English اُردو        
  رابطہ اغراض و مقاصد تعارف سرورق

27۔ جون 2011
پریس ریلیز
میں روائت شکن ہوں ، نِت نئے کام کرتا رہونگا، ڈاکٹر انوار احمد
مقتدرہ کو نصابی کتب ، کشّاف اور سٹاک میں ناپید کتب جلد شائع کرنی چاہئیں، مقررین کا خطاب

اسلام آباد( پ ر) مقتدرہ کی آج کی غیر روائتی تقریب اور کتب کی نمائش کا بنیادی مقصدکتاب دوستوں تک ،کتابوں کابا رعائت پہنچاناتھا۔انتہائی شارٹ نوٹس، گرمی ،ہفتے کے پہلے دن اور مہینے کی آخری تاریخوں میں دن گیارہ بجے آپ جیسے اہل ِ قلم دوستوں کواتنی بڑی تعداد میں دیکھ کر ہماری بہت حوصلہ افزائی ہوئی۔مجھے آج کے تجربے سے یہ یقین ہو چلا ہے کہ خلوصِ نیت سے کسی نئے کام کا آغاز کیا جائے تو کامیابی یقینی ہوجاتی ہے۔ان خیالات کا اظہار مقتدرہ قومی زبان پاکستان کے صدرنشین ڈاکٹر انوار احمد نے ”100۔کتابیں،100۔ مہمان“کے عنوان سے کتابوں کے خصوصی سیلز سٹال کا افتتاح کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں روائت شکن ہوں ، نِت نئے کام کرتا رہونگا ۔علمی ، ادبی و تحقیقی سرکاری ادارے قوم کی امانت ہیںاور میری کوشش رہے گی کہ وقفے وقفے سے ایسے سٹال لگاکر مقتدرہ کی مطبوعات زیادہ سے زیادہ رعائت کے ساتھ تشنگانِ علم تک پہنچاﺅں۔نیزمقتدرہ کا ماہنامہ اخبارِ اُردوکا معیار مزید بہتر کر کے اعزازی تقسم کے بجائے، سالانہ خریداروں کے ذریعے اُن کتب خانوں اور اہم لوگوں تک پہنچاﺅں جنہیں اُسکی ضرورت ہے۔خطاب کے بعد صدر نشین نے اشفاق سلیم مرزا ، پرتو روہیلہ، منظر نقوی ، اقبال فہیم جوزی ،خرم خرام صدیقی، ڈاکٹر صلاح الدین درویش،کاشفہ الیاس طارق، شہناز شانی اور حمیرا اشفاق نے بھی خطاب کیا۔تمام مقررین نے ڈاکٹر انوار احمد کی تقرری کوحبس کے موسم میںہوا کا تازہ جھّونکا قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقتدرہ میں آپ کا آنا خوش آئند ہے۔ مقررین نے مشورہ دیا کہ مقتدرہ کو اہم نصابی کتب کی اشاعت کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے اور اسٹاک میں نا پید کتابیں جلدا ز جلد دوبارہ شائع کر کے پڑھنے والوں کی ضرورت کو پورا کرنا چاہیے۔آخر میں مقتدرہ کے سیکریٹری سرفراز طارق نے تقریب میں آنے والے خواتین و حضرات کا شکریہ ادا کیا اور چائے کی دعوت دی۔

 
 
جملہ حقوق بحق ادارۂ فروغِ قومی زبان محفوظ ہیں