زبان ذریعہ تعلیم طلبا کا تناسب تقریباً ۹۸ فی صدہے ۔انگریزی ذریعہ تعلیم سے متعلق طلبا کا تناسب تقریباًدو فی صد ہے۔ امتحانات مقابلہ میں انگریزی ذریعہ اظہار و ذریعہ گفتگو کی وجہ سے دو فی صد کی حقیر اقلیت کی اعلیٰ حکومتی اسامیوں پر ۱۹۴۷ء سے مسلسل اجارہ داری ہے جو آئین ۱۹۷۳ء کے آرٹیکل نمبر ۲ الف اور ۳ کی روح اور منشا ء کے منافی ہے۔(۶۲)

نتائج

 

اردو کو اس کا آئینی مقام دلانے کے سلسلے میں اردو کے خادمین اردو کے نفاذ کے لیے انفرادی اور اجتماعی طور پر مسلسل کوشش میں رہے اور ان کی کوششوں میں کبھی بھی کمی نہ آئی ۔ وہ اردو کی قدرومنزلت سے دیگر ارکان اسمبلی کو بھی آگاہ کرتے رہے کہ کسی قوم کی پہچان اس کی اپنی قومی زبان میں ہوتی ہے دوسروں کی زبان میں نہیں۔ ۱۸۹۷ء میں اپنا ارتقائی سفر شروع کرنے والا یہ قانون ساز ادارہ( پنجاب اسمبلی )قانون سازی میں لسانی تحریک کے کئی مثبت اور منفی پہلو اپنے اندر محفوظ کیے ہوئے ہے ۔ دستوری تحفظات کے باوجود خدشات اپنی جگہ موجود رہے اور نفاذ اردو کی راہ میں ہر گام پر ایک نئی رکاوٹ سر اٹھائے کھڑی رہی۔ اس کے باوجود اردو نے اپنا سفر جاری و ساری رکھا اور محبان اردو کی بدولت آج اردو زبان پاکستان کے قانون ساز اداروں میں اپنی علمی شان و شوکت کے باوجود منتظر نفاذ ہے ۔
پاکستان سینیٹ ؛قومی اسمبلی پاکستان؛چاروں صوبائی اسمبلیوں اور قانون ساز اسمبلی آزاد جموں وکشمیر کے قواعد و انضباط کار میں واضح طور پر تحریر ہے کہ گر کوئی رکن اسمبلی عام طور پر اردو میں مافی الضمیر تسلی بخش طور پر ادا نہ کر سکے تو وہ چیئر مین/ا سپیکر کی اجازت سے انگریزی یا صوبے کی دیگر تسلیم شدہ زبان میں اسمبلی سے خطاب کر سکتا ہے ۔ نومبر ۱۸۹۷ء سے آج تک ارکان اسمبلی کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات اور ان ارکان کی جانب سے اسمبلی سے مخصوص اصطلاحات (ٹرمینالوجی)کو اردو کے لیے بروئے کار لانا ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں ۔ نفاذ اردو کے لیے پنجاب اسمبلی میں اٹھائے گئے یہ اقدامات ایک مسلمہ تاریخی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ اردو زبان کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے جس پہ بجا طور پر فخر کیا جا سکتا ہے ۔ آج بھی تلاوت کی گئی آیات مبارکہ اور ان کااردو ترجمہ مباحث پنجاب اسمبلی کا حصہ ہیں ۔

حوالہ جات

 

۱۔ مباحث ٗ کونسل آف لیفٹیننٹ گورنر پنجاب؛یکم نومبر ۱۸۹۷ئ؛ص :۱
۲۔ پنجاب گزٹ ؛۳ ۔نومبر ۱۸۵۸ء ؛جلد دوم؛ص :۳۱۲
۳۔ پنجاب گزٹ(ضمیمہ)؛ ۳۔نومبر ۱۸۵۸ئ؛ص: ۲
V.P.Menon; The Transfer of Power in India; Songom Books, New Delhi; 1957; P-3 ۴۔
۵۔ انڈین کونسلز ایکٹ ۱۸۶۱ئ؛ص: ۳۴،(قواعد انضباطِ کار)
۶۔ انڈین کونسلز ایکٹ ۱۸۶۱ئ؛ ص: ۳۵۔۳۶، (قواعد انضباط کار)
۷۔ انڈین کونسلز ایکٹ ۱۸۶۱ئ؛ ص: ۳۶۔۳۷،(قواعد انضباط کار)
۸۔ انڈین کونسلز ایکٹ ۱۸۶۱ئ؛ص: ۳۶۔۳۷،(قواعد انضباط کار)
۹۔ انڈین کونسلز ایکٹ ۱۸۶۱ئ؛ص: ۳۶۔۳۷،(قواعد انضباط کار)
۱۰۔ مباحث ٗ کونسل آف لیفٹیننٹ گورنر پنجاب؛ ص: ۴؛یکم نومبر ۱۸۹۷؛
۱۱۔ مباحث ٗ کونسل آف لیفٹیننٹ گورنر پنجاب؛ص: ۷؛یکم نومبر ۱۸۹۸ء
۱۲۔ مباحث ٗ کونسل آف لیفٹیننٹ گورنر پنجاب؛ ص :۱۷؛۱۶۔اگست ۱۸۹۹ء
۱۳۔ مباحث ٗ کونسل آف لیفٹیننٹ گورنر پنجاب؛ ص: ۲۱؛۱۶۔اگست ۱۸۹۹ء
۱۴۔ مباحث ٗ کونسل آف لیفٹیننٹ گورنر پنجاب؛ص :۳۰؛ ۲۔نومبر ۱۸۹۹ء
۱۵۔ مباحث ٗ کونسل آف لیفٹیننٹ گورنر پنجاب؛ص ۲۱؛۱۴۔جولائی ۱۹۰۰ء
۱۶۔ مباحث ٗ کونسل آف لیفٹیننٹ گورنر پنجاب؛ص: ۶؛۱۷۔جنوری ۱۹۰۲ء
۱۷۔ مباحث ٗ کونسل آف لیفٹیننٹ گورنر پنجاب؛ص :۷؛۱۷۔جنوری ۱۹۰۲ء
۱۸۔ مباحث ٗ کونسل آف لیفٹیننٹ گورنر پنجاب؛ص :۱۰؛ ۱۷۔جنوری ۱۹۰۲ء
۱۹۔ مباحث ٗ کونسل آف لیفٹیننٹ گورنر پنجاب؛ص ۷؛ ۱۰۔نومبر۱۹۰۲ء
۲۰۔ مباحث ٗ کونسل آف لیفٹیننٹ گورنر پنجاب؛ص :۸؛ ۱۰۔نومبر ۱۹۰۲ء
۲۱۔ مباحث ٗ کونسل آف لیفٹیننٹ گورنر پنجاب؛ص :۲؛ ۲۵۔اپریل ۱۹۰۴ء
۲۲۔ مباحث ٗ کونسل آف لیفٹیننٹ گورنر پنجاب؛ص :۳؛ ۱۲۔مارچ۱۹۱۰ء
۲۳۔ مباحث ٗ کونسل آف لیفٹیننٹ گورنر پنجاب؛ص :۶۱؛ ۲۲۔اگست۱۹۱۰ء
۲۴۔ مباحث ٗ کونسل آف لیفٹیننٹ گورنر پنجاب؛ص :۷۲؛ ۱۶۔دسمبر۱۹۱۰ء
۲۵۔ مباحث ٗ کونسل آف لیفٹیننٹ گورنر پنجاب؛ص :۷۷؛ ۱۶۔دسمبر۱۹۱۰ء
۲۶۔ مباحث ٗ کونسل آف لیفٹیننٹ گورنر پنجاب؛ص :۷۲؛ ۱۷۔مارچ۱۹۱۱ء
۲۷۔ مباحث ٗ کونسل آف لیفٹیننٹ گورنر پنجاب؛ص :۱۶۷؛ ۱۳۔ستمبر۱۹۱۱ء
۲۸۔ مباحث ٗ کونسل آف لیفٹیننٹ گورنر پنجاب؛ص :۱۶۸؛ ۱۳۔ستمبر۱۹۱۱ء
۲۹۔ مباحث ٗ کونسل آف لیفٹیننٹ گورنر پنجاب؛ص :۳۲؛ ۱۳۔مارچ۱۹۱۶
۳۰۔ مباحث ،پنجاب لیجسلیٹوکونسل ؛ ص :۸۔۹؛ ۲۳ فروری ۱۹۲۱ء
۳۱۔ مباحث ،پنجاب لیجسلیٹوکونسل ؛ ص :۳۹۲؛ ۱۵ مارچ ۱۹۲۱ء
۳۲۔ مباحث ،پنجاب لیجسلیٹوکونسل ؛ص :۳۹۷؛ ۲۶ اکتوبر ۱۹۲۳ء
۳۳۔ مباحث پنجاب، لیجسلیٹواسمبلی ؛ ص :۳۸۱؛ ۲۸ جون ۱۹۳۸ء
۳۴۔ مباحث ،پنجابلیجسلیٹواسمبلی ؛ص :۳۸۱۔ ۳۸۴؛ ۲۸ جون ۱۹۳۸ء
۳۵۔ مباحث ،مغربی پنجاب، لیجسلیٹواسمبلی ؛ ص: ۳۲۳۔۳۲۶؛ ۱۹ جنوری ۱۹۴۸ء
۳۶۔ مباحث ،پنجاب، لیجسلیٹواسمبلی ؛ص :۳۳۸۔ ۳۴۶؛ ۸ مئی ۱۹۵۲ء
۳۷۔ مباحث ،مغربی پاکستان، لیجسلیٹواسمبلی : ص: ۱۱۷۶؛ ۸ مارچ ۱۹۵۷ء
۳۸۔ فائل ایجنڈا؛ ۱۹۶۳ء
۳۹۔ مباحث ،صوبائی اسمبلی مغربی پاکستان؛ص :۱۲۵۶؛ ۲۱ مارچ ۱۹۶۳ء
۴۰۔ مباحث ،صوبائی اسمبلی مغربی پاکستان ؛ ص :۹۶؛ ۲۷ فروری ، ۱۹۶۴ء
۴۱۔ مباحث ،صوبائی اسمبلی مغربی پاکستان ؛ ص :۹۶؛ ۲۷ فروری ۱۹۶۴ء
۴۲۔ مباحث ،صوبائی اسمبلی مغربی پاکستان ؛ص :۱۰۶؛ ۲۷ فروری ۱۹۶۴ء ؛( چین کے وزیراعظم جناب چو این لائی نے ۲۴ فروری ۱۹۶۴ء کو مغربی پاکستان اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کیا۔)
۴۳۔ مباحث ،صوبائی اسمبلی مغربی پاکستان ؛ ص :۹۹؛ ۱۸ مارچ ۱۹۶۴ء
۴۴۔ مباحث ،صوبائی اسمبلی مغربی پاکستان ؛ ص :۱۰۰؛ ۱۸ مارچ ۱۹۶۴ء ؛
۴۵۔ مباحث،صوبائی اسمبلی مغربی پاکستان؛ ص :۴۸۔۴۷؛ ۲۰ مارچ ۱۹۶۴ء
۴۶۔ مباحث ،صوبائی اسمبلی مغربی پاکستان ؛ ص: ۶۵؛ ۶ اپریل ۱۹۶۴ء
۴۷۔ مباحث ،صوبائی اسمبلی مغربی پاکستان ؛ ص :۸۰؛ یکم جولائی ۱۹۶۴ء
۴۸۔ مباحث ،صوبائی اسمبلی مغربی پاکستان ؛ص :۸۵؛ یکم جولائی ۱۹۶۴ء
۴۹۔ مباحث ،صوبائی اسمبلی مغربی پاکستان ؛ ص :۱۵۸۵؛ یکم جولائی ۱۹۶۵ء
۵۰۔ مباحث ،صوبائی اسمبلی مغربی پاکستان ؛ ص: ۲۵۰۶۔۲۵۰۵؛ ۵ دسمبر ۱۹۶۶ء
۵۱۔ مباحث ،صوبائی اسمبلی مغربی پاکستان ؛ ص: ۳۳۵۸۔ ۳۳۰۰؛ ۵ جون ۱۹۶۷ء
۵۲۔ مباحث ،صوبائی اسمبلی مغربی پاکستان ؛ ۲ جولائی ۱۹۶۸ء
۵۳۔ مباحث ،صوبائی اسمبلی مغربی پاکستان ؛ ص :۲۳۵۳؛ ۱۶ جولائی ۱۹۶۹ء
۵۴۔ مباحث ،صوبائی اسمبلی مغربی پاکستان ؛ص :۲۳۵۸؛ ۱۶ جنوری ۱۹۶۹ء
۵۵۔ مباحث ،صوبائی اسمبلی پنجاب ؛ص: ۱۲۲۲؛ ۷ جولائی۱۹۷۲ء
۵۶۔ فائل ایجنڈا ؛ ۱۹۷۲ء
۵۷۔ مباحث ،صوبائی اسمبلی پنجاب ؛ص: ۸۳۳؛ ۲۵ جنوری ۱۹۷۳ء
۵۸۔ ڈاکٹر سید عبداللہ ؛پاکستان میں اردو کا مسئلہ ، خیابان ادب لاہور: ص: ۶۶؛ ۱۹۷۶ء
۵۹۔ مباحث، صوبائی اسمبلی پنجاب ؛ ص ۶۹۱؛ ۱۱جون ۱۹۹۱ء
۶۰۔ مباحث ،صوبائی اسمبلی پنجاب؛ ص :۱۲۲۹؛ ۱۸ جون ۱۹۹۱ء
۶۱۔ مباحث، صوبائی اسمبلی پنجاب ؛ ص :۱۵۵؛ ۲۴ ستمبر ۱۹۹۱ء
۶۲۔ فائل ایجنڈا ؛ ۱۹۹۳ء